Baaghi TV

Tag: افغان خواتین

  • افغان خواتین کی سیاسی پناہ سے متعلق یورپی عدالت نے  فیصلہ سنا دیا

    افغان خواتین کی سیاسی پناہ سے متعلق یورپی عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    یورپی یونین کی اعلی عدالت نے افغان خواتین کو سیاسی پناہ دینے سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا۔

    غیر ملکی میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا ہے کہ افغان خواتین کو سیاسی پناہ دینے کے لیے صرف جنس اور قومیت ہی کافی ہے۔ای سی جے نے فیصلہ سنایا کہ طالبان کی طرف سے خواتین کے خلاف اختیار کیے گئے امتیازی اقدامات ظلم کی کارروائیاں ہیں جو کہ پناہ گزینوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے کا جواز ہیں۔سویڈن، فن لینڈ اور ڈنمارک پہلے ہی سیاسی پناہ حاصل کرنے والی تمام افغان خواتین کو پناہ گزین کا درجہ دے چکے ہیں۔یہ فیصلہ آسٹریا کی جانب سے 2015 اور 2020 میں پناہ کی درخواست دینے کے بعد دو افغان خواتین کی پناہ گزین کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد آیا ،دونوں خواتین نے انکار کو آسٹریا کی سپریم ایڈمنسٹریٹو کورٹ کے سامنے چیلنج کیا جس نے پھر ای سی جی سے فیصلہ طلب کیا تھا۔ای سی جے کیس کی دستاویز میں کہا گیا کہ ایف این نے عدالت کو بتایا کہ اگر ایک خاتون کے طور پر انہیں افغانستان ڈی پورٹ کیا جاتا ہے تو انہیں اغوا کا خطرہ لاحق ہو جائے گا، وہ اسکول جانے سے قاصر ہوں گی اور شاید وہ اپنی کفالت کرنے سے قاصر ہوں گی۔

    کراچی میں منوڑا کے ساحل پر دو خواتین سمیت چار افراد ڈوب گئے

    پاکستانی ٹیم کا بدترین شکست کا باعث بننے والی بیٹنگ لائن کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • افغان خواتین پر اسپورٹس پابندی کے خلاف آواز اٹھنے لگی

    افغان خواتین پر اسپورٹس پابندی کے خلاف آواز اٹھنے لگی

    انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی میں افغان خواتین پر اسپورٹس پابندی کے خلاف آواز اٹھنے لگی ،عالمی باڈی نے کھیلوں میں حکومتی مداخلت بند نہ کرنے پر معطلی کی دھمکی دے دی ۔
    جنیوا میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے ایگزیکٹیو اجلاس میں افغانستان کا مسئلے پر بات ہوئی ، پیرس میں شیڈول آئندہ سال اولمپک گیمز میں افغانستان کی شرکت کے حوالے سے حکام نے تحفظات کا اظہار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خواتین کو کھیلوں سے روکا جاتا ہے اور اسپورٹس میں یہ حکومتی مداخلت کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر اس بے ضابطگی کو نہ روکا گیا تو افغان اولمپک کو معطل بھی کیا جا سکتا ہے،

  • افغان طالبان نےخواتین پر پابندیوں کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد مسترد کردی

    افغان طالبان نےخواتین پر پابندیوں کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد مسترد کردی

    افغان طالبان نےخواتین پر پابندیوں کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: اپنے بیان میں افغان طالبان نے کہا کہ خواتین پر پابندی کو افغانستان کا اندرونی سماجی مسئلہ سمجھتے ہیں جس کا بیرونی ممالک پر کوئی اثر نہیں۔

    جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر

    خیال رہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد میں افغان خواتین کے حقوق کیخلاف پابندیاں جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    سلامتی کونسل میں افغان خواتین پر عائد پابندی کیخلاف قرار داد متحدہ عرب امارات اور جاپان نے پیش کی تھی قرارداد میں کہا گیا ہےکہ طالبان کے یہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کو کمزور بنارہے ہیں جب کہ قرارداد میں افغان سوسائٹی میں خواتین کے کردار کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ میں یو اے ای کے سفیر نے اس حوالے سے کہا کہ 90 سے زائد ممالک نے ہماری قرارداد کی حمایت کی ہے جس میں افغانستان کے انتہائی قریب پڑوسیوں سمیت مسلم ممالک اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

    ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ آڈیو لیک،مریم کا ردعمل سامنے آ گیا

    انہوں نے کہا کہ یہ چیز ہمارے بنیادی پیغام کو مزید اہمیت دیتی ہے کہ دنیا افغانستان میں خواتین کے کردار کو ختم کرنے پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔

    یاد رہے سال 2021 میں مغربی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے طالبان نے عوامی زندگی تک خواتین کی رسائی پر بھی کنٹرول سخت کر دیا ہے، جس میں خواتین کو یونیورسٹی جانے سے روکنا اور لڑکیوں کے ہائی اسکول بند کرنا شامل ہیں۔

    طالبان نے دسمبر میں انسانی ہمدردی سے متعلق امدادی گروپوں کے لیے کام کرنے والی زیادہ تر خواتین کو کام سے روکنے کے بعد، اس ماہ کے شروع میں اقوامِ متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر بھی پابندی کا نفاذ شروع کر دیا تھا۔

    حارث سہیل نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر

    طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، جس کی وہ ایک سخت تشریح کرتے ہیں۔ طالبان حکام نے کہا ہے کہ خواتین کارکنوں کے بارے میں فیصلے ان کے ‘اندرونی معاملے’ ہیں۔

  • افغانستان،خواتین کی تعلیم پرپابندی،بلاول اورعرب امارات کے وزیر خارجہ کا رابطہ

    افغانستان،خواتین کی تعلیم پرپابندی،بلاول اورعرب امارات کے وزیر خارجہ کا رابطہ

    وزیرخارجہ بلاول زرداری سے متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے
    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان کی یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے پرتبادلہ خیال کیا،دونوں وزرائے خارجہ نے زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی مکمل اور مساوی شرکت کی اہمیت پرزوردیا، دونوں رہنماوں نے افغانستان میں سلامتی،استحکام اورامن کی حمایت میں اپنے مضبوط موقف پر زوردیا،رہنماؤں نے گفتگو میں کہا کہ اسلام وہ پہلامذہب ہے‌‌ جس‌ نے‌خواتین کو حقوق دیے اور اسلام نے تعلیم خواتین سمیت سب کے لیے اہم قرار دی

    دوسری جانب یواین سیکریٹری جنرل نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے حصول پر پابندی پر اظہار تشویش کیا، یواین سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ افغان لڑکیوں کے جامعات جانے پر پابندی سے انتہائی صدمہ ہوا، افغانستان میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پرپابندی مساوی حقوق کی خلاف ورزی ہے،خواتین کی تعلیم پر پابندی سے افغانستان کے مستقبل پر تباہ کن اثرات ہوں گے،طالبان حکام پر زور دیتا ہوں کہ وہ سب کے لیے تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنائیں

    علاوہ ازیں سعودی عرب اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے طالبان سے کابل میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پرعائد پابندی کا فیصلہ واپس لینے پر زور دیا ہے سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس فیصلے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام مسلم ممالک کو بھی اس پرحیرت ہے یہ فیصلہ افغان خواتین کے جائز شرعی حقوق کے بھی منافی ہے ان حقوق میں تعلیم کا حق سرفہرست ہے جس کی بدولت خواتین اپنے ملک اورعوام کی خوشحالی، ترقی اور امن و استحکام میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں

    او آئی سی نے بھی افغان خواتین پر یونیورسٹیوں کے دروازے بند کرنے پرافغان حکومت کی مذمت کی ہے ،او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے ایک بیان میں افغان خواتین پر یونیورسٹیوں کے دروازے غیر معینہ مدت تک بند کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افغان حکومت کے فیصلے پر اسلامی تعاون تنظیم کو تشویش ہے، سیکرٹری جنرل اوران کے ایلچی برائے افغانستان کئی بار افغان حکام کو اس جیسے فیصلوں کے نتائج سے خبردار کر چکے ہیں۔

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    بھارت امن چاہتا ہے تو کشمیریوں پر مظالم بند کرے،قریشی کی نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

  • ملالہ دنیا بھر کی خواتین اور بچیوں کے لئے مشعل راہ ہیں، امریکی وزیر خارجہ

    ملالہ دنیا بھر کی خواتین اور بچیوں کے لئے مشعل راہ ہیں، امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی دنیا بھر کی خواتین اور بچیوں کے لئے مشعل راہ ہیں، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے ملالہ کے خیالات سے متاثر ہوں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد افغان خواتین کے حقوق کے لیے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن سے خصوصی ملاقات کی جس میں ملالہ نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے حق کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا ہے۔

    ترک صدر طیب اردگان پر قاتلانہ حملہ ناکام بنادیا گیا

    ملالہ یوسف زئی نے بتایا کہ افغان لڑکیاں اس وقت کالج یونیورسٹی سطح کی تعلیم سے محروم ہیں وہ تعلیم کے لیے افغان لڑکیوں اور سماجی کارکنان کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ان سب کا یہی کہنا ہے کہ ملازمت اور تعلیم ان کا بنیادی حق ہے۔


    امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں ملالہ نے 15 سالہ افغان لڑکی کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا گیا تھا کہ جتنا لمبے عرصے تک تعلیمی اداروں کے دروازے خواتین پر بند رہیں گے، ایک بہتر مستقبل کی ہماری امیدیں اتنی ہی دم توڑتی جائیں گی امن اور استحکام کے لئے بچیوں کی تعلیم لازم و ملزوم ہے خواتین کے تعلیم جاری نہ رکھنے کا اثر افغانستان پر بھی پڑے گا۔ بطور ایک انسان میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے انسان کی طرح میرے بھی حقوق ہیں۔

    عالمی بینک نے افغانستان کو بڑی خوشخبری سُنا دی

    ملالہ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ افغان بچیوں کو تعلیم کے حق سے محروم نہیں ہونے دیں گے، ملالہ نے افغان اساتذہ کی تنخواہوں کا فوراً بندوبست کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    ملاقات سے پہلے امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے صحافیوں کے سامنے ملالہ یوسفزئی کو خوش آمدید کہتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ان کے کام کو قابل تقلید قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور صدر بائیڈن کے لئے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اہم معاملہ ہے اور ملالہ جس طرح اپنے کام سے تبدیلی لا رہی ہیں اور نوجوان لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لئے راہ ہموار کر رہی ہیں وہ مشعلِ راہ ہے۔

    یو این جنرل اسمبلی میں افغان نشست نہ ملنے پر طالبان کا ردعمل