Baaghi TV

Tag: اسکینڈل

  • اسلامیہ یونیورسٹی سکینڈل، خواتین ٹیچرز کی مبینہ تفتیش پر ٹربیونل کا نوٹس

    اسلامیہ یونیورسٹی سکینڈل، خواتین ٹیچرز کی مبینہ تفتیش پر ٹربیونل کا نوٹس

    اسلامیہ یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی اور منشیات کیس کی انکوائری کے دوران خواتین ٹیچرز کی مبینہ تفتیش کئے جانے پر ٹربیونل نے نوٹس لے لیا ہے جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جنسی حراسگی و منشیات کے استعمال سے متعلق کیس کی انکوائری کے دوران پولیس کی جانب سے ٹریبونل کے نام پر خواتین ٹیچرز کی مبینہ تفتیش کیے جانے پر ٹربیونل نے نوٹس لے لیا تھا.

    جبکہ جسٹس سرفراز ڈوگر نے کمشنر بہاولپورکی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بنا دی جس میں آر پی او اور ڈی سی بہاولپور بھی شامل ہوں گے تاہم علاوہ ازیں ٹریبونل نے پولیس کو یونیورسٹی کے کسی بھی معاملے میں مداخلت سے بھی روک دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چینی کی قیمت 200 تک پہنچ گئی
    شادی جلدی یا لیٹ کبھی بھی ہو سکتی ہے ایشو والی بات نہیں‌عثمان مختار
    میں آج تک اقربا پروری کا شکار نہیں‌ہوئی غنا علی
    انڈر 23 ایشین کپ 2024 کوالیفائرز کیلئے 23 رکنی سکواڈ کا اعلان
    حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج

  • سب سے بڑا ڈاکو پنجاب کا وزیراعلیٰ تو ڈیرھ ارب کرپشن سیکنڈل کا ملزم مشیر مقرر

    سب سے بڑا ڈاکو پنجاب کا وزیراعلیٰ تو ڈیرھ ارب کرپشن سیکنڈل کا ملزم مشیر مقرر

    انصاف اور احتساب کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی جماعت نے انصاف کے ساتھ ساتھ اپنوں کے لئے احتساب بھی ختم کر دیا

    نواز شریف، آصف زرداری تو لٹیرے ٹھہرے لیکن پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو جسے کہا تھا اسکی درجن سے بھی کم سیٹیں ہونے کے باوجود پنجاب کا وزیراعلیٰ کا بنا دیا گیا ، پرویز الہیٰ نے بھی وزیراعلیٰ بنتے ہی کمال کر دکھایا ، ایسے لوگوں کا اپنا مشیر منتخب کرنا شروع کر دیا جو پہلے ہی سیکنڈلائز ہیں اور کرپشن کے کیسز میں انکے نام آ چکے ہیں،

    این آئی سی ایل سکینڈل کےمرکزی کردارایاز خان نیازی وزیراعلیٰ کے مشیرمقرر،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ایک بہت بڑے ادارے میں بہت بڑے اسکینڈل کے مرکزی کردار ایاز خان نیازی کو وزیراعلیٰ پنجاب کا سیاسی مشیر بنانے پرسخت تنقید کی جارہی ہے ،ایازخان نیازی کی اس تقرری پرسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پرویزالٰہی اور عمران خان نے ایک کرپٹ شخص کو مشیر بنا کراپنے ہی نظریے کی نفی کی ہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ عمران خان کسی ایسے شخص کوکابینہ کا حصہ بنائیں گے مگرایسا ہوگیا ،

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ تین نوجوان دوست مونس الہی،محسن وڑائچ اور ایاز خان نیازی —ڈیرہ ارب روپے کے NICL سکینڈل کے مرکزی کردار تھے۔ آج مونس کے ابا حضور پرویز الہی نے اسی ایاز نیازی کو اپنا مشیر مقرر کر دیا۔
    امید ہے تینوں دوست اپنی “قابلیت”کا سلسلہ وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے ٹوٹا

    صحافی رؤف کلاسرا ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ PTI نوجوانو مبارک ہو۔ سڑکوں پر شیل کھاتے رہے،پولیس کی کٹ کھائی لیکن لاٹری ایاز خان نیازی کی نکل آئی جو NICK سکینڈل میں گرفتار رہا،عدالت نے سات سال سزا سنائی۔آف شور کمپنیاں۔آج پرویز الہی نے اسے ایڈوائز بنا لیا۔ عوام صرف پسند کے لیٹروں کو اقتدار میں چاہتی ہے۔بس لیٹرا مرضی کا ہو

    رؤف کلاسرا ایک اور ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ جس ایاز خان نیازی کو آج پرویز الہی نے اپنا مشیر مقرر کیا ہے ان کے بارے SC فیصلہ پڑھ لیں تو کانوں سے دھواں نکل جائے۔مونس الہی بارے ہدایت بھی پڑھ لیں کہ ان سے لندن بنک اکاونٹ سے گیارہ لاکھ پونڈز بھی ریکور ہونے تھے۔ آج دونوں دوست دوبارہ حکمران بن گئے ہیں۔عوام کا بس لیٹرا مرضی کا ہو

    وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی کابینہ میں توسیع کردی، 3 مشیر اور 4 معاونین خصوصی کی تقرری کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے۔وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے 3 سیاسی مشیروں کا تقرر کردیا، عمر سرفراز چیمہ وزیراعلی پنجاب کے ایڈوائزر ہوں گے، محمد ایاز خان نیازی اور نوابزادہ وسیم خان بادوزئی بھی سیاسی مشیر ہوں گے۔چیف سیکریٹری پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیران اور معاونین خصوصی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    یاد رہے کہ نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) اسکینڈل میں اربوں روپے کا ایک سیکنڈل سامنے آیا جس میں‌ سابق چیئرمین ایاز خان نیازی سمیت چھ ملزمان شامل تھے نیب کے مطابق ملزمان پر کورنگی میں مہنگے داموں زمین خریدنے کا الزام تھا اور ملزمان نے قومی خزانے کو 490 ملین روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ مئی دو ہزار دس میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر نیشنل انشورنس کمپنی میں میگا اسکینڈل کا بھانڈہ پھوڑا تھا۔ جس پر عدالت نے ازخود نوٹس لیا تو بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام سامنے آئے تھے۔

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • برطانوی ولی عہد کا نیا فنڈ ریزنگ اسکینڈل سامنے آگیا

    برطانوی ولی عہد کا نیا فنڈ ریزنگ اسکینڈل سامنے آگیا

    برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کی چیریٹی نے اسامہ بن لادن کی فیملی سے 10 لاکھ پاؤنڈ وصول کیے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق کے مطابق پرنس چارلس کے آفس نے فنڈز لینے کی تصدیق کردی ہے پرنس کو خبردار کیا گیا تھا کہ قومی غم وغصہ سامنے آسکتا ہے مگر انہوں نے نظرانداز کردیا۔

    یہ رقم لادن فیملی کے شیخ بکر بن لادن اور ان کے بھائی شیخ شفیق نے چندہ کی تھی بکر اور شفیق کا دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہونے یا فنڈنگ سے تعلق نہیں القاعدہ رہنما کی ہلاکت کے دو سال بعد پرنس چارلس نے 30 اکتوبر 2013 میں اسامہ بن لادن کے دو سوتیلے بھائیوں سے ملاقات کی تھی-

    کلیرنس ہاؤس کا کہنا ہے کہ پرنس نے ڈیل میں ثالثی کی نہ ہی اسے قبول کرنے کا فیصلہ کیا، چندہ قبول کرنے کا فیصلہ پرنس آف ویلز کے چیریٹیبل فنڈ کے ٹرسٹیز نے کیا اور اسے دوسری صورت میں نمایاں کرنے کی کوئی بھی کوشش غلط ہے۔

    1979 میں قائم کیا گیا، پرنس آف ویلز کے چیریٹیبل فنڈ کا کہنا ہے کہ اس کا مشن "زندگیوں کو بدلنا اور پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر کرنا ہے تاکہ ہمارے بنیادی فنڈنگ ​​تھیمز کے اندر اچھے اسباب کی ایک وسیع رینج کو گرانٹ دے کر: ورثہ اور تحفظ، تعلیم، صحت اور بہبود۔ سماجی شمولیت، ماحولیات اور دیہی علاقوں میں سہولیات کو بہتر بنانا ہے-

    ادائیگی کی خبریں حالیہ شاہی گھوٹالوں کے سلسلے کے بعد آتی ہیں، جن میں جون میں ایک رپورٹ بھی شامل ہے کہ شہزادہ چارلس نے 2011 اور 2015 کے درمیان قطری ارب پتی سے 3.1 ملین ڈالر نقد عطیہ قبول کیے تھے، جن میں سے کچھ ذاتی طور پر سوٹ کیس اور شاپنگ بیگز میں وصول کیے گئے تھے۔

  • سینیٹ الیکشن ویڈیواسکینڈل: تحریک انصاف کے رہنماء کی درخواست خارج

    سینیٹ الیکشن ویڈیواسکینڈل: تحریک انصاف کے رہنماء کی درخواست خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سینیٹ الیکشن ویڈیو اسکینڈل کے معاملے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی رکن اسمبلی فہیم خان کی درخواست خارج کردی۔

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی فہیم خان کی فوجداری مقدمہ درج کرنے کے حکم کے خلاف دائر درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی۔
    واضح رہے کہ سینیٹ الیکشن میں علی حیدر گیلانی کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے علی حیدر گیلانی کےخلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا۔

    الیکشن کمیشن نے ویڈیو بنانے والے پی ٹی آئی کے فہیم خان اور کیپٹن ریٹائرڈ جمیل کے خلاف بھی کارروائی شروع کی، اس پر فہیم خان نے اپنے خلاف کارروائی کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا

  • کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    کراچی: پاکستانی عوام سے کرپٹو کرنسی کے نام پر اربوں روپے کے فراڈ پر ایف آئی اے نے ایک کمپنی کو نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی نے ہفتے کو ایف آئی اے سائبر کرائم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر منعقدہ اجلاس میں ایف آئی اے سندھ زون عامر فاروقی، ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم عمران ریاض کے علاوہ دیگر افسران شریک ہوئے۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے فراڈ کی شکایات پر ایف آئی اے نے کام تیز کردیا ہے، تمام بینکوں کو منع کردیا ہے کہ ورچوئل کرنسی میں لین دین نہ کریں، اسٹیٹ بینک کے اعلی افسران سے بھی ملاقات میں اس بات پر زور دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی ویب سائٹ کہاں سے آپریٹ ہورہی ہیں اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، دنیا بھر میں 16 ہزار ویب سائٹ سے ورچوئل کرنسی کے ذریعے کام کیا جاتا ہے،دہشت گری کے لیے رقم کی لین دین بھی ورچوئل کرنسی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

    ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ 8 ماہ قبل کرپٹو کرنسی کے ذریعے فراڈ کرنے والا ملزم ڈاکٹر ظفر گرفتار بھی ہوچکا ہے، ورچول کرنسی میں فراڈ کے حوالے لوگوں نے درخواستیں دی تھیں جس کی تفتیش چل رہی ہے، منگل کو اس معاملے پر اسٹیٹ بینک میں بریفنگ دی جائے گی، ہم اس اسکینڈل کو حتمی نتیجے تک پہنچائیں گے۔

    صدر مملکت نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی

    واضح رہے کہ حال ہی میں ایف آئی اے نے ایک آن لائن فراڈ کی نشان دہی کی جس میں کرپٹو کرنسی کا لین دین کرنے والی کئی کمپنیاں ہزاروں پاکستانی افراد کے پیسے ہڑپ کر گئیں-

    حیران کن بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے 2018 کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لین دین سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار کا رجحان گزشتہ سالوں میں تیزی سے بڑھا ہے لین دین کے اس رجحان کے ساتھ ہی آن لائن دھوکہ دہی میں بھی اضافہ ہوا ہے جس میں ہزاروں افراد جھانسے میں آ کر کرپٹو کرنسی کے ذریعے جلد اور با آسانی پیسے کمانے کے لالچ میں آ جاتے ہیں۔

    پاکستانیوں کے کرپٹو کرنسی میں ڈوبے 18 ارب کی واپسی کی امید

    ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پر ادائیگی کا طریقہ کار ہے اس سے آپ خریداری کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں اس وقت دنیا میں 4000 سے زائد کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔ سنہ 2009 میں متعارف کروائے جانے کے بعد سے بِٹ کوائن کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

    بی بی سی کے مطابق بائنینس دنیا میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کی سب سے بڑی ایکسچینج ہے جو 2017 میں قائم ہوئی اور کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ہے۔ ایسی ایکسچینج کے ذریعے لوگ کرپٹو کرنسی خریدتے ہیں اور اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے لین دین کے ذریعے منافع کماتے ہیں۔

    حریم شاہ منی لانڈرنگ معاملہ : سی اے اے حکام کا وضاحتی بیان

    عام طور پر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ لگانے والوں کے لیے یہ ایکسچینج ایک پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں وہ اپنا اکاوئنٹ کھول کر لین دین کر سکتے ہیں۔ لیکن کئی لوگ اس لین دین کے لیے موبائل فون ایپلیکیشنز اور ویب سائٹس بھی استعمال کرتے ہیں جس میں براہ راست سرمایہ کاری کے بجائے کسی اور کے ذریعے سرمایہ لگایا جاتا ہے۔ اس فراڈ میں بھی ایسا ہی ہوا۔

    ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہریار احمد خان کا کہنا تھا کہ بائنینس کے کراچی میں نمائندے حمزہ خان کو بھی طلب کیا گیا اور بائنینس کے مرکزی دفتر کو بھی ان تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔

    ایف آئی اے کے سندھ سائبر کرائم کے سربراہ عمران ریاض کے مطابق عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنینس نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے رابطے کے بعد کرپٹو کرنسی کے دو ماہر جو امریکی محکمہ خزانہ کے سابق ملازم رہ چکے ہیں نامزد کیے ہیں۔

    ان کے مطابق بائنینس کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ بائنینس بلاک چین ایڈریس استعمال کرتے ہوئے 11 ایپس کے فراڈ کی تحقیقات میں ایف آئی اے سے مکمل تعاون کرے گی اور اُنھیں امید ہے کہ مجرموں کی شناخت کی جا سکے گی۔

    خیبر پختونخوا حکومت کا مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کا اعلان

    کرپٹو کرنسی کے لین دین کا کام کرنے والی کمپنی کرپٹو برادرز کے سید عون کا کہنا تھا کہ اس آن لائن فراڈ میں ان لوگوں کو زیادہ نقصان ہوا جو کرپٹو کرنسی کو سمجھے بغیر لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانا چاہتے تھے کرپٹو کرنسی کے لین دین سے لوگوں نے اس طرح پیسے ضرور کمائے لیکن یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اس کو سمجھا اور خود لین دین کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس فراڈ میں چند لوگوں نے موبائل فون ایپلیکیشنز بنائیں جو کرپٹو کرنسی کی ایکسچینج نہیں تھی۔ ’لوگوں نے ان کو پیسے بھیجے جو بائنینس میں لگائے گئے لیکن پھر اُنھوں نے وہاں سے پیسے نکلوا لیے یا ٹرانسفر کروا لیے اگر پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کیا ہوتا تو یہ فراڈ ہونا مشکل تھا۔ ’اگر پاکستان میں قانون ہوتا تو پھر پاکستان کی جانب سے بائنینس کو اپنی شرائط دی جاتیں کہ اگر پاکستانیوں کے اکاؤنٹ کھولے جائیں تو کن شرائط پر کھولے جائیں اور کیا معلومات لی جائیں جو حکومت کو بھی مہیا کی جائیں۔‘

    عون کا کہنا تھا کہ جب یہ گروپ پاکستان کے کروڑ ڈالر یا 18 ارب روپے بائنینس کے والٹ میں ڈال رہا تھا تو ان کے کان کھڑے ہوتے اور وہ پاکستان کے ایف آئی اے کو بتاتے کہ آپ کے ملک سے فلاں شہری جو یہ کام کرتے ہیں اور جنھوں نے اتنی آمدنی بتائی ہوئی ہے وہ یکدم اتنے پیسے جمع کروا رہے ہیں۔ تب گارنٹیز ہوتیں اور ایسے فراڈ نہیں ہوتے۔

    سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا دھرنا

    خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک کرپٹو کرنسی کا کاروبار غیر قانونی ہے۔ حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ میں وقار ذکا کی جانب سے درخواست کی گئی کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو قانونی بنایا جائے انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے پاکستان کا قرضہ اتارا جا سکتا ہے۔

    سندھ ہائی کورٹ نے اس ضمن میں سٹیٹ بینک سمیت وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا تھاجس کےبعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)،سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، وفاقی وزارت خزانہ اور فائنینشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے نمائندوں پر مشتمل کرپٹو کرنسی کمیٹی قائم ہوئی جس کی رپورٹ بدھ کے دن سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی جس میں سفارش دی گئی ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ ملک میں اس وقت لوگوں کو کم مدت میں زیادہ منافع کمانے کی ترغیب دے کر پھانسا جا رہا ہے۔

    کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح ملک سے ناجائز پیسہ بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے یعنی منی لانڈرنگ ہو سکتی ہے۔ اس سفارش کی ایک اور وجہ زرِ مبادلہ ذخائر کی ممکنہ طور پر بیرون ملک منتقلی بھی بتائی گئی ہے پاکستان میں بلااجازت کام کرنے والی بائنینس جیسی کرپٹو ایکسچینج کمپنیز کو فی الفور بند کردینا چاہیے اور ان پر جرمانہ عائد کرنا چاہیے۔

    کمیٹی کی رپورٹ میں حال ہی میں سامنے آنے والے کرپٹو کرنسی فراڈ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین میں رسک پاکستان کے لیے فوائد سے کہیں زیادہ ہے بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کر چکے ہیں جن میں چین، بنگلہ دیش، مصر، مراکش، ترکی، نائجیریا، ویت نام، سعودی عرب، بولیویا اور کولمبیا شامل ہیں۔

    ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کا بیان بھی قابل تسلیم گواہی قراردیا