Baaghi TV

Tag: الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان

  • الخدمت فاؤنڈیشن کا 15 ارب روپے کا ’ری بلڈ غزہ‘ پروگرام کا آغاز

    الخدمت فاؤنڈیشن کا 15 ارب روپے کا ’ری بلڈ غزہ‘ پروگرام کا آغاز

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے جنگ بندی کے بعد غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے 15 ارب روپے کے بڑے منصوبے ’ری بلڈ غزہ‘ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    صدر الخدمت فاؤنڈیشن ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے قاہرہ سے واپسی پر پریس بریفنگ میں بتایا کہ اب تک غزہ کے متاثرین کے لیے 8 ارب 10 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ان کے مطابق 5 ہزار ٹن امدادی سامان پر مشتمل 35 کنسائنمنٹس ایئر کارگو اور بحری راستوں سے غزہ روانہ کی گئیں، جن میں خیمے، کمبل، خوراک، آٹا، چاول، ہائی جین کٹس، ڈلیوری اور بے بی کٹس سمیت دیگر ضروری اشیاء شامل تھیں۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے بتایا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 6 ہزار خاندانوں کے لیے فوڈ پیکجز، 100 ٹن امدادی سامان اور 100 ٹن چاول قاہرہ سے غزہ بھیجے جا رہے ہیں، جبکہ 100 ٹن قربانی کا گوشت ’ریڈی ٹو ایٹ‘ پیکٹس کی صورت میں تیار کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غزہ میں الخدمت کے 6 واٹر فلٹریشن پلانٹس پہلے سے کام کر رہے ہیں جنہیں بڑھا کر 100 منصوبوں تک توسیع دی جائے گی۔صدر الخدمت کے مطابق موسمِ سرما کے پیش نظر آئندہ ہفتے 2 کارگو فلائٹس پاکستان سے روانہ ہوں گی جن میں شیلٹرز، خیمے، کمبل، گرم کپڑے اور سلیپنگ بیگز شامل ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ 2 شیلٹر اسکول غزہ میں فعال ہیں جبکہ مزید 5 اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ الخدمت اسکالرشپ پر زیرِ تعلیم 404 فلسطینی طلبہ کی تعداد کو ایک ہزار تک بڑھایا جائے گا، جبکہ یتیم بچوں کی کفالت 750 سے بڑھا کر 3 ہزار تک کی جا رہی ہے۔

    ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے بتایا کہ 1550 شہداء فیملیز کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، جن میں سے 50 خاندانوں کی کفالت کا آغاز کیا جا چکا ہے۔طبی امداد کے حوالے سے بتایا گیا کہ 394 ٹن ادویات اور 3 ایمبولینسز غزہ میں خدمات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ 500 زخمیوں کو پاکستان لا کر علاج فراہم کرنے کا منصوبہ بھی آخری مراحل میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ ہسپتال تیار کر لیا گیا ہے جہاں مصنوعی اعضا کی تیاری کی سہولت بھی دی جائے گی، جبکہ ’ری بلڈ غزہ‘ پروگرام کے تحت 5 شیلٹر مساجد کی تعمیر شروع ہو چکی ہے جسے بڑھا کر 25 مساجد تک کیا جائے گا۔

    ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ یہ منصوبہ محض ریلیف نہیں بلکہ غزہ کے عوام کی پائیدار بحالی کی طرف ایک جامع قدم ہے۔
    انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستانی عوام کا تعاون الخدمت کا حوصلہ ہے اور یہ کوششیں غزہ کے عوام کی باوقار زندگی کی بحالی تک جاری رہیں گی.

    پاکستان کا خلائی پروگرام ، پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں پہنچ گیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان اسٹیل ملز سے چوری ہونے والا 200 کلو کاپر کباڑ گودام سے برآمد

    اسرائیل کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام حماس نے مسترد کر دیا

  • الخدمت کے رضا کارہی اس کے فرنٹ لائن سپاہی ہیں،منعم ظفر خان

    الخدمت کے رضا کارہی اس کے فرنٹ لائن سپاہی ہیں،منعم ظفر خان

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ الخدمت کے رضا کار ہی اس کے فرنٹ لائین سپاہی ہیں۔

    الخدمت والنٹیئرز پروگرام کے تحت ’’عالمی یوم رضاکار‘‘ کے موقع پر مقامی ہال میں ’’الخدمت یوتھ گیدرنگ 1.0‘‘سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 اور 2022 میں آنے والا سیلاب الخدمت کے رضاکاروں نے ہمیشہ فرنٹ لائین پر ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔خدمت اور دیانت ہی الخد مت کی ٹیگ لائین ہے۔ نوجوان بطورِ رضاکار ملک وقوم کی خدمت کے لئے الخدمت سے جڑ جائیں۔’’عالمی یوم رضا کار، یوتھ گیدرنگ‘‘ الخدمت کراچی کا پہلا پروگرام ہے جو آئندہ ہر سال منعقد کیا جائے گا۔ تعلیم کے میدان میں الخدمت بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔انٹر نیٹ کی سست روی سے آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں کو مسائل کا سامنا ہے جن کا حل بہت ضروری ہے، حکومت اس معاملے کو فوری حل کرے، اطلاعات کے مطابق انٹرنیٹ کی سست روی سے آئی ٹی انڈسٹری کوایک بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جو افسوسناک ہے۔ تقریب سے الخدمت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی، ڈائریکٹر والنٹیئرز مینجمنٹ یوسف محی الدین، ڈائریکٹر کمیونٹی سروسز قاضی سید صدر الدین،آئی ٹی کنسلٹنٹ شمیم راجانی، بینک الفلاح کے محمد عبد الرحیم،فلسطینی طلبہ جابز ایم جے نوفل اور دائی بی آئی ابوتیمہ نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر بنو قابل پروگرام فاروق کملانی اور ڈائریکٹر ڈائگنوسٹک سروسز ڈاکٹر عظیم الدین و دیگر بھی موجود تھے جبکہ وقار علی نے نوجوانوں کو لیڈر شپ کے عنوان سے لیکچر دیا،تقریب میں الخدمت والنٹیئرزکی بڑی تعداد نے شرکت کی،تقریب میں سال بھر الخدمت کی سرگرمیوں، بنو قابل گریجویشن تقریب،آرفن کیئر پروگرام کی سالانہ ہیلتھ اسکریننگ،الخدمت میگا پلانٹیشن ڈرائیو میں بہتر ین کاردگی دکھانے والے رضاکاروں کو شیلڈز اور تقریب میں تمام رضاکاروں کو اسناد دی گئیں۔
    علاوہ ازیں الخدمت کے تحت ’’برشز فار فلسطین‘‘ کے عنواان سے مقابلہ مصوری میں اول،دوم سوم پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو ایوارڈ زاور 2ایوارڈ خصوصی بچوں کو بھی دیئے گئے۔منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ ملک کا 65 فیصد نوجوان طبقہ ہے جو اس ملک کا اثاثہ ہے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ یہاں تعلیم ہے نہ صحت سہولتیں،پانی،بجلی اور گیس جیسے مسائل درپیش ہیں اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔
    ایسے میں الخدمت نے ان نوجوانوں کا ہاتھ تھام لیا ہے اور انہیں بنو قابل پروگرام کے ذریعے فری آئی ٹی کورسز کروائے جا رہے ہیں تاکہ یہ نوجوان نہ صرف اپنے بلکہ اپنے خاندان کے لیے روزگار کما سکیں اور اپنا اور ملک و قوم کا مستقبل بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ 3.2 بلین ڈالرجبکہ سنگاپور کی آبادی کراچی کے ایک ضلع سے بھی کم ہے وہاں کی ایکسپورٹ 400ملین ڈالر ہے۔الخدمت نے حافظ نعیم الرحمن کے وڑن کو آگے بڑھایا ہے۔ کراچی سے شروع ہونے والا بنو قابل پروگرام ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے 10 لاکھ نوجوانوں کو فری آئی ٹی اسکل دینے کا اعلان کیا ہے اور اسے ان شائ اللہ پورا کریں گے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ دو سال میں ہم نے 50 ہزار طلبا ئ و طالبات کو فری آئی ٹی کورسز کروا ئے ہیں، بنو قابل 4.0کے اس وقت 8 اضلاع میں ایپٹی ٹیوٹ ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں۔بنوقابل پروگرام کے تحت 28 کورسز کروائے جا رہے ہیں۔پہلے 20 آئی ٹی ٹریننگ سینٹر قائم تھے جو اب بڑھا کر 55کر دیے گئے ہیں۔ بنو قابل پروگرام اور پاکستان کے نوجوانوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔منعم ظفر خان نے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی سی48 ہزار بچے خواتین بوڑھے شہید ہو چکے ہیں،ایک لاکھ زخمی ہیں،اگر مظلوم فلسطینیوں کی کسی نے مدد کی ہے تو الخدمت ہے اب تک 23 کنسائنمنٹس کے ذریعے مظلوم فلسطینیوں کو بنیادی ضروریات کی اشیاء فراہم کرچکی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔راشد قریشی نے کہا کہ الخدمت والنٹیئرز کا یہ پروگرام ہرسال منعقد کیا جائے گا،تمام والنٹیز کا تعلق مختلف جامعات اور کالجز سے ہے،نوجوان خدمت کے اس کام اور الخدمت کے پیغام کو آگے بڑھائیں اور مزید نوجوانوں کو بطوررضاکار والنٹیئر پروگرام میں شامل کروائیں۔ قاضی سید صدالدین نے کہا کہ الخدمت والنٹیئر ز نے الخدمت کی ہر سرگرمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے،فلسطینیوں کی مدد کی بات ہو تو اس میں بھی ان کا کردار اہم ہے،فلسطینی اس وقت شدید مشکل کا شکار اور ہماری مدد کے منتظر ہیں۔الخدمت انہیں اب تک بڑی تعداد میں ہائی جین کٹس،خیمے،ملبوسات، تیار شدہ کھانااور ادویات فراہم کر چکی ہے۔ یوسف محی الدین نے کہا کہ والنٹیئرزالخدمت کے لئے بہت اہم ہیں۔ہمیں اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا ہو گا،خدمت کے کاموں سے انسان کو جو اطمینان حاصل کو تا ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں،الخدمت کے پروگرامز میں رضاکاروں نے سارا سال کام کیا اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔محمد عبد الرحیم نے 2022کے سیلاب کے دنوں میں الخدمت اور دیگر این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا احوال بتایا اور کہا کہ خدمت کا جذبہ ہو تو بڑے بڑے کام ہم آسانی سے کر سکتے ہیں،الخدمت کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کا تجربہ ایک یاد گار تجربہ ہے۔فلسطینی طلبہ جابز ایم جے نوفل اور دائی بی آئی ابوتیمہ نے فلسطین کے تشویشناک حالات بیان کیے اور کہا کہ عالمی برادری کو انصاف سے کام لیتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے حل میں حقیقی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے الخدمت اور اہل پاکستان سے بھی اظہار تشکر کیا۔

    نیپرا نے بجلی صارفین کیلیے ونٹر پیکج کی منظوری دے دی

    سرفراز دلبرداشتہ ،ریٹائرمنٹ کا اشارہ دے دیا

    متحدہ نے یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018ء میں ترمیم مسترد کر دی

    تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت، چین کی 13 امریکی کمپنیوں پر پابندیاں

  • صدرالخدمت ڈاکٹر حفیظ الرحمن کا سندھ ریجن کے دفتر کا دورہ

    صدرالخدمت ڈاکٹر حفیظ الرحمن کا سندھ ریجن کے دفتر کا دورہ

    صدرالخدمت فانڈیشن پاکستان پروفیسرڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کراچی میں واقع الخدمت سندھ ریجن کے دفتر کا دورہ کیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر صدرالخدمت سندھ ڈاکٹرسیدتبسم جعفری، ڈاکٹراحمدسفیان ،عبدالرزاق سمیت دیگرذمہ داران موجودتھے۔صدرالخدمت پاکستان کو سندھ بھرمیں جاری صاف پانی اورطبی سہولیات کی فراہمی کیمنصوبوں سمیت تمام دیگرسرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔پروفیسرڈاکٹرحفیظ الرحمن نے الخدمت سندھ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہاکہ الخدمت کے ہر ایک کارکن کاجذبہ قابل ستائش ہے۔اللہ کی مدد اور کارکنان کی کاوشوں کے باعث اتنے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔

    کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کا آغاز

    ان کامزیدکہناتھاکہ الحمدللہ دنیابھرسے مخیرحضرات نے الخدمت پربھروسہ کیا جس کی بدولت فلسطین میں بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ الخدمت کی جانب سے غزہ کے متاثرین کیلئے خوراک،پانی اور ادویات سمیت دیگرضروریات زندگی کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔

    کےالیکٹرک نے بجلی مہنگی کرنے کی تیاری کرلی

  • الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا  یتیم بچوں،بیواؤں اور بزرگوں کیلئے گرینڈ افطار  کا انعقاد

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا یتیم بچوں،بیواؤں اور بزرگوں کیلئے گرینڈ افطار کا انعقاد

    لاہور: الخدمت فاؤنڈیشن کے کفالت یتامیٰ پروگرام کے تحت 2 ہزار یتیم بچوں اور 1 ہزار بیواؤں اور اولڈ ایج ہوم کے سینکڑوں بزرگوں کیلئے گرینڈ افطار کا انعقاد کیا گیا، یتیم بچوں کیلئے جمپنگ کیسل،فیس پینٹنگ، میجک شو اوربچیوں کے لئے مہندی کے اسٹال کا اہتمام، عیدی، کپڑے اوردیگر تحائف بھی تقسیم کئے گئے ،صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کہا کہ الخدمت ملک بھر میں یتیم بچوں کے لیے افطار اور عید شاپنگ کا انعقاد کر رہی ہے ۔

    باغی ٹی وی : الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے سینئر منیجر میڈیا ریلشنز ک شعیب ہاشمی کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے کفالت یتامیٰ پروگرام کے تحت 2 ہزار یتیم بچوں،بیوہ خواتین اور اولڈ ایج ہومز میں رہنے والے بزرگ افراد کے لیے گرینڈ افطار اورعیدتحائف کی تقسیم کا اہتمام کیا گیا۔

    تقریب میں شریک بچوں کے لئے جمپنگ کیسل،فیس پینٹنگ، میجک شو اور بچیوں کے لئے مہندی کے اسٹال کا خاص اہتمام کیا گیا تھاجبکہ بعد ازاں بچوں ، اُن کی ماؤں اور معمر افراد میں عیدی، کپڑے اوردیگر تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔ تقریب میں صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹرحفیظ الرحمن،نائب صدر ڈاکٹر مشتاق مانگٹ، صدر وسطی پنجاب اکرام الحق سبحانی،صدر الخدمت لاہور حماد احمد رشید سمیت یوتھ سوسائٹیز کے نمائندگان، یتیم بچوں،اُن کی باہمت ماؤں اور اولڈ ایج ہوم کے بزرگوں سمیت زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب میں میزبانی کے فرائض سینئر منیجر میڈیا ریلشنز شعیب ہاشمی نے سر انجام دیے۔ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن 30 ہزار یتیم بچوں کی کفالت پرسالانہ اڑھائی ارب روپے خرچ کررہی ہے،آرفن کی باہمت ماؤں اور بزرگوں کے لئے مختلف پراجیکٹس کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ایسی تقاریب کا مقصد آرفن بچوں، ان کی باہمت ماؤں اور اولڈایج ہومز میں مقیم بزرگوں میں احساس محرومی ختم کرکے انھیں رمضان اور عید کی خوشیوں میں شریک کرنا ہے، رمضان میں آرفن بچوں کیلئے اضلاع،ریجن اور مرکزی سطح پر مختلف افطارپروگرامات منعقدکئے جاتے ہیں ان باہمت بچوں کو عیدکی خریداری کروائی جاتی ہے تاکہ یہ اپنے والدین کی کمی کوکم محسوس کریں۔

    یتیم بچے اوریہ بے گھر بزرگ افراد ہمارے معاشرے کا توجہ طلب طبقہ ہیں۔الخدمت کے والنٹیرز کی جانب سے اِن کے لیے کی جانے والی کاوشیں اور اقدامات قابل تحسین ہیں۔ ہمیں اس نیک مقصد کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر مل کر معاشرے کے اس نادار اور مستحق طبقے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ اس وقت غزہ تباہی کے دھانے پر 22 لاکھ افراد محصور اور ہماری امداد کے منتظر ہیں الخدمت فاؤنڈیشن مسلسل غزہ ریلیف کیلئے سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے ایک ارب 70 کروڑ سے زائد مالیت کا امدادی سامان ہم مختلف ذرائع سے غزہ بھجوا چکے ہیں، جبکہ امدادی سامان کی ترسیل مسلسل جاری ہے۔

    ڈاکٹر مشتاق مانگٹ نے کہا کہ رمضان اور عید کی خوشیوں میں اپنے ساتھ شریک کرنا یتیم بچوں اور بے سہارا معمر افراد کا بھی حق ہے۔اِسی احساس کے ساتھ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار ہر سال کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کے ساتھ مل کر یتیم بچوں، اُن کی ماؤں اور اولڈ ایج ہوم کے بے گھر خواتین و حضرات کے لیے افطار اور عید تحائف کا اہتمام کرتے ہیں، عید کے تحائف کا اہتمام الخدمت کے رضاکار کرتے ہیں اور بچوں کے لیے ایسا خوبصورت میلہ لگاتے ہیں تاکہ انہیں بھی خوشیوں میں شریک کیا جا سکے۔

  • سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    ملک پاکستان سیلاب جیسی آفت سے دو چار ہے۔ چاروں جانب پانی ہی پانی ہے۔ مگر یہ پانی پینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں چھیننے کے لیے ہے۔بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی، کوئٹہ ،لسبیلہ،نصیر آباد، نوشکی، سندھ میں جامشورو، ، ٹنڈوآدم ،مٹیاری، پنوعاقل،لاڑکانہ ،سانگھڑ سکھر ، ٹھٹھہ،میرپور خاص،سکھر،حیدرآباد اور پنجاب کے علاقے راجن پور، تونسہ شریف، لیاقت پور اور فاضل پور کے دیہات سمیت دیگر کئی علاقے اس وقت سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔لوگوں کے گھر ٹوٹ چکے ہیں۔ جانور بپھرا ہوا پانی بہا کر لے گیا ہے۔ کئی مائیں اپنے لاڈلوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔

    نا جانے اس پانی نے ان کے پیاروں کے ساتھ کیا کیا ہو گیا ؟۔ انکی نعشوں کو خشک زمیں تک نہ مل پائی۔ ہائے ! کیسا دکھ ہے یہ کہ جنھوں نے اپنی ساری جمع پونجی سے گھر بنایا تھا۔ مگر ابھی اس گھر میں ایک رات تک نہیں گزاری تھی۔اور اسی گھر کو اپنی آنکھوں کے سامنا سیلاب میں بہتا دیکھنا پڑا۔لوگ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ بے گھر لوگ سڑک کنارے بھوکے بیھٹے ہیں۔ بچے بیمار پڑے ہیں ۔

    اور ایسے میں ان بچوں کی مائیں تو پریشان ہیں ۔مگر ایک اور ماں جسے ریاست کہتے ہیں۔ چپ سادھے بیٹھی ہے۔نا جانے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ کرنا نہیں چاہتیں یا بے بس ہیں۔ نہ کوئی عمران نظر آرہا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران ۔

    ‏کِتھے نیں عمران وغیرہ
    ڈُب گئے جے انسان وغیرہ

    زرداراں دے شہر وی آئے
    پانی دے طوفان وغیرہ

    شہبازاں نُوں کون جگاوے
    کون کرے اعلان وغیرہ

    نہ لبھیا پرویز الہی
    نہ کوئی عثمان وغیرہ

    مولانا نُوں لبھو آ کے
    چَھڈن کوئی فرمان وغیرہ

    ملک ریاض نُوں میسج بھیجو
    لے کے آوے دان وغیرہ

    ‏شاہ محمود تے پیر گیلانی
    ٹُر گئے نیں گیلان وغیرہ

    این ڈی ایم اے سُتی رہ گئی
    کون بچاندا جان وغیرہ

    موت کلہنی کھو لیندی اے
    ہونٹاں توں مسکان وغیرہ

    کون سنبھالے مجبوراں نوں
    کون کرے احسان وغیرہ

    ہور نہ اُنگل چُک حکیما!
    مارن گے دربان وغیرہ

    مگرایک ایسا ادارہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیلاب متاثرین کی دادرسی کو سب سے پہلے پہنچا ۔ لوگوں کو دلدل سے نکالا۔بیشتر بے گھر متاثرین کو خیمے دیے تاکہ وہ عارضی طور پر اپنے سر چھپا سکیں۔یہ وہ ادارہ ہے۔ جس کا دستور اور منشور دونوں خدمت ہیں۔ آپ متاثرہ علاقوں میں خود جاکر دیکھیں ، مین سٹریم میڈیا دیکھیں یا پھر سوشل میڈیا آپکو ہر جگہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نظر آئیں گے ۔اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ رضاکار متاثرین کو بچانے میں مصروف عمل ہیں ۔جن علاقوں میں حکومت وقت پہنچ ہی نہیں پائی ۔ان متاثرہ علاقوں کی گلی گلی میں الخدمت کے رضاکار پہنچے ہیں۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان 1990 سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے۔ اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ ، تعلیم ، صحت ، یتیموں کی کفالت جیسی دیگر کئی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ اور اب الخدمت فاؤنڈیشن لوگوں کا ٹرسٹ اور امید بن چکی ہے۔

    2022 کی اس آفت میں سوشل میڈیا دیکھیں تو کئی لوگ جنہیں ریاست کو مدد کے لیے پکارنے چاہیے۔وہ الخدمت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں ۔ اس سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دیجیے ۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو جلد از جلد اس آفت سے نجات دلائے۔ اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے والوں کو اجر عظیم دے۔