Baaghi TV

Tag: اعتماد

  • علی امین گنڈا پور اعتماد کا ووٹ لیں، گورنر خیبر پختونخوا

    علی امین گنڈا پور اعتماد کا ووٹ لیں، گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کر دیا

    صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور اکثریت کھو چکے، اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں،دو تہائی اکثریت والے وزیرِ اعلیٰ اپنی اسمبلی میں جانے سے کترا رہے ہیں،اس کا مطلب ہے کہ وہ اکثریت کھو چکے ہیں، میری تجویز ہو گی کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں تا کہ پتہ چلے ان کے پاس اکثریت ہے یا نہیں، چار مرتبہ اجلاس ملتوی ہو چکا ہے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا وپر کے پاس اکثریت نہیں، تحریکِ عدم اعتماد آ سکتی ہے، سرکاری طور پر اعتماد کا ووٹ لینےکا بھی کہہ سکتا ہوں،جس طرح لوگوں کو ہٹا رہے یہ انکی بوکھلاہٹ ہے، سیاسی مسیحا مولانا فضل الرحمان کے پاس پی ٹی آئی والےپہنچ جاتے ہیں، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر کو پی ٹی آئی والے کمیٹی میں نہیں ڈالتے، میرا مشورہ ہے کہ اگلی بار پی ٹی آئی کے صوبائی صدر کو بھی کمیٹی میں ڈالیں،گورنر نے سوال اٹھایا اور کہا کہ بتایا جائے وزیر اور مشیر کیوں بدلے جارہے ہیں،اگر وہ کرپٹ اور نااہل ہیں تو انہیں سزا کیوں نہیں دی جا رہی؟، اللّٰہ نہ کرے کہ میں مشیر اور معاونینِ خصوصی کی سمری پر پاؤں رکھوں، صوبے میں نظامِ تعلیم بہترین ہو گیا، اسمبلی میں بل لایا جائے کہ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے بچے بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھیں ،جب تک میں بیٹھا ہوں یونیورسٹی کی ایک اِنچ زمین نہیں بیچنے دوں گا۔

    موجودہ صوبائی حکومت نے صوبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
    دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور جمعیت علمائے اسلام کے راہنماء سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں سیاسی معاملات اور صوبہ میں امن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سابق وزیر اعلی اکرم خان درانی کی صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے حقوق کے حصول اور مشکلات کے ازالہ کے لیئے سیاسی جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے، موجودہ صوبائی حکومت نے صوبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے،صوبہ میں بدامنی انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے،جنوبی اضلاع میں عوام دن کے وقت بھی سفر سے گریز کررہے ہیں شاہراہوں پر مسلح افراد کا راج ہے ، اس موقع پر زاہد اکرم درانی کا کہنا تھا کہ صوبہ کے حقوق کے لیے سیاسی جماعتوں سے رابطے گورنر کا مستحسن قدم ہےصوبہ میں بدامنی اور عوامی مسائل میں اضافہ نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے.

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

  • وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں شروع ہو گیا

    وزیرِ اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے ہیں، قومی اسمبلی اجلاس کا ضمنی ایجنڈا جاری ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد ایوان میں پیش کی، بلاول کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا یہ ایوان وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے پاکستان کی پارلیمان جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے چار رکنی اکثریتی بینچ کے ساتھ کھڑی ہے ،بلاول بھٹو نے قرارداد پیش کردی،وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے،وزیر اعظم شہباز شریف کو 180ممبرز قومی اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے

    حکمران اتحاد کے ارکان قومی اسمبلی کی کل تعداد 181 ہے،ایوان میں مسلم لیگ ن کے 85 پیپلز پارٹی کے 58 ارکان ہیں، ایم ایم اے کے ارکان کی تعداد 13، ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان کی تعداد 7 ہے۔حکمران اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، بی این پی کے 4 ارکان ہیں۔ق لیگ کے 3، اے این پی اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن ہے۔چار آزاد ارکان اسمبلی بھی حکمران اتحاد میں شامل ہیں،قومی اسمبلی کے 180 اراکین نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کر دیا ،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اگر مفتی عبدالشکور زندہ ہوتے تو اعتماد کے ووٹ 181 ہوتے تا ہم انہوں نے 180 ووٹ حاصل کیے

    اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ ناچیز کو ایک بار پھر عزت سے نوازا، اور 180 ووٹوں سے اعتماد کا ووٹ دلوایا ،میں یقین دلاتا ہوں کہ اس ایوان کے اعتماد کا مان رکھوں گا ،2018میں اس ملک کی معیشت بہترین تھی،پانچ سال گرز گئے متنازع الیکشن دھاندلی کی تحقیق نہیں ہوسکی،

    وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا،بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی۔ دو ممبران کو وہیل چئیرز پر لایا گیا، تحریک انصاف کے 12 منحرف ارکان ایوان میں موجود تھے مگر انہوں نے ووٹ نہیں دیا، پانچ ارکان ایوان سے باہر چلے گئے تھے

    صدر پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز آصف علی زرداری قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچ گئے ،ممبران اسمبلی نے ڈیسک بجا کر آصف علی زرداری کا استقبال کیا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی ایوان میں موجود تھے ،پیپلز پارٹی کے علیل سینئر رکن قومی اسمبلی یوسف تالپور بھی اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے ایوان میں موجود تھے

    حامد میر کہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے 180 ارکان کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا عمران خان نے 2021 میں سینیٹ کے الیکشن میں حفیظ شیخ کی شکست کے بعد 178 ارکان کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا

    قبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے، وفد میں فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، مصطفی کمال، امین الحق شامل تھے ،ایم کیو ایم کے وفد نے مردم شماری پر تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا، ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا،ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دے گی، وفد نے یقین دہانی کروا دی،

    وزیر دفاع خواجہ آصف سے غیر رسمی گفتگو،سوال کیا گیا کہ کیا اپوزیشن کیساتھ مذاکرات کامیاب ہونگے،جس کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوتے مگر آج شام تو ابتدائی سفارشات پر ہی گفتگو ہوگی،سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے؟ کیوں ضرورت پیش آرہی ہے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اعتماد کے ووٹ سے افواہیں دم توڑ جاتی ہیں،

    ،جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

  • پنجاب اسمبلی:186ارکان کا نمبرشو، کل اعتماد کا ووٹ لیا جائےگا:ڈپٹی سپیکر واثق قیوم

    پنجاب اسمبلی:186ارکان کا نمبرشو، کل اعتماد کا ووٹ لیا جائےگا:ڈپٹی سپیکر واثق قیوم

    لاہور: ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم نے کہا کہ آج 186 ارکان کا نمبر ہاؤس میں شو کیا جائے گا، آج نمبرز گیم شو کریں گے، اعتماد کا ووٹ کل لیں گے۔

    میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہماری پوری تسلی ہے، 186 کو کراس کر چکے ہیں، کل ہی کہا تھا ہمارے پاس سرپرائز ہے، سرپرائز کیلئے موقع چاہیے تھا، ہم جو کہا تھا پورا کر دیا۔ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ہم نے ان کونمبرز پورے کر کے بتانے تھے وہ کر دیئے، اعتماد کے ووٹ کے لیے ایجنڈے پر لانا ضروری ہے، ہمارا مقصد نمبرز پورے کرنا تھا وہ آج ہم نے دکھا دیئے۔

     

    واثق قیوم نے مزید کہا کہ یہ کہتے تھے ہمارے پاس نمبرز پورے نہیں، آج ہم نے دکھا دیئے، عمار یاسر بھی ایوان میں آگئے ہیں، ہمارے پاس ایک اور سرپرائز بھی ہے اس کا ابھی انتظار کریں۔

    اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پرویز الہی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے حکومت کے نمبر پورے ہیں۔ٹویٹر پیغام میں فواد چوہدری نے لکھا کہ الحمدللہ 187 کا نمبر مکمل، یعنی وزیراعلیٰ پنجاب کو 187 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

     

    اجلاس سے قبل ایک اور ٹویٹ میں فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کیلئے 177 ممبران اسمبلی پہنچ چکے ہیں جبکہ قاف لیگ کے 10 ارکان کچھ دیر میں پہنچ رہے ہیں اور انشاللہ اجلاس میں 187 ارکان شامل ہوں گے۔

    خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے زمان پارک میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی ہے جس میں سیاسی صورتحال اور اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

  • ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا پرویزالہیٰ کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

    ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا پرویزالہیٰ کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت مسلم لیگ قائداعظم کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کی پارلیمانی پارٹی نے چودھری پرویزالٰہی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کی پوری پارلیمانی پارٹی چودھری پرویزالٰہی کے ساتھ کھڑ ی ہے اور کھڑ ی رہے گی۔

    پارلیمانی پارٹی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی ہمارے لیڈر ہیں اور ہم پوری پارلیمانی، سیاسی اور عوامی قوت کے ساتھ چودھری پرویزالٰہی کے شانہ بشانہ ہیں۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے شرکاء نے اس امر کااظہارکیا کہ چودھری پرویزالٰہی کی قیادت میں مسلم لیگ قائداعظم اور پی ٹی آئی کا مثالی اتحاد صوبے کے عوام کو ڈلیور کر رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ قائداعظم متحد ہے اور متحد رہے گی۔ صوبے کے عوام کی خدمت کے سفر کو مل کر مزید تیزی سے آگے بڑھائیں گے۔ افواہیں پھیلانے والے مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

    پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین پنجاب اسمبلی ساجد بھٹی، حافظ عمار یاسر، شجاعت نواز، محمد عبداللہ وڑائچ، محمد رضوان، احسان الحق، محمد افضل، خدیجہ عمر اور باسمہ چودھری نے شرکت کی۔

  • پر امید اور خوش رہ کر لمبی عمر پا سکتے ہیں ۔

    پر امید اور خوش رہ کر لمبی عمر پا سکتے ہیں ۔

    پر امید اور خوش رہ کر لمبی عمر پا سکتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول نے ایک تحقیق کی ہے ۔ایسی خواتین جن کا حوصلہ بلند ترین ہوتا ہے ۔ ایسی خواتین کی زندگی کو طویل کیا جا سکتا ہے ۔یہاں تک کے ہررنگ، نسل، اور علاقے کی خواتین کی زندگی کے دورانئے کو 90 سال تک بھی پہنچایا جاسکتا ہے۔

    اس تحقیق کی سربراہ ہیامی کوگا ہیں ۔جن کا کہنا ہے کہ خواتین میں بہت زیادہ امید اور حوصلہ اعتماد ان کی زندگی کو غیرمعمولی طور پر بڑھا سکتا ہے۔

    اس سے قبل نہ امیدی اور مایوسی پر تحقیق ہو چکی ہے تاہم اب اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بلند حوصلہ اور امید اعتماد سے نہ صرف عمر دراز ہوتی ہے بلکے بزرگوں کی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

    مزید تفصیلات کے مطابق امریکی جیریارٹرکس سیوسائٹی کے جرنل میں 8 جون کو شائع تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بالخصوص خواتین پرامید رہ کر 80 سے 90 برس تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔تو اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ناامید رہنے والی خواتین کے مقابلے میں بہت پرامید رہنے والی 25 فیصد خواتین کی عمر میں 5.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان میں سے 10 فیصد کی عمر 90 برس تک بھی دیکھی جا چکی ہے ۔

    تاہم اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی میں دکھ اور تکلیفیں آتی رہتی ہیں ۔لیکن امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ۔اور ہر حال میں خوش رہنا چاہئے ۔

  • اگرعمران خان کوعدالت پراعتماد نہیں توعدالت کیس نہیں سنے گی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اگرعمران خان کوعدالت پراعتماد نہیں توعدالت کیس نہیں سنے گی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اگرعمران خان کوعدالت پراعتماد نہیں توعدالت کیس نہیں سنے گی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    فواد چودھری کی توہین مذہب کے مقدمات کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نےکیس کی سماعت کی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے گزشتہ روز بھی کہا کہ عدالتیں رات کو کیوں کھلیں عمران خان اپنے ورکرز کو پیغام دے رہے ہیں کہ عدالتیں آزاد نہیں ہیں اپنے کلائنٹ سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کریں کہ کیا انہیں عدالت پر اعتماد ہے، اگر عمران خان کو عدالت پر اعتماد نہیں تو یہ عدالت کیس نہیں سنے گی،عمران خان یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کمپرومائزڈ ہیں، رولز کے مطابق عدالتیں 24 گھنٹے کھلی رہ سکتی ہیں،عدالتوں کے خلاف بہت مہم چلائی جا چکی ہے،اس عدالت کو اس کردار کشی مہم سے فرق نہیں پڑتا،یہ عدالت اور بہت بڑے کیسز سن رہی ہے جو کہ ایگزیکٹو کے کرنے کے کام ہیں،یہ عدالت مسنگ پرسنز اور بلوچ طلبہ کے کیسز سن رہی ہے، یہ عدالت سیاسی بیانیوں سے اُن کے حقوق سلب نہیں ہونے دے گی، 2014کے دھرنے کے دوران رات 11بجے بھی پی ٹی آئی ورکرز کو ریلیف دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 12 مئی تک ملتوی کر دی،عدالت نے فواد چودھری کو گرفتاری سے روکنے اور ہراساں نہ کرنے کے حکم میں 12 مئی تک توسیع کر دی،

    قبل ازیں فواد چودھری کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی،درخواست میں کہا گیاہے کہ مجھے اور مقدمات میں نامزد ساتھیوں کو ہراساں کرنے سے روکا جائے، ملک بھر میں درج مقدمات کو ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کی جائے ،پٹشنرز اور اس کے ساتھیو ں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے روکا جائے،کس بنیاد پر مقدمات دائر کیے گئے وجوہات سے آگاہ کیا جائے،ایف آئی اے یا پولیس کا کوئی بھی ایکشن غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے،

    وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں نازیبا واقعہ پیش آیا تھا، پاکستانی شہریوں کی جانب سے چور چور کے نعرے لگائے گئے، اس پر سعودی حکومت نے بھی ایکشن لیا اور کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید، فواد چودھری، انیل مسرت سمیت کئی رہنماؤں پر فیصل آباد، اٹک میں مقدمہ درج ہو چکا ہے، شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد گرفتار ہو چکے ہیں، حکومت نے مقدموں میں نامزد دیگر افراد کی گرفتاری کا بھی اعلان کر رکھا ہے،

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

    سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ مریم نواز کا ردعمل

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

  • اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد منظور

    اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد منظور

    اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد منظور
    خیبرپختونخوا اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد منظور کرلی

    قرارداد صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے پیش کی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ کورنا وبا نے دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کو بحران کا شکار کیا،وبا کے دوران وزیراعظم کے مدبرانہ کردار نے ملک کو بحران سے بچایا،وزیراعظم نے ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے،یہ اسمبلی وزیراعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ،وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں،اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود قرارداد کثرت رائے سے منظورکر لی گئی

    دوسری جانب وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی کی زیر صدارت آزادکشمیر کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حق میں قرارداد منظور کی گئی اجلاس میں سینئر وزیر سردار تنویر الیاس، وزراء، مشیران ، معاون خصوصی نے شرکت کی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ اجلاس وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کااظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے نام پر بلیک میلنگ کی کوششیں ناکام ہوں گی.

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں نے ملکر جمع کروائی ہے،گزشتہ روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد اپوزیشن قائدین مولانا فضل الرحمان، شہبا زشریف، آصف زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی بعد ازاں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں ڈی چوک میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی

    عمران خان کا پیغام پہنچایا گیا تو علیم خان نے کیا دیا جواب؟

    آجکی میٹنگ جہانگیر ترین کے گھر کیوں رکھی؟ علیم خان کا بڑا اعلان

    بزدار کی کرسی بچانے کی بھی کوششیں جاری،وزراء متحرک

    تحریک عدم اعتماد 48 گھنٹے سے پہلے آجائے گی،مولانا فضل الرحمان

    علیم خان کی لندن روانگی طے،نواز شریف سے ہو گی ملاقات ؟ِ

    اپوزیشن تیار،وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع

    عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد کے تمام معاملات طے ہوچکے

    جمہوریت بہترین انتقام ہے ،سلیکٹڈ کا وقت ختم ،بلاول

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،شہباز شریف کی سراج الحق سے ملاقات

    بزدار کیخلاف عدم اعتماد،پرویز الہیٰ سے ملنے اہم شخصیات پہنچ گئیں

    بزدار بھی کرسی بچانے کیلئے متحرک، بڑا فیصلہ کر لیا

    ایمپائراسی طرح نیوٹرل رہا تو بڑے بےآبرو ہوکر جانا ہوگا،اہم شخصیت کا دعویٰ

    صبربھائی، ابھی کچھ دن ہیں،مریم نوازنےعمران خان کو ٹویٹر پرٹیگ کر کےایسا کیوں کہا؟

    ایم کیو ایم وفد کی آصف زرداری سے ملاقات طے

    عدم اعتماد جمع ہونیکے بعد اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،اہم ملاقاتیں جاری

    23 سے 30 مارچ اہم ہفتہ ،پنجاب کی سیاست پر بات نہیں کر سکتا، شیخ رشید

    وفاق سے قبل پنجاب میں تبدیلی ؟ بزداربھی کرسی بچانے میں مصروف

    حکومتی اتحادی جماعت کا وفد آصف زرداری سے ملنے پہنچ گیا

  • بیویوں کی کال ریکارڈنگ:ایسی حرکت سےگھربرباد ہوتےہیں:بیوں پراعتماد سےہی گھربستےہیں:ہائی کورٹ

    بیویوں کی کال ریکارڈنگ:ایسی حرکت سےگھربرباد ہوتےہیں:بیوں پراعتماد سےہی گھربستےہیں:ہائی کورٹ

    چندی گڑھ :بغیراجازت بیوی کی کال ریکارڈنگ،پرائیویسی کےحق کی خلاف ورزی:بیوں پراعتماد سے ہی گھر بستے ہیں:ہائی کورٹ کا زبردست فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بیوی کی منفی تصویر دکھانے کے لیے اس کی رضامندی کے بغیر کالز ریکارڈ کرنا اس کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔

    ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے اس حکم کو بھی ایک طرف رکھ دیا ہے، جس کے تحت بھٹنڈہ فیملی کورٹ نے اس کال ریکارڈنگ کو ثبوت مانا تھا۔

    پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے خاتون نے بتایا کہ ان کے اور شوہر کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے۔ اس تنازعہ کی وجہ سے شوہر نے 2017 میں بھٹنڈہ کی فیملی کورٹ میں طلاق کا مقدمہ دائر کیا۔

    اس دوران اس نے اپنے اور درخواست گزار کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ بطور ثبوت پیش کی۔ فیملی کورٹ نے اسے قبول کر لیا جو کہ قواعد کے مطابق درست نہیں۔

    اس پر شوہر کی جانب سے دلیل دی گئی کہ اسے ثابت کرنا ہوگا کہ بیوی ظالم ہے اور یہ گفتگو اس کی دلیل ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص کسی کی پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی کیسے کر سکتا ہے۔

    شریک حیات کے ساتھ فون پر ہونے والی گفتگو کو اس کی رضامندی کے بغیر ریکارڈ کرنا پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ ہائی کورٹ نے بھٹنڈہ کی فیملی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ فون ریکارڈنگ کو بطور ثبوت نہ مانتے ہوئے چھ ماہ کے اندر طلاق کے معاملے پر فیصلہ کرے۔

    آپ کو بتاتے چلیں کہ 24 اگست 2017 کو سپریم کورٹ کی نو ججوں کی بنچ نے پرائیویسی کے حق کو آئین کے تحت بنیادی حق قرار دیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پرائیویسی انسانی وقار کا آئینی مرکز ہے۔ پرائیویسی کے حق کو آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق کا ایک لازمی جزو تسلیم کیا گیا ہے۔