Baaghi TV

Tag: اصلاحات

  • بچوں پر تشدد کے کیسز کے حل کے لئے موثر قانون سازی ، اصلاحات کا مطالبہ

    بچوں پر تشدد کے کیسز کے حل کے لئے موثر قانون سازی ، اصلاحات کا مطالبہ

    ماہرین نے پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد اور گمشدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور قانون سازی میں موجود سقم دور کرنے پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بچوں کے اغوا اور بدسلوکی کے کیسز کی مو¿ثر رپورٹنگ اور تیز رفتار عدالتی کارروائی کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی کےمطابق پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) نے روشنی ہیلپ لائن کے اشتراک سے ”پاکستان میں لاپتہ بچوں اور بچوں پر تشدد کے کیسز سے نمٹنے میں قانون سازی کی خامیاں“ کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے قانونی رکاوٹوں، تفتیشی عمل کی سست روی اور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ ملک میں لاپتا بچوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر تفتیشی عمل سست اور غیر مو¿ثر ہے۔ انہوں نے پولیس کے تربیتی معیار میں بہتری لانے اور جدید تکنیکی وسائل سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    روشنی ہیلپ لائن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد علی نے بتایا کہ ان کی تنظیم 1999 میں قائم کی گئی تھی اور اب تک 11,800 سے زیادہ لاپتہ بچوں کو ان کے اہل خانہ سے دوبارہ ملانے میں مدد فراہم کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کا 9000 رضاکاروں پر مشتمل نیٹ ورک سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں کی گمشدگی کے خلاف اہم کردار ادا کر رہا ہے۔روشنی ہیلپ لائن کے ٹریننگ منیجر علی شان نے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 میں خامیوں کی بھی نشاندہی کی۔انہوں نے بتایا کہ بچوں پر تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور شہری علاقوں میں 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 364-A صرف 14 سال سے کم عمر بچوں کے اغوا تک محدود ہے، جو غیر مو¿ثر ہے۔

    سابق سینیٹر ڈاکٹر مہر تاج روغانی پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لئے قوانین تو موجود ہیں لیکن لاپتا بچوں کا معاملہ ان میں شامل نہیں۔ انہوں نے پولیس، سماجی تحفظ کے اداروں اور کمیونٹی سروسز کے مابین بہتر رابطے، قومی سطح پر ڈیٹا بیس کے قیام اور مو¿ثر قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور انسانی حقوق کمیٹی کی رکن سحر کامران نے کہا کہ بچوں پر تشدد کے قوانین عموماً ردعمل کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں لیکن ان کے نفاذ میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔

    سابق انسپکٹر جنرل پولیس سید کلیم امام نے کہا کہ پاکستان کا فوجداری نظام نوآبادیاتی دور کا ورثہ ہے اور پولیس کو وسائل کی کمی جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو بچوں پر تشدد اور گمشدگی کے معاملات پر خصوصی تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے۔سید کلیم امام نے بچوں کے تحفظ کے لئے جامع اصلاحات، سخت سزاو¿ں، پولیس کی استعداد کار میں اضافے اور ایک مو¿ثر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔

    5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان

    کراچی کی بزرگ خاتون نے امریکا سے آئی خاتون کو بہو قراردیدیا

    کراچی کی ترقی کا سفر تیر کے نشان کے تحت شروع ہوا ہے،مرتضیٰ وہاب

    کراچی کی ترقی کا سفر تیر کے نشان کے تحت شروع ہوا ہے،مرتضیٰ وہاب

  • آئینی ترمیم،مولانا فضل الرحمان کا حکومت کو گرین سگنل

    آئینی ترمیم،مولانا فضل الرحمان کا حکومت کو گرین سگنل

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میرے خیال میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حالات نہیں ہیں، کیا گورنر میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ صوبے کو کنٹرول کر سکے،

    مولانا فضل الرحمان خصوصی کمیٹی اجلاس کے لئے پہنچے تو میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جو ہم نے اصلاحات کی تجاویز دی ہیں، عدلیہ کی اصلاحات کے حوالے سے کوئی آئینی ترمیم آتی ہے تو اُس پر غور کریں گے، خیبر پختونخوا میں امن و امان وہاں نہیں رہا، پولیس بائیکاٹ پر ہے، یہ اچھی علامات نہیں، علی امین گنڈا پور کی افغانستان سے بات کرنا جذباتی باتیں ہیں،کیا گورنر میں صلاحیت ہے کہ وہ صوبہ چلا سکیں، علی امین جذباتی، سیاسی بیانات دیتے ہیں،

    کیا ہر صوبہ اب اپنی اپنی خارجہ پالیسی بنائے گا؟ عرفان صدیقی

    ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا،خواجہ آصف

    گنڈاپور کی افغان سفارتکار سے ملاقات آئندہ ماہ کوئی ایڈونچر کرنے کی پلاننگ ہے،عظمیٰ بخاری

    دہشتگردی کے خلاف پولیس اور پاک فوج کا تعاون جاری رہے گا،آئی جی خیبر پختونخوا

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • کاروبارمیں آسانی کیلئےکونسی اصلاحات جاری ہیں؟ ڈاکٹر علوی نے بتا دیا!!

    کاروبارمیں آسانی کیلئےکونسی اصلاحات جاری ہیں؟ ڈاکٹر علوی نے بتا دیا!!

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے اور کاروبارمیں آسانی کیلئے اصلاحات جاری ہیں، تاجر برادری ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دینے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے، افغانستان میں امن سے خیبر پختونخوا کو فائدہ اور علاقائی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار گورنر ہاؤس پشاورمیں خیبر پختونخوا کی کاروباری برادری سے ملاقات میں کیا۔ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلور، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیر باز الیاس اور چیمبر کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مکمل ٹیکس ادائیگی سے تجارتی خسارہ کم کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کی فراہمی میں مدد ملے گی، تاجر برادری ملک میں ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دینے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی کی وبا کے دوران 1.2 کھرب کا معاشی ریلیف پیکج دیا گیا ہے ،حکومت بزنس کمیونٹی کو مسابقتی کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے ، ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے اور کاروبارمیں آسانی کیلئے اصلاحات جاری ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ تاجر برادری حکومت سے روابط مزیدبہترکرےاور کاروباری ماحول کی بہتری کیلئے تجاویز دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت اور آئی ٹی شعبےمیں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا اور اس کا سب سے پہلےخیبر پختونخوا کو فائدہ ہوگا۔ اس موقع پر تاجر برادری نے کاروباری شعبے کے تحفظ اور علاقائی تجارت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات کی تعریف کی۔ صدر مملکت کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت کے امکانات اور فوائد کے متعلق بریفنگ دی گئی۔

  • وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس, ملک کے زرعی شعبے کی اصلاحات پر جائزہ

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس, ملک کے زرعی شعبے کی اصلاحات پر جائزہ

    اسلام آباد: 8 فروری 2021
    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کے زرعی شعبے کی بحالی کے حوالے سے اصلاحات پر جائزہ اجلاس۔
    اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، مشیر وزیر اعظم ڈاکٹر عشرت حسین، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر اعلی خیبر پختون خواہ محمود خان، معاونین خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے صوبائی وزراء مخدوم ہاشم جواں بخت، محمد سبطین خان، حسین جہانیاں گردیزی، سید صمصام حسین بخاری، سردار حسنین بہادر دریشک، تیمور سلیم جھگڑا، سید محمد اشتیاق، نجی شعبے کے نمائندگان اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران شریک تھے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ موجود استعداد سے کم ہے۔ اسی طرح گندم چاول، مکئی، کپاس اور گنے کی پیداوار بھی خطے کے مقابلے میں کم ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موثر حکمت عملی اورکسانوں کو مالی و تکنیکی معاونت کی فراہمی سے زرعی پیداوار کے تناسب کو سال 2031تک 74ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ سال 2020 میں ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ49ارب ڈالر رہا جس میں اکتیس ارب ڈالر لائیو سٹاک، ایک ارب فشریز جبکہ سترہ ارب ڈالر زرعی فصلوں کی مد میں ریکارڈ کیا گیا۔ سال2000میں یہ حصہ بیس ارب ڈالر تھا جس میں دس ارب ڈالر لائیوسٹاک جبکہ فصلوں کا حصہ دس ارب ڈالر تھا۔ اس اعتبار سے گذشتہ بیس سالوں میں زرعی فصلوں کی پیداوار میں صلاحیت کے مطابق استعداد کو برؤے کار نہیں لایا جا سکا۔
    ٭ مختلف اجناس کے حوالے سے بتایا گیا کہ گندم کی فصل میں ملکی اوسطاً پیداراو 29من فی ایکٹر، چاول 50من، مکئی57من، کاٹن18 اور گنے کی پیداوار 656من رہی ہے جبکہ بھارت میں یہ پیداوار بالترتیب گندم 51من، چاول64، مکئی42، کاٹن 18جبکہ گنے کی پیداوار اوسطاً 796من رہی ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پراگریسیو کسان کی اوسطاً پیداوار گندم 45من فی ایکڑ، چاول80من، مکئی، 80من، کاٹن 35 من جبکہ گنا میں اوسطاً پیداوار 950من ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت کسان کو فی ایکڑ140ڈالر ایگری کریڈٹ دستیاب ہے جبکہ بھارت میں یہ 369ڈالر، امریکہ میں 192جبکہ چین میں 628ڈالر میسر آ رہا ہے۔ اسی طرح سبسڈی کی مد میں بھی ہمارے کسان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم معاونت میسر ہے جو کہ اوسطاً 27ڈالر فی ایکڑ ہے۔ اجلاس کو زرعی شعبے میں موجود استعداد کو برؤے کار لانے کے حوالے سے مجوزہ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان 2021پر تفصیلی بریفنگ
    وزیرِاعظم کو پیش کردہ ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے پہلے مرحلے میں سیڈ (بیج) سیکٹر میں اصلاحات، ڈیجیٹل سبسڈی کا نظام متعارف کرانے، مشینری کے استعمال کے فروغ، پانی کا موثر استعمال، کاشتکاروں کو کریڈٹ کی فراہمی، ایکسٹینشن سروسز کی تنظیم نو، سٹوریج کی سہولیات اور تحقیقاتی شعبوں میں اصلاحاتی پروگرام متعارف کرانے سمیت آٹھ بڑے اقدامات کی نشاندہی۔
    پلان کے تحت کپاس، زیتون، مال مویشیوں میں جنیٹک امپروومنٹ اور فشریز (ماہی گیری) کو ترجیحاتی شعبے کے طور پر لیا جائے گا۔
    مندرجہ بالا شعبہ جات میں اصلاحات پر عمل درآمد کے حوالے سے مجوزہ ٹائم لائنز وزیرِ اعظم کو پیش
    کسانوں کو ٹارگیٹیڈ سبسڈی کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ
    اجلاس کو بتایا گیا کہ موجود اعداد وشمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں 67فیصد کسانوں (تقریبا سینتیس لاکھ) کا ڈیٹا موجود ہے۔ جن میں سے اٹھارہ لاکھ کسان کسی نہ کسی صورت میں ڈیجیٹل نظام سے سروسز استعمال کر چکے ہیں۔ نو لاکھ کسانوں کو سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں چار لاکھ کسان ڈٖیجیٹل پلیٹ فارم پر ریجسٹرڈ ہیں۔
    زرعی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے مشینری کے استعمال کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ جس میں گورنمنٹ کی جانب سے درکار معاونت کے حوالے سے مجوزہ اعدادو شمار پیش کیے گئے
    وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا، زرعی شعبے کا فروغ اور کسان کو اس کا جائز حق دلواناموجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت میں زراعت کی اہمیت کے باوجود ماضی میں اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو نظر انداز کیاگیا جس کا خمیازہ ہمارے کسان اور ملکی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بڑھتی آبادی کے پیش نظر فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے، خوراک کی درآمدات پر آنے والے اخراجات میں کمی لانے اور شعبے میں موجود پوٹینشل کو برؤے کار لانے کے لئے زرعی شعبے کی بحالی اور ترقی ایک قومی ترجیح ہے
    اجلاس میں زرعی شعبے کے فروغ کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ
    کمیٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، نجی شعبے اور ماہرین پر مشتمل ہوگی جو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کو حتمی شکل دیکر وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی تاکہ اس پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟  محمد عبداللہ

    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ سترھویں صدی کے عظیم روسی سربراہ مملکت گزرے ہیں۔ آپ نے روس کو جدید خطوط پر یورپ کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ پیٹر دی گریٹ سے پہلے روس ہر لحاظ سے یورپ کا پسماندہ ترین ملک تھا۔ مذہبی طبقہ نے اقتدار کی ایوانوں میں پنجے گاڑھ رکھے تھے۔ علاقائی "ارباب” کی بدمعاشی قائم تھی۔ تاجر طبقے نے عوام کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ملک داخلی اور خارجی سطح پر عدم استحکام کا شکار تھا۔ ان حالات میں پیٹر دی گریٹ نے عقلمندی اور شعور سے کام لیتے ہوئے ملک میں اصلاحات کا عمل شروع کیا۔ کسی بھی ملک میں اصلاحات کے لیے مضبوط فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر فوج کمزور ہو تو اصلاحات ایک خواب رہ جاتی ہے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان کمزور فوج کی وجہ سے اصلاحات کا عمل ادھورا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پیٹر دی گریٹ نے سب سے پہلے فوج کو مضبوط اور ہمنوا کیا۔ تاکہ اصلاحات کے عمل میں کوئی خلل نہ پڑے۔ مضبوط فوج کی موجودگی میں پیٹر ہر شعبہ زندگی میں اصلاحات لانے کے عمل میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ آپ نے پہلی بار روس میں اخبار شروع کیا۔کیونکہ کسی نظریے اور اصلاحات کی ترویج کے لیے اخبار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ روسی کلچر کو پروموٹ کیا۔ تعلیمی اصلاحات نافذ کیں۔ جدید خطوط پر نظام تعلیم کو استوار کیا۔ سائنس کو اہمیت دی۔ معاشی نظام کو بہتر کیا۔ تاجروں پر ٹیکس لگایا۔ مذہبی طبقہ کو محدود کیا۔غریبوں کے لیے وظائف مقرر کیے۔ پیٹر برگ کے نام سے جدید شہر آباد کیا۔ جس کو بعد میں دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی اور طرز تعمیر سے جدیدیت کا بے نظیر نمونہ پیش کر رہا ہے۔ پیٹر دی گریٹ نے مختصر عرصے میں اصلاحات کی بدولت پسماندہ ترین روس کو یورپ کا جدید ترین ملک بنا دیا۔ کسی ملک میں اصلاحات اور تبدیلی کے لیے مضبوط فوج، باعمل حکمران اور سوچ و جذبہ کار فرما ہونا بہت ضروری اور لازمی ہے۔