Baaghi TV

Tag: اشرف غنی

  • افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ منظر عام پر آ گئے

    افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ منظر عام پر آ گئے

    کابل: افغانستان سے مبینہ طور پر قومی خزانے کے کروڑوں ڈالر لے کر فرار ہونے والے سابق افغان صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ منظر عام پر آ گئے۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں افغانستان سے فرار ہونے کے بعد سابق افغان صدرکو پہلی مرتبہ سعودی عرب میں دیکھا گیا، افغان میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم افغانستان کے سابق صدر عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

    واضح رہے کہ اگست 2021 میں اشرف غنی نامعلوم مقام پر مفرور ہو گئے تھے افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی کے سابق چیف سیکورٹی گارڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک سے فرار ہوتے وقت وہ لاکھوں امریکی ڈالرز لے کر فرار ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں ثبوت و شواہد بھی پیش کرسکتے ہیں۔

    لکی مروت میں پولیس چوکی پر دہشتگروں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

    مفرور صدر اشرف غنی کے سابق چیف باڈی گارڈ بریگیڈیئر جنرل پیرازعطا شریفی نے برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اشرف غنی کے فرار سے قبل انہوں نے نوٹوں سے بھرے تھیلے صدارتی محل میں آتے ہوئے دیکھے تھے جن کی فوٹیج بھی ان کے پاس موجود ہے۔

    ایک سوال پر انہوں نے کہا تھ کہ صدارتی محل میں بینک سے ایک آدمی نوٹوں سے بھرے ہوئے تھیلے لے کر آیا تھا جن میں کروڑوں اور یا پھر اربوں ڈالرز موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پیسے دراصل کرنسی ایکچینج مارکیٹ لے جانے کے لیے تھے جو اشرف غنی اپنے ہمراہ لے گئے،معمول کے مطابق صدارتی محل میں ہر جمعرات کے دن کرنسی ایکسچینج مارکیٹ کے پیسے آتے تھے،مفرور اشرف غنی اس بات سے بخوبی واقف تھے اور وہی سارے پیسے لے کر ملک سے فرار ہو گئے۔

    حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا امکان

    واضح رہے کہ اشرف غنی 15 اگست کو ملک سے اس وقت فرار ہوئے تھے جب ابھی طالبان کابل میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے،اس وقت میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ مفرور صدر اشرف غنی ملک سے 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز کی خطیر رقم کے ہمراہ فرار ہوئے ہیں لیکن اس کی انہوں نے تردید کردی تھی۔

  • افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    سابق افغان صدر اشرف غنی نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویومیں کہا ہے کہ پندرہ اگست کی صبح تک گمان نہیں تھا یہ میرا افغانستان میں آخری دن ہو گا

    اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان چھوڑنے سے پہلے نہیں جانتا تھا کہ کہاں جائیں گے،کابل چھوڑنے کا فیصلہ منٹو ں میں کیا گیا تھا،پندرہ اگست کو صدارتی محل پر تعینات سیکیورٹی ہار مان گئی تھی اگر میں اسٹینڈ لیتا تو یہ سب مارے جاتے،کابل کو بچانے کے لیے اپنے تئیں قربانی دینے کا سوچا صدارتی محل پر تعینات سیکیورٹی میں میرے دفاع کی صلاحیت نہیں تھی،بد قسمتی سےمجھے مکمل اندھیرے میں رکھا گیا ،یہ افغانستان کا نہیں امریکا کا مسئلہ تھا،مجھے قربانی کا بکرا بنایا گیا،میری ساری زندگی کی محنت برباد ہو گئی افغانستان چھوڑنے پر افغان عوام کے غصے کو سمجھتا ہوں،

    اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی امریکا سمیت کسی ملک کے لیے کام نہیں کیا۔دوسرے لیڈروں کے برعکس انہیں امریکہ، نیٹو یا کسی دوسرے ملک سے پیسے نہیں ملے ، طالبان پناہ کے بغیر، مدد کے بغیرکبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔

    سابق صدر اشرف غنی نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے لویہ جرگہ بلائیں دنیا کی اقوام لویہ جرگہ کے بغیر طالبان کو تسلیم کرنے سے گریز کریں گی۔ انہوں نے لویہ جرگہ کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیا۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ افغانستان کے عوام افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے اور اس ملک کے حالات پر طالبان سے ناراض ہیں۔

    اشرف غنی 15 اگست کو کابل سے روانہ ہوئے تھے اور روسی سفارت خانے کے حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں لاکھوں ڈالر لے گئے تھے، لیکن اشرف غنی نے اب ایک بیان جاری کیا ہے جس میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے قریبی ساتھیوں کے اثاثوں کا احتساب کرنے کے لیے تیار ہیں اور اقوام متحدہ یا دیگر اداروں کی جانب سے آزاد انکوائری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    مریم نواز کی خواہش؟ عید پر کتنی ہوں گی چھٹیاں؟ شیخ رشید کا بڑا اعلان

    وزیرداخلہ بننے کا مطلب یہ نہیں کہ اوقات بھول جاؤں،،بارڈرپرجاوَں گا، شیخ رشید

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    خیال رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد سابق صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے تھے ان کے فرار کے بعد رپورٹس سامنے آئیں تھیں کہ وہ تاجکستان فرار ہوئے تاہم تاجک وزارت خارجہ نے تردید کی تھی۔

  • طالبان نے کابل پر قبضہ نہیں کیا بلکہ انہیں دعوت دی گئی تھی ،حامد کرزئی

    طالبان نے کابل پر قبضہ نہیں کیا بلکہ انہیں دعوت دی گئی تھی ،حامد کرزئی

    سابق افغان صدرحامد کرزئی کا کہنا ہے کہ طالبان نے افغان دارالحکومت کابل پر قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ انہیں اس کی دعوت دی گئی تھی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق سابق افغان صدر حامد کرزئی نے سابق صدراشرف غنی کے ملک چھوڑنے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو شہر میں داخل ہونے کی دعوت دی گئی تاکہ آبادی کا تحفظ کیا جاسکے اور ملک کو افراتفری سے بچایا جاسکے۔

    حامد کرزئی نے پہلی بار ایسا اشارہ دیا ہے کہ انہوں نے طالبان کو آنے کی دعوت دی تھی۔ حامد کرزئی نے اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ عبد اللہ عبد اللہ اور دوحہ میں موجود طالبان قیادت اس حوالے سے ہونے والے معاہدے کا حصہ تھی۔

    عالمی بینک نے افغانستان کو بڑی خوشخبری سُنا دی

    حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ اشرف غنی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی حکام بھی ملک چھوڑ چکے تھے، حامد کرزئی نے جب وزیر دفاع بسم اللہ خان سے یہ پوچھنے کے لیے رابطہ کیا کہ کتنے حکومتی اراکین موجود ہیں تو انہیں معلوم ہوا کہ کوئی موجود نہیں، یہاں تک کہ کابل کے پولیس چیف بھی موجود نہیں تھے۔

    اس کے بعد میں نے وزیر داخلہ کو فون کیا، پولیس چیف کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی موجود نہیں تھا۔ یہاں تک کہ نہ کور کمانڈر تھے اور نہ کوئی یونٹ، سب جا چکے تھے اشرف غنی کے چلے جانے نے دارالحکومت میں طالبان کے داخلے کے حوالے سے منصوبہ بندی کو درہم برہم کردیا۔

    اس صورتحال میں بسم اللہ خان نے حامد کرزئی سے بھی دریافت کیا کہ کیا وہ کابل چھوڑنا چاہتے ہیں؟ جس پر 13 سال تک ملک کے صدر رہنے والے حامد کرزئی نے کابل چھوڑنے سے انکار کردیا۔

    یو این جنرل اسمبلی میں افغان نشست نہ ملنے پر طالبان کا ردعمل

    یاد رہے کہ اس وقت حامد کرزئی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ عبداللہ عبداللہ دوحہ میں طالبان قیادت کے ساتھ ایک معاہدے پر کام کررہے تھے جس کے تحت طالبان کو کچھ شرائط کے ساتھ دار الحکومت میں داخل ہونے دیا جاتا اس ضمن میں حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی سے ملاقات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ شراکت اقتدار کے معاہدے کے لیے دیگر 15 افراد کے ہمراہ اگلے روز قطر روانہ ہوں گے۔

    حامد کرزئی نے بتایا کہ 15 اگست کی صبح اس وقت دارالحکومت میں بے چینی کا ماحول تھا افواہیں پھیلی ہوئی تھیں کہ طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا ہے ، جس پر انہوں نے دوحہ فون کیا جہاں سے انہیں بتایا گیا کہ طالبان شہر کے اندر داخل نہیں ہوں گے۔

    طالبان کے ساتھ سرحدی جھڑپ غلط فہمی کا نتیجہ تھی ایران

    حامد کرزئی کے مطابق دوپہر تک طالبان کا بیان آیا کہ حکومت کو اپنی جگہ پر برقرار رہنا چاہیے کیونکہ طالبان شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے اس کے بعد تاہم دوپہر تقریباً پونے 3 بجے تک یہ واضح ہوگیا تھا کہ اشرف غنی شہر چھوڑ چکے ہیں، حامد کرزئی نے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو فون کیا، کابل پولیس چیف کو تلاش کیا لیکن سب جاچکے تھے۔

    اشرف غنی کے محافظ دستے کے نائب سربراہ نے حامد کرزئی سے کہا کہ وہ محل آکر صدارت سنبھال لیں تاہم حامد کرزئی نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ یہ ان کا حق نہیں ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس کے برعکس انہوں نے ’اپنے بچوں کے ساتھ ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تاکہ افغان عوام جان سکیں کہ وہ سب یہاں موجود ہیں‘۔

    حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ اگر اشرف غنی کابل میں ہی رہتے تو پر امن انتقال اقتدار کا معاہد ہ ہوسکتا تھا۔

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    بھارت امن چاہتا ہے تو کشمیریوں پر مظالم بند کرے،قریشی کی نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو

    شاہ محمود قریشی کی افغان عبوری وزیراعظم ملاحسن اخوند سے ملاقات

    حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ آج کل روزانہ کی بنیاد پر طالبان قیادت سے ملاقات کرتاہوں۔ دنیا کو ان سے رابطہ کرنا چاہیے،یہ بھی بہت ضروری ہے کہ افغان عوام بھی متحد ہوجائیں۔’اس صورتحال کا خاتمہ تب ہی ہو سکتا ہے جب افغان اکٹھے ہوں اور اپنا راستہ خود تلاش کریں۔

    اس سے قبل امریکی میگزین "نیویارکر” اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستانی نمبر سے موصول ہونے والے ایک ٹیکسٹ میسج اور فون کال سے سابق مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب، سابق صدر اشرف غنی کے ساتھ اہلِ خانہ کے ہمراہ افغانستان چھوڑنے پر آمادہ ہوئے –

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    میگزین کے مطابق طالبان جنگجوؤں کے کابل پر قبضے والے روز یعنی 15 اگست کو تقریباً ایک بجے ایک پیغام آیا کہ طالبان کے حقانی گروپ کے سربراہ خلیل حقانی، حمداللہ محب سے بات کرنا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے خلیل حقانی کی کال اٹھالی، کال پر انہیں ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق خلیل حقانی نے کہا کہ اگر حمداللہ محب ایک مناسب بیان دے دیتے ہیں تو وہ ملاقات کر سکتے ہیں لیکن جب سابق مشیر قومی سلامتی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے مذاکرات کا کہا تو خلیل حقانی نے اپنی بات دہرا کر کال کاٹ دی۔

    اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا کہ خلیل حقانی نے زلمے خلیل زاد کے نائب ٹام ویسٹ کو دوحہ میں کال کی اور انہیں خلیل حقانی کی کال سے آگاہ کیا جس پر ٹام ویسٹ نے انہیں ملاقات کے لیے نہ جانے کا مشور دیا کیوں کہ یہ ایک جال ہوسکتا تھا۔

    ایک سو سے زائد افغان خواتین کو فروخت کرنیوالا ملزم طالبان کے ہتھے چڑھ گیا

    غداری کے الزام میں گرفتار شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

  • اشرف غنی کے تاخیری حربے از عدنان عادل

    اشرف غنی طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان سے مصالحتی عمل میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث گزشتہ ہفتہ افغان طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ قیدیوں کی رہائی پر بات چیت ختم کردی اور ان کا وفد افغان دارلحکومت سے واپس قطر روانہ ہوگیا۔تئیس مارچ کو امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپوکابل گئے تھے جہاں انہوں نے اشرف غنی کو صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ طالبان سے مصالحتی معاہدہ پر عملدرآمد کریں ورنہ امریکہ یکطرفہ طور پر اپنی تمام افواج افغانستان سے نکال لے گا اور انکی حکومت کو ایک ارب ڈالر کی وہ امداد نہیں دے گا جسکا وعدہ کیا گیا تھا۔ امریکہ کی اس تنبیہ کے باوجود اشرف غنی نے طالبان سے حالیہ بات چیت میں سخت روّیہ اختیار کیا اور اُن پندرہ سینئرطالبان کمانڈروں کو قید سے رہا کرنے سے انکار کردیاجس کامطالبہ طالبان کررہے تھے۔ حالانکہ طالبان نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی بار کابل انتظامیہ کے وجود کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس سے بات چیت شروع کی تھی۔ مائک پومپیو کے کابل میں ناکام مشن کے بعد امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیا کے لیے نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھی چند روز پہلے تنبیہ کے انداز میں یہ بیان دیا کہ امریکہ افغانستان کو اسی صورت میں مالی امداد دے گا جب وہاں تمام فریقوں پر مشتمل حکومت قائم ہوگی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس کا لب و لہجہ خاصا سخت تھا۔ اس پیغام کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ اب بین الاقوامی امداد دینے والے افغانستان میں پہلے کی طرح کام نہیںکریں گے۔ عالمی امدادسب فریقوں پر مشتمل حکومت کو ہی دی جائے گی۔اس اعتبار سے ایلس ویلز کی تنبیہ پومپیو سے بھی ایک قدم آگے تھی کہ انہوں نے نہ صرف امریکی امداد بلکہ تمام عالمی امداد کو افغان امن عمل اور وسیع البنیاد حکومت کے قیام سے مشروط کردیا۔یہ امریکی وارننگ اس لیے بہت اہمیت رکھتی ہے کہ افغانستان حکومت کا اسّی فیصد سے زیادہ بجٹ بیرونی امداد پر مشتمل ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک گزشتہ اٹھارہ برسوں میں کابل حکومت کو براہ راست ایک سو چالیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم دے چکے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو کااپنی فوجیں افغانستان میں رکھنے پر جو اخراجات ہوئے وہ اس کے سوا ہیں۔ ان حالات میں اشرف غنی کا طالبان سے مذاکرات میں ہٹ دھری پر مبنی روّیہ بلاوجہ نہیں ہے۔ جب انتیس فروری کو امریکہ اور طالبان نے قطر میں امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے ۔اس سے اشرف غنی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ مستقبل میں افغانستان میں طالبان کو اپنا بڑااتحادی اور شریک کار بنانا چاہتی ہے۔امریکہ افغانستان میںجو وسیع البنیاد حکومت بنانے کی بات کررہا ہے اس میں طالبان غالب ہونگے ۔

    اشرف غنی اور ان کی اتحادی لبرل اشرافیہ اقتدار میں جونئیرحصہ دار ہونگے۔ امریکہ کے طالبان سے معاہدہ کے نتیجہ میں بھارت کو بھی بڑا دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ وہ امریکہ کا شریک کار بن کر افغانستان اور وسط ایشیا میں اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا۔بھارت کی پالیسی یہ رہی ہے کہ کابل میں ایسی حکومت قائم رہے جو علاقائی سیاست میںاس کی حامی اور پاکستان کی مخالف ہو‘ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں اس کی مددگار ہو۔امریکی پالیسی میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار کم سے کم رہ جائے گا جبکہ پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہوجائے گا۔ امریکہ اور طالبان معاہدہ صرف افغانستان نہیں بلکہ علاقائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اس معاہدہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ امریکہ کی وسط ایشیائی تزویراتی پالیسی میںبھارت کی جگہ پاکستان کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔ بھارت کے لیے یہ ایک بڑا صدمہ ہے۔ اسی لیے بھارت طالبان کے خلاف اشرف غنی حکومت کی بھرپور مدد کررہا ہے۔ بھارت کا کابل کی لبرل اشرافیہ میں گہرا اثر و رسوخ ہے جس پر وہ بھاری سرمایہ کاری کرتا ہے۔اشرف غنی کے ارد گرد جو لوگ ہیں انکے دہلی کے حکمرانوں سے گہرے روابط ہیں۔موجودہ حالات میں ان دونوں کا مشترک مفاد یہ ہے کہ طالبان کو کابل میں حکومت بنانے کا موقع نہ مل سکے۔ مصالحتی عمل کو اتنا طویل اور پیچیدہ بنادیا جائے کہ امریکہ اور طالبان کا امن معاہدہ غیر مؤثر ہوجائے۔ یہ دونوں پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے افغانستان میں طویل مدتی‘ تزویراتی مفادات ہیں۔ وہ اگر یکطرفہ طور پر فوجوں کا انخلا کرے گا ،تو اسکے خطہ میں مفادات اور اسکی ساکھ کو سخت نقصان پہنچے گا ۔اس لیے صدر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل نہیں کرسکیں گے۔ بھارت سفارتی سطح پر ہر وہ کوشش کرے گا جس سے صدر ٹرمپ کواپنی دھمکی پر عمل کرنے سے کچھ عرصہ کے لیے باز رکھا جاسکے۔

    منصوبہ یہ ہے کہ وسیع البنیاد حکومت کے قیام میں کم سے کم اتنی تاخیر ہو جائے کہ اس سال نومبر میںامریکہ کے صدارتی الیکشن گزر جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن ہار جائیںاور نیا ڈیموکریٹک صدرانکی پالیسی جاری نہ رکھے‘ طالبان سے معاہدہ توڑ دے۔یوں ایک بار پھر بھارت اور افغان لبرل اشرافیہ کا گٹھ جوڑکابل پر براجمان رہے۔ تاریخی حقیقت ہے کہ ڈیموکریٹ صدورپاکستان کی بجائے بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں ۔ امریکہ اور طالبان کے معاہدہ کے بعد بھارت نے اشرف غنی کو ڈٹ جانے کی تھپکی دی ہے جس سے اُن کے حوصلے بلند ہوئے ہیں ورنہ وہ اور افغان لبرل اشرافیہ اس پوزیشن میں نہیں کہ ایک دن بھی امریکی امداد کے بغیر گزارہ کرسکیں‘ نہ وہ امریکی افواج کی مدد کے بغیر طالبان کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔اگلے چند مہینوں میں واضح ہوجائے گا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے افغان منصوبہ پرکس قدر ثابت قدمی سے عمل کرتی ہے اور طالبان غنی انتظامیہ پر اپنا دباؤ کس قدر بڑھاتے ہیں۔

    عدنان عادل

  • اشرف غنی کو وزیراعظم عمران خان کا فون دھماکے شدید مذمت اور اشرف غنی کی خیریت دریافت کی

    اشرف غنی کو وزیراعظم عمران خان کا فون دھماکے شدید مذمت اور اشرف غنی کی خیریت دریافت کی

    اسلام آباد:افغانستان بے شک پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے لیکن پاکستان اس کے بدلےمیں‌برا سلوک نہیں‌کرے گا بلکہ برائی کا جواب اچھائی میں دے گا، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے افغان صدر کی انتخابی ریلی میں دھماکے کی مذمت کی اور اشرف غنی کی خیریت بھی دریافت کی۔

    اسلام آباد سے ذرائع کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلیفون کر کے افغان صدر کی انتخابی ریلی میں دھماکے کی مذمت کی اور اشرف غنی کی خیریت بھی دریافت کی ہے۔

    عمران خان آج سعودی عرب جارہے ہیں جہاں کشمیر اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے ہوں گے

    دفتر خارجہ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے افغان صدر کو طورخم بارڈر کھلنے کی افادیت سے آگاہ کیا۔ اشرف غنی نے ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان کو دورہ افغانستان کی دعوت دی ہے، یاد رہےکہ افغانستان ہمیشہ پاکستان کی دشمنی میں‌کوئی کسر نہیں‌اٹھا رکھتا اور اپنی ناکامیوں‌کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا رہا ہے لیکن اس کے جواب میں پاکستان نے ہمیشہ برادرانہ کردار ہی ادا کیا