Baaghi TV

Tag: الاؤنسز

  • حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے،جبکہ وزارت خزانہ سے جاری آفس میمور نڈم کے تحت سرکاری ملازمین کے نظرثانی شدہ نئے پے اسکیلز بھی جاری کردیے ہیں۔

    وزارت خزانہ کے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026سے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہوں اور الاؤنسز پر نظرثانی کا اطلاق کیا گیا ہے اور متعارف کروائے گئے۔

    آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ نظرثانی شدہ نئے بنیادی پے اسکیلز 2026 میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 کو ضم کیا گیا ہے اور موجودہ ملاز مین کی تنخواہیں یکم جولائی 2026 سے نئے پے اسکیلز میں پوائنٹ ٹو پوائنٹ بنیاد پر مقرر کی جائیں گی جبکہ سالانہ انکریمنٹ بدستور ہر سال یکم دسمبر کو موجودہ قواعد کے مطابق دی جائے گی۔

    وزارت خزانہ نے بتایا کہ یکم جولائی 2026 سے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 ختم تصور کیے جائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کے سول ملازمین، دفاعی تخمینوں سے تنخواہ پانے والے سویلین ملازمین، کنٹریکٹ پر تعینات اہلکاروں اور دیگر متعلقہ ملازمین کو بی پی ایس 2026کی رننگ بنیادی تنخواہ پر 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا، یہ الاؤنس انکم ٹیکس کے تابع ہوگا اور اس کے اطلاق سے متعلق دیگر شرائط بھی آفس میمورنڈم میں درج کی گئی ہیں۔

    وزارت خزانہ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ تمام وزارتیں، ڈویڑنز اور محکمے اپنے ملازمین سے 30 روز کے اندر تحریری اور ناقابل واپسی آپشن حاصل کریں کہ وہ بنیادی پے اسکیل 2022کے تحت تنخواہ لینا چاہتے ہیں یا نئے بیسک پے اسکیل 2026کے تحت تنخواہ حاصل کرنا چاہتے ہیں،مقررہ مدت میں آ پشن نہ دینے والے ملازمین کو خودکار طور پر بیسک پے اسکیل 2026 کا انتخاب کرنے والا تصور کیا جائے گا نئے پے اسکیلز کے نفاذ کے دوران پیدا ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں کے ازالے کے لیے وزارت خزانہ میں ایناملی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

  • سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ،چیف جسٹس نے منظوری دیدی

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ،چیف جسٹس نے منظوری دیدی

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ کر دیا گیا جس کی چیف جسٹس آف پاکستان نے یوٹیلیٹی الاؤنس منظوری دے دی،یوٹیلیٹی الاؤنس میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق گریڈ 1 سے 6 تک کا الاؤنس 6 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار روپے اور گریڈ 7 سے 10 تک کا الاؤنس 8 ہزار سے بڑھا کر 16 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا،گریڈ 11 سے 15 تک کے ملازمین کا الاؤنس 10 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار روپے، گریڈ 16 کے افسران کا الاؤنس 12 ہزار سے بڑھا کر 24 ہزار روپے اور گریڈ 17 کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس 15 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا۔

    گریڈ 18 کے افسران کا الاؤنس 18 ہزار سے بڑھ کر 36 ہزار روپے اور گریڈ 19 کے افسران کا الاؤنس 21 ہزار سے بڑھا کر 42 ہزار روپے کر دیا گیا گریڈ 20 کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس 24 ہزار سے بڑھا کر 48 ہزار روپے جبکہ گریڈ 21 اور اس سے اوپر کے افسران کا الاؤنس 30 ہزار سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کر دیا گیا یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے اخراجات شامل ہیں، اضافی اخراجات مالیاتی سال 2027-2026 کے منظور شدہ بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔

  • حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے دو پرانے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور ان کی مالی مشکلات میں کمی لانا ہےسال 2022 کا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور سال 2025 کا 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس اب مستقل طور پر بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا گیا ہےاس فیصلے سےسرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہو گا جس کے اثرات مستقبل میں ملنے والی مراعات، پنشن اور دیگر الاؤنسز پر بھی مرتب ہوں گے۔

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنسمیں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے یہ فیصلہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور روزمرہ سفری اخراجات میں اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو مالی سہولت فراہم کی جا سکے ان اقدامات سے ملازمین کے معیار زندگی میں بہتر ی آئے گی جبکہ بنیادی تنخواہ بڑھنے کے باعث ہاؤس رینٹ سمیت دیگر مراعات کا حجم بھی خود بخود بڑھ جائے گا حکومت نے اسے موجودہ معاشی حالا ت میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے۔

  • پی ٹی اے میں کروڑوں روپے کے غیر قانونی الاؤنسز کا انکشاف

    پی ٹی اے میں کروڑوں روپے کے غیر قانونی الاؤنسز کا انکشاف

    چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی­کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ممبران کی جانب سے خلافِ ضابطہ 5 کروڑ 60 لاکھ روپے کے الاؤنسز لینے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

    کنوینئر ملک عامر ڈوگر کی زیر صدارت پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پی ٹی اے سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

    آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 2008 سے اب تک چیئرمین اور ممبران پی ٹی اے کو ساڑھے پانچ کروڑ روپے کے الاؤنسز دیے گئے، جن میں سے 2021 میں ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کے الاؤنسز خلاف ضابطہ لیے گئے قانون کے تحت ایم پی ون اور ایم پی ٹو گریڈ کے افسران کو علیحدہ الاؤنس دینا خلافِ ضابطہ ہے اور چیئرمین و ممبران پی ٹی اے غیرقانونی طور پر یہ رقوم وصول کرتے رہے ہیں 2011 سے 2013 کے درمیان ان الاؤنسز کی وصولی نہیں کی گئی تھی، جب کہ یہ معاملہ 2008 سے زیر التوا ہے۔

    ممبر فنانس پی ٹی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزارت قانون کی رائے ہے کہ ایم پی ون افسران کے لیے ایسی کوئی قدغن نہیں کہ وہ صرف بنیادی تنخواہ ہی لیں اور اس بارے میں کابینہ نے پی ٹی اے ایکٹ میں ترمیم کی سفارش کی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط

    چیئرمین پی ٹی اے نے اجلاس میں بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کے حل کے لیے آڈٹ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور وزارت قانون کا مؤقف ہے کہ یہ الاؤنسز خلاف ضابطہ نہیں ہیں معاملہ اب پارلیمنٹ میں ترمیم کے لیے زیر غور ہے۔

    کنوینئر کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ جب تک قانون میں ابہام موجود ہے، کیا چیئرمین اور ممبران پی ٹی اے کو الاؤنسز لینے چاہییں؟ اس پر ممبر کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ اگر ایکٹ میں ترمیم منظور ہو بھی جائے، تب بھی ماضی میں لیے گئے الاؤنسز کی رقم واپس کرنا ہوگی کیونکہ کسی بھی قانون کا اطلاق ماضی پر نہیں ہو سکتا۔

    بعد ازاں پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کو ایک ماہ میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    کواڈ گروپ کے وزرائے خارجہ کی پہلگام حملے کی مذمت

  • محدود وسائل،ریلوے افسران کے الاؤنسز بند

    محدود وسائل،ریلوے افسران کے الاؤنسز بند

    وفاقی وزیر ریلوے نے تمام افسران کی تنخواہیں مالی امداد تک بند کردیں، سعد رفیق نے سندھ میں ٹرین آپریشن کی جلد بحالی کیلئے ایکشن پلان پر عمل کا بھی حکم دیدیا۔

    سیلاب کے باعث سندھ میں ریلوے ٹریک پر بدستور 10 انچ سے زائد پانی جمع ہے، سندھ کے مختلف شہروں میں ریلوے ٹریک بدستور ڈوبے ہوئے ہیں۔

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت سندھ میں ٹرین آپریشن کی بحالی پر ریلوے آفس لاہور میں ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں بتایا گیا کہ ٹریک ڈوبے ہونے کے باعث رواں ہفتے ٹرینوں کی بحالی ناممکن ہے۔وفاقی وزیر ریلوے نے سندھ میں ٹرینوں کی جلد بحالی کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔

    وفاقی وزیر کو بتایا کہ ریلوے کو مالی بحران کا بھی سامنا ہے، جس پر اسٹیٹ بینک سے اوور ڈرافٹ کا آپشن بند کردیا گیا، ذرائع کے مطابق سعد رفیق نے شدید مالی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنشن ادائیگی کو پہلی ترجیح قرار دیا۔انہوں نے ریلوے کے تمام افسران کی تنخواہیں مالی امداد تک بند کردیں۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ تنخواہوں کیلئے پونے 3 ارب روپے کی ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیر کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ گریڈ سترہ سے بائیس تک کے تمام ریلوے افسران اس سال جون سے ستمبر تک ٹریول اور ڈیلی الاؤنسز کی مد میں کوئی ادائیگی نہیں لیں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان ریلویز کے محدود وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

    وفاقی وزیر نے اے جی ایم انفراسٹرکچر، چیف انجینئر اوپن لائن اور چیف انجینئر ایس اینڈ سی کو متاثرہ علاقوں میں ٹرین سروس کی جلد بحالی کے لیے مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔