Baaghi TV

Tag: افغان وزارت داخلہ

  • پاکستان میں مسلح کارروائیاں جہاد نہیں، ملوث افراد کو سزائے موت دی جائے گی، افغان امیر کا فتویٰ

    پاکستان میں مسلح کارروائیاں جہاد نہیں، ملوث افراد کو سزائے موت دی جائے گی، افغان امیر کا فتویٰ

    افغان وزارت داخلہ نے امیرالمومنین شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کا باضابطہ فرمان جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی برادر ملک ہے اور اس کی سرزمین پر اسلام کے نام پر کی جانے والی کوئی بھی مسلح جدوجہد "جہاد” نہیں بلکہ جنگ ہے۔

    فرمان کے مطابق ایسی تمام کارروائیاں اسلامی اصولوں کے منافی ہیں۔ جو افراد پاکستان میں ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان کو شریعت کے مطابق سزائے موت دی جائے گی، جبکہ ان کی مدد یا حمایت کرنے والوں کو بھی مجرم اور گناہگار قرار دیا گیا ہے۔

    امیرالمومنین نے حکم دیا ہے کہ وہ تمام افغان جنگجو جو پاکستان گئے ہیں، فوری طور پر واپس آ کر وزارت داخلہ کو رپورٹ کریں۔ اس حکم پر عمل درآمد کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر ان افراد کے اہلِ خانہ کو شریعت کے تحت سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔

    افغان انٹیلی جنس اور عدالتی اداروں کو اس حکم پر فوری اور سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    عیدالاضحی پر پنجاب کلین اپ آپریشن شروع، آلائشوں کی فوری تلفی اور جدید نگرانی کا نظام فعال

    ایران اور افغان طالبان کی امریکی سفری پابندیوں کی مذمت، فیصلے کو نسل پرستانہ قرار دے دیا

  • سہ فریقی ملاقات،افغانستان کا پاکستان اور چین سے ’باہمی احترام اور تعمیری روابط‘ کا مطالبہ

    سہ فریقی ملاقات،افغانستان کا پاکستان اور چین سے ’باہمی احترام اور تعمیری روابط‘ کا مطالبہ

    افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان اور چین سے باہمی احترام اور تعمیری روابط پر مبنی تعلقات قائم رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ بیان کابل میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے پاکستان اور چین کے خصوصی ایلچیوں کی ملاقات کے بعد افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے خصوصی ایلچی محمد صادق اور چین کے یو شیاویونگ نے شرکت کی۔ ملاقات تین ملکی (سہ فریقی) فورم کے تحت ہوئی جو 2017 میں قائم کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد افغانستان، پاکستان اور چین کے مابین سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے مطابق، سراج الدین حقانی نے کہ "اسلامی امارت علاقائی تعلقات کو اہم سمجھتی ہے اور ہمارے نقطہ نظر سے اقتصادی، سیاسی اور علاقائی افہام و تفہیم صرف باہمی احترام اور تعمیری روابط سے ممکن ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے اور تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے دوران طے پایا کہ سہ فریقی مذاکرات کا چھٹا وزارتی دور کابل میں منعقد کیا جائے گا، جس سے فورم کے تحت جاری تعاون کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

    علاوہ ازیں، پاکستان میں تعینات افغان سفیر نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہ”اس ملاقات کا مقصد اسلام آباد میں ہونے والے پانچویں سہ فریقی مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لینا، آئندہ کابل میں منعقدہ چھٹے دور کی تیاری کرنا، اور سہ فریقی تعاون کو مزید مستحکم بنانا تھا۔” وفود نے علاقائی استحکام، باہمی احترام اور مضبوط سفارتی بنیادوں پر تعمیری روابط کے عزم کا اعادہ کیا۔

    چین اور پاکستان کے خصوصی ایلچیوں نے کابل میں افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی سے ملاقات کی، جس میں تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور مشترکہ منصوبوں کے آغاز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔افغان وزارت تجارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کا مقصد افغانستان، پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا، مشترکہ صنعتی پارکس اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام، اور برآمدی پروسیسنگ مراکز کے آغاز جیسے عملی اقدامات پر غور کرنا تھا۔

    چینی اور پاکستانی ایلچیوں کی افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی سے بھی ملاقات

    ملاقات میں یہ تجاویز بھی زیر غور آئیں:
    افغانستان میں مشترکہ صنعتی پارکس کا قیام
    خصوصی اقتصادی زونز کی تشکیل
    سہ فریقی تجارتی میلوں کا انعقاد
    چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے امدادی مراکز
    تینوں ممالک کے درمیان بینکنگ تعلقات کو فروغ دینا

    بیان کے مطابق وزیر تجارت نورالدین عزیزی نے پاکستان اور چین کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
    "اسلامی امارت کی پالیسی معیشت پر مبنی ہے، اور ہم باہمی مفادات کے تناظر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پالیسی سازی اور عملی اقدامات کر رہے ہیں۔”انہوں نے اس موقع پر چینی اور پاکستانی ہم منصبوں کو افغانستان کے باضابطہ دورے کی دعوت بھی دی، تاکہ باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور تجارتی مذاکرات کو عملی شکل دی جا سکے۔