Baaghi TV

Tag: اقبال ڈے

  • پی ٹی آئی والے چاہتے تھے کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے،عطا تارڑ

    پی ٹی آئی والے چاہتے تھے کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے،عطا تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    باغی ٹی وی: مزار اقبال پر حاضری کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں فلاں نہیں تو پاکستان نہیں، ان کے لیے کشمیر اور فلسطین کا معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا آج فلسطین، غزہ کے حالات پر زیڈ گولڈ اسمتھ کے ٹوئٹ کی کسی نے مذمت نہیں کی-

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں نفرتیں پیدا گئیں، بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا، ملکی ترقی کیلئے مل جل کر کام کرنا ہوں گے پی ٹی آئی والے چاہتے تھے کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایااور ترقی کی راہ پر گامزن کیا ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، کیا وجہ ہے خیبرپختونخوا میں کوئی کام نہیں ہورہا، یہ جلسوں میں لگے ہوئے ہیں معاشرے میں تقسیم اورنفرتیں پھیلانا دراصل اغیار کا منصوبہ تھا، ہماری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ قوم کو متحد رکھا جائے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ ریاست سے ریاست کے معاملات خارجہ پالیسی کاحصہ ہوتے ہیں، ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی آرہی ہے کوئی سیاسی لیڈر یاسیاسی جماعت پاکستان سے آگے نہیں، مسئلہ کشمیراور فلسطین کو سیاست سے بالاترہونا چاہیے۔ یہ پاکستان ہے تو ہماری سیاست ہے، تحریک انصاف کہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی ہیں تو سب کچھ ہے تحریک انصاف کیلئے فلسطین کا ایشو کوئی معنی نہیں رکھتا۔

    انہوں نے علامہ اقبال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں علامہ اقبال کے فلسفے کو پڑھایا جارہا ہے ہمیں علامہ اقبال کے فلسفے کو فروغ دینا ہوگا،ہم نے دیگر سیاسی جماعتوں کیساتھ فراغ دلی کا مظاہر کیا ہے، دکھ کی بات ہے ہمارے ہاں ایک سوچ پیدا کردی گئی ہے،علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کیاعلامہ اقبال کےافکار نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ بیدار کیا۔

    کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہرقدم اٹھائیں گے، دہشتگردی میں ملوث کئی سہولت کار پکڑے گئے ہیں۔

  • شاعر مشرق اور آج کا نوجوان.تحریر:ریحانہ جدون

    شاعر مشرق اور آج کا نوجوان.تحریر:ریحانہ جدون

    علامہ اقبال، جنہیں "شاعر مشرق” کے لقب سے نوازا گیا، نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ایک فلاسفر اور مفکر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی گہری بصیرت اور دلوں کو متحرک کرنے والی قوت تھی جو آج بھی نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کا پیغام ہمیشہ سے یہی رہا کہ انسان کو اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے اور اپنی تقدیر خود لکھنی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کا نوجوان اقبال کے پیغام کو سمجھتا ہے اور ان کی شاعری کو اپنے معاشرتی، سیاسی اور ذاتی زندگی میں کس طرح ڈھالتا ہے؟

    علامہ اقبال کی شاعری میں جو جوش اور جذبہ تھا، وہ آج بھی نوجوانوں کے لئے ایک قیمتی خزانہ ہے۔ اقبال نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو اپنے عزم و ارادے کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے محنت کرنی چاہیے۔ ان کی مشہور نظم "خُدی کو کر بلند اتنا” اسی پیغام کا عکاس ہے۔آج کا نوجوان اگرچہ اپنے دور کے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے پاس وسائل اور مواقع بھی بے شمار ہیں۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور جدید ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لئے نئے دروازے کھولے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ، اگر اس نوجوان کی شخصیت میں اقبال کی طرح کی بلندی نہ ہو، تو وہ ان وسائل کا صحیح استعمال نہیں کر پائے گا۔

    اقبال نے ہمیشہ "خودی” کے تصور پر زور دیا۔ ان کے نزدیک "خودی” انسان کی اندرونی طاقت ہے، جو اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی جرات اور حوصلہ دیتی ہے۔ آج کے نوجوانوں میں یہ خودی کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ معاشرتی دباؤ، مقابلہ بازی، اور خود کو ثابت کرنے کی خواہش کی وجہ سے نوجوان اکثر اپنے حقیقی مقصد سے بھٹک جاتے ہیں۔اقبال کا پیغام تھا کہ انسان جب تک اپنے آپ کو نہیں پہچانے گا، اس کی زندگی کا مقصد بھی غیر واضح رہے گا۔ وہ ہمیشہ اپنی شاعری میں اس بات پر زور دیتے رہے کہ انسان کو اپنی تقدیر کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور اپنے اندر کی قوت کو پہچان کر اسے دنیا میں نمایاں کرنا چاہیے۔

    آج کا نوجوان اقبال کی شاعری کو کسی حد تک سمجھتا ہے، مگر اس کے لئے ان کے پیغام کو عملی زندگی میں لانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اقبال کا خواب تھا کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت ایک نئی تحریک پیدا کرے، لیکن کیا آج کے نوجوان ان خیالات کو حقیقت کا روپ دے پا رہے ہیں؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔آج کا نوجوان کئی مرتبہ معاشرتی دباؤ، تعلیم، روزگار، اور ذاتی مسائل کے شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اقبال کی "خودی” کا پیغام اور اس کے مطابق اپنی تقدیر خود بنانے کا نظریہ ایک ترغیب فراہم کر سکتا ہے۔ اقبال کی شاعری نوجوانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کامیابی صرف محنت اور عزم سے آتی ہے، اور اگر انسان خودی کو بلند کرنے میں کامیاب ہو جائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے روکھ نہیں سکتی۔

    اقبال کی شاعری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر نوجوان کو اپنے اندر جھانک کر اپنی کمزوریوں کو پہچاننا چاہیے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں جہاں فنی، سائنسی اور فکری جدتیں آ رہی ہیں، وہیں نوجوانوں کو اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ان نئی تبدیلیوں کو اپنانا ضروری ہے۔ اس میں اقبال کی شاعری ایک رہنمائی کا کام کر سکتی ہے۔

    آج کے نوجوان کے لئے اقبال کا پیغام واضح ہے:
    "خُدی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خُدا بندے سے خود پُوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟”

    شاعر مشرق، علامہ اقبال کی شاعری نہ صرف ایک عہد کا آئینہ ہے، بلکہ آج کے نوجوانوں کے لئے ایک قیمتی ہدایت ہے۔ اگر ہم اقبال کی تعلیمات پر عمل کریں، تو نہ صرف اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر معاشرتی اور سیاسی نظام کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہمیشہ نوجوانوں کے لئے یہ ہے کہ "خود پر یقین رکھو”، "محنت کرو”، اور "دنیا کو بدلنے کے لئے اپنے آپ کو بدلنا ضروری ہے”۔یاد رکھیں، اقبال کی شاعری آج بھی ہمارے لئے ایک روشن راہ دکھاتی ہے۔ اس راہ کو اختیار کر کے ہم اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی قوم اور اپنے ملک کو بھی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

  • معاشی جکڑ بندیوں کی وجہ سے ہم معاشی طور پر آزاد نہیں ہیں،شہباز شریف

    معاشی جکڑ بندیوں کی وجہ سے ہم معاشی طور پر آزاد نہیں ہیں،شہباز شریف

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی جکڑ بندیوں کی وجہ سے ہم معاشی طور پر آزاد نہیں ہیں، اقبالؒ کے پیغام کو فراموش کرنے کی وجہ سے ہم منزل سے دور ہیں، ہمیں علامہ اقبال کے پیغام کو آگے لے کر بڑھنا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں یوم اقبال کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ علامہ اقبال کے فلسفے اور خودی کے پیغام پرعمل کی ضرورت ہے، مفکر پاکستان کی شاعری میں قوموں کی تقدیر بدلنے کا پیغام ہے، علامہ اقبال نے ہمیں خودی کا پیغام دیا ہے، علامہ اقبال کی شاعری دنیا بھر میں پڑھی جاتی ہے، ایران، ترکیہ مشرق وسطیٰ والے بھی اقبال کےکلام سےواقف ہیں، برصغیر سمیت عالمی سطح پر بھی اقبال کا کلام اثر رکھتا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے اخراجات کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں، ملک کی معاشی صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہورہی ہے، ہم نے اخراجات پر قدغن لگائی ہے، حکومت اپنے اخراجات پر بہت دھیان سے فیصلے کرتی ہے، میں آپ کو ایک اچھی خبر دینا چاہتا ہوں جس سے معیشت ترقی کرے گی اور زراعت و صنعت تیزی سے آگے بڑھیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معیشت ترقی کررہی ہے، پچھلے سال جو مہنگائی 32 فیصد پر تھی آج 6 اعشاریہ 7 فیصد پر پہنچ گئی ہے، شرح سود 22 فیصد سے کم ہوکر 15 فیصد پر آگئی ہے، ہم سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام کررہے ہیں، سرمایہ کاری سے ملک میں روزگار بڑھے گا حکومت ہر شعبےمیں اصلاحات کی پالیسی پرعمل پیرا ہے، پنجاب میں وسائل سے محروم طلبا کو آگے بڑھنے کے لیے مواقع دیے جاتے ہیں، انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے لاکھوں ہونہار طلبا کو وظائف دیے گئے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے سردیوں کے تین ماہ دسمبر تا فروری بجلی کے اضافی استعمال پر پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی جارہی ہے، بجلی سہولت پیکج کا اطلاق اس سال دسمبر 24 سے اگلے سال فروری 25 تک کے بلوں پر ہوگا اس پیکیج کے تحت گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا فی یونٹ ریٹ 26 روپے 7 پیسے ہوگا اور اس سے گھریلو صارفین کو 11 روپے 42 پیسے سے لے کر 26 روپے 7 پیسے فی یونٹ تک کی بچت ہوگی۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ پیکج پورے پاکستان کیلئے ہے جس میں صنعتوں کیلئے 5.72 روپے سے لے کر 15 روپے تک کی بچت ہوگی، صنعتوں کو 18 سے 37 فیصد تک بچت ہوگی، اسی طرح کمرشل صارفین کے لیے یہ پیکج 13.46 روپے سے 22 روپے بچت ہوگی، ایسے صارفین کو 34 فیصد تک بل میں بچت ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی کمی میں لاگت سے زراعت، صنعت اور کاروبار و برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی، اس سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی، بجلی کی قیمتوں میں کمی سے پاکستانی معیشت مضبوط اور درجہ بندی تیزی سے بہتر ہوگی بجلی کی کمی کے پیکج پر وزیر توانائی اویس لغاری، سیکرٹری توانائی اور وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ سب کچھ صرف میری وجہ سے نہیں بلکہ ٹیم ورک کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، ہم سب ملکر ملک کو ترقی دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

  • اقبال ڈے، حکومت کا عام تعطیل کا اعلان

    اقبال ڈے، حکومت کا عام تعطیل کا اعلان

    وفاقی حکومت نے 9 نومبر کو عام تعطیل کا اعلان کردیا

    وفاقی حکومت نے 9 نومبر 2024 کو اقبال ڈے کے موقع پر عام تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ تعطیل ہفتے کے دن ہو گی، اور اس دن کو شاعرِ مشرق، علامہ محمد اقبال کی 147 ویں یومِ پیدائش کے طور پر منایا جائے گا۔اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی اسی دن چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

    علامہ محمد اقبال کی خدمات اور ان کے خیالات کو یاد کرنے کے لیے اقبال ڈے کا یہ دن ہر سال بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے 9 نومبر کو عام تعطیل کا اعلان ایک اچھا قدم ہے، جو نہ صرف ان کی تعلیمات کو فروغ دیتا ہے بلکہ عوام کو ان کی فکر اور شاعری پر غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اس دن کی تعطیل کے ذریعے لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں سے کچھ وقت نکال کر اس عظیم فلسفی اور شاعر کی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرسکیں گے۔

    اقبال ڈے کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا جائے اور علامہ اقبال کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا ،شاعر مشرق حکیم الامت اور سر کا خطاب پانے والے ڈاکٹرعلامہ اقبال 9 نومبر اٹھارہ سو ستتر (1877) کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا، آپ نے قانون اور فلسفے ميں ڈگرياں لیں لیکن جذبات کے اظہار شاعری سے کیا۔ پاکستان میں ملک بھر میں شاعرمشرق کے یوم ولادت پر ہر شہرگاوں میں تقریبات ہوں گی جس میں علامہ اقبال کی مسلمانوں اور قیام پاکستان کے سلسلے میں فرمودات کی روشنی میں خراج تحسین پیش کیا جائے گا ،