Baaghi TV

Tag: افسران

  • پاک فضائیہ کے 7 ائیر آفیسرز کی ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی

    پاک فضائیہ کے 7 ائیر آفیسرز کی ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی

    پاک فضائیہ کے 07 ائیر آفیسرز کی ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی۔

    15 اگست 2022 : حکومت پاکستان نے پاک فضائیہ کے 07 ائیر آفیسرز کو ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی۔ ترقی پانے والے ایئر آفیسرز میں ایئر وائس مارشل فاروق ضمیر آفریدی، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد، ایئر وائس مارشل تیمور اقبال، ایئر وائس مارشل حاکم رضا، ایئر وائس مارشل طارق محمود غازی، ایئر وائس مارشل محسن محمود اور ایئر وائس مارشل طاہر محمود شامل ہیں۔

    ایئر وائس مارشل فاروق ضمیر آفریدی نے دسمبر،1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے فائٹر اور آپریشنل کنورژن یونٹس، فلائنگ ونگ اور ایک آپریشنل ایئر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں اسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (آپریشنل ریکوائرمنٹس اینڈ ڈویلپمنٹ) بھی تعینات رہے۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا اور پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازے جا چکے ہیں۔

    ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران آپ نے فائٹر اسکواڈرن اور ایک آپریشنل ائیر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطور اسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (آپریشنل ریکوائرمنٹس اینڈ ڈویلپمنٹ) بھی تعینات رہے۔ آپ نے چین سے ملٹری آرٹس اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ آپ ڈیپوٹیشن پر سعودی عرب میں بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ائیر وائس مارشل تیمور اقبال نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے فائٹر اسکواڈرن، فلائنگ ونگ اور ایک آپریشنل ائیر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ آپ ڈیپوٹیشن پر قطر میں بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ائیر وائس مارشل حاکم رضا نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کے دوران آپ نے فائٹر اسکواڈرن اور ایک آپریشنل ائیر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ڈپٹی چیف پراجیکٹ ڈائریکٹر جے ایف۔17 اور سربراہ پاک فضائیہ کے  سیکرٹری کی حیثیت سے  بھی اپنی خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیزمیں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں بطور ڈائریکٹنگ اسٹاف بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ایئر وائس مارشل طارق محمود غازی نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے فائٹر اسکواڈرن، فلائنگ ونگ اور ایک آپریشنل ایئر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ نےائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطور اسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (آپریشنل ریکوائرمنٹس اینڈ ڈیولپمنٹ) اور ڈائریکٹر (جنرل ڈیوٹیز گروپ) بھی اپنی خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے امریکہ سے اسٹریٹجک سیکیورٹی اسٹڈیز، برطانیہ سے ڈیفنس اسٹڈیز اور پی اے ایف ائیر وار کالج انسٹیٹیوٹ سے اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ائیر وائس مارشل محسن محمود نے جون 1992 میں پاک فضائیہ کی انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران آپ نے انجینئرنگ ونگ کی کمانڈ کی۔ آپ ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطور اسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (ریڈار انجینئرنگ) بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آپ ایئر وار کالج انسٹی ٹیوٹ، فیصل سے فارغ التحصیل ہیں اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔ آپ نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطور ڈائریکٹر جنرل ایویونکس اینڈ ویپنز (انجینئرنگ) بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ائیر وائس مارشل طاہر محمود نے اپریل 1992 میں پاک فضائیہ کی ائیر ڈیفنس برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے چار ائیر ڈیفنس یونٹس کی کمانڈ کی۔ آپ ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطوراسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن) بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ آپ پاک فضائیہ کے نارتھ سیکٹر میں بطور سیکٹر کمانڈر بھی تعینات رہے۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

    @MumtaazAwan

  • ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس،31افسران کی 21سے گریڈ 22میں ترقی کی منظوری

    ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس،31افسران کی 21سے گریڈ 22میں ترقی کی منظوری

    اسلام آباد:وزیر اعظم کی زیر صدارت ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس،کسٹم سروسز گروپ ،ایڈمنسٹریٹو سروس گروپ، فارن سروس گروپ، ان لینڈ ریونیواور انفارمیشن گروپ سمیت دیگر گروپس کے متعدد افسران کو گریڈ 21سے گریڈ 22میں ترقی دیدی گئی ہے ۔

    ترقی پانے والوں میں ایڈمسٹریٹو گروپ کے 18،فارن گروپ کے 3، کسٹم سروس گروپ کے 2، ان لینڈ ریونیو گروپ کے 3، پاکستان ریلوے ، انفارمیشن گروپ ، کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ ،ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس گروپ اور انٹیلیجنس گروپ کا ایک ایک افسر ترقی پانے والوں میں شامل ہے گریڈ 22میں ترقی پانے والوں میں ایڈمنسٹریٹو سروس گروپ کے ڈاکٹر راشد منصور ،سید توقیر حسین شاہ ،عصمت طاہرہ ،بشرہ عمان،ذولفقار حیدر خان، نویدالادین،حامد یقوب، افتخار علی ،سید ظفر علی شاہ ودیگر شامل ہیں۔

     

    ادھرصدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی کو عہدے سے ہٹا دیا۔

    صدارتی نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت نے نیاز اللہ نیازی کی جگہ جہانگیر جدون ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد مقرر کردیا گیا ہے اور ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیازاللہ نیازی نے شہباز شریف کو وزیراعظم تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھاکہ میرے وزیراعظم عمران خان ہیں، مجھےکسی سے ہدایات لینےکی ضرورت نہیں

  • پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے مقرر کردہ 19 افسران کو فارغ کردیا

    پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے مقرر کردہ 19 افسران کو فارغ کردیا

    پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے مقرر کردہ 19 افسرانافسران کو فارغ کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سےافسران کو فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انیس علی ہاشمی، عمیرخان نیازی، نادر منظوردوگل کو عہدوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فیاض مہر، رائے شاہد سلیم، صفدر حیات، شکیل احمد، فیاض بسرا، مدثر وڑائچ، منظور احمد وڑائچ، ارسلان خان، مختار احمد، سکندراعظم، فرحت مجید، ملک جاویدعلی ڈوگر اور ایوب بزدار کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق عہدوں سے فارغ ہونے والوں میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شاہد ریاض، حاجی دلبرخان اور ملک آصف حسین بھی شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحریک انصاف کا ردعمل

    قبل ازیں ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ عثمان بزدار بطورایکٹنگ وزیراعلیٰ بحال ہوچکےہیں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سےمتعلق صدارتی ریفرنس پر عدالتی رائےکےبعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی کے منحرف 25 اراکین کو فارغ کر دیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحریک انصاف کا ردعمل

    ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے الیکشن کے ذریعے دوبارہ انتخاب ہو گا، فیصلہ صدارتی ریفرنس پر ہی نہیں 184 تین اور 186 کے تحت پڑھا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کا سنہرا ترین دن ہے کہ آئین کو بحال کر دیا گیا جبکہ ووٹ بیچنے والوں کا راستہ ہمیشہ لے لیے روک دیا گیا منحرف اراکین کا ووٹ نہیں گنا جائے گا،حمزہ شہباز اکثریت کھو چکے ہیں۔

    وزیراعظم کی زیرصدارت اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس جاری

  • ضلعی انتظامیہ لاہور کے افسران کی متحرک كارواہياں

    ضلعی انتظامیہ لاہور کے افسران کی متحرک كارواہياں

    ضلعی انتظامیہ لاہور کے افسران متحرک ہو گئے اور اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان نصر اللہ رانجھا کی کاروائیاں جاری.05 منی پٹرول مشینوں کو ضبط کر لیا گیا. نیز نصرت روڈ بہار کالونی میں کارروائیاں کی گئیں.
    اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان نصر اللہ رانجھا کا لینڈ ریکارڈ سنٹر ماڈل ٹاؤن کا بھی دورہ جس میں انتظامات کا جائزہ لیا گیا. ملازمین کی حاضری کو چیک کیا گیا.
    ایک ایس سی او ڈیوٹی سے غیر حاضر، جواب طلبی کر لی گئی. انتقال اراضی کیسز اور زیر التوا کیسز کا جائزہ لیا گیا. اے ڈی ایل آر اور انچارج کو زیر التوا 122 انتقال اراضی کیسز کو فوری نمٹانے کی ہدایات جاری کیں. اے ڈی ایل آر کو 13 کھیوٹ کیسز کو بھی 02 دن میں نمٹانے کی ہدایت کی. لینڈ ریکارڈ سنٹر میں آئے ہوئے سائلین سے بھی بات چیت کی. سنٹر میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا. سنٹر انتظامیہ کو سائلین کے مسائل کو فوری حل کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں.
    ڈی سی لاہور مدثر ریاض کی ہدایت پر انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے دورہ کیا گیا ہے.

  • سکھر آئی جی موٹر وے ڈاکٹر سید کلیم امام نے  موٹر وے پولیس کے افسران کو سراہا

    سکھر آئی جی موٹر وے ڈاکٹر سید کلیم امام نے موٹر وے پولیس کے افسران کو سراہا

    موٹر وے پولیس سکھر سیکٹر
    مورخہ5 فروری 2021: سکھر آئی جی موٹر وے ڈاکٹر سید کلیم امام نے کہا ہے کہ موٹر وے پولیس کے افسران رول ماڈل ہیں، خوشی اخلاقی کا دامن نہ چھوڑیں اور اپنے پیشہ ورانہ امور کو محکمے کی مزید نیک نامی کے لئے استعمال کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گھوٹکی میں منعقدہ این فائیو اور ایم فائیو کے مشترکہ اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی موٹر وے ڈاکٹر مسرور عالم کولاچی، ایس پی موٹر وے این فائیو سکھر سیکٹر زاہد نذیر وریاہ اور ایس پی ایم فائیو گڈو غلام قادر سندھو سمیت موٹر وے کے ڈی ایس پیز اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ آئی جی موٹر وے کلیم امام کاکہنا تھا کہ موٹر وے پولیس کے افسران و جوان خوشی اخلاقی کے دامن کو مزید مضبوطی سے تھامتے ہوئے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں، کیونکہ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں موٹر وے پولیس کے محکمے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ موٹر وے پولیس نیشنل ہائی وے ہو یا موٹر وے پر دوران سفر تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہونے والے مسافروں کی بروقت مدد کرتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ موٹر وے پولیس اپنے محدود وسائل کے باوجود بہتر کام سرانجام دے رہی ہے، جس کا اندازہ مسافروں اور ٹرانسپورٹر حضرات کی جانب سے اظہار تشکر کے موصول ہونے والے پیغامات سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ایم فائیو ڈاکٹر مسرور عالم کولاچی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی موٹر وے کلیم امام کے انتہائی مشکور ہیں کہ انہوں نے اپنے مصروف ترین شیڈول سے ایم فائیو اور این فائیو کے مشترکہ اجلاس عام میں شرکت کرتے ہوئے افسران و جوانوں کا حوصلہ بلند کیا۔ اجلاس میں ایم فائیو کے ایس پی غلام قادر سندھو اور ایس پی این فائیو زاہد نذیر وریاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں سیکٹرز میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے افسران و جوان آئی جی موٹر وے کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتے ہوئے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں، خصوصاً روڈ حادثات میں کمی کے لئے کوشاں ہیں اور محکمہ کی نیک نامی کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں محکمہ موٹر وے پولیس اپنی نمایاں حیثیت حاصل کرتا جارہا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر آئی جی موٹر وے کلیم امام اور ڈی آئی جی موٹر وے ڈاکٹر مسرور عالم کولاچی نے بہتر کارکردگی دکھانے والے این فائیو سیکٹر کمانڈر و دیگر کمانڈرز اور افسران کو تحائف بھی دیے۔

  • ُپنجاب پولیس میں اہم تقرروتبادلے، تفصیل جاری

    ُپنجاب پولیس میں اہم تقرروتبادلے، تفصیل جاری

    آئی جی پنجاب نے 7 افسران کے تقرروتبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں- ان کی تفصیل درج ذیل ہیں:

    تعیناتی کے منتظر عبدلروف بابر کو ایس ایس پی انویسٹیگیشن گجرانوالہ تعینات کر دیا گیا-

    ایس ایس پی آر آئی بی فیصل آباد گلفام ناصر کو ایس پی پٹرولنگ فیصل آباد تعینات کر دیا گیا-

    ڈپٹی ڈائریکٹر مانیٹرنگ ایلیٹ فورس پنجاب محمد اکمل کو ایس پی انویسٹیگیشن ساہیوال تعینات کر دیا گیا –

    ایس پی انویسٹیگیشن ساہیوال شاہدہ نورین کو ایس پی انویسٹیگیشن پاکپتن تعینات کر دیا گیا –

    تعیناتی کے منتظر عمران احمد ملک کو ایڈیشنل ایس پی ہیڈکواٹر لاہور تعینات کر دیا گیا-

    اے آئی جی ٹریننگ تنویز احمد طاہر کو ایس پی پی ٹی ایس فاروق آباد تعینات کر دیا گیا –

    ایڈیشنل ایس پی راول ٹاون راولپنڈی کیپٹن ر مظہر اقبال کو سی ٹی او راولپنڈی تعینات کر دیا گیا –

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین