وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت کی وزارت خارجہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے الزامات کو ’نامعقول، غیر ضروری اور شرمناک حد تک منافقانہ‘ قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت کی وزارت خارجہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معاون مراکز کے خلاف کیے گئے قانونی اور ہدف شدہ اقدامات بالکل جائز ہیں،بھارت کی افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان شامل ہیں، کی سرگرمیوں کی حمایت اور سرپرستی اچھی طرح جانی جاتی ہے، پاکستان کی کارروائی کے نتیجے میں ان کے دہشتگرد نیٹ ورک کی تباہی پر بھارت کی مایوسی بالکل سمجھ میں آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بار بار خلاف ورزی کرتا رہا ہے، اور کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت اپنے اقلیتوں کو حاشیے پر رکھتا ہے، اسلاموفوبیا پھیلاتا ہے اور پانی کے وسائل کو بھی اپنے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے بھارت نہ صرف افغانستان میں رکاوٹ ڈال رہا ہے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے،بھارت ایسے بیانات دینے کی کسی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کو ہوا دینے سے باز رہے۔
قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ
پاکستان کی پالیسی کے حوالے سے وزرات کارجہ کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودی کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام مناسب اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی اور 249 چیک پوسٹیں تباہ



