Baaghi TV

Tag: اقلیتی

  • اقلیتی برادری کی خاتون کی سی ایس ایس امتحان میں کامیابی

    اقلیتی برادری کی خاتون کی سی ایس ایس امتحان میں کامیابی

    پاکستان کے جنوبی صوبے پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی اقلیتی برادری کی خاتون روپ متی نے سی ایس ایس امتحان میں کامیابی حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان کا نام روشن کیا بلکہ اقلیتی کمیونٹی کے لئے ایک نئی راہ بھی ہموار کی۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ایک ذاتی کامیابی ہے بلکہ یہ پاکستانی معاشرتی توازن اور اقلیتی حقوق کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

    روپ متی کا تعلق رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے ایک چھوٹے قصبے سنجر پور سے ہے۔ وہ فی الحال فرانس کی ایک معروف یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اپنی تعلیمی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے کی خواہشمند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں خدمات انجام دینے کی آرزو رکھتی ہیں تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت پہلو کو اجاگر کر سکیں۔

    روپ متی کی کامیابی میں ان کے خاندان کی حمایت اور تعلیمی پس منظر کا اہم کردار ہے۔ وہ پاکستان کے مشہور مصور اور خطاط چترا پریتم کی بیٹی ہیں۔ چترا پریتم کو ان کی مصوری کے شعبے میں شاندار خدمات پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز بھی دیا جا چکا ہے۔ چترا پریتم کی فنون لطیفہ کے میدان میں گراں قدر خدمات کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیا گیا ہے۔ روپ متی کی کامیابی ان کے والد کی فنون کے شعبے میں شاندار میراث کا تسلسل ہے۔

    روپ متی کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی کا راز محنت، لگن، اور والدین کی دعاؤں میں ہے۔ انہوں نے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری میں سخت محنت کی اور اپنے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے انتھائی محنت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادری کی ایک خاتون کے لئے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا ایک بڑی کامیابی ہے اور یہ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کے لیے ایک حوصلہ افزائی ہے۔

    روپ متی نے اپنی کامیابی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں کام کرنا چاہتی ہیں تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثقافت، تاریخ، اور کامیابیاں دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کا پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہو۔

    روپ متی کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ اقلیتی کمیونٹیز کے افراد بھی اعلیٰ عہدوں اور مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ پیغام ہے کہ اگر انسان میں محنت، عزم، اور ایمانداری ہو تو کوئی بھی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے، خواہ آپ کا تعلق کسی بھی برادری سے ہو۔

    روپ متی کی کامیابی ایک ایسی کہانی ہے جو نہ صرف اقلیتی برادری کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔ ان کی جدوجہد اور کامیابی ایک روشن مثال ہے کہ محنت اور عزم کے ذریعے کسی بھی خواب کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے، اور یہی پیغام ہمیں پاکستانی معاشرتی تنوع میں کامیابی کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • اقلیتوں کے مسائل،چیئرمین سینیٹ کی مزید اقدامات کی یقین دہانی

    اقلیتوں کے مسائل،چیئرمین سینیٹ کی مزید اقدامات کی یقین دہانی

    چئیرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے شہریار شمس ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کی سربراہی میں اقلیتی حقوق کیلئے قومی لابنگ کے وفد نے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی جس میں اقلیتوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی-چئیرمین سینیٹ نے وفد کو اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی-

    وفد نے سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے 5 فیصد کوٹہ اورسینیٹ میں اقلیتوں کی سیٹ بڑھانے، اقلیتوں کے مسائل کے حل کرنے کیلئے سینیٹ کی کمیٹی تشکیل دینے اور سینیٹری ورکرز کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کی سفارش کی-چئیرمین سینیٹ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین اور دین اسلام تمام اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتاہے-اقلیتوں کے 5 فیصد کوٹے کے حوالے سے معاملات سینیٹ میں زیر بحث ہیں -انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ میں اقلیتوں کے کوٹے کے حوالے سے بحث کیلئے موشن اور توجہ دلاوُ نوٹس لے کر آئیں گے-اقلیتوں کے حقوق اور مسائل کے حل کیلئے سینیٹر لیاقت خان ترکئی کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے-ان کے ساتھ ملکر پاکستان کے کچھ علاقوں کا وزٹ پلان کر کے اقلیتوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرے تاکہ ان کے حل کیلئے بروقت اقدامات اٹھائے جا سکے-بحث کیلئے چئیرمین سینیٹ نے وفد کی گزارشات پارلیمانی کمیٹی برائے اقلیتی حقوق کو بھجوا دیں –

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

    اس موقع پر چئیرمین سینیٹ نے اقلیتوں کے حقوق کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں کو کمیٹیز مرتب کرنے کیلئے خطوط لکھنے کا فیصلہ کیا-انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو خطوط لکھ کر گزارش کروں گا کہ کمیٹیز مرتب کرے جو پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ ملکر اقلیتوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے-ان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹری ورکرز کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کیلئے کوئی قانون لے کر آئے جس پر ایوان میں بحث ہو سکے-پاکستان میں وسائل محدود ہیں اور ہمیں بہت سے چیلجز کا سامنا ہے-ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اللّہ کی نعمتوں کا بھی شکر ادا کرنا چاہئے، بہت سے ممالک سے اب بھی پاکستان بہتر ہے-ملک کے وسائل کو دیکھتے ہوئے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے-انہوں نے ہر 4 ماہ بعد اقلیتوں کے حقوق کیلئے قومی لابنگ وفد سے ملاقات رکھنے کا عندیہ بھی دیا-وفد نے اقلیتوں کے مسائل کے حل میں دلچسپی ظاہر کرنے پر چئیرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کیا-

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

  • برطانیہ:نسلی اورمذہبی انتہاپسندی نے1لاکھ 20 ہزاراقلیتی افراد کوملازمتیں جھوڑنے پرمجبورکردیا

    برطانیہ:نسلی اورمذہبی انتہاپسندی نے1لاکھ 20 ہزاراقلیتی افراد کوملازمتیں جھوڑنے پرمجبورکردیا

    لندن:نسلی اورمذہبی انتہاپسندی نے1لاکھ 20 ہزاراقلیتی افراد کوملازمتیں جھوڑنے پرمجبورکردیا،طلاعات کے مطابق اقلیتی نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے 120,000 سے زیادہ کارکنوں نے نسل پرستی کی وجہ سے اپنی ملازمتیں چھوڑ دی ہیں، ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کام کی جگہ پر امتیازی سلوک برطانیہ کی افرادی قوت کے ایک بڑے حصے کے اعتماد کو ختم کر رہا ہے۔

    سیاہ فام اور دیگر اقلیتی نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے ہر چار میں سے ایک کارکن کو پچھلے پانچ سالوں میں کام کے دوران نسل پرستانہ مذاق کا سامنا کرنا پڑا ہے اور 35 فیصد نے کہا کہ اس سے وہ کام پر کم اعتماد محسوس کر رہے ہیں، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب سے بڑا نمائندہ سروے ہے۔ برطانیہ کے 3.9 ملین اقلیتی نسلی کارکن۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، ٹریڈ یونین کانگریس کے مطالعے کے مطابق، آٹھ فیصد متاثرین نے نسل پرستی کے نتیجے میں اپنی ملازمت چھوڑ دی۔

    TUC کے جنرل سکریٹری، فرانسس اوگریڈی نے کہا ہے کہ "بہت سے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ انہیں نسل پرستانہ غنڈہ گردی، ایذا رسانی – اور بدتر کا سامنا کرنا پڑا۔”

    O’Grady نے مزید کہا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ، اکثریت نے اپنے آجر کو اس کی اطلاع نہیں وزراء کو قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ آجر اپنے کارکنوں کی حفاظت اور کام پر نسل پرستی کو روکنے کے ذمہ دار ہوں،”

    انگلینڈ کے جنوب مغرب میں ایک سیاہ فام کیریبین لیکچرر نے محققین کو بتایا، "میں ایک اچھی کار چلاتا ہوں اور عملے کے ایک رکن نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں منشیات فروش ہوں، کیوں کہ میں اس کے علاوہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں؟” جب اس نے اس واقعے کی اطلاع دی تو اسے بتایا گیا کہ "یہ اس ملک کے علاقے کی وجہ سے ہے جس میں ہم رہتے ہیں، جو کہ زیادہ تر سفید فام ہے”۔

    لندن سے تعلق رکھنے والی ایک برطانوی ہندوستانی خاتون، جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اسے نوکری کے لیے نظر انداز کیا گیا تھا کیونکہ کمپنی نہیں چاہتی تھی کہ سامنے والا عملہ "مضحکہ خیز لباس” پہنے ہو، نے کہا کہ اس نے کبھی بھی نسل پرستی کے واقعے کی اطلاع نہیں دی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ وہ اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔ .

    سروے میں پایا گیا کہ صرف 19 فیصد ان لوگوں نے جنہیں ہراساں کرنے کا سامنا کرنا پڑا تھا، اپنے آجر کو تازہ ترین واقعہ کی اطلاع دی۔ تقریباً نصف کو خدشہ تھا کہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا۔

    ڈاکٹر حلیمہ بیگم، رننی میڈ ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو، ایک نسلی مساوات کے تھنک ٹینک نے نوٹ کیا کہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے آجروں کے پاس "نسل پرستی کے واقعات کی اطلاع دینے کے لیے ملازمین کی مدد کرنے والے جوابدہ ڈھانچے” کی کمی ہے۔”آجروں کی جانب سے مناسب کارروائی کے بغیر نسل پرستی کا پھیلاؤ بڑھ جاتا ہے، اور یہ جوابدہی کا فقدان ہے جو کام کی جگہ کے اندر فرد کے ‘خراب ایپل’ سے لے کر ادارہ جاتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔”

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف پرسنل اینڈ ڈویلپمنٹ، جو انسانی وسائل کے پیشہ ور افراد کی نمائندگی کرتا ہے، نے کہا کہ 1,750 افراد پر مشتمل یہ سروے "ایک واضح یاد دہانی ہے کہ ابھی تک بہت سارے سیاہ فام اور اقلیتی نسلی کارکنوں کو کام کی جگہ پر مستقل بنیادوں پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے”۔ اس نے مزید کہا کہ نتائج سے حکومت کو نسلی تنخواہ کی لازمی رپورٹنگ متعارف کرانے کے لیے نئی تحریک ملنی چاہیے۔

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    فوکس گروپس میں دی گئی نسل پرستی کی مثالیں بچوں سے لے کر ایک غیر برطانوی لہجے والی ٹیچر سے پوچھتی ہیں کہ وہ کہاں سے ہے، لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ "اپنے ملک واپس جاؤ”۔ 18 سے 24 سال کی عمر کے کارکنوں کے یہ کہنے کا زیادہ امکان تھا کہ انہیں بڑی عمر کے کارکنوں کی نسبت نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

  • تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخواہ نےکمیٹی کو نئے ضم شدہ اضلاع کے لوکل گورنمنٹ دفاتر میں خالی اسامیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمیٹی ممبران اور چیئرمین کمیٹی نے بڑے پیمانے پر آسامیاں خالی ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ خالی آسامیوں پر جولائی تک تقرریوں کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ تمام تقرریاں چاہے کسی بھی درجے کی ہوں ایک ضابطے، ضرورت اور میرٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی جائیں۔ تقرریوں میں سیاسی عمل دخل انتہائی تشویش ناک ہے۔ سینیٹر دوست محمد خان نے تجویز دی کہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں کی وجہ سے سابقہ فاٹا میں زخمی یا شھيد ہونےوالے افراد کے ورثاء کو ان آسامیوں پر بھرتی کے لیے ترجیح دی جائے۔ سینیٹر دنیش کمار نے اقلیتی کوٹہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو صرف درجہ چہارم کی آسامیوں پر بھرتی کرنا نا انصافی ہے۔ تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن نے ہدایت دی کہ تمام خالی آسامیوں پر جلد از جلد تقرریاں کی جائیں۔ چیرمین کمیٹی نے سابقہ فاٹا کے مسائل کو یکسو کرنے کے لیے سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر قیادت ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی۔ سینیٹر ہدایت اللہ ، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، اور سینیٹر دوست محمد خان کمیٹی کا حصہ ہونگے۔

    وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور سینیٹر طلحہ محمود نے کمیٹی کو طالبان حکومت کے آنے کے بعد افغانستان سے مہاجرینِ کی پاکستان میں آمد کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پاکستانی حکومت کی پالیسی واضع ہے۔ حکومت پاکستان کسی طور بھی غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو مہاجرینِ کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اُنکا کہنا تھا افغان ہمارے بھائی ہیں ہم نے اپنے افغان بھائیوں کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ افغان مہاجرینِ کو باعزت افغانستان واپس جانا چاہیے۔ سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان داخلے کے تمام پوائنٹس کو ریگولیٹ کریں گے۔ افغان مہاجرین کی آڑ میں پاکستان مخالف تخریبی عناصر امن امان خراب کرنے کی نیت سے پاکستان میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی تعداد معلوم کرنے کے لیے نادرا اور دیگر اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے تشویش کا اظہار کیا کہ ماضی میں بہت سے افغان مہاجرین غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جس کا تدارک انتہائی ضروری ہے۔

    پاک پی ڈبلیو ڈی کے حکام نے کمیٹی کو سال ۲۲-۲۰۲۱ کے لیے قبائلی ضلع مہمند اور قبائلی ضلع باجوڑ میں ایس ڈی جی ترقیاتی سکیموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق 475 ملین کی لاگت سے گیارہ منصوبوں پر کام جاری ہے جس میں سے 384 ملین کی رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن نے استفسار کیا کہ کس طرح صرف چالیس دن میں اندر اتنی رقم استعمال کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع مہمند جیسے علاقے میں ایسا کر پانا ناممکن ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے تمام منصوبہ جات میں پیپرا رولز کی سنگین خلاف ورزی پر شدید تحفظات كا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سابقہ فاٹا کے غریب عوام کا پیسہ ہے ہم اسکو اس طرح چوری نہیں ہونے دیں گے۔ "جب کوئی منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو کیسے کنٹیکٹرز کو پیشگی ادائیگی کر دی گئی؟” پاک پی ڈبلیو ڈی کے حکام اس حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے ۱۷ مئی کو آئندہ اجلاس میں ڈی جی نیب خیبرپختونخواہ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی سی ضلع مہمند کو طلب کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی جامع تحقیقات کرتے ہوئے ذمےداران کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، انور لال دین، بہرامند خان تنگی، دنیش کمار، دوست محمد خان، گردیپ سنگھ، ہدایت اللہ، حاجی ہدایت اللہ خان، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، شمیم آفریدی، فدا محمد، وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور سینیٹر طلحہ محمود، متعلقہ وزارت اور پی ڈبلیو ڈی کے حکام نے شرکت کی۔

  • والدین آن لائن کلاسز سے خوش نہیں تھے کیونکہ بچے بگڑ رہے ہیں، سپریم کورٹ

    والدین آن لائن کلاسز سے خوش نہیں تھے کیونکہ بچے بگڑ رہے ہیں، سپریم کورٹ

    والدین آن لائن کلاسز سے خوش نہیں تھے کیونکہ بچے بگڑ رہے ہیں، سپریم کورٹ
    نجی اسکول سے بے دخل طالب علم کے دوبارہ ایڈمیشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے طالب علم کے دوبارہ داخلے کی درخواست مسترد کر دی ، جسٹس قاضی امین احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ بہترین ججز ہوتے ہیں،ہمارے معاشرے میں اساتذہ کا مقام ہی الگ ہے،پتہ نہیں کیسے کیسے اسکولوں کو پرمٹ دے رکھے ہیں، بچے کے حق میں فیصلہ ہو تو وہ اسکول جا کر کہے گا سپریم کورٹ نے ڈانٹنے سے منع کیا ،استاد بچوں کو غلط کام سے روکنے پر دشمن نہیں بن جاتا،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم گھر میں بھی ہوسکتی ہے مگر اسکولز ڈسپلن کی پاسداری کے لیے بنائے گئے ہیں،والدین آن لائن کلاسز سے خوش نہیں تھے کیونکہ بچے بگڑ رہے ہیں،بچہ صبح تیار ہو کر اسکول جاتا ہے اسے ضابطہ اخلاق کا معلوم ہوتا ہے،ہماری کلاس میں کسی نے ایسی حرکت کی ہوتی ہے تو اسے ایسی سزا ملتی کہ کھلیاں پڑ جاتیں،

    جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزاوں کے باعث ہی ہم آج یہاں ہیں،

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوامیں ایڈیشنل ججز کی تقرری کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی ،جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں کیس سننے والا 2 رکنی بینچ ٹوٹ گیا جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس سننے سے معذرت کر لی نئے بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا

    قبل ازیں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی سیٹوں کی تعداد بڑھانے کی درخواست مسترد کر دی گئی سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا،عدالت نے کہا کہ اقلیتوں نشستوں کی تعداد بڑھانے کیلئے آئین میں ترمیم درکار ہے،پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا حکم نہیں دے سکتے،وکیل نے عدالت میں کہا کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا،آبادی بڑھنے کے بعد اقلیتی نشتوں کی تعداد بڑھانے کا پارلیمنٹ کو حکم دیا جائے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹس کے پاس پارلیمنٹ کوآئینی ترمیم کا حکم دینے کا اختیارنہیں،کیسے کہہ دیں کہ پارلیمان اقلیتی نشستوں کو بڑھا دیں،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

    ججز اور انکے اہلخانہ کے لئے فائیو سٹار ہوٹل میں کرونا ہسپتال قائم

    قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

    مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مندر توڑ پھوڑ میں ملوث ملزمان سے نقصان کی رقم وصول

    سپریم کورٹ کا اقلیتوں کی سرکاری نوکریوں میں 30 ہزار خالی سیٹو ں پر اظہار تشویش