Baaghi TV

Tag: القادر ٹرسٹ

  • القادر ٹرسٹ کیس:ٹرائل کورٹ فیصلہ کالعدم ہونے تک سماعت نہیں ہو سکتی،جسٹس سرفراز ڈوگر

    القادر ٹرسٹ کیس:ٹرائل کورٹ فیصلہ کالعدم ہونے تک سماعت نہیں ہو سکتی،جسٹس سرفراز ڈوگر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر نے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کی درخواست پر سماعت سے انکار کردیا کہا کہ کیس میں تو سزائیں ہو چکیں، ٹرسٹ ضبط ہو چکا،ٹرسٹ پنجاب حکومت کی تحویل میں چلا گیا، اس کیس میں کچھ نہیں۔

    باغی ٹی وی : القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کی چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سماعت کی، عدالت نے کہاکہ القادر ٹرسٹ کیس میں تو سزائیں ہو چکیں، ٹرسٹ ضبط ہو چکا،ٹرسٹ پنجاب حکومت کی تحویل میں چلا گیا، اس کیس میں کچھ نہیں۔

    قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی مقرر نہیں ہوئیں جب تک ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کلعدم نہیں ہوتا اس درخواست پر سماعت نہیں ہو سکتی،عدالت کے استفسار پر وکیل جہانزیب سکھیرا نے بتایا کہ یہ درخواست القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کی جانب سے دائر کی گئی ہے اس درخواست کے علاوہ دیگر درخواستیں بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا ہیں مجھے وقت دے دیں میں اپنے مؤکل سے معاونت حاصل کر لوں۔

    سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا،وکیل سلمان اکرم راجہ

    جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ آپ نے یہ بھی بتانا ہے کہ ٹرائل کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد یہ درخواست کیسے قابل سماعت ہے؟بعد ازاں عدالت نے وکیل درخواست گزار کو مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

    اسحاق ڈار کا اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی جلد تقرری کا مطالبہ

  • 190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

    پاکستان میں کرپشن کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، مگر 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ واقعی ایک بڑا اور پیچیدہ کیس ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو القادر ٹرسٹ کے کیس میں برطانوی اداروں سے ملنے والے لوٹ کے پیسے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اب ایک سادہ حساب کے ذریعے اس کرپشن کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    سب سے پہلے، اگر ہم نواز شریف کے مے فئیر اپارٹمنٹس کے کیس کو دیکھیں تو یہ اپارٹمنٹس 1 ملین پاؤنڈ سے کم کی قیمت پر خریدے گئے تھے۔ اب اس قیمت کو 190 سے ضرب دیں، تو یہ ایک بہت بڑی رقم بنتی ہے، جو القادر ٹرسٹ کے کیس سے ملتی جلتی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ کریں تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن کیس بن چکا ہے۔عمران خان، جو کبھی یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ لوٹے ہوئے مال کو واپس لائیں گے، جب انہیں برطانوی اداروں سے یہ لوٹا ہوا پیسہ مل گیا، تو انہوں نے اس کو قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے، اسی مجرم کو بھی بخش دیا۔اور اس مجرم سے زمینیں اور قیمتی جواہرات حاصل کر کے اُسے ملک کا "ہیرو” بھی بنا دیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کرپشن کے اس بڑے کیس میں کس طرح سیاسی مفادات کا کھیل کھیلا گیا۔یہ صورتحال پاکستانی عوام کے لیے ایک سبق ہے کہ کس طرح حکومتیں اور سیاستدان اپنی ذاتی مفادات کے لیے قومی خزانے کا استحصال کرتی ہیں اور ایک بڑے کرپشن کیس کو چھپانے کے لیے دیگر ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں۔190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی نے دیگر پی ٹی آئی رہنماون کے ساتھ ملکر قومی خزانے کے ساتھ کھلواڑ کیا ۔گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا جو 23 دسمبر کو سنایا جائے گا اس کیس میں عمران و بشریٰ کو سزا یقینی ہے۔

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    سلمان احمد کو بشری پر تنقید مہنگی پڑ گئی، پارٹی میں رہنے کیلیے بشری کی وفاداری ضروری

    بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج

  • القادر ٹرسٹ کیس،عمران ،بشریٰ  اراضی کی فروخت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران ،بشریٰ اراضی کی فروخت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا 30 جولائی کو احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو بیان سامنے آیا ہے

    تفتیشی افسر نے عدالت میں دیئے گئے بیان میں کہا ہے کہ "بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت کے حوالے سے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے، دونوں کو ثبوت فراہم کرنے کیلئے متعدد نوٹس ارسال کیے گئے لیکن تعاون نہیں کیا گیا”،

    تفتیشی افسر نے عدالت میں دیئے گئے بیان میں کہا کہ مجھے ریفرنس پر انکوائری کا اختیار 7 دسمبر 2022ء کو دیا گیا جبکہ تفتیش 28 اپریل 2023 کو شروع کی۔ کابینہ نے بیرون ملک اثاثوں کی ریکوری کے لیے ریکوی یونٹ کی منظوری دی، نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو مرزا شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ طور پر خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی کو منجمد کرنے کے لیے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے، نجی سوسائٹی نے 4 اپریل 2019 سے 30 اپریل 2019 کے درمیان 458 کنال 4 مرحلے 58 مربع فٹ اراضی خریدی۔خریدی گئی اراضی ملزم زلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، 458 کنال سے زائد اراضی ٹرسٹ کے وجود میں آنے سے پہلے ٹرانسفر کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد زلفی بخاری، شہزاد اکبر مرزا اور پراپرٹی ٹائیکون نے عمران خان سے ملاقات کی تھی، بنی گالہ میں 11 جولائی 2019 کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا۔بدنیتی پر مبنی نوٹ 3 دسمبر 2019 کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ کو بند لفافے میں کابینہ میں پیش کیا گیا اور اس کی منظوری کے لیے اصرار کیا گیا، ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفی نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزرات خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی.ٹرسٹ میں ترمیم کرکے عمران خان، بشری بی بی اور زلفی بخاری کو اس میں شامل کیا گیا، ٹرسٹ کے قانونی مراحل طے کرنے کے لیے ڈاکٹر بابر اعوان زلفی بخاری کو ٹرسٹ میں شامل کیا گیا، کچھ ہی عرصے کے بعد عمران خان نے دونوں کو فارغ کرکے ٹرسٹ کا پورا کنٹرول سنبھال لیا، بشریٰ بی بی نے 24 مارچ 2021ء کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیئے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں 240 کنال اراضی پراپرٹی ٹائیکون کے بیٹے نے فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی، عمران خان اور بشری بی بی اراضی کی فروخت کے حوالے سے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے.عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے متعدد نوٹسز ارسال کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان نے ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے، موہڑہ نور اسلام آباد میں 240 کنال اراضی دھوکا دہی سے ملزمان کے نام پر منتقل کی گئی، القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے فرنٹ مین کے طور پر کام کیا

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں.

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟عدالت

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز نےدلائل دیئے، امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے برطانیہ سے پاکستان آنے والی رقوم سے متعلق آرڈر جاری کیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ برطانیہ سے رقم کس تاریخ کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی؟پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں پہلی رقم نومبر 2019 میں منتقل کی گئی،دوسری بار رقم 3 دسمبر 2019 اور تیسری بار 11 مارچ 2022 کو آئی، یہ کُل رقم 171.5 ملین پاؤنڈز کی رقم بنتی ہے،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ نے کب منظوری دی؟ امجد پرویز نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے 3 دسمبر 2019 کو منظوری دی،

    29 نومبر کو آنے والی رقم کابینہ کی منظوری کے بغیر پھر کیسے آئی؟چیف جسٹس
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نومبر میں جب رقم آئی تو تب کابینہ کی کوئی منظوری نہیں تھی؟ امجد پرویز نے کہا کہ نہیں، اُس وقت کابینہ کی طرف سے منظوری نہیں تھی، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ جب دوسری بار رقم منتقل ہوئی تو کابینہ نے منظوری دے چکی تھی؟امجد پرویز نے کہا کہ وہ دونوں ایونٹس ایک ہی دن کے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ 29 نومبر کو آنے والی رقم کابینہ کی منظوری کے بغیر پھر کیسے آئی؟ امجد پرویز نے کہا کہ 6 نومبر 2019 کو ملک ریاض اور این سی اے کے درمیان ایک خفیہ ڈیڈ پر دستخط ہوئے،کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ پر وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے بھی دستخط ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ خفیہ ڈیڈ میں کیا ہے؟ ڈیڈ میں حکومت پاکستان کہتی ہے کہ وہ ملک ریاض اور این سی اے کے درمیان ہونے والا معاہدہ خفیہ رکھے گی؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وجہ؟ حکومت پاکستان کیوں یہ حلف نامہ دے رہی ہے؟ یہ ڈیڈ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کی طرف سے کانفیڈنشیلٹی کا ڈکلیئریشن ہے، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے گی؟ خفیہ ڈیڈ سے بتائیں، کیا ڈیڈ میں کوئی ایسی بات ہے کہ پیسے اس اکاؤنٹ میں آئیں گے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے این سی اے اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان ایگریمنٹ نہیں لگایا،

    این سی اے نے شرط رکھی کہ رقم حکومت پاکستان کی یقین دہانی کے بغیر نہیں بھیجی جائے گی،نیب پراسیکیوٹر
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ پیسہ بھی ملک ریاض کا ہی تھا اسی کو جانا تھا، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن پر 460 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا، اسی دوران برطانیہ میں ملک ریاض کی رقم منجمند کی گئی،این سی اے نے شرط رکھی کہ رقم حکومت پاکستان کی یقین دہانی کے بغیر نہیں بھیجی جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیوں؟ اسکی وجہ کیا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ کی منظوری سے ایک دن پہلے وزیراعظم کے سامنے نوٹ رکھا گیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی کابینہ کے ممبران بھی اس کیس میں ملزمان ہیں؟ امجد پرویز نے کہا کہ کابینہ ممبران کہتے ہیں کہ شہزاد اکبر نے کہا کہ ڈیڈ کانفیڈنشیل ہے دکھائی نہیں جا سکتی،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ کابینہ ممبران نے بھی تو غیرقانونی کام کیا، بند لفافے کی منظوری دیدی، ہو سکتا ہے بند لفافے میں کوئی چیز پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو،کابینہ ممبران نے آئین کا حلف اٹھایا ہوا ہے وہ کیسے دیکھے بغیر منظوری دے سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میٹنگ منٹس میں کابینہ کے کسی ممبر نے اختلاف نہیں کیا،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسا قانون ہے کہ کابینہ بند لفافے کی بھی منظوری دیدے؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ تین کابینہ ارکان کے بیانات ساتھ لگائے ہیں، زبیدہ جلال، ندیم افضل گوندل اور پرویز خٹک کے بیانات لگائے گئے،جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ حکومت اگر کوئی بھی معاہدہ کرے گی تو لا اینڈ جسٹس ڈویژن سے منظوری تو ہو گی، امجد پرویز نے کہا کہ کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ لا اینڈ جسٹس ڈویژن کو انفارم کیے بغیر سائن کی گئی،وفاقی کابینہ کا یہ اجلاس ان کیمرا تھا جس میں اضافی ایجنڈا آئٹم کی منظوری دی گئی،

    خفیہ ڈیڈ کوئی مذاق نہیں تھا اور کابینہ منظوری کی یقینی طور پر کوئی اہمیت ہو گی،چیف جسٹس
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایسی کیا وجہ تھی جس کی بنیاد پر کانفیڈنشیلٹی ڈید پر دستخط کیے گئے؟ امجد پرویز نے کہا کہ این سی اے کی ریکوائرمنٹ پر کانفیڈنشیلٹی ڈیل پر دستخط کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا این سی اے کی پالیسی اور پریکٹس ہمارے پاس ہے؟امجد پرویز نے کہا کہ نہیں، وہ دستاویزات بھی موجود نہیں ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ خفیہ ڈیڈ کوئی مذاق نہیں تھا اور کابینہ منظوری کی یقینی طور پر کوئی اہمیت ہو گی، امجد پرویز نے کہا کہ زبیدہ جلال نے بتایا کہ شہزاد اکبر نے کہا یہ دو ممالک کے تعلقات کا معاملہ ہے، جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ انہوں نے دیکھے بغیر منظوری دی تو کیا جرم کا ارتکاب نہیں کیا؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے کوئی فائدہ نہیں لیا لیکن بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم فائدہ لیا ہےعدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی کر دی

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

  • عمران خان اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائیگی،عدالت کے ریمارکس

    عمران خان اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائیگی،عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ: القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی نئے اسلام آباد ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، وکیل عمران خان نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کو رجسٹر نہیں کیا جا رہا، عدالت چیف کمشنر کو حکم دے،چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے رپورٹ جمع نہ ہونے پر عدالت نےاظہارِ برہمی کیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری عہدیدار کیوں خوف محسوس کر رہے ہیں،سرکاری عہدیداروں کو صرف اللہ کا خوف ہونا چاہیے،ذہن میں رکھیں کہ موجودہ حکومت صرف پانچ سال کیلئے اقتدار میں رہے گی، بانی پی ٹی آئی کل اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائے گی، عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد سے آئندہ سماعت پر دوبارہ رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے کیس پر سماعت ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کا معاملہ ایک پھر ہائیکورٹ پہنچ گیا،ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے رجسٹریشن کی درخواست مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کے فیصلے کو کلعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،القادر ٹرسٹ کی جانب سے وکیل جہانزیب سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کو فریق بنایا گیا ہے،

    واضح رہے کہ 30 نومبر کولیبر اینڈ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ نے القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کئے جانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورںگزیب نے القادر ٹرسٹ کی درخواست پر سماعت کی تھی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توبہ توبہ ،آپ لوگ بہت خراب ہو ، جان بوجھ کر معاملے کو تاخیر میں ڈالا گیا،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    سوشل میڈیا پر مہم،جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی کاروائی کیلیے خط

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    مذہبی، مسلکی، لسانی منافرت پھیلانے والے 462 سوشل میڈیا اکاونٹس بند

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند ہوا، مفصل جواب جمع کروائیں، عدالت

    سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے قرارداد واپس

    انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلانے والوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

  • 100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی 100ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،نیب نے درخواست ضمانت بعدازگرفتاری پر جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا،پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ یہ نوٹس کے بعد پہلی سماعت ہے جواب جمع کرانے کیلئے کچھ وقت دے دیا جائے ،عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ یہ پہلی سماعت نہیں ہے گزشتہ سماعت کی کازلسٹ منسوخ ہو گئی تھی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ ضمانت بعداز گرفتاری کا کیس ہے دو تین ہفتوں میں فیصلہ ہو جانا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی تحریری جواب جمع کرانے کی استدعا منظور کرلی ، عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

    عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی،بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ جیل میں عدالت میں پیش کیا گیا، عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کی

    عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان صفدر، عمیر نیازی اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے جب کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے دلائل دیے،سماعت کے موقع پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت نے دونوں ملزمان کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سنائی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا

    دوران سماعت جج نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ پر فریم چارج کیا جارہا ہے آپ بتائیں گلٹی ہیں کہ نہیں؟ جس پر عمران خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے چارج شیٹ پڑھ کر کیا کرنا ہے مجھے معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا،ملزمان کے وکلاء نے چالان کی نقول دوبارہ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ ملزمان کے وکلاء سلمان صفدر، ظہیر عباس چودھری اور عثمان گل نے عدالت سے سات دن کا وقت مانگا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کو پہلے ہی کافی وقت دے چکے ہیں مزید وقت نہیں دے سکتے

    آٹھ فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو،عمران خان
    کیس کی سماعت جاری تھی کہ عمران خان روسٹرم پر آئے اور جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے، آٹھ فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو،جج نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ پہلے بتائیں آپ کے دانتوں کا چیک اپ ہوا کہ نہیں؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ ابھی تک دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا جیل انتظامیہ نے کہا تھا اتوار کو ڈاکٹر آئے گا۔ اب جیل انتظامیہ کہہ رہی ہے اگلے اتوار کو ڈاکٹر آئے گا،عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور دانتوں کے چیک اپ کیلئے جنرل فزیشن اور ڈینٹسٹ کی فراہمی کی درخواست منظور کرلی

    عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 6 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کے 58 گواہان میں سے 5 گواہان کو شہادتیں ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ کیس، جیل ٹرائل کیخلاف درخواست  قابل سماعت قرار

    توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ کیس، جیل ٹرائل کیخلاف درخواست قابل سماعت قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ ریفرنسز کے جیل ٹرائل کالعدم قرار دینے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر تک جواب طلب کر لیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی نیب ریفرنسز کا جیل ٹرائل روکنے کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کیا ہے،عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو بھی نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ پیر کو کیس دستیاب بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے اور کہا کہ یہ دو نوٹیفکیشن ہیں جنکو ہم نے چیلنج کیا ہے،وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے عدالت میں توشہ خانہ کیس پر جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کا پڑھ کر سنایا گیا ،وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے مختلف عدالتی فیصلوں کے بھی حوالے دیئے گئے اور کہا کہ ہماری ایک درخواست پر نمبر لگا ہے دوسری پر نہیں لگا،ریفرنس دائر ہونے سے ایک مہینہ پہلے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کردیا گیا ، عدالت قرار دے چکی ہے جیل ٹرائل کیلئے عدالت سے آرڈر ہونا چاہئیے ،جج کی سیکورٹی سے متعلق کوئی ریکوائرمنٹس بھی نہیں ہے، بس نوٹیفکیشن جاری کردیا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ تو ریفرنس فائل کر کے ایک ماہ پہلے جیل ٹرائل کردی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی ریفرنس فائل کرنے سے ایک ماہ پہلے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،وفاقی حکومت کو کیا پتہ تھا کہ ریفرنس فائل ہوگا؟ 2021 کے نیب قانون کے مطابق صدر پاکستان جج احتساب عدالت کو تعینات کرتا ہے، جج احتساب عدالت اسلام آباد کی تعیناتی نیب پرانے قوانین کے تحت ہوئی،نیب قوانین میں 2022 میں ترمیم کردی گئی، پرانے نیب قانون میں صدر مملکت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سفارش پر ڈسٹرکٹ سیشن جج کو احتساب عدالت کا جج تعینات کرے گا، نیب قانون میں ترمیم کے بعد ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا،پرانے قانون میں صدر مملکت جبکہ نئے قانون میں وفاقی حکومت کو اختیارات دیئے گئے،نیب ترمیمی ایکٹ میں وفاقی کابینہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے جج کی تعیناتی کرسکیں گی،صبح سے شام تک ہمیں جیل میں بٹھاتے ہیں، اکثر مجھے واپس آنا پڑتا ہے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد میں اس وقت صرف ایک احتساب عدالت فنکشنل ہے ؟تین میں سے ایک عدالت چل رہی جبکہ وہ بھی نہیں چل رہی کیوں کہ وہ بھی اڈیالہ جیل ہوتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بہت سارے ریفرنسز احتساب عدالتوں میں واپس ہوئے، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ میں آپکو بتاؤ کہ یہ عدالتیں کیوں خالی ہیں؟ یہ سب آپکی لوگوں کی وجہ سے ہیں، جس چیف جسٹس گلزار کا آپ نے نام لیا انہوں نے یہاں تین احتساب عدالتوں کی منظوری دی تھی،ہماری سفارشات پر وزارت قانون و انصاف بیٹھ جاتی ہیں،آپکی حکومت تھی انہوں نے عدالتوں کی منظوری ہی نہیں دی تھی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں یہاں کالے کورٹ میں کھڑا ہوں، لطیف کھوسہ کی بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نیب قانون میں روزانہ کی بنیاد پر سماعتوں کا لکھا ہے،شعیب شاہین نے کہا کہ نہیں نیب نے صرف ہمارے کیسسز میں روزانہ کی سماعت کا لکھا ہے باقیوں کا نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس کیس میں کل کتنے گواہوں کی لسٹ دی گئی ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس کیس میں کل 20 گواہان ہیں جس میں تین کا بیان قلمبند ہوچکا، احتساب عدالت میں صرف عمران خان کے خلاف کیس تو نہیں باقیوں کے خلاف بھی ہیں، نواز شریف سمیت دیگر لوگوں کے خلاف نیب کیسسز ہیں مگر وہاں سماعت ہی نہیں ہوتی، شعیب شاہین نے کہا کہ ہم نے کل بتایا کہ درخواست آپ کے پاس لگی ہے مگر جج صاحب نے پھر بھی سماعت کرلی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا کہ انکو نوٹسسز جاری کریں، توشہ خانہ حکومت کی تجوری ہے اور سیکرٹری کابینہ اس کا رکھوالا ہے ، سیکرٹری کابینہ نے سب کے لئے دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے ،اب وہ اس کیس میں ہے ہی نہیں ، یہ کوئی سیل لگی ہوئی ہے 50 فیصد آف ، 20 فیصد آف ہے ، اس حوالے سے آرڈر پاس کریں گے ، عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مناسب آرڈر پاس کریں گے ،

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، ملک ریاض اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، ملک ریاض اشتہاری قرار

    190 ملین پائونڈ کیس میں چھ ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا۔ اشتہاری قرار دینے والوں میں ملک ریاض اور علی ریاض بھی شامل ہیں.

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی، عدالت میں شریک ملزمان سے متعلق تفتیشی آفیسر نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا،شریک ملزمان میں ملک ریاض، علی ریاض ملک، فرحت شہزادی، ضیاء السلام نسیم، شہزاد اکبر اور ذلفی بخاری شامل ہیں

    تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چودہ سینیٹرز کی الیکشنز کو موخر کرنے کی قرارداد سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہے، سینیٹ میں کورم بھی پورا نہیں سپریم کورٹ کو اسکا نوٹس لینا چاہئیے، سینیٹ کی قرار داد آئین کی تضحیک ہے، پی ٹی آئی کا موقف ہے الیکشنز کو کسی صورت موخر نہیں ہونا چاہیئے،

    اڈیالہ جیل کےباہر میڈیا سےبات چیت کرتے ہوئے لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا کہا ہے، الیکشن ٹریبونلز نے بیشتر کاغذات نامزدگی منظور کئے ہیں،الیکشن ٹریبونلز کے فیصلے اس بات کی عکاسی ہے آر اوز کسطرح کے فیصلے دیتے رہے ہیں،ہماری درخواست پر سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب اور سیکرٹری پنجاب کو نوٹسز جاری کئے ہیں، جس انداز سے پی ٹی آئی کے امیدواروں کے خلاف کاروائیاں کی گئی وہ دنیا نے دیکھا،ہمارا مطالبہ ہے پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ دیا جائے،نگراں حکومتیں پی ٹی آئی کی انتخابی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں،

    عدالت نے ملک ریاض کو مفرور قرار دے دیا، لطیف کھوسہ
    لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں درخواست ضمانت پر ہمارے دلائل مکمل ہوچکے ہیں،نیب کی پراسیکیوشن ٹیم مسلسل التواء مانگ رہے ہیں،نیب نے پچھلی سماعت پر بھی عدالت سے وقت مانگا آج بھی وقت مانگا، نیب نے پچھلی سماعت پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کو بطور پراسیکیوٹر پیش کیا، عدالت کو بتایا کیا نواز شریف نیب کو کنٹرول کررہا ہے، عدالت نے پیر 8 نومبر کیلئے سماعت رکھی ہے، ملک ریاض کے وکیل فاروق ایچ نائیک بھی آج عدالت میں پیش ہوئے، ملک ریاض کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کردی گئی ہے، عدالت نے ملک ریاض کو مفرور قرار دیا ہے،

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    واضح رہے کہ سات دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو ا تھا،احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے.

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،شریک ملزمان ملک ریاض،زلفی،فرح ودیگر اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،شریک ملزمان ملک ریاض،زلفی،فرح ودیگر اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو گیا

    احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا، تحریری حکمنامہ میں عدالت نے کہا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے، ملزمان کے خلاف اشتہاری قرار دیے جانے کی مزید کارروائی 6 جنوری 2024 کو ہوگی،

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں درخواستِ ضمانت میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،نیب نے بانی پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت جلد سماعت کیلئے مقررکرنے درخواست دائرکردی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نیب کی جانب سے دائر درخواست منظورکرلی،بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی،احتساب عدالت کے جج محمدبشیر اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین کی درخواست ضمانت پر سماعت کریں گے،پہلے عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پرسماعت 13 دسمبرتک ملتوی کی تھی

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا ہے،

    عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کررکھی ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    نیب کی سفارش پر 190 ملین پاونڈ اسکینڈل میں چئیرمین پی ٹی آئی سمیت 29 افراد کو ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، عمران خان، شہزاد اکبر، ذلفی بخاری ، فرح گوگی،ملک ریاض، سمیت 29 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے گئے، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکر رکھا ہے،ریفرنس میں عمران خان کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں