Baaghi TV

Tag: الجزیرہ

  • اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے چھ صحافیوں کو "دہشتگرد” بنا دیا

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے انکشاف کیا ہے کہ الجزیرہ کے چھ صحافی حماس اور فلسطین اسلامی جہاد کے ساتھ کام کرتے ہیں

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کے لیے کام کرنے والے چھ صحافی حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے رکن ہیں۔ غزہ سے ملنے والی انٹیلی جنس معلومات اور متعدد دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ 6 صحافیوں کا غزہ کے عسکری گروپوں سے تعلق ہے،اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو ملنے والی دستاویزات میں دہشت گردی کے تربیتی کورسز کی فہرستیں، فون ڈائریکٹریز، اور دہشت گردوں کے لیے تنخواہ کے دستاویزات” شامل ہیں۔ دستاویزات "غیر واضح طور پر ثابت” کرتی ہیں کہ صحافی حماس اور اسلامی جہاد کے متعلقہ عسکری ونگز کے ارکان کے طور پر کام کرتے تھے۔ جن صحافیوں کو آئی ڈی ایف نے حماس کے عسکری ونگ کے کارندوں کے طور پر ظاہر کیا ہے، وہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق الجزیرہ میں خاص طور پر شمالی غزہ میں حماس کے لیے پروپیگنڈے کی سربراہی کرتے ہیں۔چھ صحافیوں کی شناخت انس جمال محمود الشریف، علاء عبدالعزیز محمد سلامہ، حسام باسل عبدالکریم شباط، اشرف سمیع احسور سراج، اسماعیل فرید محمد ابو عمرو اور طلال محمود عبدالرحمن اروکی کے نام سے ہوئی ہے۔

    اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق انس الشریف ایک راکٹ لانچنگ اسکواڈ کا سربراہ اور حماس کی نصرت بٹالین میں نخبہ فورس کمپنی کا رکن تھا۔ علاء سلامہ شبورہ بٹالین کے اسلامی جہاد کے پروپیگنڈہ یونٹ کے نائب سربراہ تھے۔ شبات حماس کی بیت حنون بٹالین میں ایک سنائپر تھا، اشرف سراج اسلامی جہاد کی بوریج بٹالین کا رکن تھا۔ ابو عمرو مشرقی خان یونس بٹالین میں ٹریننگ کمپنی کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اور عبدالرحمن اروکی حماس کی نصرت بٹالین میں ٹیم کمانڈر تھے۔اسماعیل ابو عمرو رواں سال فروری میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت الجزیرہ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس کے عسکری گروپوں سے روابط ہیں۔

    اس سال مئی میں بنجمن نیتن یاہو حکومت نے حماس کے حامی پروپیگنڈے پر اسرائیل میں الجزیرہ چینل کی نشریات کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد ستمبر میں اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے رام اللہ میں الجزیرہ بیورو کو بھی بند کر دیا تھا۔

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • اسرائیلی فوج کا الجزیرہ ٹی وی کے دفتر پر دھاوا، 45 روز کیلئے بندکرنےکا حکم

    اسرائیلی فوج کا الجزیرہ ٹی وی کے دفتر پر دھاوا، 45 روز کیلئے بندکرنےکا حکم

    رام اللہ: اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں قطر کے الجزیرہ ٹی وی کے بیورو آفس پر دھاوا بول دیا۔

    باغی ٹی وی : اتوار کی صبح الجزیرہ ٹی وی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے رام اللہ میں قطر کے الجزیرہ ٹی وی کے بیورو آفس پر دھاوا بولا،اسرائیلی فوج کی جانب سے زبردستی چینل کے بیوروکو 45 روز کے لئے بندکرنے کاحکم دیا گیا ہے۔

    الجزیرہ ٹی وی کی نشریات میں خلل ڈالنے سے قبل ٹی وی نے اسرائیلی فوج کی جانب سے چینل کے دفتر پر دھاوا بولنے اور ملٹری آرڈرز ٹی وی کے ایک ورکر کو تھمانے کی فوٹیج لائیو نشر کی تھی کارروائی سے کچھ دیر پہلے ٹی وی کو القسام بریگیڈ کی جانب سے ویڈیو موصول ہوئی تھی، اسرائیلی فوجی ڈرون کی ویڈیو میں غزہ میں خلاف ورزیوں کے شواہد ہیں۔

    اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

    اس سے قبل مئی میں اسرائیلی حکام نے یروشلم ہوٹل کے ایک کمرے پر چھاپہ مارا جو الجزیرہ اپنے دفتر کے طور پر استعمال کرتا تھا، یہ اس وقت ہوا جب حکومت نے الجزیرہ سٹیشن کے مقامی آپریشنز کو یہ کہتے ہوئے بند کرنے کا فیصلہ کیا کہ اس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہے۔

    افغان طالبان کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود رابطے ضروری ہیں،منیر اکرم

  • اسرائیل میں الجزیرہ کی نشریات کی بندش میں مزید 45 روز کے لیے توسیع

    اسرائیل میں الجزیرہ کی نشریات کی بندش میں مزید 45 روز کے لیے توسیع

    اسرائیل میں قطری چینل الجزیرہ کی نشریات کی بندش میں مزید 45 روز کے لیے توسیع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی :”روئٹرز” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ٹیلی کام کا اتوارکویروشلم میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹیلی کام کابینہ نے الجزیرہ کوسیکیورٹی خدشات کے باعث مزید 45 روز کےلیے بند رکھنے کی منظوری دے دی گئی۔

    ٹیلی ایویو کورٹ نے کچھ روز قبل الجزیرہ کی نشریات کو سیکیورٹی خدشات کے باعث ابتداعاً 35 دن کے لیے بند کیا تھا جوکہ ہفتے کو پوری ہوچکی تھی،اسرائیلی سپریم کورٹ نے الجزیرہ چینل کی بندش کے حوالے سے ایک علیحدہ درخواست میں بتایا کہ چینل کی بندش ایک قطری چینل کی بندش کا ہی تسلسل ہے،اس نے اسرائیل کی حکومت کو 8 اگست تک دلائل پیش کرنے کا وقت دیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ کسی غیرملکی نشریاتی ادارے کو قومی سلامتی کونقصان پہنچانےسے روکنے کا قانون کالعدم ہے۔

    الجزیرہ کا اس حوالے سے مؤقف تھا کہ وہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے جس سے قومی سلامتی کو کوئی نقصان پہنچے یا کسی قسم کی لڑائی یا جھگڑا ہو الجزیرہ چینل نے اسرائیلی کورٹ میں مؤقف اپنایا تھا کہ صرف اس چینل کواسرائیل میں بندش کا سامنا ہے جوغزہ میں اسرائیلی فوجی جارحیت نشرکر رہا ہے یا اس پر بات کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی حکومت نے قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کی نشریات بند کردی تھی جبکہ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اس فیصلے کو مجرمانہ اقدام کرتےہوئے مذمت کا اظہار کیا ہے۔

  • اسرائیل میں قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کی نشریات معطل کردی گئیں

    اسرائیل میں قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کی نشریات معطل کردی گئیں

    تل ابیب: اسرائیل میں قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کی نشریات معطل کردی گئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی سیٹلائٹ اور کیبل پرووائیڈرز نے الجزیرہ چینل کی نشریات معطل کردی ہیں، اسرائیلی سیٹلائٹ سروس کے مطابق اسرائیلی حکومت کے فیصلے پر اسرائیل میں الجزیرہ کی نشریات روک دی گئی ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اطلاعات شلومو کرہی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں الجزیرہ کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ انہوں نے الجزیرہ چینل کی بندش کے حکم پر دستخط کردیے ہیں اور یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، جبکہ اسرائیلی وزیر اطلاعات کے یہ احکامات ابتدائی طور پر 45 دن تک نافذ رہیں گے مگر اس کے بعد وزارت کو ضلعی عدالت کے سامنے اس فیصلے کو رکھنا ہوگا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے وزیر اطلاعات کو ہدایت کی ہےکہ اسرائیل میں الجزیرہ چینل کو بند کرنے کے ساتھ الجزیرہ چینل کے آفس کو سیل کرکے کمپیوٹرز اور موبائل سمیت دیگر سامان کو بھی ضبط کرلیا جائے،اسرائیل سے الجزیرہ کی ویب سائٹ تک رسائی کو بھی محدود کیا جائے۔

    میرپورخاص میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کا انکشاف

    الجزیرہ بیورو چیف نے اسرائیلی اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ اسرائیل کا فیصلہ خطرناک اور سیاسی ہے، اسرائیلی فیصلے کےخلاف قانونی چارہ جوئی کےلیےالجزیرہ کی لیگل ٹیم کام کر رہی ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم طویل عرصے سے اسرائیل مخالف ہونےکا الزام لگاتے ہوئے الجزیرہ کی نشریات بند کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران الجزیرہ کے متعدد صحافی اور ان کے اہلخانہ شہید ہوچکے ہیں، گزشتہ سال 25 اکتوبر کو ایک فضائی حملے میں غزہ کے بیورو چیف کی اہلیہ، بیٹا، بیٹی، پوتا اور 8 دیگر رشتہ دار شہید ہوگئے تھے۔

    مشی گن یونیورسٹی میں اسرائیل کیخلاف مظاہروں کے باعث تقریب معطل

    واضح رہےکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کابینہ نے الجزیرہ چینل بند کرنےکی منظوری دی تھی اسرائیلی کابینہ نے متفقہ طور پر اسرائیل میں الجزیرہ کا آپریشن بند کرنےکا فیصلہ کیا جب کہ اسرائیلی پارلیمنٹ الجزیرہ چینل کی عارضی بندش کےحق میں پہلےہی ووٹ دے چکی تھی۔

  • الجزیرہ کی خاتون صحافی پر فائرنگ غیر ارادی طور پر  ہوئی، امریکا

    الجزیرہ کی خاتون صحافی پر فائرنگ غیر ارادی طور پر ہوئی، امریکا

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہےکہ الجزیرہ کی خاتون صحافی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ غیر ارادی طور پر ہوئی،انہیں جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کےمطابق ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ شیریں ابو عاقلہ کی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاکت غیر ارادی واقعہ ہے تاہم آزاد تفتیش کار اس حوالے سے ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    ایران میں ریت کا طوفان،دفاتراور تعلیمی ادارے بند

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ فلسطینی حکام کی جانب سے دی جانے والی گولی کا تفصیل کے ساتھ فارنزیک تجزیہ کیا گیا بیلسٹک ماہرین کے مطابق گولی بری طرح خراب ہوچکی تھی جس کی وجہ سے واضح نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکا۔

    واشنگٹن کی جانب سے ان کی موت کے واقعے کی تحقیقات کے نتائج کے اجراء کے بعد اسرائیلی فوج نے واضح کیا ہے کہ امریکی نہیں بلکہ اسرائیلی ماہرین نے اس گولی کا بیلسٹک معائنہ کیا جس کے لگنے سے الجزیرہ کی صحافیہ شیریں ابوعاقلہ ماری گئی تھیں۔

    اس گولی کا اسرائیل کی فرانزک لیبارٹری میں بیلسٹک معائنہ کیا گیا۔اس کے علاوہ اسرائیلی ماہرین نے اس ہتھیار کا بھی معائنہ کیا ہے جہاں سے اسے فائر کیا گیا تھا تاکہ ان دونوں کے درمیان کسی قسم کے تعلق کا تعیّن کیا جاسکے فوج نے بیان میں کہا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران میں امریکی نمائندے موجود تھے۔

    نیوزی لینڈ‌ کرکٹ بورڈ کا مرد اور خواتین کرکٹرز کو برابر معاوضہ دینے کا فیصلہ

    یاد رہے کہ 11 مئی کواسرائیلی فورسز کی مغربی کنارے میں فائرنگ سے الجزیرہ ٹی وی کی خاتون رپورٹر شہید ہو گئی تھیں الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹر شیریں ابو عاقلہ کا تعلق فلسطین سے تھاجو جینن میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں کی کوریج کررہی تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کے بعد صحافی کو فوری اسپتال لے جایا گیا، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جا سکی، اور ڈاکٹرز نے ان کے مرنے کی تصدیق کی۔ الجزیرہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صحافی کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ، لیکن واقعے کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کو سر میں گولی ماری گئی تھی۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں واضح لکھا ہے کہ صحافی شیریں ابو عاقلہ کو اسرائیلی فورسز نے قتل کیا، تحقیقات کے نتائج ’آزادانہ مانیٹرنگ‘ کے ذریعے سامنے لائے گئے ہیں۔

    مصر کو نہر سویز کی وجہ سے 7 بلین ڈالر سے زائد کی ریکارڈ سالانہ آمدنی

  • اسرائیلی پولیس کی طرف سے الجزیرہ کی صحافی کے تابوت پر حملہ:اسرائیلی وزیراپنی حکومت پربرس پڑا

    اسرائیلی پولیس کی طرف سے الجزیرہ کی صحافی کے تابوت پر حملہ:اسرائیلی وزیراپنی حکومت پربرس پڑا

    یروشلم :جمعے کو اسرائیلی پولیس نے الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو اکلیح کی تابوت لے جانے والے فلسطینی سوگواروں پر حملے کے خلاف سخت ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ اسرائیلی وزیر برائے علاقائی تعاون اساوی فریج نے ہفتے کے روز مقبوضہ مشرقی یروشلم میں الجزیرہ کی صحافی شیرین ابو اکلیح کے جنازے پر حملہ کرنے پر اسرائیلی پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پولیس میں کوئی شرم اور حیا نہیں ہے

    فریج جو کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ میں ایک عرب قانون ساز بھی ہیں، نے ٹویٹ کیا کہ پولیس نے شیرین ابو اکلیح کی میت کی "بے حرمتی” کی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج نے سوگواروں کے ساتھ اظہارافسوس کرنے کی بجائے ان پرمزید قہر برپا کردیا ہے

    اسرائیلی وزیرفریج نے کہا کہ وہ جنازے کے دوران فلسطینی جھنڈوں سے اسرائیلی پولیس کے خوف کو نہیں سمجھ سکتے، انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینی وزراء کے ساتھ بیٹھتے ہیں جہاں میز پر اسرائیلی اور فلسطینی جھنڈے ہیں۔

    اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکی کانگریس کے ارکان سمیت دنیا بھر کے درجنوں حکام اور سفارت کاروں نے صحافی کے جنازے میں شریک فلسطینی سوگواروں پر اسرائیلی جبر کی مذمت کی۔

    یاد رہے کہ جمعہ کے روز اسرائیلی پولیس نے سوگواروں کو گھیرے میں لے لیا اور مشرقی یروشلم کے شیخ جراح محلے میں فرانسیسی ہسپتال کے باہر ابو اکلیح کی تابوت لے جانے والے پیلی بیئرز پر حملہ کرنے کے لیے سٹن گرینیڈ اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔

    51 سالہ تجربہ کار صحافی ابو اکلیح مقبوضہ مغربی کنارے میں جینین پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فوج کے ایک چھاپے کی کوریج کر رہی تھیں جب انہیں بدھ کے روز گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ فلسطینی حکام اور اس کے آجر الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اسے اسرائیلی فورسز نے قتل کیا ہے۔

  • اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں الجزیرہ کی معروف صحافی کا قتل، وزیراعظم کی شدید مذمت

    اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں الجزیرہ کی معروف صحافی کا قتل، وزیراعظم کی شدید مذمت

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی جانب سے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل کی جانے والی الجزیرہ کی معروف صحافی کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے الجزیرہ کی معروف صحافی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ الجزیرہ کی معروف صحافی شیریں ابو اکلیح کے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظلوم لوگوں کی کہانیاں سنانے والوں کی آواز کو خاموش کرنا اسرائیل کی جانب سے استعمال کی جانے والی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

     

     

    خیال رہے کہ ازہ ترین واقعے میں ظالم اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ ٹی وی کی معروف خاتون رپورٹر شیریں ابو عاقلہ جاں بحق اور ان کے ہمراہ موجود صحافی علی السمودی شدید زخمی ہو گئے۔

    الجزیرہ ٹیلیویژن کی تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں جنین پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بول کر ایک گھر کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی مسلح افراد کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اِن جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے دو صحافی شدید زخمی ہو گئے۔ ایک خاتون صحافی شیریں ابو عاقلہ جاں بحق اور علی السمودی زخمی ہوگئے۔

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ابو اقلہ کے سر میں گولی لگی تھی جبکہ ایک اور فلسطینی صحافی کو بھی گولی لگنے کا واقع پیش آیا ہے تاہم یروشلم میں مقیم القدس اخبار کے لیے کام کرنے والے علی سامودی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کے بعد صحافی کو فوری اسپتال لے جایا گیا، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جا سکی، اور ڈاکٹرز نے ان کے مرنے کی تصدیق کی۔ الجزیرہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صحافی کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ، لیکن واقعے کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ شیریں ابو اقلہ کو سر میں گولی ماری گئی تھی۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ ان صحافیوں کے لیے ایک بہت مشکل وقت ہے جو ان کے ساتھ وہاں کام کر رہے تھے۔جھڑپیں آئی ڈی ایف، شن بیٹ اور بارڈر پولیس فورسز کی گرفتاری کی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئیں، جن میں جنین پناہ گزین کیمپ، برکین قصبے کے قریب اور مغربی کنارے کے متعدد دیگر مقامات پر بھی شامل ہے۔

    جنین میں آپریشن کے دوران، فلسطینیوں کی طرف سے "بڑے پیمانے پر لائیو فائر” کے طور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات بھی پھینکے فوجیوں نے براہ راست فائرنگ کا جواب دیا۔فلسطین اور بیرون ملک سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر صحافی کی بہادری اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ صحافی زخمی ہوئے ہیں، "ممکن ہے فلسطینیوں کی فائرنگ سے” لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوئی ہلاک ہوا ہے آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل Avichai Adraee کے مطابق، اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ان کی موت کی مشترکہ تحقیقات شروع کرنے کی پیشکش کی۔

  • اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

    فلسطین میں الجزیرہ کی صحافی شیرین ابو اقلہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید جبکہ کیمرہ مین علی سمودی شدید زخمی ہو گئےشیریں ابو اقلہ کا تعلق فلسطین سے تھا، خاتون جینن میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں کی کوریج کررہی تھیں۔

    باغی ٹی وی : "یروشلم پوسٹ” کی رپورٹ کےمطابق الجزیرہ کی نامہ نگارشیریں ابو اقلہ بدھ کی صبح جنین میں مسلح فلسطینیوں اور آئی ڈی ایف فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران شہید اور ایک اور صحافی زخمی ہو گیا۔

    اسرائیل میں دنیا کا پہلا زیر زمین "راکٹ پروف” بلڈ بینک

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ابو اقلہ کے سر میں گولی لگی تھی جبکہ ایک اور فلسطینی صحافی کو بھی گولی لگنے کا واقع پیش آیا ہے تاہم یروشلم میں مقیم القدس اخبار کے لیے کام کرنے والے علی سامودی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کے بعد صحافی کو فوری اسپتال لے جایا گیا، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جا سکی، اور ڈاکٹرز نے ان کے مرنے کی تصدیق کی۔ الجزیرہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صحافی کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ، لیکن واقعے کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ شیریں ابو اقلہ کو سر میں گولی ماری گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ ان صحافیوں کے لیے ایک بہت مشکل وقت ہے جو ان کے ساتھ وہاں کام کر رہے تھے۔

    جھڑپیں آئی ڈی ایف، شن بیٹ اور بارڈر پولیس فورسز کی گرفتاری کی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئیں، جن میں جنین پناہ گزین کیمپ، برکین قصبے کے قریب اور مغربی کنارے کے متعدد دیگر مقامات پر بھی شامل ہے۔

    جنین میں آپریشن کے دوران، فلسطینیوں کی طرف سے "بڑے پیمانے پر لائیو فائر” کے طور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات بھی پھینکے فوجیوں نے براہ راست فائرنگ کا جواب دیا۔

    فلسطین اور بیرون ملک سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر صحافی کی بہادری اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ صحافی زخمی ہوئے ہیں، "ممکن ہے فلسطینیوں کی فائرنگ سے” لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوئی ہلاک ہوا ہے آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل Avichai Adraee کے مطابق، اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ان کی موت کی مشترکہ تحقیقات شروع کرنے کی پیشکش کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی یوم القدس پر فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی

    ابو اقلہ نے کئی ایجنسیوں جیسے کہ UNRWA، ریڈیو وائس آف فلسطین، عمان سیٹلائٹ چینل، مفتاح فاؤنڈیشن، اور ریڈیو مونٹی کارلو کے لیے کام کیا، آخر کار 1997 میں الجزیرہ کا رخ کیا۔ وہ عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر جانی جاتی اور عزت کی جاتی تھیں۔


    فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کی ایگزیکٹو کمیٹی کےرکن حسین الشیخ نے ٹویٹر پر لکھا ہماری گہری تعزیت فلسطینی صحافی شیرین ابو عقیلہ کے خاندان سے ہےجو آج اسرائیلی قبضے کی گولیوں سے شہید ہو گئی تھیں لفظ خاموش کرانے کا جرم ایک بار پھر سرزد ہوا اور حق قابض کی گولیوں سے مارا گیا۔ فلسطین میں ایک افسوسناک دن۔ ہم خُدا کے ہیں اور ہم اُسی کی طرف لوٹیں گے-

    ہولوکاسٹ کی حقیقت کو عرب دنیا کے سامنے لانے کی کوشش ہورہی ہے:ٹائمز آف اسرائیل


    برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام نے لکھا کہ اسرائیلی قابض افواج نے جنین میں ان کی بربریت کی کوریج کرتے ہوئے صحافی شیرین ابو اکلیح کو قتل کر دیا۔ شیریں سب سے ممتاز فلسطینی صحافی اور ایک قریبی دوست تھیں۔ اور اب ہم برطانوی اور عالمی برادری سے صرف حالات پر تشویش کے اظہار جیسے الفاظ سنیں گے۔

    آئی ڈی ایف اسرائیل میں جاری حملوں کو روکنے کی کوشش میں جنین اور پورے مغربی کنارے میں کام کر رہا ہے جس میں ڈیڑھ ماہ میں 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اسی عرصے کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 30 کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، یا تو حملے کرتے ہوئے یا جھڑپوں کے دوران۔ کئی راہگیر بھی مارے گئے ہیں، جن میں ایک نوعمر لڑکی بھی شامل ہے جو پڑھائی سے گھر لوٹ رہی تھی۔


    اپریل میں، جنین کے قریب فققہ قصبے سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ حنان خدور، جنین پرآئی ڈی ایف کے چھاپے کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی، جو کہ تل ابیب کے دہشت گردی کے حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں فلسطینیوں کے خلاف گرفتاریاں کر رہے تھے جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ خدور کو مسلح فلسطینیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران پیٹ میں گولی لگی تھی –

    رمضان قدیروف ایک غدار اور ولادیمیر پیوٹن کے زرخرید ہیں،چیچن کمانڈر


    فلسطینی وزارت صحت نے دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہوئیں اور آئی ڈی ایف کے ترجمان یونٹ نے کہا کہ وہ ان دعوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ  تعلقات ،کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے،وزیراعظم

    مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ تعلقات ،کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے،وزیراعظم

    مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ تعلقات ،کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ کرپشن ملک کو تباہ کر دیتی ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غریب ممالک اپنے وسائل کی وجہ سے غریب نہیں ہیں،کوئی بھی ملک غریب اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی لیڈرشپ کرپٹ ہوتی ہے، اکثر لوگ پیسہ کمانے کے لیے سیاست کا رخ کرتے ہیں،جو بھی حضرت محمد ﷺکی تعلیمات کی پیروی کریگا وہ کامیاب ہو گا،ہم ملک کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں ،پاکستان کی بدحالی کے ذمہ دار بھٹو اور شریف خاندان ہیں ہمارا مقابلہ دو ایسے خاندانوں سے ہے جو دولت سے مالا مال ہیں،چینی اسکینڈل پر حکومت حرکت میں آئی ،وزیروں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات آئے تو شفاف تحقیقات کروں گا،مغرب میں قیام کی وجہ سے مغربی سیاست سے کافی واقفیت ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کھیل ہمیں ہار جیت اور حالات کا سامنے کرنے کا فن سکھاتا ہے،جیت سے زیاد ہ ہار ہمیں غلطیوں سے متعلق سیکھاتی ہے،میرے پاس سب کچھ تھا مشن کے طور پر سیاست میں آیا، نائن الیون میں کوئی افغان شہری ملوث نہیں تھا،افغانستان کے معاملے میں پاکستان مشکل صورت حال سے دوچار ہےافغانستان میں بحران کی صورت میں شدت پسند تنظیمیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے،بھارت میں انتہا پسندوں اور جنونیوں کی حکومت ہے بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیں گے،بھارت اگر حملہ کرے گا تو پاکستان پوری قوت سے جواب دے گا ،ہم کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اجاگر کریں گے بھارت اگر حملے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا،بھارت میں بی جے پی کی فاشسٹ حکومت ہے مسئلہ کشمیر اسلامی تعاون تنظیم میں اٹھایا اور اسلامی ممالک سے بات کی،مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ اپنے تعلقات ہیں، ان سے کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک اس لیے غریب ہیں ان کےحکمران ،اشرافیہ اور وزرائے اعظم پیسہ لوٹتے ہیں، ہمارے ملک میں لوگ رسولؐ سے بہت زیادہ محبت اور لگاؤ رکھتے ہیں، چاہتا ہوں نبیؐ نوجوان نسل کے رول ماڈل ہوں،نبیؐ کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی،میں سویت یونین افغانستان سے گیا تو بحران کی صورتحال پیدا ہوئی، ہم نے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو جگہ دی، پاکستان میں پہلے ہی 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں افغانستان میں صورتحال خراب ہوئی تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوگا، افغانستان میں جو کچھ ہوا اس کے بعد امریکا صدمے میں ہے،افغان حکومت کے مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈالنے پر امریکا شدید غم وغصہ میں ہے،

    ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

    امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید