Baaghi TV

Tag: اقلیتیں

  • بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز  واقعات میں 13 فیصد اضافہ

    بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ

    نئی دہلی: ایک امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔

    امریکی ریسرچ گروپ انڈیا ہیٹ لیب (India Hate Lab) کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں بھارت بھر میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مجموعی طور پر 1,318 نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 1,165 اور 2023 میں اس سے بھی کم تھی،ریکارڈ کی گئی تقریباً 98 فیصد تقاریر میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق 2023 کے بعد دستاویزی نفرت انگیز تقریر کے واقعات میں 97% اضافہ ہوا ، زیادہ تر نفرت انگیز واقعات ان بھارتی ریاستوں میں پیش آئے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یا اس کے اتحادی برسراقتدار ہے خاص طور پر پاک بھارت کشیدگی کے دوران 22 اپریل سے 7 مئی کے درمیان سب سے زیادہ، یعنی 100 نفرت انگیز واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

    رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی انسانی حقوق تنظیموں کے بیانات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن میں مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی اور نفرت پر مبنی کارروائیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش خطرات اور امتیازی سلوک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    وفاق نےمتبادل راستوں کے ذریعے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دیدی

    کراچی اور لاہور کے درمیان بعض فضائی راستے آج اور کل بند رہیں گے

    پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی،اسحاق ڈار

  • ہندتوا سوچ اور انتہا پسندی خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے،خواجہ آصف

    ہندتوا سوچ اور انتہا پسندی خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کی کوششوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت میں ماضی میں بھی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا رہا، تاہم اب اقلیتی تشدد کو باقاعدہ ریاستی پالیسی کا درجہ دیا جا رہا ہےبھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور عیسائی برادری کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے مودی کے دور حکومت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے-

    انہوں نے مودی کی گجرات حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور ہزاروں گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا،بھارت میں سکھوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے بدترین سلوک روا رکھا جا رہا ہے جبکہ اب عیسائی برادری بھی تشدد کی زد میں ہے، کر سمس کے موقع پر عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کیے گئے، جو مودی حکومت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر تے ہیں۔

    اسلام آباد میں جدید کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کیلئے باضابطہ بولی کا عمل شروع

    خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت ڈیڑھ ارب آبادی کا ملک ہونے کے باوجود اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے اور مذہبی جنو نیت رکھنے والی حکومت عالمی برادری کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے ہندتوا سوچ اور انتہا پسندی خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے جو قومیں تباہی کی طرف بڑھتی ہیں، وہ ایسے ہی انتہاپسندانہ رویے اختیار کرتی ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ انتظامیہ بھارت میں مسیحی برادری کو نشانہ بنانے پر ردعمل دے گی، پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتیں ہمیشہ سے محفوظ رہی ہیں اور پاکستان میں اقلیتوں کو برابری کی بنیاد پر مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

    نریندر مودی اور ہندوستان کی ہندوتوا شناخت پر وال اسٹریٹ جرنل کی کھلی چارج شیٹ

  • آئین میں اقلیتوں کے حقوق ہم سے زیادہ ہی ہیں کم نہیں،جسٹس منصور

    آئین میں اقلیتوں کے حقوق ہم سے زیادہ ہی ہیں کم نہیں،جسٹس منصور

    لاہور: سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نےکہا ہےکہ وفاق سے رشتہ ایسا ہےکہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔

    لاہور میں جسٹس کارنیلئس کانفرس میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے پرچم میں بھی اقلیتوں کی نمائندگی دی گئی ہے مگر افسوس مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ میں پاکستان آخری نمبروں پر ہے، ہم سب کو مل کر اس گھر کو ٹھیک کرنا ہے، اقلیت کا لفظ پسند نہیں، یہ صرف تعداد بتاتا ہے ، آئین میں سب کے حقوق برابر ہیں،ریاست مدینہ میں نبی اکرم ﷺ نے اپنے عمل سے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا، یورپی یونین کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی تشدد چوتھے نمبر پر ہے، اور مذہبی آزادی میں نچلے نمبروں پر رکھے جاتے ہیں، معاشرے میں برداشت کا ہونا ضروری ہے۔

    اٹلی میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکی کی والدہ پنجاب سے گرفتار

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ آئین میں اقلیتوں کے حقوق ہم سے زیادہ ہی ہیں کم نہیں، آئین میں اقلیتوں کو اضافی تحفظ دیا گیا ہے، دنیا کا واحد پرچم پاکستان کا ہے جس میں اقلیتوں کی نمائندگی ہے، سانحہ جڑانوالا کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسٰی جڑانوالا گئے، جڑانوالا کی اقلیتی برادری سے اظہارِ یکجہتی کیا، ہمیں اپنی سوسائٹی میں رواداری کو بڑھانا ہوگا، بقائے باہمی کو فروغ دینا ہوگا وفاق سے رشتہ ایسا ہےکہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں اقلیتوں سے بھی ججز آئیں۔

    کانفرنس سے خطاب میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ جسٹس اے آر کارنیلیس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، برداشت کے کلچر کو فروغ دے کر اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھاکہ یہ بات تکلیف دہ ہےکہ معاشرے میں عدم برداشت کا رویہ پروان چڑھ رہا ہے، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہت سے کام ہو رہے ہیں، اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے قابل افراد کو اعلیٰ عدلیہ میں ضرور آنا چاہیے۔

    کانفرنس سے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی اور فیڈرل شریعت کورٹ کے جج جسٹس انوار سعید سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر ضرور دیا۔

    01 جون تاریخ کے آئینے میں

  • بابا گورونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کو مثالی شہر بنائیں گے،رمیش سنگھ اروڑہ

    بابا گورونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کو مثالی شہر بنائیں گے،رمیش سنگھ اروڑہ

    صوباٸی وزیر اقلیتی امور / چٸیرمین پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے سکھ مذہب کے نانک شاہی کیلنڈر کے نئے سال شروع ہونے پر جنم استھان میں منعقدہ خصوصی تقریب میں شرکت کی جبکہ اس موقع پر پاکستان سمیت مختلف ممالک سے سکھ رہنماٶں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔صوباٸی وزیر نے سکھ رہنماٶں کے ہمراہ نئے نانک شاہی کیلنڈر کی رونماٸی کی اور سکھ برادری کو نانک شاہی کیلنڈر کا 556 واں سال شروع ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

    صوباٸی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام مذہبی اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت مذہبی اقلیتوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں پانچ فی صد کوٹہ پر عملدرآمد یقینی بنا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سکھ برادری کے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی سکھ قوم سے صوبائی وزیر بنایا گیا ہے اور پاکستان نے سکھ خاتون کو پربندھک کمیٹی کا جنرل سیکرٹری بنا کر منفرد مثال قائم کی ہے۔ سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے مزید کہا کہ سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے ہم سب ایک ہیں اور یقین رکھیں کہ تمام مذہبی اقلیتوں کی عبادتگاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اس بات پر زور دیا کہ بابا گورونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کو مثالی شہر بنائیں گے جبکہ سکھ نوجوانوں کے لئے ننکانہ صاحب میں کھیل کا میدان بنایا جائے گا۔ انہوں نے سکھ قوم کو خوشخبری سنائی کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جلد ننکانہ صاحب کا دورہ کریں گی تاکہ ننکانہ شہر میں بسنے والوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جاسکیں ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بابا گورونانک یونیورسٹی قومی منصوبہ ہے، اسے جلد مکمل کرنے پر زور دیں گے اور بابا گورونانک کے لئے فنڈز کا مسئلہ حل کرواتے ہوئےبابا گورونانک یونیورسٹی میں بابا گورونانک چئیر بھی قائم کریں گے

    رمیش سنگھ اروڑہ کا مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم

    مجھے نہ صرف سکھوں بلکہ تمام اقلیتوں کے تحفظ کی فکر ہے،رمیش سنگھ اروڑہ

    مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل مل کر حل کریں گے۔رمیش سنگھ اروڑہ

  • رمیش سنگھ اروڑہ کا مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم

    رمیش سنگھ اروڑہ کا مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم

    صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اتنی اہم ذمہ داری سونپی ہے اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے ۔

    سردار رمیش سنگھ اروڑا ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن کیا۔ وہ ایک سرکردہ کاروباری اور ممتاز سکھ رہنما ہیں جو 2020 میں مسلسل دوسری مدت کے لیے رکن صوبائی اسمبلی پنجاب منتخب ہوئے۔ 2013 سے 2018 کے دوران اپنے پہلے دور میں، وہ پنجاب اسمبلی کے پہلے پارلیمنٹیرین تھے جو 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد سکھ برادری سے آئے تھے۔ انہوں نے 2014 سے 2017 کے دوران کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر کام کیا اور بطور چیئرمین، قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور اقلیتی امور سے 2017 سے 2018 کے دوران انسانی حقوق کے ایک معروف کارکن اور سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی کافی معروف رہے۔

    رمیش سنگھ نے پاکستان میں سکھ برادری کے حقوق کے تحفظ اور "پنجاب سکھ آنند کارج میرج ایکٹ 2018” کی منظوری کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے پاکستان پہلا ملک بن گیا ہے جہاں سکھ میرج رجسٹریشن ایکٹ نافذ ہے۔ انہوں نے بطور ممبر، ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) گورنمنٹ کی خدمات انجام دیں۔ پنجاب میں 2011 سے 2013 کے دوران وزارت قومی ہم آہنگی کے تحت اقلیتوں کے قومی کمیشن کے رکن کے طور پر اور 2009 سے 2013 کے دوران پاکستان سکھ گوردوارہ پربھندک کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں۔انہوں نے جولائی 2011 میں امریکہ کے تین ہفتوں پر محیط ایک خصوصی سیشن میں "شہریوں کے مساوی حقوق کے فورمز” میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ رمیش سنگھ کو 2016 میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے قومی انسانی حقوق کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا

  • اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے

    ازقلم غنی محمدد قصوری

    آج 25 دسمبر کا دن ہے اور پوری دنیا میں سرکاری چھٹی ہےیہ دن عیسائیوں کے ہاں خاص دن ہے کیونکہ آج ان کی عید ہے جسے وہ Happy Christmas Day بھی کہتے ہیں-

    اسلام جہاں مسلمانوں کو پوری آزادی سے زندگیاں گزارنے کا اختیار دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کو بھی اختیار ہے کہ پوری آزادی سے رہیں بشرطیکہ دین اسلام پر کھلا وار نا کریں جس کی مثال قرآن نے ایسے بیان کی ہے

    تمہارا دین تمھارے ساتھ اور میرا ( دین ) میرے ساتھ
    (سورۃ الکافرون آیت 6)

    دین اسلام میں جبر بھی نہیں ہے کیونکہ یہ دین کامل ہے اسلام میں جبر کی ممانعت قرآن میں ایسے کی گئی ہے –

    لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ
    قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ
    فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى لَاانْفِصَامَ لَہَا
    وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ﴿256﴾

    "دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے-”

    اس آیت سے ثابت ہوا دین اسلام کا نام لے کر کسی پر سختی بھی نہیں کی جا سکتی مگر حدیث رسول نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی بڑی سختی سے منع فرمایا ہے

    حدیث رقم ہے کہ عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. من تشبہ بقوم فہو منہم

    جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے-
    (سنن أبي داؤد)

    غور کیجئے کفار کے مشابہت اختیار کرنے ان کو مبارکباد دینے پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا مسلمان انہی میں سے ہے
    آخر یہ آج کا دن یعنی عیسائیوں کی عید ہے کیا ؟ اس بارے جانتے ہیں Happy Christmas Day کا معنی ہے میلاد عیسیٰ مبارک ہو-

    حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اس دن عیسائی ایک دوسرے کو ایسے مبارکباد دیتے ہیں جیسے ہم مسلمان اپنی عیدین پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس دن Merry Christmas کہہ کر مبارکباد دی جاتی ہے یعنی ولادت عیسی علیہ السلام مبارک ہو-

    عیسائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہمارے مسلمان بھی اس دن ان کو خوب مبارکباد دیتے ہیں جس کا جواز اکثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیں مبارکباد ہماری عیدین پر دیتے ہیں-

    ہماری عیدین پر ان کی طرف سے عید مبارک کہا جاتا ہے جس میں کوئی ایسے ٹکراؤ کے الفاظ موجود ہی نہیں جبکہ جب ہم ان کی عید کی مبارک باد ان کو دیتے ہیں تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور آج ان کا جنم دن ہے

    اس بابت قرآن نے سورہ مریم آیت 88 تا 92 میں بڑی سختی سے ایسے تردید کی ہے

    "یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے(ایسی بات کہنے والو) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے
    کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین پھٹ جائے، اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں، کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو-”

    معاذاللہ کتنے سخت الفاظ میں قرآن اس عقیدے کی ممانعت کر رہا ہے جبکہ ہم دنیاوی دکھلاوے کی خاطر آج ان عیسائیوں کو مبارکبار پیش کرکے اپنا عقیدہ خراب کر رہے ہیں

    خداراہ اقلیتوں کا احترام ضرور کیجئے مگر آج کے دن کی ان کو مبارکباد دے کر اپنا عقیدہ خراب نا کیجئے
    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین