Baaghi TV

Tag: افراط زر

  • وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بیشتر ممالک کو مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

    دنیا بھر میں معاشی سست روی کے ساتھ ساتھ افراط زر یعنی مہنگائی بھی معیشتوں کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے،اعدادوشمار کے مطابق وینزویلا اور زمبابوے مہنگائی کی بلند ترین سطح پر ہیں، جہاں افراط زر کی شرح بالترتیب 180 اور 92 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے یہ شرحیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور وہاں کی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب بڑی معیشتوں میں افراط زر کی صورتحال نسبتاً قابو میں ہے امریکہ میں مہنگائی 3 فیصد، برطانیہ میں 3.1 فیصد، فرانس میں 1.3 فیصد اور جرمنی میں 2 فیصد پر ہے، جو عالمی اوسط کے قریب تصور کی جا سکتی ہےبھارت میں مہنگائی کی شرح 4.2 فیصد تک محدود رہی، جو گزشتہ برس کی 5.9 فیصد سے کم ہے، بنگلہ دیش میں یہ شرح 10 فیصد ہے جبکہ سری لنکا میں افراط زر کی شرح 12 فیصد پر رہنے کی توقع ہےپاکستان میں حکومت کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد رہی، تاہم آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق یہ 5.1 فیصد ہے، جو اب بھی خطے کے کئی ممالک سے بہتر تصور کی جا سکتی ہے۔

    عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی پر قابو پانا ایک مسلسل چیلنج ہے، جہاں خوراک، توانائی اور درآمدات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتا ہے، مہنگائی کی اس بلند لہرجیسی صورتحال کے پیش نظر ماہرین سخت مالی نظم و ضبط اور پالیسی اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔

    نان فائلرز کے لئے بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

  • ملک میں افراط زر کی شرح  59 سال کی کم ترین سطح پر آگئی،ادارہ شماریات

    ملک میں افراط زر کی شرح 59 سال کی کم ترین سطح پر آگئی،ادارہ شماریات

    اسلام آباد: ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق مارچ 2025 میں افراط زر کی شرح 0.69 فیصد رہی، جو کہ 59 سال کی کم ترین سطح ہے۔

    باغی ٹی وی : ادارہ شماریات پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2024 میں افراط زر کی شرح 20.68 فیصد تھی۔ یہ تبدیلی ملک کی اقتصادی صورتحال میں اہم پیش رفت ہے رواں مالی سال کے نو ماہ میں افراط زر کی شرح 5.25 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے نو ماہ میں یہ شرح 27.06 فیصد تھی، یہ افراط زر میں قابل ذکر کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق مارچ 2025 میں افراط زر کی شرح 0.69 فیصد تھی، جو دسمبر 1965 کے بعد سب سے کم ہے، اس کے علاوہ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں افراط زر میں اضافے کی شرح 5.25 فیصد رہی جو گزشتہ سال کی نسبت نمایاں طور پر کم ہے۔

    بھارتی سپریم کورٹ کا تمام ججز کے اثاثے پبلک کرنے کا فیصلہ

    آئی سی سی نے ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائیر کیلئے میچ آفیشلز کا اعلان کردیا

    حرا مانی کے عید کے بولڈ لباس پر شدید تنقید

  • ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ، شرح 31.44 فیصد تک جا پہنچی

    ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ، شرح 31.44 فیصد تک جا پہنچی

    اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح ستمبر میں4 31.4 فیصد ہوگئی جو اگست میں 27.4 فیصد تھی۔

    باغی ٹی وی: ادارہ شماریات کے مطابق بنیادی افراط زر 0.2 فیصد پوائنٹس بڑھ گیا جو اگست میں 18.4 فیصد پر تھا، جب کہ ہول سیل پرائس انڈیکس جولائی-ستمبر میں 0.92 فیصد اضافے کے بعد 24.61 فیصد پر جا پہنچا ستمبر میں اشیائے خور ونوش کی مہنگائی کی شرح میں بدستور اضافہ ہوا اور 33.1 فیصد پر پہنچ گئی ہے اور سالانہ بنیاد پر 38.4 فیصد ہوگئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی کی شرح 29.7 فیصد تک بڑھی ہے اور دیہی علاقوں میں 33.9 فیصد ہوگئی ہےرواں مالی سال 24-2023 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں اوسط افراط زر 29.04 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 25.11 فیصد تھی۔ ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر یہ ستمبر 2023 میں بڑھ کر 2 فیصد ہوا جب کہ اس سے پچھلے ماہ میں 1.7 فیصد اضافہ اور ستمبر 2022 میں 1.2 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی سی پی آئی افراط زر کی شرح ستمبر 2023 میں سال بہ سال کی بنیاد پر بڑھ کر 29.7 فیصد ہوگئی۔

    پاکستان میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر انسانی حقوق کارکنان کو دھمکا رہے ہیں،اقوام متحدہ

    دیہی علاقوں میں سی پی آئی افراط زر کی شرح سال بہ سال کی بنیاد پر 33.9 فیصد رہی جبکہ اس سے پچھلے ماہ یہ 30.9 فیصد پر تھی سال بہ سال کے دوران حساس پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) افراط زر ستمبر 2023 میں بڑھ کر 32 فیصد، ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) سالانہ بنیاد پر افراط زر کی شرح ستمبر 2023 میں اضافے سے 26.4 فیصد اور نان فوڈ نان انرجی اربن کی پیمائش 0 اشاریہ 2 فیصد بڑھ کر 18.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    سالانہ بنیاد پر بجلی چارجز 163 فیصد، مصالحے 158 فیصد، میوہ جات 99 فیصد، کپڑے اورجوتے 24 فیصد، ادویات 71 فیصد، الکوہلک بیوریجز اور تمباکو 87.45 فیصد، گھریلو اشیا 39.32 فیصد، اشیائے خورونوش 38.41 فیصد، دیگر اشیا اور خدمات 36.42 فیصد، ریسٹور نٹس اور ہوٹلز 34.3 فیصد، تعلیم 11.12 فیصد، مواصلات 7.42 فیصد، ہاؤسنگ اور یوٹیلیٹیز 29.7 فیصد، صحت 25.28 فیصد مہنگا ہوا-

    بنگلہ دیش:سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے سے …

    ادارہ شماریا ت کے مطابق اگست میں پیاز 39.32 فیصد، دال مسور 19.80 فیصد، تازہ سبزیاں 11.77 فیصد، چینی 10.28 فیصد جب کہ دال ماش 9.46 فیصد، دال مونگ 5.51 فیصد، پھل 4.46 فیصد اور دال چنا کی قیمت میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا اس کے علاوہ ٹماٹر 13.80 فیصد، زندہ مرغی 11.82 فیصد، کوکنگ آئل 1.52 فیصد، آلو 1.07 فیصد، گندم 0.95 فیصد، چائے کی پتی 0.73 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 0.40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ستمبر 2023 کے ہول سیل پرائس انڈیکس میں اگست 2023ء کے مقابلے میں 3.15 فیصد اضافہ ہوا یہ گزشتہ سال کے ستمبر کے مقابلے میں بڑھ کر 26.39 فیصد ہوگئی۔

  • پاکستان  نے مہنگائی میں سری لنکا کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاکستان نے مہنگائی میں سری لنکا کو پیچھے چھوڑ دیا

    امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باعث پاکستان نے مہنگائی میں مالیاتی بحران کے شکار سری لنکا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : بلوم برگ کے مطابق پاکستانی روپیہ 2023 میں عالمی سطح پر اب تک کی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں سے ایک ہے، جو ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوئی، اور درآمدی اشیا مزید مہنگی ہو گئیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اپریل میں ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں 56.8 فیصد اضافہ ہوا جب کہ کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی ایک سال پہلے کے مقابلے میں 48.1 فیصد بڑھ گئی کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں 21.6 فیصد اور رہائش، پانی اور بجلی کے بلوں میں 16.9 فیصد اضافہ ہوا-

    حکومت کو بڑا دھچکا،پاکستان ایل این جی عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ ہار گئی

    محکمہ شماریات کی طرف سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، صارفین کی قیمتوں میں اپریل میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 36.4 فیصد اضافہ ہوا،جو 1964 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس کا موازنہ بلومبرگ سروے میں 37.2% اضافے اور مارچ میں 35.4% اضافے کے درمیانی تخمینہ سے ہے-

    امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سری لنکا معاشی بحران پر قابو پاتا بھی دکھائی دے رہا ہے جبکہ رواں سال پاکستانی کرنسی بدترین گراوٹ کا شکار رہی ، جو ڈالر کے مقابلے میں20 فیصد گری ہے اور دنیا کی کم زور ترین کرنسی میں شمار ہوئی ۔

    امریکی جریدے کے مطابق اپریل میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 36 فیصد سے تجاوز کر گئی جو 1964 کے بعد سب سے زیادہ ہے اپریل میں سری لنکا میں مہنگائی کی شرح 35 فیصد رہی جو پاکستان سے کم ہے ،پاکستان میں مئی میں بھی مہنگائی کی شرح عروج پر رہے گی۔

    کراس بارڈر ادائیگیوں میں چینی کرنسی نے پہلی بارامریکی ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیا

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے 6.5 بلین ڈالر کے قرض کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکسوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک کی افراط زر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ پاکستان کے لیے اہم درآمدات برداشت کرنے اور ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے بیل آؤٹ فنڈز ضروری ہیں، لیکن آئی ایم ایف امداد دوبارہ شروع کرنے سے پہلے مالیاتی یقین دہانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔

    ماہر اقتصادیات انکر شکلا نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافہ کا امکان نہیں ہے، کیونکہ حقیقی شرحیں 12 ماہ کی مستقبل کی بنیاد پر مثبت ہو گئی ہیں۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ مہنگائی مئی میں عروج پر ہو گی اور خوراک کی قیمتیں آہستہ آہستہ کم ہو جائیں گی اور سال کے اوائل کے بنیادی اثرات شروع ہو جائیں گے۔

    سوزوکی گاڑیوں کی قیمتوں میں چوتھی باراضافہ

    گزشتہ ماہ، اسٹیٹ بینک نے قیمتوں کے دباؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں اپنی بینچ مارک سود کی شرح کو 21 فیصد تک بڑھا دیا، جو 1956 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے آئندہ مانیٹری پالیسی کا جائزہ 12 جون کو ہونا ہے۔

    اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر عزیر یونس نے بلومبرگ کو بتایا کہ حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ افراط زر کی سطح کے بارے میں مرکزی بینک کی امید غلط ہو سکتی ہے۔

    یونس نے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چالیس لاکھ سے زائد شہری خط غربت سے نیچے جا چکے ہیں، اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ مزید غربت کا سبب بنے گا۔

    مئی میں ڈالر 300 جب کہ جون میں 310 روپے کا ہوجائے گا۔ پیشنگوئی

    دوسری جانب جہاں وزیر اعظم شہباز شریف کو سیاسی بحران سے نبردآزما ہوتے ہوئے مہنگائی کی وجہ سے اضافی دباؤ کا سامنا ہے وہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

  • مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ

    مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ

    حکومت نے ملک میں جاری مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی: وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے اس دوسرے دور میں افراط زر میں اضافے کا امکان ہے جس کا اہم ایک سبب سیاسی عدم استحکام اور معیشت کی غیر یقینی صورت حال ہے، جن کی وجہ سے افراط زر کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔

    مارچ میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی،ادارہ شماریات

    ماہانہ اقتصادی جائزے میں کہا گیا کہ مہنگائی کا تعین کرنے والے قیمتوں کے ایس پی آئی گزشتہ ہفتے 46 اعشاریہ 65 فیصد کی بلند ترین شرح پر پہنچ گئے، جب کہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق فروری میں 31 اعشاریہ 6 فیصد تک پہنچ گئی جو کہ چھ دہائیوں میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

    تاہم جمعہ کو جاری ہونے والی قیمتوں کے حساس اشاریے ( ایس پی آئی) میں تھوڑی کمی دیکھی گئی اور یہ 45 اعشاریہ 36 فیصد تک آگئی، جبکہ مارچ کی ریڈنگ کا اجراء جلد متوقع ہے۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    دوسری جانب ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی کے ماہانہ اعداد و شمار جاری کردیئے،ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی مجموعی شرح 35.37 فیصد تک پہنچ گئی ہے، رواں مالی سال کے 9 ماہ میں مہنگائی 27.26 فیصد ریکارڈ کی گئی ،مارچ کے مہینے میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی، گزشتہ مالی سال مارچ میں مہنگائی 12.7 فیصد تھی. رواں سال مارچ میں شہروں میں مہنگائی 3.9 فیصد بڑھی، شہروں میں مہنگائی کی مجموعی شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ مارچ میں دیہی علاقوں میں مہنگائی 3.5 فیصدبڑھی اور دیہی علاقوں میں مہنگائی 38.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے-

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

  • امریکی مرکزی بینک نے  شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

    امریکی مرکزی بینک نے شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

    امریکی مرکزی بینک نےشرحِ سود میں 0.25 فیصد اضافہ کردیا، شرح سود 4.75 سے بڑھا کر 5 فیصد کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی:"بی بی سی” کے مطابق امریکی مرکزی بینک نے اس خدشے کے باوجود کہ یہ اقدام بینک کی ناکامیوں کے بعد مالیاتی بحران میں اضافہ کر سکتا ہے شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کے بعد شرح سود 4.75 سے بڑھا کر 5 فیصد کر دی گئی ہےلیکن امریکی مرکزی بینک نے خبردار کیا کہ بینک کی ناکامیوں کا نتیجہ آنے والے مہینوں میں اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    وفاق قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے قرض لینے کے اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے لیکن گزشتہ سال سے شرح سود میں ہوشربا اضافے نے بینکاری نظام میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

    دو امریکی بینک سلیکون ویلی بینک اور سگنیچر بینک اس مہینے منہدم ہو گئے، زیادہ شرح سود کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کی وجہ سے جزوی طور پر بحران کا شکار ہو گئے بینکوں کے پاس موجود بانڈز کی قدر کے بارے میں خدشات ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی شرح سود ان بانڈز کی قیمت گرا سکتی ہے-

    بینک بانڈز کے بڑے پورٹ فولیوز رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اہم ممکنہ نقصانات پر بیٹھے ہیں بینکوں کے پاس رکھے ہوئے بانڈز کی قدر میں کمی ضروری نہیں ہے جب تک کہ وہ انہیں بیچنے پر مجبور نہ ہوں۔

    دنیا بھر کے حکام نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ناکامیوں سے بڑے پیمانے پر مالی استحکام کو خطرہ لاحق ہے اور افراط زر کو کنٹرول میں لانے کی کوششوں سے توجہ ہٹانے کی ضرورت ہے۔

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

    گزشتہ ہفتے، یورپی مرکزی بینک نے اپنی کلیدی شرح سود میں 0.5 فیصد اضافہ کیابینک آف انگلینڈ جمعرات کو اپنی شرح سود کا فیصلہ کرنے والا ہے، ایک دن بعد جب سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فروری میں افراط زر کی شرح غیر متوقع طور پر 10.4 فیصد تک بڑھ گئی۔

    امریکی فیڈرل ریزروز کے چیئرمین جیرومی پاؤل نے میٹنگ کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حالیہ بینکنگ بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپازیٹرز، صارفین، اور کاروباری طبقات کو اعتماد دینے کیلئے شرح سود بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ مرکزی بینک اور دیگر ایجنسیز کی جانب سے حالیہ کچھ دنوں میں اٹھائے گئے اقدامات کے باوجود بھی سسٹم بہت مضبوط ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کا یہ عمل بتاتا ہے کہ تمام ڈیپازیٹرز کی بینکنگ سسٹم میں موجود سیونگز محفوظ ہیں اور حکام ان کی جمع پونجی کی حفاظت کیلئے تمام طریقہ کار بروئے کار لانے کیلئے تیار ہیں۔

    ملازمین کی ہڑتال ،پیرس کی سڑکوں پر ہزاروں ٹن کچرا جمع

    انہوں نے سلیکن ویلی بینک کو ایک مضبوط مالیاتی نظام میں "آؤٹ لیئر” کے طور پر بیان کیا لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ حالیہ ہنگامہ آرائی سے ترقی پر اثر پڑے گا، جس کا مکمل اثر ابھی تک واضح نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی مرکزی بینک کی جانب سے رواں سال شرح سود میں مزید اضافے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

  • سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ

    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ

    سعودی عرب میں دسمبر کے دوران افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد،مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ

    سعودی عرب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں افراط زر کی شرح 3.3 فی صد رہی ہے۔نومبر میں یہ شرح 2.9 فی صد تھی۔ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کا کہنا ہے کہ دسمبر میں قیمتوں میں 0.3 فی صد اضافہ ہوا جبکہ نومبرمیں 0.1 فی صد ماہانہ اضافہ ہوا تھا۔ مکانات، پانی، بجلی، گیس اور دیگرایندھن کی قیمتوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 5.9 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور نومبر کے مقابلے میں 0.9 فی صد زیادہ تھا۔یہ تمام اشیاء صارفین کی کل ماہانہ خریداری کا 25.5 فی صدہیں۔

    ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ افراط زرکی شرح میں یہ اضافہ ‘گھروں کے اصل کرایوں میں 1.1 فی صد اضافے کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں، جو 2022ءکے زیادہ تر عرصے کے دوران میں افراط زر کا بنیادی محرک تھیں، ماہانہ بنیاد پر0.1 فی صد گر گئیں، حالانکہ دسمبر2021ء کے مقابلے میں ان میں اب بھی 4.2 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

    جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے ایک علاحدہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2022ء کے سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں 2021 کے مقابلے میں 2.5 فی صد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 3.7 فی صد اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں (کرایوں) میں 4.1 فی صد اضافہ ہے۔

    اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 2022 میں مکانات کے زمرے میں 1.8 فی صد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ہاؤسنگ کے اصل کرایوں میں 2.0 فی صد اضافہ ہے۔ واضح رہے کہ سعودی وزارت خزانہ نے مالی سال 2023 کے بجٹ بیان میں کہا تھا کہ اسے 2022 کے آخر تک اوسط افراط زر کی شرح 2.6 فی صد رہنے کی توقع ہے۔

  • روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اور جرمنی کی معیشت

    روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اور جرمنی کی معیشت

    روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے جرمنی کی معیشت کو ڈبو دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جرمنی میں افراط زر 70 سال بعدانتہائی سطح تک پہنچ گئی 2021 میں جرمنی میں افراط زر کی شرح 3.1 فیصد تھی اور جنگ کے بعد2022 میں جرمنی میں افراط زرمیں 7.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈکیا گیا۔

    طیارے کے انجن میں پھنس کرشہری ہلاک

    1951 میں جرمنی میں سالانہ افراط زر 7.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جب کہ افراط زرمیں اضافے کی وجہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔

    دوسری جانب جرمن وزیر دفاع کرسٹائن لیمبرچ کو نئے سال کیلئے ویڈیو پیغام میں آتش بازی کے دوران روس یوکرین جنگ کا تذکرہ کرنا مہنگا پڑگیا،وزیر دفاع نے نئے سال کےموقع پر جاری کئے گئےویڈیوپیغام میں آتش بازی کے دوران روس یوکرین جنگ کا تذکرہ اور کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گفتگو کی تھی۔

    ایران کے جوہری منصوبے کے خلاف عالمی محاذ بنانے کیلئے کوشاں ہیں

    https://twitter.com/RikeFranke/status/1609635971221409792?s=20&t=yLYKzOQg_NM9bjaOYgEQwA
    بعد ازاں جرمن وزیر دفاع کے غیر سنجیدہ رویےکا نوٹس لیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے اپوزیشن کا کہنا ہے کے مستقبل بنیادوں پر وزیر دفاع کی طرف سے آنے والے بیانات شرمندگی کا باعث ہیں جس کی تازہ مثال حالیہ بیان ہے۔

    لیمبرج کی سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہونے والی ویڈیو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں انتہائی غیر سنجیدہ کہا جارہا ہے۔

    تیونس میں تنخواہوں اور بونس کی ادائیگی میں تاخیرپرہڑتال

  • کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    برلن :کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا،اطلاعات کے مطابق جرمن میڈیا گروپ (RND) نے جمعہ کو اگلے سال کے بجٹ سے متعلق ملکی وزارت خزانہ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 2023 میں حکومتی قرضوں کی فراہمی پر جرمنی کو اس وقت لگ بھگ دوگنا لاگت آئے گی جو اس وقت بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے خرچ کرتا ہے۔

     

     

     

    آراین ڈی میڈیا گروپ کی طرف سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پچھلی حکومتوں کی افراط زر کی پیشن گوئیوں میں غلط حساب کتاب کی وجہ سے، جرمنی کی اس کے عوامی قرضوں پر سود کی ادائیگی 16 بلین یورو ($16.09 بلین) سے بڑھ کر اگلے سال تقریباً 30 بلین یورو ہو جائے گی،

     

     

     

    نیوزآؤٹ لیٹ میں کہا گیا ہے کہ برلن نے افراط زر میں اضافے کے خطرے کو کم سمجھا اور اس کے نتیجے میں اب اسے ان بانڈز کی کے ذریعے بہت زیادہ رقم فراہم کرنے کی ضرورت کا سامنا ہے۔

     

     

    "2023 کے بجٹ کے مسودے کی دستاویزات کے مطابق، آنے والے سال میں افراط زر سے منسلک بانڈز کی ادائیگی کے لیے تقریباً 7.6 بلین یورو مختص کیے جائیں گے۔ یہ اس سال کے مقابلے میں €3 بلین یورو زیادہ ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 7 بلین یورو زیادہ ہے،

     

     

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جن بینکوں، انشورنس کمپنیوں یا فنڈز نے جرمن حکومت کو قرضے فراہم کیے ہیں، بنیادی طور پر اس صورت حال سے فائدہ اٹھائیں گے، کیونکہ انہیں سود کی ادائیگی میں زیادہ رقم ملے گی۔ تاہم، جرمن ٹیکس دہندگان کے خوش ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کی رقم ہے جو سود کی ادائیگی پر خرچ کی جائے گی۔

     

     

     

    جرمن پارلیمان کے بائیں بازو کے دھڑے کے رہنما، ڈائٹمار بارٹش نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’قرض لیتے وقت افراطِ زر کی حد سے کم شرح پر شرط لگانا ایک غلطی تھی جو اب ٹیکس دہندگان کے لیے بہت مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پچھلی حکومتوں کی قرضہ پالیسیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

  • چار عشروں کے دوران افراطِ زر کی بلند ترین شرح

    چار عشروں کے دوران افراطِ زر کی بلند ترین شرح

    واشنگٹن :امریکا میں افراطِ زر کی وجہ سے گیس اور خوراک کی قیمتیں اور کرائے 1981ء کے بعد سے سب سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی خاندانوں پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے فیڈرل ریزرو شرحِ سود میں ایک بار پھر اضافہ کر سکتا ہے۔

    امریکی حکومت نے گزشتہ روز بتایا کہ ملک میں جون میں افراط زر کی شرح پچھلے چار دہائیوں میں سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ اشیاء کی قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں 9.1 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ 1981ء میں کنزیومر قیمتوں میں اضافے کے بعد سے یہ سب بڑا اضافہ ہے۔ صرف مئی میں ہی قیمتوں میں 8.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مئی سے جون کے درمیان ہر ماہ قیمتوں میں 1.3 فیصد کا اضافہ ہوتا رہا حالآنکہ اپریل سے مئی تک قیمتوں میں صرف ایک فیصد اضافہ ہوا تھا۔

    آمدنی کے مقابلے ضروری اشیاء کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ کم آمدنی والے طبقے اس سے بالخصوص متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ان کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ لازمی اشیاء مثلاً خوراک، ٹرانسپورٹیشن اور مکان کے کرائے ادا کرنے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ گیس کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے اور یہ جون کے وسط میں تقریباً 5 ڈالر سے 4.66 فی گیلن ڈالر تک پہنچ گئی ہیں تاہم یہ مثبت پیش رفت بعض ماہرین اقتصادیات کی امیدوں کے مطابق نہیں ہے۔

    افراط زر کی وجہ سے صارفین کا اعتماد بری طرح متزلزل ہوا ہے جس کے امریکی صدر جو بائیڈن اور اُن کی پارٹی دی ڈیموکریٹس دونوں کے لیے سیاسی مضمرات ہو سکتے ہیں۔ امریکا میں نومبر کے وسط مدتی پارلیمانی انتخابات میں افراط زر ایک اہم مسئلہ ہو سکتا ہے۔