Baaghi TV

Tag: اصلاح معاشرہ

  • صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    صوفی ازم لفظ کے بارے میں محتلف روایات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوفی عربی لفظ ‘صوف’ سے ہے جس کے معنی اون کے ہیں۔ کیونکہ شروع میں مسلمان اون کے بنے ہوئے کپڑے استعمال کرتے تھے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ لفظ ‘صفہ’ سے ماخوذ ہے جو صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں علم حاصل کرتے اور ذکر کرتے تھے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ یونانی Sophia سے ماخوذ ہے۔جو معاشرے میں عقل شعور کی ترویج کرتے تھے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عربی لفظ صفا سے ہے جسکی معنی خالص اور صاف کے ہیں۔ کیونکہ صوفی دلوں کو بغض، گناہوں، اور برائیوں سے پاک صاف کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صوفا جو لوگ اسلام سے پہلے خانہ کعبہ کی خدمت کرتے تھے۔ المختصر صوفی وہ لوگ ہیں۔ جو بغیر کسی لالچ اور، ذاتی مفاد کے تمام انسانوں کے دلوں کو پاک و صاف کرنے کی کوشش کریں۔ دل کی صفائی و اصلاح صوفی ازم کا کام ہے۔ بنیادی طور پر صوفی ازم کسی مذہب کا محتاج نہیں کیونکہ صوفی ازم بین المذاہب سوچ وفکر ہے۔ صوفی ازم مختلف ناموں سے ہر مذہب میں موجود ہے۔ صوفی کا کام پیار، محبت، امن، بھائی چارہ اور قربانی کا درس دینا ہے چاہے مذہب ہندو ازم ہو، عیسائیت ہو یا اسلام، سکھ ازم ہو یا بدھ مت۔ لہذا موجود دور میں نفرتوں، لالچ،خود غرضی، انتہا پسندی اور دیگر معا شرتی بیماریوں کے خاتمہ کے لیے صوفی ازم کی ترویج وقت کی ضرورت ہے۔

  • ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے
    گذشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز پاکستان میں خواتین کے اندر بے چینی پیدا کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں
    اگر غور کریں تو کبھی خواتین مارچ کے نام پر عورتوں کو خاندان سے باغی کیا جاتا ہے
    تو کبھی بیکن ہاوس سکولوں میں لڑکیوں سے زیر جامہ کپڑوں کی خوب تشہیر کروائی جاتی ہے

    پھر لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے لیے کریم کار بک کروانے کا مشورہ نما اشتہار چلایا جاتا ہے

    اور پھر لڑکیوں کو باپ کی بات ماننے سے انکار پر اکسایا جاتا ہے وہی باپ جو بیٹیوں کی پرورش کی خاطر زمانے کی سرد و گرم برداشت کرتا ہے

    اور پھر اب لڑکیوں ہی کو چادر اور چاردیواری سے متنفر کیا جا رہا ہے
    اور یہ سب اچانک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ایک فرد کا کام ہے
    اس کو نظریاتی جنگ کے طور پر دشمن لڑ رہا ہے اور ہماری خواتین کو خاندان، مذہب اور معاشرے سے بد ظن کر رہا ہے کیونکہ اپنا خاندانی نظام تو امریکہ و یورپ تباہ کروا بیٹھے ہیں اب پاکستان کے اس سسٹم کو تباہ کرنے کے در پر ہیں اسی لیے تو خواتین ان کا نشانہ ہیں، شاید خواتین سادہ لوح ہوتی ہیں اور جلدی کسی کا بھی شکار ہوجاتی ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے
    امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ بکنے اور والی عمارت چرچ کی ہے اور سب سے زیادہ تباہ ہونے والا نظام خاندانی نظام ہے خاندانی نظام کی تباہی کا بہت سے یورپی وزیراعظم اقرار بھی کر چکے ہیں
    یہ خاندانی نظام خواتین اور بچوں کو معاشرتی دھوپ سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے اور اب یورپی و دیگر اقوام پاکستان کے اسی نظام کو تباہ کرنے کے در پے ہیں
    یاد رکھیے گا یورپ و امریکہ میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق چاہیں تھے لہذا انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کردیا سارا دن محنت مزدوری اور حقوق کے حصول کی دوڑ کے بعد تھکی ہاری عورت جب گھر پہنچتی تو بچوں کی دیکھ بھال اور خاوند کے جائز و ناجائز مطالبات پورے کرنا اور اس کی سیوا کرنے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی، سارا دن عورت بن کر رہنے والی کو گھر آکر بیوی بننا پڑتا تھا اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس عورت نے اپنے معاشرے سے الگ ہونا شروع کر دیا اور اب مغرب میں سب سے زیادہ اسلام عورتیں قبول کر رہی ہیں کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو خاوند کو عورت کا سربراہ بنانے کے ساتھ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ج کہ عورت اپنے گھر میں ملکہ کی طرح رہے گی
    لیکن مغرب پاکستان کے اندر جو کھلواڑ کر رہا ہے اس سے اس کا مقصود عورت تک پہنچنے کی آزادی حاصل کرنا ہے کیونکہ مغرب اب تازہ مال چاہتا ہے اسے یورپ کی استعمال شدہ عورت سے بےزاری محسوس ہونے لگ گئی ہے لہذا وہ اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اندر خوشنما نعروں کی آڑ میں خواتیں کی ذہن سازی کر رہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ مسلمان خواتین میں انسٹالڈ سافٹویئر کو وائرس کے ذریعے کرپٹ کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی کا سافٹویئر انسٹال کر کے اس عورت پر غلبہ اور قابو پا سکے تاکہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کر سکے اور بدقسمتی سے اس سارے دھندے کے لیے اسے پاکستان سے لبرلز کے نام پر چند ایسی فاحشہ عورتیں دستیاب ہو چکی ہیں جو اسلامی اقدار کو براہ راست نشانہ بنا کر مسلمان خواتین کو باور کرا رہی ہے کہ اسلامی حدود و قیود ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہذا آو اور ان حدود کو توڑ دو تاکہ تم ترقی کر سکو
    یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آسمان سے لگنے والی پابندی ترقی کی ضامن تھی لیکن آج فارمولے بدلے اور آسمانی پابندیوں کو پاوں کی ٹھوکر پر رکھنا ترقی کا ضامن قرار پایا ہے

    آپ ایریل ڈٹرجنٹ کا اشتہار دیکھ لیجیے کہ کس قدر ڈھٹائی سے خواتین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ *چار دیواری میں رہو* یہ جملے نہیں داغ ہیں پر یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے
    قرآنی آیت مبارکہ
    وقرن فی بیوتکن
    کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا اور مسلم خاتون کو حوصلہ دیا گیا کہ وہ آسمانی حکم کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے چار دیواری کو توڑ کر باہر نکلیں اور شومئی قسمت سے اسے ترقی کا نام دیا جاتا ہے
    مورخ سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    دوسری بات یہ ہے کہ انڈین ڈرامے جن کی اقساط تین تین سو تک جا پہنچتی ہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے
    ان سب کا مقصد بھی پاکستانی خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے
    آسٹریلیا ان ڈراموں کے اخراجات برداشت کرتا ہے تاکہ پاکستانی لڑکیاں شادی کے بعد اپنے خاوندوں کو الگ گھر لینے پر مجبور کر دیں
    اور جب الگ گھر ہوگا تو ظاہری سی بات ہے کہ فریج اے سی اوون واشنگ مشین و دیگر لوازمات کی ضرورت پڑے گی تو آسٹریلیا پھر ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے اپنی پراڈکٹس مارکیٹ میں لاتا ہے

    یہ بھی ایک پہلو ہے
    لہذا خواتین کے ذہنی، نظریاتی اور فکری تحفظ کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی
    مورخ پھر سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    اور پھر مورخ خود ہی جواب بھی دیتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے اور عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے لہذا عورت کو نشانہ بناکر دراصل مسلمانوں کے خاندانی نظام کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ جب عورت ہی باغی ہو گی تو خاندانی نظام کہاں باقی رہے گا اور جب خاندانی نظام باقی نہیں رہے گا تو اولاد کی تربیت کرنا اور انہیں اطاعت الہی کا سبق ازبر کروانا، نیکی و بدی کا کانسپٹ دینا، جنت کے وعدے یاد دلانا اور جہنم سے ڈرانا، ایمان داری، ایفائے عہد، اور دیگر روشن اقدار کا سبق کون پڑھائے گا
    جب یہ بنیادی لوازمات ہی نہیں ہوں گے تو وہ مثالی اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پایے گا جو مظلوم مسلمانوں کی پکار پر لبیک کہنے والا ہوگا
    اور جب مائیں روشن خیال ہو کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گی تو ابن قاسم، محمد بن اسماعیل البخاری، ابن تیمیہ، ثناء اللہ امرتسری کہاں سے پیدا ہوں گے
    تو سمجھ لیجیے کہ عورت کو روشن خیال کر کے چار دیواری سے باہر نکالنا دراصل اسلام کو نہتا اور بے سروپا کرنا ہے۔

  • معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    دور جہالت میں عورتوں کو عزت و احترام دینا عیب سمجھا جاتا تھا اور معاشرے میں عورت ذات سب سے حقیر طبقہ کا حصہ تھی۔
    عورتوں پر ظلم وبربریت کو وہ وحشی اور دردندہ صفت لوگ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے اگر کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا اور غم و غصے سے دن رات گزارتا سب قبیلے والے لوگ اسکا مزاق اڑاتے ہر طرح کے طعنے دیتے جن سے تنگ آ کر وہ اپنی بیٹیوں سے شدید نفرت کرتا اس نفرت کی آگ کو بیٹیوں پر تشدد کرکے بجھاتا اور بعض لوگ تو بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے۔
    بیچاری ننھی معصوم سی جانوں کو زندہ ہی دفنا دیا جاتا۔
    عورتوں کے کوئی حقوق نہیں تھے ان پر ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں جاتیں کہ تاریخ کے اوراق آج بھی چیخ چیخ کر ان کے مظالم بیان کرتے ہیں۔
    لیکن اسی اثناء میں بہت ہی خوبصورت اور بہت پیارا دین اسلام جو کہ شاہ عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت پوری دنیا میں پھیلا اس دین نے عورتوں کو عزت بخشی ان کو ہر روپ میں حقوق عطا فرمائے عورت کے ہر رشتے چاہے وہ بیٹی ہے یا بیوی ، ماں ہے یا بہن الغرض ہر روپ میں عورت کو معزز اور عزت دار بنایا۔
    اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورتوں کے تمام حقوق کا محافظ ہے۔
    عورت شرم و حیا کا پیکر ہے اور ڈھکی چھپی ہوئی چیز ہے بازاروں میں بکنے والی نہیں ہے دین اسلام جہاں حقوق کا تحفظ کرتا ہے وہیں عورت کی عزت و آبرو کے بچاؤ اور رب العزت کی رضا مندی کے حصول کے لیے حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔
    جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حدود کو توڑ کرنا فرمانی کر کے اس کو ناراض کیا جائے گا اور شیطانوں کو خوش کیا جاۓ گا تو ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنے گی۔
    اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بدولت ہی پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور صف ہستی سے مٹا دی گئیں۔
    اگر آج ہم بھی کفار کی مشابہت اختیار کر کے ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو ہم بھی رب العالمین کی رحمت سے دور ہو جائیں گے
    اور عذاب الہٰی سے دوچار ہوں گے۔

    کفار مسلط ہم پر ہوۓ
    اسلام سے جب ہم دور ہوۓ
    اب دین رہا جب ہم میں نہیں
    دنیا میں ہم کمزور ہوۓ

    عورت جب تک گھر میں ہے محفوظ ہے ہر قسم کے شیطانی ہتھکنڈوں سے لیکن جب یہ اسلام کو چھوڑ کر بے پردگی کرتی ہے اپنا حسن غیر محرم پر عیاں کرتی ہے تو معاشرے میں بہت سی برائیوں کا سبب بنتی ہے جبکہ اسی سے عورتوں پر زیادتی کے امکانات بڑھ گئے ہیں جب عورت نے اپنا مقام ہی نہیں پہچانا اور زمانہ جہالت کی طرح بے دریغ اور بے پردہ ہوکر فحاشی پھیلا رہی ہے تو شیطان کو بھی وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے بدترین ہے وہ عورت جو اپنی خوبصورتی غیر محرموں پر ظاہر کرتی ہے۔
    آزادی کے نام پر چند کھوٹے سکوں کی خاطر اپنی عزت و آبرو کی دھجیاں بکھیرنے والی اور "میرا جسم میری مرضی”
    کے نعرے لگانے والی عورت جب سج دھج کر خوشبوؤں میں نہا کر اور اسلامی تعلیمات کا جنازہ نکال کر گھر سے باہر نکلتی ہے تو سمجھتی ہے کہ وہ محفوظ ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے درندہ صفت شیطان انسانوں کے روپ دھارے ان کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور موقع پاتے ہی ان پر وار کر دیتے ہیں تب اس عورت کو مظلوم بنا دیا جاتا ہے جبکہ وہ خود اسکی زمہ دار ہوتی ہے۔

    جب گوشت کو سر عام بازار میں رکھ دیا جاۓ گا تو مکھیاں اور درندے تو اس پہ ضرور آئیں گے تو قصور مکھیوں اور درندوں کا نہیں بلکہ گوشت کو سر عام رکھنے والوں کا ہے۔

    اسلام میں پہلے عورت کو پردہ کرنے اور اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن عورت سمجھتی ہے کہ وہ جیسے چاہے باہر نکلے لیکن مرد اپنی نظریں نیچی رکھے تو ایسی عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہے۔
    عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے گی تو مرد کو بھی غیرت آۓ گی وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھے گا اور اسکا عزت و احترام کرے گا۔

    آج کل عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے چہرے کا نہیں تو وہ اس بات کا جواب دیں کہ کیا تمام صحابیات اور امہاتُ المومینین کے دل صاف نہیں تھے کیا انکے دلوں کا پردہ نہیں تھا جبکہ ان کو بھی پردے کا حکم دیا گیا حالانکہ اس وقت تو مرد بھی عمر اور صدیق جیسے تھے۔
    اور آج کے دور میں نہ کوئی عمر ہے نہ صدیق پھر بھی نادان عورت سمجھتی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔
    جب پردے کو دلوں تک محدود رکھا جاتا ہے تو وہ معاشرہ گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

    آج کل میڈیا کے ذریعے بھی فحاشی اور عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے عورتوں کو آزادی کے نام پہ دین سے دور کیا جارہا ہے جس سے عورتوں نے اپنی حدود کو توڑنا شروع کردیا ہے آج کل ایک سرف بنانے والی کمپنی نے عورت کے گھر کی چار دیواری میں ٹھہرنے ایک داغ قرار دیا ہے جو کہ اسلامی معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کیا دین اسلام یہ سکھاتا ہے؟؟؟؟
    اسلامی ریاست جو کہ لا الہ الاللہ کے نام پر حاصل کی گئی تھی اس میں اس طرح سر عام فحاشی پھیلانا نا قابل برداشت ہے۔ نوجوان نسل کو بھٹکایاجا رہا ہے تاکہ وہ دین سے دور ہو جاۓ۔

    ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے اشتہارات پر پابندی لگائی جاۓ تاکہ معاشرے میں بدکاری نہ پھیلے اور اسلامی مملکت اپنے دینی احکامات کی پابندی کرکے اپنے رب کو راضی کرنے کے مواقع میسر آئیں نہ کہ نافرمانی اور معصیت کے۔

  • فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان” نام ہے اس ملک کا۔ جب بنا تھا تو اس کا نعرہ تھا پا کستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ دو قومی نظریہ اس کی بنیاد تھی۔
    اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح پہلے کانگرس کے حامی تھے جو بظاہر ہندو مسلم کے مشترکہ مفاد کے لیے کام کر رہی تھی لیکن جلد ہی قائداعظم جیسے زیرک لیڈر نے جان لیا کہ کانگرس ہندوؤں کے حقوق کی پاسدار جماعت ہے مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنے والا بلکہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے تو وہ کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آ گئے ۔
    پھر مسلمان اور ہندو دو واضح گروہ بنے یعنی ایک طرف اسلام تھا ایک طرف ہندو ازم۔ جو اپنے اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے تھے ۔
    پا کستان کو بنانے کا فیصلہ ہی اس بنیاد پہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انھیں ملاکر مسلمانوں کا ایک ملک بنا دیا جائے ۔
    قائد اعظم کی کئی ایک تقاریر و بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ۔
    جب آپ نے کہا تھا ہمارا قانون تو چودہ سو سال پہلے بن چکا ہے۔ جب آپ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔
    لیکن لبرلز، جو اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں، جو پیسہ لے کر لبرلز بنے وہ لبرلز ازم پھیلانا چاہتے ہیں وہ پا کستان سے اسلام کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک نہیں اس کی بنیاد دو قومی نظریہ پہ نہیں۔
    حالانکہ تھوڑی سی بھی عقل و شعور ہو تو سوچا جاسکتا ہے پھر پا کستان بنا ہی کیوں ؟
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگرس کو چھوڑا ہی کیوں؟
    ایک مشترکہ ملک بن جاتا بھلا دو کی کیا ضرورت تھی ؟
    لیکن یہاں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
    آئے دن نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں ۔ٹی وی پہ ایسے ٹاک شوز چلائے جاتے ہیں اب کہ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوئے وہ جھوٹ ہے ۔یہاں تک کہا گیا کہ کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا بھی تو مسلمانوں نے بھی ہندوؤں پہ ظلم کیے تھے لیکن وہ کوئی بتاتا نہیں ہے ۔
    مطلب نئی آنے والی نسل کے ذہن میں جو ڈالا جاتا ہے وہ کبھی امن کی آشا کے نام سے تو کبھی لبرل ازم کے فوائد کے نام سے اسلام سے دوری کے سوا کچھ نہیں ۔
    اب دو قدم اور بڑھتے ہوئے پاکستان میں بزنس کے نام سے اس انداز سے ہماری نئی نسل پہ وار کیا جارہا ہے کہ کوئی سمجھ بھی نہ پائے ۔
    پاکستان میں آن لائن رائڈ دینے والی ایک کمپنی نے اشتہار دیا جس پہ دلہن بنی ہوئی تھی
    اشتہار تھا کہ
    شادی کے دن بھاگنا ہو تو کریم بلا لو۔
    ہمارے معاشرے میں یہ ایک گالی سمجھی جاتی ہے کہ گھر سے بھاگ گئی لیکن کریم نے اسے معمولی بات بناناچاہا۔
    اب پاکستان میں ایک واشنگ پاوڈر کمپنی نے تو حد ہی کر دی۔
    اس کمپنی نے قرآن پاک کی آیت کی توہین کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کی ہے ۔
    ایک داغ پہ لکھ دیا ہے
    "چاردیواری میں رہو”
    آگے لکھا ہے یہ داغ ہمیں کیا روک پائیں گے ؟
    جبکہ یہ میرے رب کا فرمان ہے
    وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞
    ترجمہ:
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو ! تم سے وہ گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔(احزاب 33 )

    میرے رب کے فرمان کو استغفراللہ داغ کہنے والے لبرلز نہیں گستاخ رب العالمین ہیں جنھوں نے رب کے فرمان کو داغ کہا ۔
    اس اسلامی معاشرے میں اس قسم کی گستاخی کیونکر برداشت کی جاسکتی ہے ۔
    ہم اپنے رب کی اپنے خالق کی یہ گستاخی برداشت نہیں کریں گے
    حکومت وقت کو اس پہ ایکشن لینا ہوگا ۔ان کمپنیز کے لئے کوئی اصول و ضوابط رکھنے ہوں گے ۔
    اور ایسا کرنے والی کمپنیز کو سزا ‘جرمانہ اور بین کرنا ہوگا ۔
    مغرب اور بھارت میں بھی آئے دن اسلام کی گستاخی کے واقعات ہو رہے ہیں ادھر پیسے کے لالچ میں نہ تو اشتہار بنانے والے کچھ کہتے ہیں نہ ہی ماڈلز اور نہ ہی ٹی وی چینلز اس بات کی پرواہ کرتے ہیں ۔ان سب کو صرف پیسہ نظر آتا ہے ۔اور لبرل ازم کے نام پہ دھول جھونکتے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ۔
    دوسری طرف آپ ذرا اس معاشرے کی روایات بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرےکی عورتیں داغ کی وجہ سے نہیں بلکہ شرم و حیا اور اپنے رب کے حکم کی وجہ گھر سے نہیں نکلتی ۔
    اسلام نے عورت کو اس قدر بھی پابند نہیں کیا کہ اس کی آزادی سلب ہو جائے بلکہ اسلام نے عورت کی حفاظت کی ہے اسلام نے عورت کو بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا تو اس کے پیچھے اس کی عصمت کی حفاظت ہے ۔ورنہ عورت ضروری کام ‘علاج ‘درس و تدریس ‘فلاحی کام حتی کہ جنگ میں بھی شریک ہو سکتی ہے۔
    مسلمان عورت مسجد میں جاتی ہے ۔حج کرتی ہے ۔عید کے دن بھی نماز پڑھنے کے لیے جانے کا کہا گیا ہے ۔
    بس بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے اور مردوں کے ساتھ اختلاط سے ۔
    ورنہ اہل مغرب کے اصول و ضوابط دیکھو تو آج چند ماہ کی بچی بھی محفوظ نہیں ہے ۔
    آئے دن جو ہماری معصوم بچیوں پہ وار ہو رہے ہیں یہ سب اہل مغرب کا ڈالا ہوا گند ہے جس کی وجہ سے آج بنت حوا محفوظ نہیں ہے ۔ اہل مغرب ہماری معاشرتی اور اسلامی روایات دونوں کے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔
    میری تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ایسی مصنوعات ک مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے مالک اس اشتہار کی ماڈل و دیگر لوگوں کو سزا دلوانے تک چین سے نہ بیٹھیں ۔کیونکہ یہ اشتہار اسلام کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنے رب ‘ رحیم و کریم ‘خالق و مالک کی کے فرمان کی گستاخی ناقابل قبول ہے ۔

  • خوش اخلاقی، ایک نعمت ۔۔۔ ساجدہ بٹ

    خوش اخلاقی، ایک نعمت ۔۔۔ ساجدہ بٹ

    آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا:
    فلاں شخص بہت خوش اخلاق ہے کبھی ملیے گا، جی خوش ہو جائے گا آپ کا۔
    یا فلاں تو بڑا بد اخلاق ہے، میں تو کبھی بات نہ کروں اس سے ۔
    اس کا مطلب ہے خوش اخلاقی بہت بڑی نعمت ہے۔

    خوش اخلاقی کے لفظ سے تو دنیا میں ہر کوئی واقف ہے۔ اور
    آپ کبھی غور کیجیے گا کہ جو شخص اچھے اخلاق کا مالک ہو سب ہی اُس سے محبت بھی کرتے ہیں۔ اُس انسان کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔

    آئیے دیکھتے ہیں خوش اخلاقی ہے کیا چیز ؟؟؟

    خوش اخلاقی سے مراد ہے کہ بات کریں تو ہمارے لہجے میں نرمی ہو، چہرے پہ مسکراہٹ سجی رہے۔ دوسروں کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آئیں۔کسی کی نفرت کا جواب بھی محبت سے دیں۔
    ہمارا دین اسلام ایک مکمل دین ہے ۔ جس سے ہمیں ہر طرح کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عمدہ نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو مسلمانوں کے لیے ‘اُسوہ حسنہ’ قرار دیا۔

    ترجمہ۔
    البتہ تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔(الاحزاب)

    اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے
    بیشک ہم نے آپ کو اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا ہے۔

    حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے پھرتے قرآن تھے۔

    ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ معاملہ کرو۔

    ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا

    اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہیں پسند کریں تو تمہیں چاہیے کہ اگر کوئی تمہارے پاس امانت رکھے تو حفاظت کرو. جب بات کرو تو سچی کرو اور اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو ۔

    اسی طرح ڈھیروں اسلامی تعلیمات ہمیں اخلاق کے بارے میں ملتی ہیں اس کی اہمیت کے بارے میں ملتی ہیں۔
    ہمارے لئے مشعل راہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے جو خوش اخلاقی کے عظیم الشان مرتبے پر فائز ہیں

    اب بات یہ آتی ہے کہ خوش اخلاقی کو پسند تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن اس پر از خود عمل بہت کم کیا جاتا ہے۔
    ہم لوگ اپنے ہر معاملے میں خاص طور پر ملنے جلنے کے معاملات میں انا کو سامنے رکھتے ہیں جو ہمارے اخلاق کی دھجیاں اڑا دیتا ہے۔
    چاہے تو رشتے داروں کے معاملات ہو دفتروں میں میل جول کو لیجیے یا تعلیمی اداروں کو ہی لیجیے ہر جگہ پہ ہم لوگ اکثریت ہی خوش اخلاقی سے بے بہرہ ہی نظر آتے ہیں۔
    فرحت کیانی کا ایک شعر ہے کہ

    ہر شخص اخلاق کا ایک معیار بنا لیتا ہے

    اپنے لیے کُچھ اور زمانے کے لیے اور

    خوش اخلاقی اگر فطری طور پر آپ میں موجود ہے تو یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔
    لیکن اگر قدرتی طور پر یہ نعمت موجود نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کرنے کی صلاحیت انسان کو دے رکھی ہے۔
    سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔مثال کے طور پر انسان کو غصے کی حالت میں خود پر قابو ہونا چاہیے۔
    اگر ہم لوگ چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری عزت و تکریم کریں۔ لوگوں میں ہمارا ایک معیار قائم ہو اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اچھے الفاظ میں لوگ یاد کریں ۔
    تو پھر ہمیں خوش اخلاقی جیسی عظیم ترین صفت کو اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔
    یہ صفت اپنے اندر پیدا کرنا مشکل کام نہیں ہے۔ اس خوبی کو اپنانے کے لیے ایک شخص کو دوسرے شخص سے حسد نہیں کرنا چاہیے۔ بہت بڑی بڑی خواہشات کے پیچھے ہر وقت نہیں بھاگنا چاہیے ۔اپنی زندگی میں آنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ہی بھرپور انداز سے اپنا لینا چاہیے ۔
    یاد رکھیں کہ اس دنیا میں صرف دولت ہی سب کچھ نہیں بلکہ جس شخص میں خوش اخلاقی جیسی نعمت اللہ تبارک وتعالیٰ نے عطا فرمائی ہے وہ شخص سب سے امیر ترین شخص ہے۔ کیوں کہ اس کی دنیا اور آخرت دونوں ہی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سنور جائیں گے۔
    آئیے آج ہم بھی یہ عہد کریں اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے ہم لوگ خود کو وقت دیں۔ دو گھڑی فرصت کے لمحات میں اپنے کردار میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچیں۔
    تا کہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائیں۔

  • یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر

    یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر

    مسئلہ یہ ہے کہ ہم مردوں نے فطرت کے تقسیم کار یعنی Distribution of work کی بنا پر مرد اور عورت میں پائے جانے طاقت اور قوت کے فرق ، جسمانی و ذہنی ساخت کے فرق کو عورت پر غلبہ اور تسلط کا ہتھیار بنا لیا ہے ۔ وہی جو ہر طاقتور کمزور کے ساتھ کرتا ہے وہی ہم مردوں نے عورت کے ساتھ کیا ۔ لیکن دنیا میں کسی جاندار کے نر نے مادہ کے ساتھ یہ سلوک نہیں رکھا جو نوع انسان میں مرد نے عورت کے ساتھ کیا ۔ بلے اور بلی میں نہ بلا برتر ہے نا گھوڑے اور گھوڑی میں گھوڑی کمتر ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ آخر جانوروں میں یہ پھٹیک کیوں نہیں ہے کہ کتیا ، کتے کی محتاج ہو یا بلی ، بلے کے کھانے کے لئیے اچھی اچھی بوٹیاں الگ کر رہی ہے ۔

    یہ ہم انسانوں نے عجب تیر مارا ہے اس ساری کائینات کی انواع و اقسام کی حیات میں ۔ ہم نے حیات کے اس سفر میں اپنے ہی ہم سفر کو اپنے قدموں تلے روندھنا شروع کردیا اور یہ بھول گئے کہ فطرت کے اس توازن کو بگاڑنے کا نتیجہ مرد کی پرواز کو بھی متاثر کریگا ۔ آج گھر کی گاڑی چل تو رہی ہے لیکن اک پہیہ گول اور ایک چوکور ۔ ایک محکوم شخصیت کی عورت کیسے زندہ و آزاد مرد کی پرورش کر پائیگی ۔ مرد کے اسی جذبہ تغلب نے مرد اور عورت دونوں کو ہی حاکم اور محکوم کی نفسیات کا اسیر بنا کر ان دونوں کی آپسی زندگی کو ہزار الجھاووں میں گرفتار کر رکھا ہے ۔

    ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ مرد اور عورت میں طاقت کا توازن ہو یا عقل اور جذبات کے کم زیاددہ استعمال کا معاملہ ۔ خواتین کا زیادہ بولنا ہو یا مردوں کا دوستوں میں چائے پر دو دو گھنٹے ، بھلے خاموشی میں ہی گزار دینا ۔ یہ مرد اور عورت کے different ہونے ، دو الگ الگ جزبات ، احساسات رکھنے والی ذاتوں اور پرسینیلیٹیز ہونے کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ انکی inequality یا عدم برابری کو ۔ اس جسمانی اور جذباتی اختلاف سے کوئی حاکم اور محکوم نہیں بن جاتا ۔ کسی کو برتری اور کمتری کا سرٹیفیکیٹ نہیں مل جاتا ۔

    مرد اور عورت میں ان اختلافات کا ذمہ دار فطرت کا وہ تقسیم کار رہا ہے جس کے لحاظ سے مرد کا کردارlunch chaser کا ہوتا تھا اور ہے ۔ یعنی گھر کے معاش کا ، بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا ۔ اب چاہے وہ جنگل میں بھالے سے ہرن کا شکار کرنا ہو یا پھر سنگلاخ زمینوں کا سینہ چیر کر خوشہ گندم کو اگانا۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئیے مرد کو جس طرح کی صلاحتیں چاہئیے تھی اس میں انہی صلاحیتوں کا ارتقا ہوتا چلا گیا ۔ جنگل میں خونخوار درندوں کا شکار ہو یا پہاڑ کھود کر فصل اگانا ۔ چوڑا سینہ ، مضبوط کاٹھی ، Tunnel vision کا زیادہ ہونا ، شکار کو تیر اور بھالے سے نشانہ بنانے کے لئیے دماغ میں اسپیشیل (spatial ) کیلکولیشن کا خانہ بڑا ہونا یا مردوں کی دیگر صلاحیتیں اسی لنچ چیسنگ ٹاسک کو پورا کرنے کے لئیے درکار ہوتی تھی ۔

    اور فطرت کے اسی تقسیم کار کی رو سے عورت کا کردار Nest defender کا رہا ہے یعنی جس نے اپنے بچوں کی ، غاروں سے لیکر جنگلات میں جھونپڑیوں اور زمینوں پر بنے پکے مکانوں میں رینگنے والے حشرات الارض سے محفوظ رکھنے سے لیکر اپنے بچوں کو طرح طرح کے invaders سے بچانا تھا ۔جہاں عورت نے تنگ و تاریک اندھیرے غاروں میں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ بیک وقت چار پانچ بچوں پر نظر بھی رکھنی ہوتی تھی ۔ گھر کو سجانا بھی تھا اور بچوں کی رونے کی آواز سے انکی پرابلم بھی سمجھ لینا بھی لازمی ۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کا spherical vision زیادہ ہوتا ہے ۔ یعنی خواتین کو ذرا سائیڈ دیکھنے کے لئیے نظر گھمانی نہیں پڑتی ۔ خواتین جذبات کو emotions کو بہت اچھی طرح sense کرتی ہیں ۔ ظاہر ہے ایک دودھ پیتے بچے کو سمجھنے کے لئیے دماغ میں emotional faculty کا بڑا ہونا ضروری ہے ۔

    اسی طرح خواتین سرگوشی یا آواز سننے میں مردوں سے آگے ہوتی ہیں لیکن آواز کی سمت یا ڈائریکشن بتانے میں مرد زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے جنگلات میں شکار کرتے ہوئے خود کو بھی جانوروں سے بچانا ہوتا تھا اور اسکے لئیے ایک ایک آہٹ پر کان لگانے ہوتے تھے کہ نہ جانے کس سمت سے کوئی سانپ یا چیتا دبوچ لے ۔ اسکے لئیے فوکس یااٹینشن کا ہونا لازمی ہے زرا سی distraction سے زندگی داو پر لگ سکتی تھی ۔ No wonder کہ ہم مرد گاڑی چلاتے ہوئے فون پر بات کرتے وقت ٹیپ کا والیم بھی کم کرتے ہیں اور سب سے چپ رہنے کی التماس بھی جبکہ ہماری بیگمات اور امائیں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ ، ڈرامہ سیریل ، فون پر آدھے خاندان کے ساتھ Gossips اور آپکو بھی نمٹا رہی ہوتیں ہیں .خواتین multi tasking میں اسی لئیے مردوں سے بہتر ہوتی ہیں کہ وہ ہزاروں سال سے یہی ملٹی ٹاسکنگ کرتی آرہی ہیں ۔ آج بھی جب گھر میں بچہ روتا ہے ماں کو رونے سے پتہ چل جاتا ہے کہ بچہ بھوکا ہے یا کان میں درد ہے جبکہ مرد حضرات کا ایک ہی جملہ ہوتا ہے ” یار یہ روئے جا رہا ہے چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے ، آخر اسکا مسلہ کیا ہے ، دودھ پی لیا اب سو جا بھائی ۔ وغیرہ وغیرہ ”

    خواتین اور مردوں کا مختلف professions کا چننا اور subjects choice میں بھی دونوں کا یہ difference نظر آتا ہے ۔ generally خواتین ڈے کئیر ، پرائمری و سیکینڈری ایجوکیشن ، آرٹس ، ایموشنل انٹیلیجنس ، لینگویجز، لٹریچر، ڈیزائننگ (اور لڑکوں کے شکوں کے مطابق رٹے?) میں بہتر ہوتی ہیں ۔جبکہ مرد عمومی طور پر پیور سائینسز ، گیمز ، گیجٹز، انجینئرنگ، کشتی ، گھڑسواری ، وار فئیر، بلو کالر جابس میں زیادہ رجحان رکھتے ہیں ۔ ( واضح رہے کہ یہ لازم نہیں کہ کوئی خاتون انجینئر نہیں بن سکتی یا مرد میک اپ آرٹسٹ یا ڈے کئیر پر جاب نہیں کر سکتا ۔ لیکن عموما یہ تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہوتی ہے ۔ حتی کہ یورپ اور امریکہ میں بھی ایسا نہیں کہ جتنے مرد انجینئر یا پائلٹ ہیں اتنے ہی خواتین بھی یا ڈے کئیر میں بھی اتنے ہی مرد ہوں جتنی کہ خواتین )

    جب تک انسان غاروں ، پہاڑوں اور جنگلات کی زندگی گذارتا رہا تب تک تو غالبا ٹھیک ہی چلا ہوگا لیکن جس دن انسان نے اپنی محنت کا سودا کیا اور دوسرے انسان نے اسکی محنت کا مول لگایا اس دن سے جہاں معاشرے میں دو طبقات ، دو کلاسز نے جنم لے لیا وہیں فیملی یونٹ میں بھی پیسے کمانے والے اور نہ کمانے والے کی بنیاد پر درجہ بندی ، غالب و مغلوب ، برتر و کمتر کی تقسیم در آئی ۔ گو کہ فطرت کا منتہا و مقصود مرد اور عورت دونوں کا اپنی اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنا اور ایک دوسرے کی کمیوں کو پورا کرتے ہوئے حیات (life) کے اس سفر میں نسل انسانی کو بہتر سے بہتر بناتے چلے جانا ہے ۔ لیکن مرد نے اپنی طاقت اور کمائی کو عورت پر غالب ہونے ، اس پر حکم چلانے اور اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے میں استعمال کیا ۔

    حقیقت تو یہ کہ کمہار کے ایک ہی چاک سے بنے برتنsize اور shapes میں الگ ہوتے ہیں لیکن انکی مٹی انکا substance ایک ہی ہوتی ہے ۔ کوئی نہیں کہتا کہ گھڑا چونکہ بڑا ہے پانی اسٹور کرتا ہے لہذا اس
    کی مٹی برتر ہے اور پیالہ چونکہ چھوٹا ہوتا ہے لہذا اسکی مٹی کمتر ۔ یہ دونوں فطرت کے ایک تقسیم کار کے تحت لازم و ملزوم ہیں ۔ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ادھورا ہی رہتا ہے اور استعمال کرنے والا بھی مشکل میں ۔ اسی طرح مرد ہو یا عورت جب تک ایکدوسرے کے فزیکل ، ایموشنل اور کھوپڑی کے مختلف ہونے کا برابری کی بنیاد پر احترام نہیں کرینگے تب تک غلبہ و تسلط کی یہ جنگ دونوں ذاتوں یعنی مرد اور عورت میں ایک حقیقی پیار ، محبت اور احترام کا تعلق پیدا کرنے میں رکاوٹ ڈالتی رہیگی ۔

    ہم مردوں کو بھی چاہئیے کہ پہلے خواتین کو ایک ذات، ایک شخصیت ، ایک پرسینیلیٹی ، ایک آزاد شعور تو سمجھیں ۔ عورت کی جس نرم و نازک جسمانی ساخت کو ہم نے اسکی کمزوری سمجھ رکھا ہے وہ رحم مادر میں جنین سے لیکر ایک بچہ کی پرورش کے لئیے لازمی درکار تھی جیسے ہم مردوں کا سخت جان ہونا ہماری کوئی فضیلت نہیں ہمارے آبا و اجداد نے جس کام کا ذمہ اپنے سر لیا یعنی lunch chasing کا ، یہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ غلبہ اور تسلط کی اس جنگ میں کبھی ہم نے سوچا ایک قوت فیصلہ سے محروم ، زمانے کے سرد و گرم سے ناآشنا ، کچلی ہوئی ، پسی ہوئی ، کبھی باپ ، تو کبھی بھائی اور پھر شوہر اور اولاد کے سہاروں پر زندگی گزارے جانے کا احساس لے کر جینے والی عورت کس طرح ایک ، مضبوط ، خوش باش ، پراعتماد قسم کی اولاد کی تربیت کر پائیگی ۔ اگر انسان نے شاہراہ حیات پر اپنے سفر کو خوشگوار بنانا ہے تو اسے اپنے شریک سفر کو سمجھنا ہوگا عورت کے opposites کو مرد کے opposites کے ساتھ unite کرنا ہوگا ۔

  • تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟  اسامہ چوہدری

    تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟ اسامہ چوہدری

    شوارموں میں مُردہ مرغی کا گوشت، ہوٹلوں میں گدھوں کا گوشت، گدھے نہ بھی ہوں تو بیمار مریل جانوروں کا سستا گوشت، گاڑی دیکھتے ہی سبزی کا، فروٹس کا ریٹ اچانک سے بڑھا دینا، مرچوں میں اینٹیں, پیس کر ملانا، چائے کی پتی میں اصل پتی کی جگہ چنوں کا رنگ کیا ہوا چھلکا استعمال کرنا،ٹائروں میں ایک پنکچر کی جگہ زیادہ پنکچر کرنا،کالی مرچ کی جگہ اونٹوں کی ایک خاص غذا کو کالی مرچ بنا کر فروخت کرنا، استادوں کا صرف اخبار پڑھنےکے لئے اسکول جانا اور پھر حکومت سے گلے شکوے کرنا کہ حکومت نے تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ،سرکاری ڈاکٹرز کا ہسپتال میں آئے مریضوں کو دھکے دے کر ہسپتال میں سے باہر نکالنا،پولیس والوں کا بغیر رشوت کے کام نہ کرنا اور کام کرنے کے عوض سائل سے مٹھائی ،پولیس موبائل کے لئے ڈیزل کے پیسے اور چائے کےلئے پیسے وصول کرنا،ایک الیکٹریشن کا چند ٹکوں کی خاطرالیکٹرک چیزوں کو خود سے خراب کر دینا ،ہمارا صفائی کے بعد گھروں اور دکانوں کا کوڑا باہر سڑک پر پھینک دینا اور اپنا کاروبار چمکانے کی خاطر وال چاکنگ کر کر کے اس ملک کی دیواروں کو گندا کرنا یہ سب کام ہم خود کرتے ہیں اور گلے شکوے کرتے ہیں حکومتوں سے کہ ہماری حکومت ٹھیک نہیں ہے ،حکومت کام نہیں کررہی۔حکومت کام تب ہی کرے گی جب ہمیں اس ملک کا احساس ہوگا جب ہم اس ملک کو اپنا گھر سمجھیں گے اور اس کی حفاطت اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھروں کی اور اپنے ذاتی سامان کی حفاظت کرتے ہیں ،جی ہاں یہ ملک تب ہی ترقی کرے گا جب ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے جب ہم اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں گے اور اس کی عملی تصویر بھی پیش کریں گے تب آئے گی تبدیلی ،تب بنے گا ہمارا ملک ایشین ٹائیگر ،تب سنورے گی یہ پاک دھرتی اور تب ہم اس قابل ہوں گے کہ دنیا کہ کسی بھی کونے میں جائیں ہم وہاں فخر سے رہ سکیں ،جب ہم کسی غیر ملکی ائیرپورٹ پہ اتریں تو ہمیں بغیر تلاشی کے آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت ہو اور ہمارا چہرہ دنیا کے سامنے ایک مہذب، پرامن اور ایک اچھی قوم کے طور پہ سامنے آئے تو ہمیں سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات میں انقلاب لانا ہوگا۔