Baaghi TV

Tag: افغان سرزمین

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • افغان سرزمین پر شدت پسندوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، کیتھی گینن

    افغان سرزمین پر شدت پسندوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، کیتھی گینن

    سینئر صحافی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی افغانستان اور پاکستان کے لیے نیوز ڈائریکٹر کیتھی گینن نے کہا ہے کہ افغان علاقے میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی خطے کی سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹیڈیز (آئی آر ایس) کے تحت اسلام آباد میں منعقدہ تقریب ’جیوپولیٹیکل شفٹس اینڈ سیکیورٹی چینلجز‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیتھی گینن نے کہا کہ ممکن ہے کہ افغانستان یہ نہ چاہتا ہو کہ شدت پسند گروہ اُس کی زمین استعمال کریں، لیکن اس کے باوجود وہ گروہ وہاں اب بھی موجود ہیں۔یاد رہے کہ کیتھی گینن 2014 میں افغانستان میں رپورٹنگ کے دوران زخمی ہوئی تھیں۔

    پریس ریلیز کے مطابق کیتھی گینن نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ برابری اور شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام آباد کو اپنے اندرونی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ایک مؤثر اور طویل مدتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔

    کیتھی گینن کا کہنا تھا کہ چین کے افغانستان میں قدرتی وسائل پر اثر و رسوخ کی وجہ سے افغانستان اب بھی امریکی پالیسی سازوں کی نظر میں اہمیت رکھتا ہے۔اسی موقع پر پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ’جڑواں بھائیوں‘ کی مانند ہیں، جو ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کو تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سی پیک میں شمولیت دونوں ممالک کے سفارتی روابط میں بہتری کی علامت ہے۔

    آصف درانی نے مزید کہا کہ پاکستان، افغانستان اور چین کے حالیہ سہ فریقی مذاکرات میں دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق ہوا، اور سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔پریس ریلیز کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے کہا کہ تمام چیلنجوں کے باوجود، خطے کی جغرافیائی سیاست اور مشترکہ مفادات نے دونوں ممالک کو دوبارہ قریب کیا ہے اور تعاون پر مجبور کیا ہے۔آئی آر ایس کے افغانستان پروگرام کے سربراہ آرش خان نے کہا کہ اگرچہ طالبان تنظیمی ڈھانچے، خواتین کی تعلیم اور بنیادی حقوق کے حوالے سے عالمی مطالبات کو تسلیم نہیں کر رہے، لیکن اس کے باوجود وہ چین، روس، پاکستان اور اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

    آرش خان نے مزید کہا کہ افغان عبوری حکومت نے حالیہ دنوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف عملی اقدامات کیے ہیں۔پاکستان کے سابق سفیر برائے افغانستان ابرار حسین نے تقریب میں کہا کہ اس وقت پاکستان کی اولین ترجیح افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کا قیام ہے۔

    خواجہ سعد رفیق کی طبیعت اچانک ناساز، اسپتال منتقل

    بلال بن ثاقب کی اہم امریکی سیاستدانوں اور ماہرین معیشت سے ملاقا تیں

  • آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی،آئی جی آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی،آئی جی آزاد کشمیر

    مظفر آباد: آئی جی آزاد کشمیر رانا عبدالجبار نے کہا ہےکہ آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی،دہشتگرد زرنوش آزاد کشمیر میں خوارج کا ٹھکانہ بنارہا تھا-

    مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے کہا کہ گزشتہ روز دہشتگردوں کی موجودگی اطلاع پر پولیس نے حسین کوٹ میں کارروائی کی جس دوران دہشتگردوں نے پولیس پر دستی بم اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

    آئی جی رانا عبدالجبار نے بتایا کہ مقابلے میں فتنہ الخوارج کے مقامی سربراہ زرنوش سمیت 4 دہشتگرد مارے گئے جب کہ مقابلے میں پولیس کے 2 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے،وزیراعظم آزاد کشمیر نے شہید اہل کاروں کے ورثا کےلیے فی کس ایک کروڑ روپے جب کہ زخمی اہلکاروں کو 20، 20 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

    چھکا کھانے کے بعد بولر کا بیٹر پر دھاوا، ویڈیو وائرل

    آئی جی رانا عبدالجبار نے مزید بتایا کہ دہشتگرد زرنوش آزاد کشمیر میں خوارج کا ٹھکانہ بنارہا تھا، افغانستان فرار ہونے والے دہشتگرد ڈاکٹر عبدا لرؤف اورغازی شہزاد دشمن ملک کی پراکسیز بنے ہوئے ہیں، آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی، حکومت پاکستان کے ذریعےافغانستان کی حکومت کو شواہد مہیا کریں گے۔

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان