Baaghi TV

Tag: افغانستان کی طالبان حکومت

  • طالبان حکومت کا دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے کا اعلان،فوری تعمیر کی ہدایت

    طالبان حکومت کا دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے کا اعلان،فوری تعمیر کی ہدایت

    افغانستان کی طالبان حکومت نے چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے اور وزارتِ توانائی کو منصوبہ فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کے وزیر توانائی و آب عبداللطیف منصور نے بتایا کہ رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے وزارت کو حکم دیا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کا انتظار کیے بغیر مقامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کر کے ڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا جائے۔عبداللطیف منصور کے مطابق ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا ہے کہ "افغان عوام کو اپنے پانیوں کا نظم و نسق خود کرنے کا حق حاصل ہے۔”دریائے کنڑ، جو افغانستان کے پانچ بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے، پاکستان کے ضلع چترال سے نکلتا ہے، تقریباً 482 کلومیٹر افغانستان کے صوبہ کنڑ سے گزرتا ہے اور دریائے کابل میں شامل ہونے کے بعد دوبارہ پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔

    دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم ایک عرصے سے حساس اور غیر طے شدہ مسئلہ ہے کیونکہ دونوں کے درمیان کوئی باضابطہ آبی معاہدہ موجود نہیں، اور پانی کی تقسیم تاحال روایتی طریقوں سے کی جاتی ہے.

    پاکستان اور پولینڈ کا دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق، مشترکہ اعلامیہ جاری

    کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا

    پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے پروازیں پانچ سال بعد بحال

    جنرل ساحر شمشاد کا مالدیپ کا سرکاری دورہ، عسکری تعلقات کے فروغ پر اتفاق

  • افغانستان ،طالبان نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز بند کر دیں

    افغانستان ،طالبان نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز بند کر دیں

    افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز بند کر دی ہیں، جس سے قومی سطح پر رابطے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

    عالمی تنظیم نیٹ بلاکس کے مطابق افغانستان میں بڑے پیمانے پر ٹیلی کمیونی کیشن بلیک آؤٹ نافذ کیا گیا ہے اور انٹرنیٹ رسائی صرف 14 فیصد تک محدود رہ گئی ہے، جو بظاہر ایک منظم اور جان بوجھ کر کی گئی بندش ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے کابل بیورو کے مطابق شام 6 بج کر 15 منٹ کے قریب مواصلاتی رابطے مکمل طور پر منقطع ہو گئے اور موبائل فون سروس بھی بند ہوگئی۔

    رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت نے رواں ماہ انٹرنیٹ پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا، جس کے تحت مختلف صوبوں میں فائبر آپٹک کنکشنز کاٹ دیے گئے۔ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر صوبہ بلخ میں بھی انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔صوبہ بلخ کے ترجمان عطا اللہ زید نے 16 ستمبر کو سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ یہ اقدام "برائی کی روک تھام” کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت متبادل ذرائع سے عوام کی بنیادی مواصلاتی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    بھاگی نہیں،میں نے شادی کر لی،نویں کلاس کی طالبہ کا عدالت میں اعتراف