Baaghi TV

Tag: اسپیس کرافٹ

  • 9ماہ سے خلا میں پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی

    9ماہ سے خلا میں پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی

    جون 2024 میں 8 روزہ مشن پر انٹرنیشل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں جانے والے 2 امریکی خلا باز آخرکار 9 ماہ بعد زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ دونوں خلا باز بوئنگ کے اسٹار لائنر اسپیس کرافٹ کی اولین انسان بردار پرواز کے ذریعے آئی ایس ایس پہنچے تھے مگر پھر وہی پھنس گئے کیونکہ اسٹار لائنر انہیں واپس لانے کے قابل نہیں رہا Butch Wilmore اور سنیتا ولیمز کی واپسی میں ائیر لائنر کے تھر سٹرز رکاوٹ بنے جن کے باعث اسٹار لائنر کیپسول کو ڈوکنگ کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔

    اس کے بعد ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ دونوں کی واپسی اسپیس ایکس کے ڈراگون اسپیس کرافٹ سے ہوگی، اسپیس ایکس کا اسپیس کرافٹ 9 ماہ بعد اب دونوں کو واپس لا رہا ہےان دونوں کی واپسی کے لیے اسپیس ایکس کریو 9 مشن میں شامل 2 افراد کو نکال دیا گیا تھا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

    ناسا کی جانب سے ان کریو مشنز کے ذریعے آئی ایس ایس میں موجود عملے کو تبدیل کیا جاتا ہے یہ مشن ستمبر 2024 میں لوگوں کو لے کر آئی ایس ایس پہنچا تھا اور اب 18 مارچ کو زمین پر 9 ماہ سے خلا میں پھنسے خلا بازوں کو واپس لے کر لوٹ رہا ہے۔

    ناسا کی جانب سے پہلے منصوبہ بنایا گیا تھا کہ کریو 9 مشن کے عملے کی واپسی فروری میں ہوگی مگر اسپیس ایکس کا ڈراگون مشن ایک ماہ تاخیر سے روزانہ ہوا۔

    کریو 10 مشن کے تحت 4 افراد کو 14 مارچ کو آئی ایس ایس کے لیے روانہ کیا گیا تھا اور اس کا کیپسول اسپیس اسٹیشن سے 29 گھنٹے بعد جڑ گیا تھا۔

    ہیپاٹائٹس سی کا بہت جلد ملک سے مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔وزیراعظم

    اب Butch Wilmore اور سنیتا ولیمز کے ساتھ آئی ایس ایس میں موجود ناسا اور روس کے 2 خلا باز بھی زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں، طویل عرصے تک خلا میں پھنسے رہنے والے جوڑے نے اس عرصے مٰں وہاں سائنسی تجربات کیے جبکہ آئی ایس ایس کی مر مت میں بھی حصہ لیا،سنیتا ولیمز نے خلا مٰں چہل قدمی بھی کی۔

  • ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    واشنگٹن: ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، 26 ستمبر کی شام خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے کیلئے خلا میں بھیجا گیاجو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا کر ٹکرائے گا یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    روم میں نصب ورچوئل ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ نے جنوبی افریقا کی متعدد مشاہدہ گاہوں کے ساتھ ایک مل کر ہدف سیارچے کو تصادم کے وقت دِکھائیں گے۔


    اس سے قبل دو طاقتورترین ٹیلی اسکوپ نے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی تھی۔

    یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    جان ہوپکنز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانے کے لیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے۔

    ڈارٹ کا ہدف ڈائمورفس تقریباً 560 فٹ (170 میٹر) چوڑا ہے اور ہر 11 گھنٹے اور 55 منٹ میں ایک بار اپنےڈائڈِموس کا چکر لگاتا ہے۔ ناسا نے کہا ہے کہ ڈارٹ زمین سے تقریباً 7 ملین میل (9.6 ملین کلومیٹر) کے فاصلے پر ہے اور ہمارے سیارے کو متاثر کرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ناسا کے مطابق ڈارٹ کو تقریباً 14,760 میل فی گھنٹہ (23,760 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ڈائمورفس سے ٹکرانا چاہیے۔ یہ ہے ڈارٹ کا آخری دن کیسا ہوگا۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    25 ستمبر کو حتمی مشق کے بعد، اثر سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے، نیوی گیشن ٹیم کو 2 کلومیٹر [1.2 میل] کے اندر ہدف ڈائمورفس کی پوزیشن معلوم ہو جائے گی،” ناسا کے حکام نے ایک بیان میں لکھا وہاں سے، ڈارٹ خود مختار طور پر خود کو خلائی چٹان کے چاند کے ساتھ ٹکرانے کے لیے رہنمائی کرے گا۔

    اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان یہ تصادم پاکستانی وقت کے مطابق 27 ستمبر کو صبح 4 بج کر 14 منٹ پر ٹکرائے گا۔

  • ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، جس کو زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے بھیجا گیا ہے،رواں ماہ ستمبر میں 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں خلاء میں بھیجا گیا تھا جو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے جا کر ٹکرائے گا۔ یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    جوڈائڈِموس ( Didymos) نامی ایک بڑے سیارچےکےگرد چکر لگاتا ہےناسا کا کہنا ہے کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نہ تو کوئی سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن ڈیمورفوس، ایک اندازے کے مطابق 520 فٹ لمبا سیارچہ ہے جو زمین سے ٹکرانے کی صورت میں کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    نتائج سے قطع نظر، یہ مشن ماہرین فلکیات اور سائنس دانوں کو اہم ڈیٹا فراہم کرے گا کہ اگر کوئی سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے راستے پر ہو تو اس کا ردعمل کیا ہوگا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    قبل ازیں ناسا کے سیاروں کے دفاعی افسر لنڈلی جانسن نے کہا تھا کہ ہم ایسی صورتحال میں نہیں رہنا چاہتے جہاں ایک سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہو اور پھر اسے اس قسم کی صلاحیت کی جانچ کرنی پڑے۔ ہم دونوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ خلائی جہاز کیسے کام کرتا ہے اور اس کا ردعمل کیا ہوگا کبھی بھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

    دو طا قتورترین ٹیلی اسکوپ سے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی ہے یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    جان ہوپکنزیونیورسٹی سےتعلق رکھنےوالے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانےکےلیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے اسپیس کرافٹ سیارچے سے ستمبر کی 26 تاریخ کو ٹکرائے گا۔

    DART 26 ستمبر کو شام 7:14 بجے خلا میں اپنا 10 ماہ کا سفر مکمل کرے گا۔ ای ٹی ناسا کی لائیو کوریج شام 6 بجے شروع ہوگی۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار