Baaghi TV

Tag: اظہر مشوانی

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    آئی جی اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر بدنیتی پر مبنی مہم چلانے والے ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    ملزمان میں صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمن، اظہر مشوانی، کومل آفریدی، عروسہ ندیم شاہ اور ایم علی ملک شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم) نے ان تمام ملزمان کو 13 دسمبر 2024 کو طلب کر لیا ہے، اور نوٹسز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انہیں اس دن تفتیش کے لیے حاضر ہونا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر یہ بدنیتی پر مبنی مہم ملک میں انتشار اور بد امنی کی وجہ بنی، جس کا مقصد عوامی امن و سکون کو متاثر کرنا تھا۔

    وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لیے پی کی اے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کا مقصد ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کی تحقیقات کرنا ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں بد امنی اور انتشار پھیلانے کے لیے پروپیگنڈا کیا۔ جے آئی ٹی اس وقت اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح یہ مہم ملک کے اندر امن و سکون کے لیے خطرہ بن گئی۔

    جے آئی ٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید مجرموں کی شناخت کی جا رہی ہے جو اس مہم میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے مزید قانونی کارروائیاں جاری ہیں اور ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

    آئی جی اسلام آباد نے اس معاملے کی تحقیقات کی نگرانی کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کریں تاکہ اس طرح کی بدنیتی پر مبنی مہموں کا سدباب کیا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے مواد کی نشاندہی کریں اور فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کریں تاکہ ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی درخواست جمعہ تک ملتوی

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی درخواست جمعہ تک ملتوی

    اسلام آباد ہائی کورٹ ، اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیلئے دائر درخواست میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے مہلت کی استدعا پر سماعت جمعہ ملتوی کردی گئی

    پی ٹی آئی سیکرٹریٹ کے ملازم فیضان کے واپس آجانے پر بازیابی درخواست نمٹادی،عدالت نے نعیم احمد یاسین کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت بھی جمعہ تک ملتوی کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،درخواستگزاران کی جانب سے وکلاء بابر اعوان،آمنہ علی،اظہر صدیق اور دیگر عدالت پیش ہوئے،بابر اعوان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا شکریہ ایک مغوی گھر پہنچ گیا ہے، اسکےعلاؤہ پی ٹی آئی سیکرٹریٹ کے کچھ ملازمین بھی گھر پہنچ گئے آج امیدہے اٹارنی جنرل کوئی خوشخبری سنائیں گے،لاپتہ فیضان واپس آگیا لیکن اسکی حالت بہترنہیں ہے،وہ گھرہی ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پہلے کیس دوسرے بینچ میں تھا ہم نے یقین دہانی کرائی تھی، ہم پوری کوشش کر رہے ہیں، ہم تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں، ایک لاپتہ کارکن واپس آ گیا ہے، تھوڑا وقت ملے تو باقی بھی آ جائیں گے،اٹارنی جنرل نے دوران سماعت کہا کہ مجھے دو سے تین دن مزید دے دیں بہتر خبر آئے گی، کچھ اور وقت چاہیے ہو گا حکومت اپنا کام کر رہی ہے، امید ہے کہ مثبت خبر آئے گی۔

    بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی تھی، اٹارنی جنرل جیسے آج کہہ رہے ہیں، ویسا پہلے بھی کہہ چکے ہیں، وزیرِ اعظم کے علم میں بھی معاملہ لایا گیا ہے، اس کے بعد ایک لاپتہ کارکن واپس آیا، میں اسی لیے کوئی زور نہیں دے رہا، نہ کوئی ہم ججمنٹ لے رہے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم دوبارہ سماعت اس کو جمعے کے لیے رکھ لیتے ہیں، اس عدالت کو بتایا گیا ہے کہ لاپتہ فیضان واپس آ گیا ہے، اٹارنی جنرل نے مزید وقت مانگا ہے، اٹارنی جنرل نے بتایا ہے کہ لاپتہ شہریوں سے متعلق معاملہ وزیرِ اعظم کے سامنے رکھا گیا ہے، اٹارنی جنرل کی مزید وقت مانگنے کی استدعا منظور کی جاتی ہے، جو کارکن واپس آ گیا ہے اس کی درخواست نمٹا دیتے ہیں، عدالت نے اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے وقت مانگنے کی استدعا پر سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کے ملازم فیضان کے واپس آ جانے پر اس کی بازیابی درخواست بھی نمٹا دی،عدالت نے نعیم احمد یاسین کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت بھی جمعہ تک ملتوی کر دی

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    اپنی ہی بیوی کو نازیبا ویڈیو لیک کرنے کی دھمکی دینے والاپہنچا جیل

  • 3 ماہ ہو گئے، دو بندے جبری طور پر لاپتہ ،  چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کررہے، عدالت

    3 ماہ ہو گئے، دو بندے جبری طور پر لاپتہ ، چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کررہے، عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنما اظہر مشوانی کے 2 لاپتہ بھائیوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے بابر اعوان، آمنہ علی، سردار مصروف و دیگر عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ، اسٹیٹ کونسل ملک عبد الرحمٰن عدالت کے سامنے پیش ہوئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا کچھ معلوم ہوا ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ آج بھی ہائی لیول پر رابطہ ہوا ہے ہر لحاظ سے کوشش جاری ہے ،وکیل درخواست گزار بابر اعوان نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا،بابر اعوان نے کہا کہ پانچ قوانین بغاوت اور بغاوت پر اکسانے کو ڈیل کرتے ہیں، کہیں نہیں بتایا گیا قومی مفاد کیا ہے،مجھ سے پوچھیں گے قومی مفاد کیا ہے تو میں کہوں گا بجلی کی قیمت کم کرو ،بلوچستان والا کہے گا مجھے گیس فراہم کرو اس کا یہ قومی مفاد ہے،

    ڈاکٹر بابر اعوان نے اظہر مشوانی کے بھائیوں کی جبری گمشدگی کیس کے دوران دلائل میں پولیس کے 12 جوانوں کی شہادت کا ذکر کیا اور کہا کہ پولیس کو ایک پارٹی کے جھنڈوں کو لوٹنے پر لگا رکھا ہے ،جہاں فوکس ہونا چاہیے تھا وہاں نہیں تھا اور کل ہمارے 12 جوان شہید ہو گئے ،

    پنجاب پولیس کے ایس پی لاہور عدالت میں پیش ہوئے، پولیس افسر نے کہا کہ آئی جی کی جانب سے جے آئی ٹی بنی تھی میں اس کا سربراہ ہوں ،عدالت نے سوال کیا کہ آپ نےکیاتفتیش کی ہےابھی تک ،پولیس افسر نے کہا کہ انکی جانب سےسی سی ٹی وی فوٹیج دی گئی،اس فوٹیج کی ریزولوشن کم ہےجس وجہ سےاغواءکاروں کی شناخت کرنابھی مشکل ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پولیس افسر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے نادرا سے معاونت حاصل کی،پولیس افسر نے کہا کہ جی بلکل ہم نے نادرا سے بھی معاونت حاصل کی اور ٹیلی کام کمپنیوں سے بھی ڈیٹا حاصل کیا، جیو فینسنگ دس ہزار نمبرز کی حاصل کی لیکن ابھی تک کچھ معلوم نہیں ،آج 23 اگست تک کوئی بھی actionable معلومات نہیں ملی ،سیف سٹی پراجیکٹ ہر اینگل سے کور نہیں کر پاتا ،اس وقت تک کوئی بھی لا انفورسمنٹ ایجنسی اس حوالے سے کچھ پتہ نہیں چلا سکی،

    عدالت نےایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ جب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ کیس شروع ہوا ہے تفتیش رک گئی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیو فینسنگ رپورٹ تیار کر کی گئی ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ دو افراد غائب ہیں شائد کہیں وہ مار دیے گئے ہوں ، کب سے لاپتہ ہیں یہ دونوں ،پولیس افسر نے کہا کہ 6 جون سے غائب ہیں ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ 3 ماہ ہو گئے ہیں دو بندے جبری طور پر لاپتہ ہیں ان کے خاندان پر جوگزر رہا ہوگا ہمیں اندازہ ہے، لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے مگر چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کررہے،

    بظاہر یوں لگ رہا کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینفشری ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب وزیراعظم اور اٹارنی جنرل کی ملاقات سے تو کچھ نہیں نکلا؟میں اس کیس میں تفصیلی آرڈر کرونگا،بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینفیشری ہے، ان چیزوں سے ملک کی کتنی بدنامی ہورہی ہےانکو اندازہ نہیں۔ایسے لگتا ہے لاپتہ افراد کا معاملہ حکومت کی ترجیحات میں نہیں،اس کیس کو منگل تک کے لئے رکھ رہا ہوں مگر منگل کو میں نہیں ہونگا،میرے نہ ہونے کی وجہ سے اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے،

    ڈاکٹر بابر اعوان نے وزیراعظم کو عدالت بلانے کی استدعا کی، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آئین میں ریاست کے سربراہ وزیر اعظم جبکہ قانون کا سربراہ اٹارنی جنرل ہوتے ہیں،ہم نے ایک پراسس کے کے مطابق اٹارنی جنرل کو عدالت بلایا تھا، اگر حکومت کو ڈیو پراسز فالو نہیں کرنا تو پھر کیا کہہ سکتے ہیں، ڈاکٹر بابر اعوان نے عدالت سے سخت آرڈر پاس کرنے کی استدعا کی ،عدالت نے ایس پی لاہور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو یہ دیکھنا ہوگا کہ غیر پولیس نے پولیس کی وردی پہنی کیسے؟ میں اس کیس پر آرڈر پاس کرونگا،

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس کی سماعت کل تک ملتوی

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس کی سماعت کل تک ملتوی

    اظہر مشوانی کے 2 لاپتہ بھائیوں اور فیضان کی بازیابی کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار بابر اعوان اور اٹارنی جنرل کی عدم دستیابی کے باعث سماعت کل تک ملتوی کی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ میں کل کیس پر دلائل سنوں گا ، میں اس کیس کو مختلف طریقے سے پروسیڈ کروں گا۔

    درخواست گزار اظہر مشوانی کے والد کے وکیل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،انہوں نے کہا کہ میں ایگزیکٹو نہیں جوڈیشل سائیڈ پر ہوں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل نے متعلقہ حکام سے اعلیٰ سطح پر رابطہ کیا ہے،عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ سے کوئی رابطہ ہوا؟،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ابھی ہم سے کوئی رابطہ نہیں ہوا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کریں، میں کل کے لیے کیس پر دلائل سنوں گا،اب میں تاریخ پر تاریخ نہیں دوں گا،کل سماعت مکمل کرکے فیصلہ دوں گا اور اس فیصلے کے نتائج ہوں گے،بابر اعوان کی عدم دستیابی کے باعث آج دلائل نہ ہو سکے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بابر اعوان کو کل پیش ہوکر دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،اظہر مشوانی کے بھائیوں کے اغواء کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اظہر مشوانی کے بھائیوں کے اغواء کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: اظہر مشوانی کے دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل درخواست گزار بابر اعوان نے دلائل دیئے،اٹارنی جنرل عدالت سے روانہ ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل روسٹرم پر موجود تھے، بابر اعوان نے کہا کہ اظہر مشوانی کے خاندان کے افراد کو اٹھایا گیا ،اظہر مشوانی کے والد کو اٹھایا گیا دس روز بعد چھوڑا گیا ،اظہر مشوانی کو بھی پہلے اٹھایا گیا نو روز بعد چھوڑا گیا ،انکے بھائیوں کو اٹھایا گیا آج 72 دن ہو گئے ہیں نہیں چھوڑا گیا ، اظہر مشوانی کو فون پر بتایا گیا کہ ان کے بھائی اسلام آباد میں ہیں، ان کو ہدایات دی گئیں کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق کیے ٹوئٹس ڈیلیٹ کریں، جس نمبر سے کال آئی رپورٹ کے مطابق یہ نمبر دونوں بھائیوں میں سے ایک کا ہے، جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا اس کا ڈیٹا موجود نہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ ڈیٹا ختم ہو گیا،

    ہم سے پوچھیں، اُن میں اور اِن میں کوئی فرق نہیں، ہم نے آئین اور قانون پر عمل کرنا ہے،جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب
    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری داخلہ، پولیس، وزارتِ دفاع اور ایف آئی اے کہہ رہی ہے کہ اظہر مشوانی کے بھائی ہمارے پاس نہیں، انہیں کسی عام آدمی نے یا اسٹیٹ اہلکاروں نے لاپتہ کیا، دونوں صورتوں میں یہ جرم ہے، مسنگ پرسن جتنے اس حکومت میں ہو رہے ہیں اتنے ہی پچھلی حکومت میں تھے، ہمیں آئین اور قانون کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے، امید ہے کہ اٹارنی جنرل کی کوشش سے یہ لوگ ریکور ہوں گے، اگر کوئی نفرت انگیز تقریر کرتا ہے تو اس سے قانون کے مطابق نمٹیں، اِس میں بھائیوں کا کیا قصور ہے؟ باپ بیٹے کا اور بیٹا باپ کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا،جسٹس حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، آپ اچھا کام کر رہے ہیں، صورتِ حال کل تبدیل ہو سکتی ہے لیکن عدالت نے ویسے ہی رہنا ہے، ہم سے پوچھیں، اُن میں اور اِن میں کوئی فرق نہیں، ہم نے آئین اور قانون پر عمل کرنا ہے، جس شخص کو اٹھایا ہے اُس پر اخراجات بھی تو آ رہے ہوں گے

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر سی سی ٹی وی ہے تو ہم سکرین لگانے کا کہیں ، عدالت نے اظہر مشوانی کے بھائیوں کے اغواء کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کر لی ،عدالت نے سماعت جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اظہر مشوانی کے بھائیوں اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا کارکن محمد فیضان کی بازیابی کی درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو وزیراعظم سے ملاقات کر کے حل نکالنے کیلئے 22 اگست جمعرات تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست،سیکرٹری دفاع طلب

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست،سیکرٹری دفاع طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: اظہر مشوانی کے بھائیوں کے بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےکیس کی سماعت کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بیمار ہیں وہ ہسپتال میں داخل ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جس نمبر سے انکے والد کو کال گئی وہ تو انکے بھائی کا نمبر ہے،سکریٹری صاحب آئے ہیں ،سکریٹری داخلہ عدالت میں پیش ہو گئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ تجربے والے آدمی لگتے ہیں آپ کو پتہ ہے ذمہ داریاں کیسے نبھانی ہیں ، اس پر کیا کہیں گے، کیا سکریٹری دفاع بھی عدالت میں موجود ہیں ،سرکاری وکیل نے کہا کہ سکریٹری دفاع نہیں جوائنٹ سیکریٹری ڈیفنس عدالت آئے ہیں ،عدالت نے سکریٹری دفاع کو 20 اگست کو دوبارہ طلب کر لیا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ مجھے امید ہے یہ کیس آئندہ منگل تک یہ کیس ختم ہو جائے گا، سرکاری وکیل نے کہا کہ سکریٹری دفاع لاہور ہیں آگے ویکنڈ ہے ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سکریٹری دفاع کو کہیں اس مرتبہ اپنے ویکینڈ کی قربانی دیں، میں اس پر تفصیلی آرڈر جاری کروں گا، عدالت نے کیس کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس،توہین عدالت کی کاروائی کا عندیہ

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس،توہین عدالت کی کاروائی کا عندیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: اظہر مشوانی کے دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اظہر مشوانی کے والد کی درخواست پر سماعت کی،اظہر مشوانی کے بھائی پروفیسر مظہر الحسن اور پروفیسر ظہور الحسن چھ جون سے لاپتہ ہیں ،دونوں لاپتہ بھائیوں کے والد کی طرف سے وکیل بابر اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے. اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کی رپورٹ پہلے ہی فائل ہو چکی ،

    عدالت نے سیکریٹری دفاع ، سیکرٹری داخلہ ، آئی جی اسلام آباد کوذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،ڈی جی ایف آئی اے کو بھی عدالت نے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت میں جمع کروائی گئی سیکورٹی اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں بھائیوں کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم ہو گئےاور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب میں تمام فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کروں گا ،عدالت نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی،

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی عدم بازیابی ، ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی کاروائی شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا،عدالت نے سیکرٹری دفاع ، داخلہ ، آئی جی اسلام آباد ، ڈی جی ایف آئی اے 15 اگست کو طلب کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جواب دیں کیوں نا توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا اظہر مشوانی کے بھائیوں کو   عدالت پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا اظہر مشوانی کے بھائیوں کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی رہنما اظہر مشوانی کے دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی.

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اظہر مشوانی کے والد کی درخواست پر سماعت کی، اظہر مشوانی کے بھائی پروفیسر مظہر الحسن اور پروفیسر ظہور الحسن چھ جون سے لاپتہ ہیں دونوں لاپتہ بھائیوں کے والد کی طرف سے وکیل بابر اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے،وکیل بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ اظہر مشوانی کے بھائیوں کو 6 جون کو اٹھایا گیا اُس سے پہلے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو 5 جون کو گرفتار کیا گیا لیکن بیرسٹر گوہر کو بعد میں چھوڑ دیا گیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آج اخبار میں ہے کیا یہ گرفتار ہیں ؟بابر اعوان نے کہا کہ پٹشنر گرفتار نہیں ہیں یہ دو لاپتہ بھائیوں کے والد ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ اور ہے جو گرفتار ہوا ہے ،بابر اعوان نے کہا کہ اظہر مشوانی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں پہلے ان کو بھی اٹھایا گیا تھا ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر تو خود گرفتار ہونا چاہتا تھا،بیرسٹر گوہر کو ایک ستارہ چاہیے تھا اسکی ابھی تک وہ کوالیفیکیشن نہیں ہوئی، پی ٹی آئی والے جو جیل کی ہوا کھا چکے ہیں اُنکی کوالیفیکیشن زیادہ ہے،

    اب یہاں جو زیادہ گالی دیتا ہے زیادہ بدزبان ہے جو زیادہ بد تہذیبی کرے گا وہ آگے آتا ہے ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اظہر مشوانی کے دونوں بھائیوں کو بازیاب کرا کے عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا.اسلام آباد ہائی کورٹ نے اظہر مشوانی کے دونوں کو بازیاب کرا کے عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ,یہ دیکھنا ہو گا آپ آئندہ سماعت پر کیا کہتے ہیں ، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ وزارت داخلہ نے پشاور ہائی کورٹ میں جمع جواب میں سوشل میڈیا ایکٹیویٹیز سے متعلق باقاعدہ ناراضگی کا اظہار کیا ، موبائل نمبر سے مشوانی کو کال گئی بتایا گیا اس کے بھائی اسلام آباد خفیہ ادارے کے پاس ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کا حلقہ ہے رکھ رکھاؤ ہے لیکن اب یہاں جو زیادہ گالی دیتا ہے زیادہ بدزبان ہے جو زیادہ بد تہذیبی کرے گا وہ آگے آتا ہے ، بہرحال اس کو سائیڈ پر کریں ایک جنیوئن معاملہ تو ہے ، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ لاپتہ دونوں بھائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ٹھیک ہے جو حالات آج کل ہیں آپ لوگ receiving اینڈ پر ہیں ، کل وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملک شریعت کے مطابق ہی چلنا چاہیے ،تو پھر ان معاملات میں بھی شریعت کے مطابق ہی چلائیں نا ،آئندہ سماعت پر جواب کے بعد دیکھیں گے وگرنا اٹارنی جنرل کو بلائیں گے ، آئندہ سماعت پر جواب دیکھیں گے وگرنا میرے پہلے بھی آرڈرز موجود ہیں

    اظہر مشوانی کے دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے،,درخواست میں پروفیسر مظہر الحسن اور پروفیسر ظہور الحسن کو بازیاب کروانے کی استدعا کی گئی تھی،دونوں لاپتہ شہریوں کے والد نے شعیب شاہین اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی تھی.

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست عدالت نے نمٹا دی

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست عدالت نے نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ: اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنا پر نمٹا دی ،ایڈوکیٹ سمیر کھوسہ نے کہا کہ اظہر مشوانی کو وٹس ایپ کال آئی ہے کہ مغوی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پاس ہیں،چونکہ مغوی وفاقی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں، لہذا ہم درخواست واپس لیتے ہیں ، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ مغوی پنجاب پولیس کے پاس نہیں ہیں، جسٹس علی باقر نجفی نے قاضی حبیب الرحمن کی درخواست پر سماعت کی،دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اظہر مشوانی کے دو بھائیوں کو جون میں اغواء کیا گیا، سادہ لباس اور پولیس یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا،عدالت اظہر مشوانی کے دونوں بھائیوں کو بازیاب کروانے کا حکم دے،

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس میں آئی جی کو طلب کرنے کا عندیہ

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس میں آئی جی کو طلب کرنے کا عندیہ

    لاہور ہائیکورٹ ،پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پولیس کو جیو فینسنگ کا ڈیٹا حاصل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی، ایڈوکیٹ اشتیاق اے خان نے کیا کہ 24 جون کے آڈر میں جیو فینسنگ کا کہا گیا، پھر ابھی تک اس کا انتظار ہے، ایس پی پولیس نے کہا کہ ہم نے ٹیلیفون کمپنیوں کو درخواست کی ہے ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ابھی تک رپورٹ کیوں نہیں آئی، ایک ماہ گزر گیا ہے، ایس پی پولیس نے کہا کہ ابھی صرف ایک کمپنی کا ڈیٹا آیا ہے، باقی کمپنیوں کا ڈیٹا آنا ہے،عدالت نے کہاکہ اگر پیر کے دن پولیس ریکارڈ نہ لائی تو آئی جی پنجاب کو طلب کر لیں گے, اظہر مشوانی کی والد قاضی حبیب الرحمن عدالت میں پیش ہوئے ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے قاضی حبیب الرحمن کی درخواست پر سماعت کی

    اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
    ‏تحریک انصاف سوشل میڈیا انچارج اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،درخواست والد قاضی حبیب الرحمن کیجانب سے دائر کی گئی ہے،دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی ٹی ڈی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست سلمان اکرم راجہ،ایڈوکیٹ ابوزر سلمان خان نیازی کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں کہا گیا کہ پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو رات گئے گھر سے اغواء کیا گیا، سادہ لباس اور پولیس یونفارم میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا، اغواء کرنے والوں نے نہیں بتایا کہ انہیں کیوں لے کر جا رہے ہیں، اس سے قبل پروفیسر ظہور کو 100 سے زائد غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، عدالت پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو بازیاب کروانے کا حکم دے،

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان