Baaghi TV

Tag: اطالوی وزیراعظم

  • صدر ٹرمپ کی  ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں، خصوصاً اٹلی اور اس کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے دہائیوں تک اتحادیوں کا دفاع کیا، لیکن جب وقت آیا تو وہ ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا امریکا نے نیٹو پر ٹریلین ڈالر خرچ کیلئے لیکن ایران کی جانب سے جوہری خطرے کو ختم کرنے میں نیٹو اور اٹلی کی وزیراعظم نے ان کا ساتھ دینے کا سوچا بھی نہیں،دہائیوں سے ہم ان کا دفاع کرتے آئے ہیں لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو وہ ہمارا اور باقی دنیا کا دفاع کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتے، یہ اچھی بات نہیں!‘‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اور میلونی کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، بالخصوص G7 اجلاس کے بعد ذاتی نوعیت کے سخت بیانات کے بعد، ٹرمپ نے میلونی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ بعض معاملات میں امریکا کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہیں، جب کہ میلونی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اپنے قومی مفاد اور خودمختار فیصلوں کے مطابق پالیسی بناتا ہے۔

    گزشتہ ہفتوں میں اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بیانات کو ’’غلط‘‘ اور ’’سیاسی طور پر محرک‘‘ قرار دیا، جس کے بعد اٹلی کی طرف سے امریکا کے ساتھ سفارتی سطح پر سرد مہری بھی دیکھی گئی۔

  • صدر ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں،اطالوی وزیراعظم

    صدر ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں،اطالوی وزیراعظم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد اٹلی اور امریکا کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے ٹرمپ کے بیان کے درعمل میں کہا کہ ٹرمپ کے مسلسل اور بلاوجہ کے حملے بےمعنی ہیں، ٹرمپ کا دوست ہونے پر میری مقبولیت کو فائدہ نہیں ہوا، میں نے ہمیشہ اٹلی کے قومی مفادات کا دفاع کیا ہے، اور امریکا فوجی اڈوں پر معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا،میری مقبولیت سے ٹرمپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے، اور میرا مشورہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔

    دوسری جانب اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے امریکا کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے، جہاں ان کی ملاقات امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ہونی تھی یہ فیصلہ ٹرمپ کے ان بیانات کے ردعمل میں کیا گیا ہے جنہیں اطالوی حکام نے ’توہین آمیز‘ قرار دیا ہے۔

    تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے جی 7 اجلاس کے دوران ان سے تصویر لینے کی درخواست کی اور وہ ان پر ترس کھا کر راضی ہوئے، میلونی نے ان سے ملاقات اور تصویر کے لیے اصرار کیا،میلونی کی اٹلی میں مقبولیت کا گراف مسلسل گر رہا ہےمیلونی نے ہمیں ایران کے خلاف اٹلی کے اڈے استعمال نہیں کرنے دیئے، تاہم امریکا نے ایران کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔

    اطالوی وزیر اعظم میلونی نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں بالکل من گھڑت ہیں اور انہوں نے اس پر فوری وضاحت کی ضرورت محسوس کی،انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ حیران ہیں کہ امریکی صدر اپنے اتحادی ملک کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، اٹلی نے کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگی اور یہ تاثر مکمل طور پر غلط ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق اطالوی وزیرِ خارجہ کا دورہ امریکا نہ صرف دوطرفہ ملاقات بلکہ ’اٹلی امریکا بزنس، انویسٹمنٹ، سائنس اینڈ انوویشن فورم‘ میں شرکت کے لیے بھی تھا، جو بعد ازاں منسوخ کر دیا گیا،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، اسٹریٹجک سیکیورٹی اور اہم معدنی وسائل سے متعلق امور پر بات چیت ہونا تھی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور میلونی کے درمیان پہلے بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، اگرچہ دونوں رہنما بعض پالیسی امور جیسے امیگریشن اور قومی خودمختاری پر ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

  • سعودی عرب میں ارتداد اور  ہم جنس پرستی سزاؤں کو ختم ہونا چاہیے ،اطالوی وزیراعظم

    سعودی عرب میں ارتداد اور ہم جنس پرستی سزاؤں کو ختم ہونا چاہیے ،اطالوی وزیراعظم

    روم: اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ یہ بات میرے ذہن سے نہیں نکلتی کہ اٹلی میں زیادہ تر اسلامی ثقافتی مراکز کو سعودی عرب کی طرف سے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے-

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی کی وزیراعظم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اٹلی کے زیادہ تر اسلامی ثقافتی مراکز کو سعودی عرب مالی امداد فراہم کرتا ہے جو ہم جنس پرستی اور زنا کے لیے سخت ترین سزائیں محفوظ رکھتا ہے، اسلامی ثقافت اور یورپی تہذیب کی اقدار اور حقوق میں ’موازنیت کا مسئلہ‘ ہے،یہ بات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں کی تاہم یہ واضح نہیں کہ ویڈیو کب اور کہاں کی ہے۔
    https://x.com/Geopoliticalkid/status/1736587651606811000?s=20
    یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہوئی ہے جب دائیں بازو کی انتہائی قدامت پسند جماعت اٹلی پارٹی کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں برطانوی وزیراعظم رشی سونک اور ارب پتی ایلون مسک نے بھی شرکت کی تھی-

    داؤد ابراہیم کو زہر دے دیا گیا،کراچی کے ہسپتال میں داخل،بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    وائرل ویڈیو میں اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سعودی عرب اور وہاں شریعت پر مبنی قانون بالخصوص ارتداد اور ہم جنس پرستی کی سزاؤں پر اطالوی زبان میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سزاؤں کو ختم ہونا چاہیے یہ بات میرے ذہن سے نہیں نکلتی کہ اٹلی میں زیادہ تر اسلامی ثقافتی مراکز کو سعودی عرب کی طرف سے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے میرا ماننا ہے اسلامی ثقافت کی ایک مخصوص تشریح اور ہماری تہذیب کے حقوق اور اقدار کے درمیان مطابقت کا مسئلہ ہے،سعودی عرب ایک ایسی قوم ہے جو گھر پر شریعت کا اطلاق کرتی ہے، اور شریعت کا مطلب ہے زنا کے لیے پھانسی، ارتداد کے لیے سزائے موت، ہم جنس پرستی کے لیے سزائے موت، میرا ماننا ہے کہ یہ مسائل اٹھائے جانے چاہئیں جس کا مطلب اسلام کو عام کرنا نہیں ہے اس کا مطلب یہ مسئلہ اٹھانا ہے کہ یورپ میں اسلامائزیشن کا ایک ایسا عمل ہے جو ہماری تہذیب کی اقدار سے بہت دور ہے۔

    2023 کی عالمی اقتصادری درجہ بندی، دس سرفہرست ممالک

    اٹلی کی وزیراعظم کے اس وائرل بیان پر حکومت کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔