Baaghi TV

Tag: الشفا ہسپتال

  • غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی، جو آج تک جاری ہے، اسرائیلی حملے میں ہزاروں فلسطینی شہری شہید، لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، عمارتیں، ہسپتال، سکول، مساجد، چرچ پر بھی بمباری کی گئی، ہسپتالوں کو اسرائیلی فوج نے خصوصی نشانہ بنا لیا، اب اسرائیل نے غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کو تباہ کر دیا ہے

    اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال کو محاصرے میں رکھا، اسرائیلی فوج نے ہسپتال میں گھس کر پناہ لئے شہریوں کو گرفتار کیا، ان پر تشدد کیا، انہیں برہنہ کیا گیا اور پھر آج اسرائیلی فوج نے تمام عالمی قوانین کو روندتے ہوئے ہسپتال پر بلڈوزر چلا دیئے،اسرائیلی فوج نے سپیشل سرجریز کی عمارت مکمل تباہ کر دی ہے جبکہ ادویات اور طبی آلات کے گودام کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ہے، اس دوران اسرائیلی فوج نے دو سو کے قریب بے گناہ ،نہتے فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا

    اسرائیل مسلسل یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ الشفا میں حماس کا ہیڈ کوارٹر ہے تا ہم اسرائیل آج تیسرا دن اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ اسرائیلی فوج کا ہسپتال پر مکمل کنٹرول ہے، اسرائیلی فوجی جعلی ویڈیو جاری کر رہے ہیں جس میں سے ایک ویڈیو کو ڈیلیٹ بھی کیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق الشفا ہسپتال میں حماس کا کوئی سراغ نہ ملنے پر الشفاء اسپتال میں حماس کی موجودگی کے دعویٰ غلط ثابت ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں اسپتال میں بڑی تباہی مچائی گئی، بلڈوزر اور فضائی حملوں سے الشفا اسپتال کو زمین بوس کیا گیا

    غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بلڈوزروں نے ہسپتال کے جنوبی داخلی راستے کے کچھ حصوں کو تباہ کر دیا.اسرائیلی فوجیوں نے الشفا ہسپتال میں موجود عملے اور دیگر شہریوں کو انسانی ڈھال بنا یا ہوا ہے،

    ہسپتالوں پر مسلسل حملے، غزہ میں جہاں اموات میں روز اضافہ ہو رہا ، بچے بھی شہید ہو رہے، ایسے میں غزہ میں پچاس ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جو اپنے آنے والے بچوں کے مستقبل کے حوالہ سے فکر مند ہیں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ خود بھی اسرائیلی بمباری سے بچ پائیں گی یا نہیں اگر خود مر گئیں تو انکے بچوں کا کیا ہو گا،ڈاکٹر اشرف محمود البشیطی کا کہنا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 50,000 حاملہ خواتین انتہائی خطرے میں پڑ جائیں گی، ان حاملہ خواتین کو نہ صرف بچانا ہے بلکہ انکے بچوں کو بھی بچانا ہے،

    اسرائیلی بمباری سے ایک طرف اموات ہیں تو دوسری طرف جو لوگ زندہ ہیں انکی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں، خوراک، پانی کی قلت،ادویات کی کمی بڑے مسائل ہیں تو وہیں کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے،لاکھوں لوگ کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں خواتین، بوڑھے بچے سب شامل ہیں، ریلیف کیمپوں میں خواتین کی حالت بارے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ خواتین زیادہ پریشان ہیں، غزہ میں 50 ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جنہیں علاج، خوراک کی سہولیات میسر نہیں،حاملہ خواتین زیادہ تکلیف اور خوف میں رہتی ہیں، گھر ملیامیٹ ہو چکے ، ریلیف کیمپوں میں انکو وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئے،33 سالہ خاتون نیوین الباری جو حاملہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، وہ شدید پریشان ہیں، مسلسل بمباری کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے بچے کا کیا بنے گا، انکی کمر اور پیٹ میں درد رہتا ہے مگر کوئی انکا علاج کروانے والا نہیں، وہ کیمپ میں رہ کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں،نیوین کا کہنا ہے کہ میں صرف اس امید سے جی رہی ہوں کہ میرا بچہ محفوظ رہے،نیوین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر ہے تاہم یہاں اسے ادویات نہیں مل رہیں.اسرائیلی حملوں سے قبل وہ باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تھیں اور اپنا علاج کروا رہی تھیں لیکن اب تو اپنے خاندان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، خاندان کے باقی افراد کہاں ہیں کس حال میں ہیں وہ کچھ نہیں جانتی،

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین
    غزہ کے ریلیف کیمپ میں زندگی گزارے والی نیوین کہتی ہیں کہ میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بمباری ہو رہی ہے، کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،ہمیں نہیں معلوم کب کہاں بم گرے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،میں یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ میں اور میرا بچہ محفوظ رہے،

    الجزیرہ کے مطابق نیوین اکیلی اس مسئلے کا شکار نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں 50 ہزار حاملہ خواتین ہیں، کئی ایسی ہیں جو حمل کے آخری ماہ میں ہیں اور انکا باقاعدگی سے معائنہ بھی نہیں کیا جا رہا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق تقریبا 50 ہزار حاملہ خواتین علاج معالجہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں،

    نیوین کا کہنا ہے کہ زخمیوں لاشوں کو دیکھتی ہوں تو خوفزدہ ہو جاتی ہوں، روز دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے تا کہ میرے دنیا میں آنے والے بچے کو میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں کے میڈیکل کنسلٹنٹ ولید ابو حاتب کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے صحت کے مراکز تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے،

    وزارت صحت کی طرف سے فراہم کردہ تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ کے کئی ہسپتال تباہ ہو چکے، اب غزہ میں 35 میں سے صرف 9 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں،اسرائیلی حملوں میں اب تک 12 ہزار کے قریب شہری شہید ہو چکے جن میں ساڑھے چار ہزار بچے شامل ہیں، 29 ہزار سے زائد شہری زخمی ہیں،الشفاء ہسپتال میں 11 نومبر سے اب تک 3 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں سمیت 40 مریضوں کی ایندھن کی کمی کے باعث موت ہوچکی ہے.

    اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے 202 اور سول ڈیفنس کے 26 اراکین کی موت ہو چکی ہے، طبی عملے کے دو سو سے زائد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں،1770 بچوں سمیت 3640 شہری لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں گرنے والی عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے، تاحال انکو نہیں نکالا جا سکا، گمان ہے کہ انکی موت ہو چکی ہو گی،اسرائیلی حملے میں دو لاکھ 76 ہزار گھر تباہ ہو چکے ہیں،اسرائیل نے فضائی حملوں میں 60 سے زائد ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا،

    الجزیرہ کے مطابق ، الشفاء ہسپتال کے اطراف اور السرایا موڑ کی طرف جانے والے تمام راستوں میں صبح سے ہی جھڑپیں جاری ہیں.الصبر محلے اور شیخ رضوان محلے کے مغربی جانب بھی رات بھر جھڑپیں ہوتی رہیں،اس علاقے میں اسرائیل نے بمباری بھی کی،الشفا ہسپتال غزہ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ہم بہت ہی مشکل ترین حالات میں ہیں اور اس وقت گردوں کے مریض اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں ہم پیاس کے مارے چیخ رہے ہیں اور فوت ہو جانے والوں کو دفن کرنے سے قاصر ہیں،

    الشفا ہسپتال کو تباہ کرنے پرسعودی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آیا ہے، سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے شہریوں اورطبی عملے کے خلاف انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کا جواب طلب ہونا چاہئے، سعودی عرب اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے بچوں، خواتین، شہریوں، طبی سہولیات اورامدادی ٹیموں کے خلاف مسلسل انسانی خلاف ورزیوں اورقابض فوج کی وحشیانہ اور غیرانسانی کارروائیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی احتساب کے طریقۂ کارکوفعال کرنے کی ضرورت پرزوردیتی ہے.

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے آبائی گھر پر بمباری کی ہے، غزہ کے علاقے الشطی مہاجر کیمپ میں اسماعیل ہنیہ کے خاندانی گھر پر بم برسائے گئے، اسرائیلی فوج نے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اسماعیل کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق جس گھر پر بمباری کی گئی اس گھر میں اسماعیل ہنیہ نے اپنا بچپن گزارا تھا،اسرائیلی فوج کے گھر پرحملے میں ہلاکتوں کے حوالے سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دھاوا،بے گھر افراد گرفتار،کیا گیا برہنہ

    اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کے بعد غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال میں ڈاکٹر ،مریض اور بے گھر افراد ہیں، اسکے باوجود اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال پر دھاوا بول دیا ہے، ترجمان اشرف القدرہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اور ہمارے پاس چھپانے کے لئے بھی کچھ نہیں،الشفا ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں موجود ملازم عمرزقوت نے خبر رساں ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شفا ہسپتال سے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، گرفتاری کے دوران انہیں برہنہ کر دیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوجی امداد کے نام پر گرفتاریاں کرنے آئے تھے، فوج ہسپتال کو مکمل گھیرے میں‌ لے رہی ہے، ہسپتال میں 180 سے زائد لاشیں خراب ہو رہیں ہیں،جو صحن میں پڑی ہیں،ہسپتال کے ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوجی لاؤڈا سپیکرکا استعمال کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے ہیں لیکن ہسپتال میں ڈاکٹر،مریض اور بےگھر افراد ہیں، اسرائیلی فوج نے ہسپتال میں ادویات اور طبی آلات کے گودام کو دھماکے سے اڑا دیا،اسرائیلی فوج نے 30 کے قریب افراد کو گرفتار کیا، جن کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ان کے کپڑے اتار کر انہیں برہنہ کر دیا گیا،غزہ کےہسپتالوں کے چیف نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی الشفا ءہسپتال کی سرجیکل اور ایمرجنسی عمارتوں میں داخل ہو ئے ہیں، سرجن ڈاکٹر احمد المخلاتی نےبتایا کہ اسرائیلی فورسز کے حملے کے بعد اسپتال کے اندر خوف کا ماحول ہے،

    یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ غزہ کے دس لاکھ بچوں کے لیےکہیں بھی محفوظ جگہ نہیں ہے، بہت سے بچے لاپتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ منہدم عمارتوں اور گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں،علاقے میں پانی ختم ہو چکا، خوراک ختم ہو چکی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر

    الشفا ہسپتال پر اسرائیلی دھاوے اور گرفتاریوں کے بعد حماس ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہسپتال میں اسلحہ کے حوالہ سے جھوٹ بول رہا ہے اور دنیا کو دھوکا دے رہاہے،غاصب صیہونی فوج کا یہ دعویٰ کہ اس نے الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں اسلحہ اور سازوسامان پکڑا ہے، سفید جھوٹ اور سستے پروپیگنڈے کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جرم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد غزہ میں صحت کے شعبے کو تباہ کرنا ہے۔ حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے دو ہفتے قبل ایک سے زیادہ مرتبہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہسپتالوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دیں اور اسرائیل کے جھوٹے دعوؤں کا تعین کریں، کیونکہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا ہے کہ متعدد رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیں "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری” کے ذریعے جنوب کی طرف بھاگنے والے شہریوں کی گرفتاریاں کر رہی ہیں،مار پیٹ، برہنہ کرنے اور تشدد کی دیگر اقسام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،

    صحت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی "خوف زدہ” مریضوں اور طبی عملے کو دیکھ کر الشفا ہسپتال میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔غزہ کے ہسپتالوں کے جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر البرش نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے تہہ خانے اور دیگر عمارتوں میں موجود آلات کو تباہ کر دیا، "وہ اب بھی یہاں ہیں مریض، خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں،انہوں نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ پھنسے مریضوں، عملے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے ایک محفوظ راہداری بنائیں۔اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اندر کم از کم 2,300 مریض، عملہ اور شہری موجود ہیں۔

  • برطانیہ:  احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر  غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں

    برطانیہ: احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر غزہ کےالشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں

    لندن: غزہ کے اسپتالوں پر اسرائیلی بمباری روکنے کیلئے ہونے والے احتجاج کے دوران برطانوی ڈاکٹر الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر آبدیدہ ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غزہ میں ہسپتالوں کے اطراف لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جنگ کو شروع ہوئے 36 روز مکمل ہوگئے ہیں اس وقت اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں موجود ہسپتالوں کا گھیراؤ کرلیا ہے، الشفا ہسپتال میں آکسیجن کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں، ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں،تاہم اب صیہونی فوج نے غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ کمپلیکس کے اندر لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، یہ صورت حال زخمیوں کو بچانے میں ناکامی کی نشاندہی کر رہی ہے، الشفا ہسپتال کے قرب و جوار میں جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی ٹینک الشفاکمپلیکس کے ارد گرد کے علاقے کے شمالی حصے سے 200 میٹر کے فاصلے پر ہیں ہسپتال کے ارد گرد حملے کئے جارہے ہیں، انڈونیشیا ہسپتال کے اطراف بھی صہیونی فوج موجود ہے۔

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    فلسطینی خاتون وزیر صحت ’’می الکیلہ‘‘ کے مطابق الشفا ہسپتال میں ایندھن کی کمی اور آکسیجن کی عدم دستیابی کے باعث کم از کم 39 شیر خوار بچوں کی موت کا خطرہ ہے، انتہائی نگہداشت وارڈ میں موجود 39 نوزائیدہ بچے کسی بھی لمحے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں، ایک نومولود ہفتہ کی صبح جاں بحق بھی ہوگیا۔

    غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ پٹی کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد آج آپریشن روک دیا گیا۔

    دوسری جانب ہسپتالوں پر بمباری روکنے کیلئے برطانیہ کے ڈاکٹرز بھی میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور بمباری رکوانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    https://x.com/IrnaEnglish/status/1723396453853192559?s=20
    احتجاج میں موجود ایک خاتون ڈاکٹر نے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر کا میسج پڑھ کر سنانا چاہا لیکن دل خراش میسج پڑھ کر وہ سب کے سامنے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور اسرائیلی بربریت پر ان کی آنکھیں بھر آئیں،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، خاتون ڈاکٹر سمیت احتجاج میں موجود دیگر ڈاکٹرز کو بھی روتے دیکھا جا سکتا ہے،احتجاج میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹرز کی جانب سے بھرپور نعرے لگائے گئے-

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہمت کرکے خاتون ڈاکٹر نے پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ ہم میڈیکل اسٹاف زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں رہ سکتے اور ہو سکتا ہے صبح تک ہم سب مارے جائیں، ہم یہاں قتل نہیں ہونا چاہتے ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں، برائے مہربانی آپ لوگ ہمارے لیے کچھ کریں، جو ہوسکتا ہے اپنی حکومت سے بات کریں، عالمی اداروں سے کہیں کہ مدد کیلئے سامنے آئیں۔

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا …

  • اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری،بلاول خاموش نہ رہ سکے

    اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری،بلاول خاموش نہ رہ سکے

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں اسپتالوں پر بمباری کی مذمت کی ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ غزہ میں الشفاء، العودہ، القدس اور انڈونیشین اسپتال کو اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بناکر دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی، اسپتالوں میں زیرعلاج بچے اور بزرگ اسرائیلی درندگی اور بربریت کا شکار ہوگئے، عالمی برادری مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے،اسرائیل بچوں، بزرگوں اور عورتوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے تاکہ خوف پیدا کرکے غزہ سے وہ عوامی انخلاء کو ممکن بناسکے، غزہ میں ہر 10 منٹ میں اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں ایک بچہ شہید ہورہا ہے اور نیتن یاہو سیز فائر سے انکار کررہا ہے،امید کرتا ہوں کہ سعودی عرب میں آج غزہ میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ہونے والی سمٹ فیصلہ کن ثابت ہوگی،

    واضح رہے کہ غزہ پر سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اسرائیل کے حملوں‌میں 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں ،اسرائیل نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا، گزشتہ روز سے اسرائیل نے الشفا ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں پر بمباری کی،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال حماس اہلکاروں کے محفوظ ٹھکانے ہیں

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    غزہ پر سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اسرائیل کے حملوں‌میں 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں ،اسرائیل نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا، گزشتہ روز سے اسرائیل نے الشفا ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں پر بمباری کی،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال حماس اہلکاروں کے محفوظ ٹھکانے ہیں

    ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے الشفا ہسپتال میں ‘تباہ کن صورتحال’ پر تشویش کا اظہار کیا۔امدادی ایجنسی ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے ایک سرجن کا حوالہ دیا ہے جس میں غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے اندر "تباہ کن صورتحال” پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے "گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران، الشفا ہسپتال کے خلاف حملوں میں ڈرامائی طور پر شدت آئی ہے۔ایک سرجن کا کہنا ہے کہ ایک مریض جسے سرجری کی ضرورت ہے۔ ہم خود کو نہیں نکال سکتے اور ان لوگوں کو اندر نہیں چھوڑ سکتے۔ بطور ڈاکٹرمیں ان لوگوں کی مدد کرنے کی قسم کھاتا ہوں جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا کہ وہ فی الحال ہسپتال میں اپنے کسی عملے سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ہم فوری طور پر ہسپتالوں کے خلاف حملوں کو روکنے اور طبی سہولیات، طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں.

    اسرائیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ الشفاء اسپتال حماس اہلکاروں کا محفوظ ٹھکانہ ہےالبتہ حماس نے اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے، الجزیرہ نے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ سے بات کی ہے۔ڈائریکٹر محمد ابوسلیمہ کا کہنا تھا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے جانیں گنوانا شروع کر دی ہیں۔ مریض لمحہ بہ لمحہ مر رہے ہیں، متاثرین اور زخمی بھی مر رہے ہیں – ہم نے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک نوجوان کو بھی کھو دیا۔ غزہ شہر میں واقع ہسپتال کو بجلی، انٹرنیٹ اور پانی اور طبی سامان کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    دار الشفاء ہسپتال، جس کے نام کا ترجمہ "شفا کا گھر” ہے، طویل عرصے سے اسرائیلی حملوں کے دوران ایک اہم پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینی بمباری سے اس لیے ہسپتالوں میں پہنچے کہ انہیں امید تھی کہ وہ علاقے کے سب سے بڑے ہسپتال کے گراؤنڈ میں محفوظ رہیں گے

    غزہ کے الشفا اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں 39 بچے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے موت کے منہ میں ہیں، ایک بچے کی موت ہو گئی ہے ،الشفا ہسپتال پر اسرائیل نے مسلسل بمباری کی ، بعد میں ہسپتال کی بجلی بھی بند کر د ی گئی،الشفا ہسپتال کو مکمل خالی کروا لیا گیا ہے، آج صبح ایک شخص کو ہسپتال میں داخل ہونے پر گولی مار دی گئی،

    غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن ختم ہونے کے بعد ہفتے کے روز آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔ غزہ کے اسپتالوں میں مریضوں کو ناگزیر موت کا سامنا ہے، وہ اسرائیل اور عالمی برادری کو اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔”غزہ کے 30 ہسپتالوں میں سے اب 20 مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان