Baaghi TV

Tag: افغان مہاجرین

  • غیر قانونی افغان باشندوں کی افغانستان واپسی کا سلسلہ جاری

    غیر قانونی افغان باشندوں کی افغانستان واپسی کا سلسلہ جاری

    پاکستان میں موجود غیر قانونی افغان باشندوں کی افغانستان واپسی کا سلسلہ جاری ہے، اس ضمن میں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ کراسنگ پوائنٹس پر سہولت کیلئے خواتین اور بچوں کو بائیو میٹرک سے استثنیٰ حاصل ہوگا

    نگران وزیرداخلہ سرفراز بگٹی سے افغان ناظم الامور سردار احمد شکیب نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ امور اور افغان شہریوں کی اپنے وطن واپسی کے حوالے سے گفتگو کی گئی،ملاقات کے دوران نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیرقانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور ہدایت کی ہے کہ وطن واپس جانے والوں کے ساتھ انتہائی عزت و احترام کے ساتھ پیش آیا جائے، پروف آف رجسٹریشن اور افغان اسٹیشن کارڈ کے حامل افراد کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی اور اس سلسلے میں کسی کوتاہی اور بدتمیزی کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گی.

    دوسری جانب افغانستان حکومت کا بھی اس حوالہ سے ردعمل سامنے آیا ہے، افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالسلام حنفی نے افغان مہاجرین کی پاکستان سے بے دخلی کو عالمی قوانین کے خلاف قرار دیا ، ملا عبدالسلام حنفی نے طور خم بارڈر کا دورہ کیا اور افغان مہاجرین کی صورتحال کا جائزہ لیا،اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی بے دخلی عالمی قوانین اور اصولوں کے خلاف ہے، موجودہ افغان حکومت پاکستان سے آنے والے مہاجرین کے چیلنجز کو حل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے،واپس آنے والے ہمارے بھائی بہن ہیں یہ ان کا گھر ہے.

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے مجموعی طور پر 85 غیر ملکیوں کو بارڈر پار منتقل کر دیا گیاگزشتہ روز 64 جبکہ آج 19 غیر ملکیوں کو افغانستان واپس بھیجا گیا،امیگریشن کے لیے ایف آئی اے اہلکاروں کو بھی ہولڈنگ سینٹر میں تعینات کر دیا گیا،سی ٹی ڈی کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کو آج سے ہولڈنگ سینٹر منتقل کیا جائے گا

    دوسری جانب افغانستان کے شہریوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، درخواست ایڈووکیٹ عزت فاطمہ کی جانب سے دائر کی گئی،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ سمیت دیگر کو فریقین بنایا گیا ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ افغانستان کے شہریوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ آئین پاکستان کے خلاف ہےعرصہ دراز سے مقیم افغانیوں کو ایک نوٹفکیشن کے ذریعے ملک بدر نہیں کیا جاسکتا،عدالت افغانیوں کو ملک بدر کرنے کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے

  • افغان مہاجرین کے انخلا سے متعلق تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی،وزیر داخلہ

    افغان مہاجرین کے انخلا سے متعلق تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی،وزیر داخلہ

    افغان مہاجرین کے انخلاء میں دو روز باقی،حکومت نے ایکشن پلان مرتب کرلیا
    نگران وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ افغان مہاجرین کے انخلا سے متعلق تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی،غیر قانونی غیر ملکی افراد کو واپس بھیجنے کی تیاری مکمل کرلی ہے،افغان مہاجرین کے انخلا سے متعلق جیو فیسنگ، اور جیو میپنگ مکمل کرلی ہے، ریاست نے ون ڈاکومنٹ رجیم کی پالیسی میں ہم پاسپورٹ اور ویزہ لیکر آنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں،اب لوگ ہمارے ملک میں ویزہ لیکر آئیں گےکسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ روزانہ بارہ سے پندرہُ ہزار افراد بغیر سفری دستاویزات سفر کریں،ون ڈاکومنٹ رجیم کے تحت کل قلعہ عبداللہ میں پاسپورٹ آفس کا افتتاح کر رہے ہیں،پاسپورٹ کے زریعے ویزہ لیکر ائے جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں،پاک ایران، افغان بارڈر پر کاروبار کا اپنا ایک طریقہ کار ہے ہم نے بلوچستان میں کاروبار نہیں سمگلنگ بند کی ہے،عام انتخابات سے متعلق سیکیورٹی کا بڑا چیلنج ہے مگر ریاست اس چیلنج کو نبردآزما ہوں گی،

    تارکین وطن کے انخلاء کے عمل کی نگرانی کے لئے کنٹرول روم قائم
    دوسری جانب کراچی سمیت سندھ بھر میں غیرقانونی مقیم تارکین وطن کے انخلاء کا معاملہ ،سندھ حکومت نے غیرقانونی مقیم تارکین وطن کے انخلاء کے عمل کی نگرانی کے لئے کنٹرول روم قائم کردیا ، کنٹرول روم محکمہ داخلہ سندھ کے دفتر میں قائم کر دیا گیا ، کراچی سمیت صوبے بھر میں غیرقانونی مقیم مہاجرین کے انخلاء کی نگرانی کنٹرول روم سے ہوگی ،31 اکتوبر سے 3 نومبر تک کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال رہے گا،افسران کی ڈیوٹی لگا دی گئی ،کراچی سمیت سندھ بھر میں کنٹرول روم سے امن و امان کی صورتحال کی بھی نگرانی ہوگی

    جمعہ اور ہفتہ پنجاب کو دیا گیا ہے، ان دنوں میں افغانیوں کو ڈی پورٹ کریں گے،عامر میر
    نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 31 اکتوبر کی غیر قانونی مقیم 99ہزار افراد میں سے 33 ہزار غیرقانونی ہیں،غیر قانونی افغانیوں کا تعین کر لیا گیا، پنجاب میں 36 مقامات پر ان کو رکھا جائے گا، یہ دیکھ رہے ہیں کس کو کس بارڈر سے روانہ کرنا ہے۔ ہر صوبہ اپنی اپنی ایکسر سائز کر رہا ہے، جمعہ اور ہفتہ پنجاب کو دیا گیا ہے، جو ان دنوں میں افغانیوں کو ڈی پورٹ کریں گے، غیر قانونی افغانیوں کی ٹرانسپورٹ وہی صوبہ کرے گا، صرف غیرقانونی اور شناخت نہ رکھنے والے افغانیوں کو ڈی پورٹ کیا جائے گا،ٹی او آر کارڈ رکھنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو گا،مہاجرین کی ہمیشہ میزبانی کی، اور کرتے رہیں گے،31 اکتوبر کے بعد رضاکارانہ جو فیملی واپس جانا چاہے تو اسے اجازت ہو گی،دنیا بھر میں دستاویزات نہ رکھنے والوں کو ڈی پورٹ ہی کیا جاتا ہے،

    ایسی کوئی ریلیف نہیں دی جائیگی جس کا فائدہ دہشتگردوں کو ہو،جان اچکزئی
    بلوچستان کے نگران صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان سے تمام 13 لاکھ غیر ملکیوں کو نکالا جائیگا،غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو نکالنے کا فیصلہ آخری ہے،پوری قوت سے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کروائینگے،غیر قانونی مطالبے کسی صورت قبول نہیں،ایسی کوئی ریلیف نہیں دی جائیگی جس کا فائدہ دہشتگردوں کو ہو،تمام غیر قانونی باشندوں کورہائش دینے والوں کیخلاف بھی کارروائی ہوگی،حاجی کیمپ کوئٹہ کو غیر قانونی تارکین وطن کیلئے ہولڈنگ سینٹر بنایا گیا ہے، ضرورت پڑنے پر مزید ہولڈنگ سینٹر قائم کئے جائینگے،کسی کا کوئی غیر قانونی مطالبہ قبول نہیں،سندھ اور پنجاب سے آنیوالے غیر قانونی تارکین وطن کو چمن سے بھیجا جائیگا،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

    واضح رہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلا اور غیر قانونی غیر ملکی افراد کی تجارت اور پراپرٹی کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، غیر ملکی جو پاکستان میں غیر قانونی رہ رہے ہیں انکو ڈیڈ لائن دی گئی ہے کہ وہ پاکستان چھوڑ دیں،

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

  • افغان مہاجرین کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے،محمود خان اچکزئی

    افغان مہاجرین کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے،محمود خان اچکزئی

    اسلام آباد: پاکستان بار کونسل نے غیرقانونی مقیم افراد کو ان کے ممالک میں واپس بھجوانے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کی ہے ،جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے ، کسی کے ساتھ زیادتی برادشت نہیں کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان بارکونسل نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف ایکشن خوش آئند ہے پاکستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا کہ غیرقانونی افغان شہری اور دیگر غیر ملکی افراد کو باعزت طریقے سے ان کے ممالک بھیجا جائے، پوری دنیا نےپاکستان کی افغان مہاجرین کی میزبانی کو سراہا،افغان مہاجرین نے پاکستانی شہریوں اور املاک کو نشانہ بنایا، افغان اور دیگر غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیئے تھا۔

    دوسری جانب وکئٹہ میں جلسے سے خطاب میں محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں آئین موجود ہے، کوئی بھی غیر قانونی رہائش اختیار نہیں کرسکتا افغان مہاجرین کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے، زیادتی برادشت نہیں کریں گے، اقوام متحدہ کے قوانین ہیں، پاکستان میں بھی قانون ہے، افغان مہاجرین کو بھی ہم نے آباد کیا ہے، کسی کی جائیداد ضبط نہیں ہونے دیں گے-

    ڈاکٹر امجدعلی خان ، یو سی اور تحصیل چیئرمین سمیت 8 پی ٹی آئی …

    سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کہا ک پاک افغان سرحد سے غیر قانونی اسمگلنگ ہورہی ہے، سرحدوں میں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو سب معلوم ہے کونسی اشیا اسمکلنگ ہورہی ہیں، قانونی اور غیرقانونی رہائش پذیر افراد کے لیے قوانین موجود ہیں بلاجواز رات کو کسی کے گھر میں گھسنے کی اجازت نہیں دیں گے-

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ جمہور یت کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے والے سیاسی رہنماؤں کو سرکاری سطح پر شہید قرار دیا جائےہمارے صوبے میں بلوچ پشتون سندھی اور پنجابی سمیت دیگر اقوام آباد ہیں، پنجابی سندھی اور بلوچ صوبے رکھتے ہیں ہمیں بھی صوبہ دیا جائے۔

    لوگوں کی زمین پر قبضہ کرنے والے گروہ کا سرغنہ سابقہ پولیس انسپکٹر ساتھی …

  • خیبرپختونخوا میں مقیم افغان مہاجرین کے اعداد و شمار جاری

    خیبرپختونخوا میں مقیم افغان مہاجرین کے اعداد و شمار جاری

    پشاور: خیبرپختونخوا میں مقیم افغان مہاجرین کے اعداد و شمار جاری کردیئے گئے۔

    باغی ٹی وی: دستاویز کے مطابق صوبے بھر میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 56 ہزار 720 افغان مقیم ہیں، بندوبستی اضلاع میں 2 لاکھ 85 ہزار 608 جب کہ 22 ہزار 39 افغان قبائلی اضلاع میں موجود ہیں،خیبر پختونخوا میں مقیم 6 لاکھ 48 ہزار 968 افغان مہاجرین کے پاس رجسٹریشن کارڈ موجود ہے جبکہ 105 افغان مہاجرین مساجد میں پیش امام ہیں-

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 3 ہزار 911 افغان مہاجرین کو مختلف جرائم میں گرفتار کیا گیا جب کہ 597 افغان نے غیر قانونی طور پر پاکستان کی قومی شناخت کارڈ بنانے کی بھی تصدیق کی جنہیں فوری منسوخ کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی رواں سال 1 لاکھ 16 ہزار 418 افغان کو ویزے جاری کئے گئے ہیں تاہم افغان مہاجرین کے کاروبار اور جائیداد سے متعلق کوئی مستند معلومات موجود نہیں ہیں۔

    لاہور: باپ نے اپنے ہی 4 بچوں کو نہر میں پھینک دیا

    واضح رہے کہ حکومت نے غیرقانونی مقیم غیر ملکی تارکین وطن کو 27 روز میں پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے،غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہےپاکستان میں تقریباً 17 لاکھ 30 ہزار افغان شہریوں کے پاس رہائشی دستاویزات نہیں،‍‍ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق 13 لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن رہائشی ہیں، 8 لاکھ 80 ہزار مہاجرین کو قانونی حیثیت فراہم نہیں کی گئی۔

    سانحہ 9 مئی کی منصوبہ بندی ایوان صدر میں ہوئی. محمود مولوی کا دعویٰ

    ایک انٹرویو میں آئی جی خیبر پختونخوا اختر حیات خان نے کہا ہے کہ صوبے میں ہونے والے خودکش حملوں میں 75 فیصد خودکش حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے تھا خودکش حملہ آوروں کے فنگر پرنٹس سے پتہ ان کے افغان شہری ہونے کا پتہ چلا ، علی مسجد، باڑہ، ہنگو، باجوڑ اور پولیس لائنز کے خودکش حملہ آور بھی افغانی تھے۔

    انہوں نے کہا کہ بھتے میں ملوث مقامی اور افغانی باشندوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پولیس کے اقدامات کی وجہ سے بھتے کی کالز میں کمی آئی ہے، بھتے کی کالز میں افغان سمز استعمال کی جاتی ہیں رواں سال بھتے کے 76 کیسز رپورٹ ہوئے، 49 کیسز کا سراغ لگایا گیا، چترال، مہمند اور باجوڑ سے بھتہ خور پکڑے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک گروہ سے گٹھ جوڑ میں ملوث 2 پولیس اہلکاروں کے ساتھ مجرموں والا سلوک کیا گیا، دونوں پولیس اہلکاروں پر مقدمات درج کر کے محکمۂ انسداد دہشتگردی کے حوالے کر دیا، ضم اضلاع میں سی ٹی ڈی کے دفاتر قائم کر کے ایس پی رینگ کے افسران بٹھا دیئے ہیں۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس پیر کو طلب

    وفاقی کابینہ کا اجلاس پیر کو طلب

    وزیراعظم کی جانب سے وفاقی کابینہ کا اجلاس پیر کو طلب کر لیا گیا

    اجلاس میں ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا،کابینہ کے اجلاس میں 9 نکاتی ایجنڈا زیر غور آئے گا ،افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت میں توسیع ایجنڈے کا حصہ ہے، افغان مہاجرین کی 2 سال کی توسیع 30 جون کو ختم ہو گئی ہے ،وزرات داخلہ نے افغان مہاجرین کے قیام میں 6 ماہ کی توسیع کی تجویز دے دی ،ایچ ای سی ترمیمی بل بھی وفاقی کابینہ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہے

    وفاقی کابینہ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بات چیت کی جائے گی، اجلاس میں آئی ایم ایف کے ساتھ قرض معاہدے کے حوالہ س بھی بات چیت ہو گی،اجلاس میں وزیراعظم دورہ پیرس کے حوالہ سے کابینہ کو بتائیں گے،

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

    دوسری جانب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین نور عالم خان نے کہا کہ یہ افغان مہاجرین کب تک ہمارے سر بٹھائے رکھیں گے,اقوام متحدہ کو لکھ دیں بہت ٹائم ہوگیا, ہر قسم کے جرائم میں یہ افغان مہاجرین ملوث ہیں, نور عالم خان نے سیکرٹری سیفران سے سوال کیا کہ یو این ایچ سی آر مدد کررہے ہیں ,اگر آپ ان لوگوں کو ایک خاص جگہ تک محدود رکھتے تو بہتر تھا,یہ پاکستان کیخلاف باتیں بھی کرتے ہیں, برجیس طاہر نے کہا کہ یہ افغان مہاجرین کا معاملہ نیا نہیں,ہمیں بتایا جائے مزید کتنے سال تک افغان مہاجرین یہاں پر رہیں گے ہر سال کتنی رقم ان ہر خرچ ہورہی ہے,

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    افضل دھانڈلہ نے کہا کہ اب تو غیر ملکی فوجیں چلی گئی ہیں ان کو یہاں پر رکھنے کی وجہ نہیں ہے, نور عالم خان نے کاہ کہ سیکرٹری صاحب ان کو کیمپس تک محدود کیوں نہیں کیا جاتا،یہ لوگ پاکستان مردہ باد کا نعرہ بھی لگاتے ہیں، نکوئی جاکر امریکہ میں نعرہ لگائے نا، سیکرٹری سیفران نے کہا کہ کیمپس کو اس لئے ختم کیا گیا کہ اگر کیمپ ختم ہو جائیں تو یہ لوگ چلے جائیں گے،ممبران کمیٹی کے تحفظات جائز ہیں ان پر کام کریں گے، نور عالم خان نے کہا کہ ان کو کیمپس تک محدود کریں،جو رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کو واپس بھیجیں،

  • یو این ایچ سی آر نے پاکستان میں 1.3 ملین افغان مہاجرین کی تصدیق کی۔

    یو این ایچ سی آر نے پاکستان میں 1.3 ملین افغان مہاجرین کی تصدیق کی۔

    اسلام آباد:حکومت پاکستان نے، اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یواین ایچ سی آر کے تعاون سے، پاکستان میں مقیم تقریباً 1.3 ملین رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تصدیق مکمل کرلی ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق دستاویزات کی تجدید اور معلومات کی تصدیق کا طریقہ کار جسے DRIVE کہا جاتا ہے، کا مقصد رجسٹریشن کا ثبوت کارڈ کی صورت میں رکھنے والے افغانوں کے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کرنا اور اس کی تصدیق کرنا تھا۔ یہ پروگرام صوبوں اور سرحدی علاقوں کی وزارت (SAFRON)، چیف کمشنریٹ کمشنر برائے افغان مہاجرین  اور یواین ایچ سی آر کی طرف سے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نادرا کی تکنیکی مدد سے مشترکہ کوشش تھی۔

    افغان مہاجرین کے چیف کمشنر جناب سلیم خان کا کہنا تھا کہ ، "گزشتہ 10 سالوں میں افغانوں کے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا، اس لیے ریکارڈ کی تصدیق اور اپ ڈیٹ کرنا ضروری تھا جس سے ہم مہاجرین کی آبادیوں میں موجودہ ضروریات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے۔”

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً 10 لاکھ نئے سمارٹ شناختی کارڈز جاری کیے گئے ہیں جن کی میعاد 30 جون 2023 تک ہے، جس میں والدین کے کارڈز میں پانچ سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔

    DRIVE نے افغان پناہ گزینوں کو تحفظ کی مخصوص ضروریات یا کمزوریوں کی نشاندہی کی۔یہ کوششیں پناہ گزینوں کے سماجی اقتصادی حالات کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات پاکستان میں ان کی خود انحصاری کے لیے ان کی بہتر مدد کرے گیں‌ اور حالات کی اجازت ملنے پر افغانستان واپس جانے کے اپنے ارادے کا اظہار کرنے والوں کے لیے مزید موزوں مدد فراہم کرے گی۔

    DRIVE کے کلیدی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ رجسٹرڈ مہاجرین کی آبادی میں سے نصف سے زیادہ (52 فیصد) بچے ہیں، جن میں 197,428 (15 فیصد) چار سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔ رجسٹرڈ ہونے والوں میں سے صرف 4 فیصد کی عمر 60 سال یا اس سے زیادہ ہے۔ خواتین، بچے اور بوڑھے 76 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ رجسٹرڈ افغان مہاجرین میں سے نصف سے زیادہ صوبہ خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں۔

    پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ محترمہ نوریکو یوشیدا نے اس بات پر زور دیا کہ سمارٹ کارڈز افغان مہاجرین کے لیے ایک ضروری تحفظ کا آلہ ہیں۔ "وہ اس شناخت کے ذریعے پاکستان میں عارضی قیام کا حق، اور نقل و حرکت کی آزادی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ وہ بعض ضروری معاملات تک رسائی کی سہولت فراہم کرتے ہیں،جن میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، بینکنگ، جائیداد کا کرایہ اور متعلقہ سہولیات شامل ہیں‌۔

    DRIVE نے شناخت کے ثبوت رکھنے والے کارڈ ہولڈرز کے تقریباً 267,000 نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن کی بھی اجازت دی، جو کہ مہاجر کمیونٹی کے سب سے کم عمر ارکان کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

    DRIVE افغان پناہ گزینوں کی مدد اور تحفظ کے لیے وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جس میں افغان مہاجرین کے لیے حل کی حکمت عملی کے لیے سپورٹ پلیٹ فارم    کے تحت کوششوں کا حصہ بھی شامل ہے۔ سپورٹ پلیٹ فارم کا آغاز 2019 میں میزبان ممالک میں پناہ گزینوں کے لیے بین الاقوامی بوجھ اور ذمہ داری کے اشتراک کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا، جبکہ افغانستان میں پناہ گزینوں کی واپسی کے علاقوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

    آگے بڑھتے ہوئے، رجسٹرڈ افغان مہاجرین ملک بھر میں 11 مخصوص مراکز کے ذریعے اپنے رجسٹریشن ڈیٹا کو مسلسل بنیادوں پر اپ ڈیٹ کر سکیں گے۔

    15 اپریل 2021 سے ملک بھر میں کل 35 تصدیقی سائٹس کام کر رہی ہیں، جن کی مدد سے سات موبائل رجسٹریشن وینز دور دراز علاقوں میں الگ تھلگ کمیونٹیز یا صحت کے خدشات سمیت مخصوص ضروریات کے حامل لوگوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ افغان مہاجرین کواس مقصد کے تحت اور اس میں حصہ لینے کے طریقہ کے بارے میں سمجھانے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر معلوماتی مہم بھی چلائی گئی۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • افغان مہاجرین اور پاکستانی عوام کے مابین  تعلقات سے متعلقہ  نت نئے انکشاف ظاہر

    افغان مہاجرین اور پاکستانی عوام کے مابین تعلقات سے متعلقہ نت نئے انکشاف ظاہر

    وفاقی وزیر برائے سیفران نے کہا کہ یو این ایچ سی آر افغان مہاجرین کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہو سکتا۔
    اسلام آباد – وفاقی وزیر برائے سیفران صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا کہ یو این ایچ سی آر اور بین الاقوامی ادارے افغان مہاجرین کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہو سکتے۔
    انہوں نے ان خیالات کا اظہار افغانستانی سفیر برائے پاکستان جناب نجیب اللہ علی خیل سے ملاقات کے دوران کیا۔
    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان مہاجرین کے بارے میں نقطہ نظر بہت واضح ہے اور یہ کہ پاکستان افغان مہاجرین کی سہولت کے لئے کوشاں ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پی او آر کارڈ کی مدت ختم ہونے پر درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ کے توسط سے تمام سیکیورٹی ونگز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ مہاجرین کو ہر طرح کی تکلیف سے بچنے میں مدد کریں۔
    "پاکستان افغان مہاجرین کو زندگی کے ہر شعبے میں اپنے شہریوں کے برابر مواقع فراہم کرکے ان کی پرورش کر رہا ہے۔ نتیجتاً آج بہت سے مہاجرین پاکستان کی معیشت اور معاشرے میں تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ محبوب سلطان نے کہا کہ مہاجرین کے وقار کی دیکھ بھال ہماری اولین ترجیح ہے۔
    وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی ادارے افغان مہاجرین کو نظرانداز نہیں کر سکتے، اس حقیقت کے پیش نظر کہ دنیا گذشتہ 41 برس سے چالیس لاکھ افغان باشندوں کی میزبانی میں پاکستان کی قربانیوں کو فراموش کر رہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ افغانیوں کو کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچنے کے لئے ویزا اور آمد پر تمام فیسوں اور ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان مہاجرین کے ساتھ اپنے وسائل بانٹ رہا ہے جب کہ پاکستان کو کوئی خاطر خواہ غیر ملکی مدد فراہم نہیں کی جاتی۔
    انہوں نے کہا کہ افغان مہاجر بچوں کو ملازمت فراہم کی گئی ہے اور انہیں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیا گیا ہے۔
    سفیر نجیب اللہ نے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں اور افغانستان میں قیام امن کے عمل میں پاکستان کے نمایاں کردار کو سراہا۔
    انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستیں گہرے ثقافتی بندھن میں منسلک ہیں ، یہ دونوں ریاستوں کے مابین تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا موقع ہے۔
    انہوں نے کہا کہ میں پاکستان میں نے سفیر کے طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔ افغان سفیر نے کہا کہ گذشتہ سال نومبر میں عبد اللہ عبد اللہ کے دورہ نے دوطرفہ تعلقات اور امن کے عمل کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے بہت کچھ کیا جا چکا ہے اور دونوں ریاستیں بالآخر صحیح سمت کی طرف گامزن ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ عوام سے عوام کا رابطہ افغان حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور موجودہ سیاسی ماحول تعلقات کو ایک مثبت سمت میں آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت مہاجرین کے مسائل کے حل کے لئے بات چیت کو مزید آگے بڑھانے کے لئے کسی بھی طرح کی مدد کو تیار ہے۔