Baaghi TV

Tag: القادر یونیورسٹی

  • القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادریونیورسٹی نہیں بلکہ کالج ہے،پی ٹی آئی عوام کو بیوقوف بناتی رہی اور حکومتی اراکین نے بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ چیک کریں یونیورسٹی ہے بھی سہی یا نہیں، یہ ڈگری کالج ہے، اس جگہ پرزمین کی خریدوفروخت 3 ہزار روپے کنال میں ہوئی، سوہاوہ میں ریکارڈ موجود ہے،کئی افراد کی زمین تھی ،کھنڈرات، یا غیر زرعی زمین کی وجہ سے تین ہزار کنال فروخت ہوئی،بعد ازاں دس لاکھ کنال کے حساب سے حکومت نے کرپشن کی، پنجاب میں وزیر اطلاعات ہیں، وفاق میں وزیر اطلاعات ہیں، وہ ویسے تو شور کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اس چیز کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ پی ٹی آئی القادر یونیورسٹی کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتی رہی،القادر نامی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، جہلم میں قائم جی سی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج کو کرپشن کے دو سو ملین پاؤنڈ ہضم کرنے کے لیے القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ۔

    عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا جس کے بعد سوہاوا شہر کے قریب القادر یونیورسٹی کے باہر جمعہ کے روز پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔ خبر رساں ادارے ڈان سے بات کرتے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعیناتی صرف ادارے کی حفاظت کے لیے کی گئی تھی، جمعہ کی دوپہر کو یونیورسٹی کے کیمپس کا دورہ کرنے والے کئی میڈیا نمائندے موجود تھے، اور اس دوران تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نظر آئیں۔ کیمپس میں کچھ طلباء کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے کیونکہ یہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے، اور یہ کیمپس 458 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے جو زیادہ تر پتھریلے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    یونیورسٹی کے دو اہم بلاک ہیں جن میں ایک تعلیمی اور دوسرا رہائشی حصہ شامل ہے، اور ان کے سامنے ایک نامکمل آڈیٹوریم واقع ہے۔ کلاس رومز، لائبریری، آئی ٹی لیب اور دفاتر جدید معیار کے ہیں اور ان میں بہترین ساز و سامان اور فرنیچر موجود ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً 200 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں 130 لڑکے اور 70 لڑکیاں بی ایس اسلامی اسٹڈیز اور بی ایس مینجمنٹ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک فیکلٹی ممبر نے ڈان کو بتایا کہ ہوسٹل میں رہنے والے طلباء بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی ممبر کے مطابق، بیشتر طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ 60 کے قریب طلباء کے میس کے اخراجات فلاحی افراد کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ
    تاہم میڈیا کی کچھ رپورٹس کے برخلاف، یہ کیمپس ایک خودمختار یونیورسٹی نہیں ہے۔جہلم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔جب ان سے ادارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کے حوالے سے فیصلے میں کسی منصوبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ڈاکٹر حبیب الرحمان نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک اعلیٰ حکام سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حکومت جو بھی ہدایت دے گی، ہم اس کی پیروی کریں گے”۔

    القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔خواجہ آصف
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ہے، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی نہیں ہے، نہ کبھی عمران خان نے اس کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا۔ یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رجسٹرڈ صرف ایک کالج ہے، جس میں بنیادی طور پر صرف 2 سیبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں،اس یونیورسٹی میں 200 طلبا زیرتعلیم ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے پاس 400 ایکڑ زمین ہے، یہ یونیورسٹی نہیں ہے، اس کو یونیورسٹی کا نام ویسے دیا گیا ہے، روحانیات کی تعلیم کے لیے یہ یونیورسٹی بنائی گئی لیکن وہاں پر روحانیات کی کوئی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ ایک قسم کا کمپیوٹر کالج ہے، جو عام شہروں میں بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں جو پیسہ استعمال ہوا وہ بھی اس کیس میں سامنے آگیا۔

    پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد
    القادر یونیورسٹی میں چار سال کے دوران صرف 200؍ اسٹوڈنٹس نے داخلہ لیا، القادر یونیورسٹی کو تاحال پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ادارہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سالانہ الحاق کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کرتا ہے، جس سے یونیورسٹی کی سرکاری ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے جدوجہد واضح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد نے اعتراف کیا ہے کہ پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، چونکہ پنجاب ایچ ای سی کی جانب سے ڈگری عطا کرنے کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ یونیورسٹی اب تک ایک کالج کی حیثیت میں کام کر رہی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں‌فخر درانی کی شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق داخلوں کے حوالے سے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں 41؍ جبکہ دوسرے سال میں 60؍ اسٹوڈنٹس کو داخلہ دیا گیا، 2021ء سے اسٹوڈنٹس کی اب تک کی تعداد 200؍ ہے۔ یونیورسٹی کو ایکریڈیٹیشن کے حصول میں ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا ہے۔ کالج میں ریگولر اساتذہ کی تعداد 12؍ ہے جن میں سے سات پی ایچ ڈی ہولڈرز جبکہ پانچ ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں۔ وزٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ملا کر تدریسی عملے کی تعداد 80؍ ہے۔ ایکریڈیٹیشن اور محدود داخلوں کے چیلنجز کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کل طلبہ کے 95؍ فیصد حصے کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معیاری تعلیم تک مستحق طلباء کی رسائی ہو۔ اسٹوڈنٹس کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے 50؍ اسٹوڈنٹس مستفید ہو رہے ہیں، مقامی عطیہ دہندگان کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے ماہانہ 5؍ لاکھ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 95؍ فیصد اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں رہتے ہیں جن کا تعلق تمام صوبوں سے ہے۔ 2021 میں دیے گئے داخلوں کے پہلے بیچ میں میں 23 طلباء تھے جن میں 16 خواتین اور 7 مرد ہیں۔ یہ اسٹوڈنٹس 2025ء میں گریجویٹ ہو جائیں گے۔ 2024 میں 100؍ طلباء کو داخلہ دیا گیا جن میں سے 70 نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 ​​نے بی ایس اسلامک اسٹڈیز کا انتخاب کیا۔ زیادہ تر طلباء اسلامی علوم پر مینجمنٹ کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالج کے سالانہ اخراجات تقریباً 60؍ سے 70؍ لاکھ روپے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

  • القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کل القادر یونیورسٹی کی طالبات کی ویڈیو میرے پاس آئی کہ ہمیں بھی اسکالر شپ دیں اور آج یونیورسٹی میرے پاس آ گئی، اب وہاں مذہب کی تعلیم بھی دی جائےگی، دنیاوی بھی، جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا،

    اوکاڑہ یونیورسٹی میں تقریب کے دوران خصوصی طلبہ نےمریم نواز سے ہاتھ ہلا کر محبت کا اظہارکیا،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میرے والد نے 45 سال ملک کی خدمت کی ہے، نواز شریف کو اقامہ پر نکالا گیا، مجھے اپنے والد کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی،آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آیا، القادر ٹرسٹ کیس میں چوری ثابت ہوئی یہ پہلا وزیراعظم ہے جو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، بانی پی ٹی آئی پہلے وزیراعظم ہیں جن کو کرپشن پر سزا سنائی گئی ہے، آج کے فیصلے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، یہ شخص اسی اڈیالہ جیل میں قید ہے جس میں نوازشریف اور میں قید تھے،میرے سیل میں کیمرے لگائے گئے تھے، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، اس شخص کو جیل میں اچھا کھانا اور دیگرسہولتیں مل رہی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں

    ہمیں چور ثابت کرنے پر تل جانے والوں پر چوری ثابت ہو گئی،مریم نواز
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ کل میں فیصل آباد میں تھی، ایک بچے نے کہا کہ ہم نے سُنا تھا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، آج ہم نے وزیراعلیٰ کے روپ میں یہ دیکھ بھی لیا ہے کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، جن بچوں کو پٹرول بم چلانا سکھایا ہے، وہ آج جیلوں میں سڑ رہے ہیں،اللہ کا فضل دیکھو، آج 190 ملین پائونڈ کیس کا فیصلہ آیا، ہمیں چور ثابت کرنے پر تل جانے والوں پر چوری ثابت ہو گئی ہے، القادر یونیورسٹی سرکاری تحویل میں دے دی گئی، اب وہ یونیورسٹی میرے پاس آگئی ہے، القادر یونیورسٹی کے طلبا کو بھی اسکالرشپ دی جائے گی، نوجوانوں کو ترغیب دی گئی کہ سوشل میڈیا پر جو دیکھیں اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرلیں، جنہیں آج ورغلایا گیا وہ آج جیلوں میں ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اوکاڑہ یونیورسٹی میں بھی تصاویر لانے والی طالبات کو سٹیج پر بلا لیا،مریم نواز نے طالبات کو دیکھا اور کہا کہ کیا ہے بیٹا، آ جائو، ہائو نائس، آپ نے بنائی ہے، تھینک یو سو مچ، طالبہ نے سٹیج پر آ کر مریم نواز کو ہاتھوں میں گجرا پہنا دیا، مریم نواز بولیں اوہ سو سویٹ،

    دھوکہ دہی،تھائی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کو پیسے مانگنے کی جعلی کال کا انکشاف

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

  • عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے شروع کیا گیا القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک اور ناکامی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    سیاسی پشت پناہی اور بھرپور تشہیر کے باوجود، اس یونیورسٹی میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صرف 200 طلباء نے داخلہ لیا۔ اس منصوبے کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے "خوابوں کا منصوبہ” سمجھا جا رہا تھا، لیکن اس کا عملی طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے ان دونوں شخصیات کے خلاف مختلف الزامات سامنے آ چکے ہیں جن میں اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت نیب (قومی احتساب بیورو) نے ایک کیس دائر کیا ہے جس میں ان پر 190 ملین پاؤنڈز کی مالی بے ضابطگیوں کا الزام ہے۔

    اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مالی وسائل کو غلط طریقے سے استعمال کیا ، اس کیس میں ان دونوں کی قانونی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہیں اس معاملے کی وجہ سےسزا سنائی جائے گی،

    واضح رہے کہ القادر یونیورسٹی سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس کیس کا فیصلہ تین بار مؤخر ہو چکا ہے، لیکن اب احتساب عدالت کے جج نے 17 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک طرف جہاں سیاسی شہرت کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہیں دوسری طرف اس کے جال میں پھنس کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت ان کی مستقبل کی سیاست اور قانونی حیثیت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

    شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • پی ٹی آئی چئیرمین اور اہلیہ ببشریٰ بی بی سمیت نیب میں طلب،گرفتاری کا امکان

    پی ٹی آئی چئیرمین اور اہلیہ ببشریٰ بی بی سمیت نیب میں طلب،گرفتاری کا امکان

    راولپنڈی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے القادر ٹرسٹ مبینہ کرپشن کیس میں آج طلب کر رکھا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ کو نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کڑے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا بشریٰ بی بی کو نیب نےکم و بیش 11 کلیدی سوالات اوردستاویزات لانےکا کہہ رکھا ہےجن میں القادر یونیورسٹی زمین کی خریداری کی تفصیلات اور پراپرٹی ٹائیکون سے تحفوں کی تفصیلات کے بارے میں سوالات بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ نوٹس پر سابق وزیراعظم اور سابق خاتون اول نیب راولپنڈی میں پیش نہیں ہوئے تھے القادر ٹرسٹ مبینہ کرپشن کیس کی تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور اس کیس میں چیئرمین تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کسی بھی وقت عمل میں آسکتی ہے۔

    سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے کوئٹہ کا سفر نہیں کر سکتا،عمران خان کی درخواست

    قبل ازیں عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کا وکیل قتل کیس میں نامزدگی کے خلاف کیس زیر التوا ہے،مقتول کے بیٹے نے درخواست گزار کے خلاف سازش کے الزام کے تحت مقدمہ درج کرایا، درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت کی مدت آج ختم ہو رہی ہے،سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے درخواست گزار کوئٹہ کا سفر نہیں کر سکتا، درخواست گزار کی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مزید کاروائی روکی جائے،انصاف کی فراہمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کل سماعت کے لیے مقرر کیا جائے-

    ملتان :ماں اور 16 ماہ کی بیٹی کو قتل کرنے والا ڈکیت گینگ گرفتار

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا-

    مجھے جو معاوضہ ملتا ہے وہ خانز کو ملنے والے معاوضے کا چوتھائی سمجھیں منوج …

  • القادر یونیورسٹی کا ہائیر ایجوکیشن میں ڈیٹا ہے نہ ریکارڈ

    القادر یونیورسٹی کا ہائیر ایجوکیشن میں ڈیٹا ہے نہ ریکارڈ

    القادر یونیورسٹی کا ہائیر ایجوکیشن میں ڈیٹا ہے نہ ریکارڈ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی افتتاح کردہ القادر یونیورسٹی کا ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قوم کے بچوں کو ماموں بنا دیا، بطور وزیراعظم جہلم میں القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا تا ہم آج سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ عمران خان کی افتتاح کردہ القادر یونیورسٹی کا ایچ ای سی میں کوئی ریکارڈ نہیں اور نہ ہی کوئی ڈیٹا ہے۔ وہاں پر کیے گئے داخلے غیر قانونی ہیں۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم کا اجلاس سینیٹر عرفان صدیقی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں القادر یونیورسٹی جہلم کی موجودہ صورتحال، سالانہ بجٹ اور ترقیاتی اور غیر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کی تفصیلات پر بات کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کہ ایچ ای سی میں ایسی کوئی یونیورسٹی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ القادر یونیورسٹی کا کوئی وجود نہیں ہے اور ایچ ای سی نے مبینہ یونیورسٹی کے لیے کوئی فنڈز فراہم نہیں کیے ۔

    القادر یونیورسٹی کے بارے میں ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی قومی اسمبلی میں فلور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹی عمران خان اور ان کے اہلخانہ تھے،50 کروڑ کی ڈونیشن دی یونیورسٹی میں 32 طلبہ پڑھتے ہیں،سوہاوہ کے قریب یونیورسٹی کیلئے 450 کنال اراضی عطا کی گئی،بحریہ ٹاون گروپ نے 200 کنال زمین فرح شہزادی کو دی،ان تمام ٹرانزیکشن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، یہ ایک فراڈ تھا جو پلاٹ کیا گیا،یہ دال میں کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے،القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں ہے،

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں  چترال یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طرف سے کمیٹی کو ادارے کے مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ بنیادی مسئلہ فنڈز کا ہے اور آغاز سے ہی یونیورسٹی کو تین سال کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی گئی اور اس کے بعد نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت فنڈز فراہم کرنے کو تیار ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ صوبائی حکومتیں اپنے قائم کردہ تعلیمی اداروں کی ضروری فنڈنگ ​​کی ذمہ دار ہیں۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں لاء کے طلباء کو درپیش امتحانات کے حوالے سے سینیٹر بہرامند خان تنگی کے اٹھائے گئے معاملے پر غور کیا۔ وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایف آئی اے کمیٹی پہلے ہی تشکیل دے دی گئی ہے جو کہ تین ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرے گی، سینیٹر عرفان صدیقی نے سپریم کورٹ کے فیصلے تک معاملہ موخر کر دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    ضلع جہلم میں سوہاوہ کے مقام پر القادر یونیورسٹی برائے صوفی ازم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ القادر یونیورسٹی نوجوانوں کو جدید تعلیم نظریہ پاکستان کی بنیاد پر پیش کرے گی

  • لاکھوں روپے کے ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والی عمران خان کی القادر یونیورسٹی میں صرف 37 طلبا زیر تعلیم

    لاکھوں روپے کے ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والی عمران خان کی القادر یونیورسٹی میں صرف 37 طلبا زیر تعلیم

    عمران خان کے خوابوں کا ادارہ القادر یونیورسٹی 2019 میں خان کے دور حکومت میں ایک رئیل اسٹیٹ کی طرف سے عطیہ کی گئی زمین سے تعمیر اور شروع کیا گیا اب تک 37 طلباء پر مشتمل ایک کالج ہے جبکہ اسے لاکھوں روپے کے عطیات مل رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان ریاست مدینہ کے تصور کی ترویج کیا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد ان سے کئی مرتبہ سوال کیا گیا کہ انہوں نے ریاست مدینہ کی تکمیل کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات اٹھائے۔

    اسی طرح اکثر انٹرویوز اور تقاریر میں عمران خان پاکستان کے تدریسی نظام اور اس سے جنم لینے والے مسائل کا ذکر بھی کرتے رہے ہیں اور اس کا تدارک ایک ایسے تعلیمی نظام کو قرار دیتے ہیں جہاں دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جائے۔

    اپنے اسی خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے علاقے سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا ، جہاں دنیاوی تعلیمات کو صوفی ازم اور سیرت النبی کے ساتھ نہ صرف ملا کر پڑھا جائے گا بلکہ اس پر ریسرچ بھی کی جائے گی۔

    اس یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیم دی جائے گی بلکہ آکسفورڈ ریذیڈینشل کالج کی طرز پر طلبہ کو مینٹورز بھی اسائن کیے جائیں گے جو نہ صرف کلاس ختم ہونے کے بعد بھی طلبہ کے ساتھ ہوں گے بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کریں گے۔ اس جامعہ میں ایسا نظامِ تعلیم وضع کیا گیا ہے جس میں طلبہ و طالبات کو جدید علوم قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف سکھائے جائیں گے بلکہ اصل روح کے مطابق ان تعلیمات پر عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔

    یہ ایک پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹی ہے اور اس کے انتظامات ایک ٹرسٹ کے تحت کیے گئے ہیں تاکہ حکومتوں کی تبدیلی کا اس پر کوئی اثر نہ پڑے۔ اس پراجیکٹ کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی اس پراجیکٹ کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں۔

    تاہم اب دی نیوز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لاکھوں روپے کا ٹرسٹ حاصل کرنے والی اس یونیورسٹی میں صرف 37 طلباء زیر تعلیم ہیں-

    ” دی نیوز” کی رپورٹ کے مطابق کالج ایک ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے، اس کے اصل معتمد عمران خان (اس وقت کے وزیراعظم)، بشریٰ خان (عمران کی اہلیہ)، ذوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری) اور ظہیر الدین بابر اعوان تھے۔ بعد ازاں زلفی بخاری اور بابر اعوان کو ٹرسٹ سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ ڈاکٹر عارف نذیر بٹ اور مسز فرحت شہزادی کو تعینات کیا گیا۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسز فرحت شہزادی جنہیں فرح خان / فرح بی بی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے مسز بشریٰ خان کی قریبی دوست ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ القادر انتظامیہ یونیورسٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن ابھی تک محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے اسے تسلیم نہیں کیا ہےاسےاب تک صرف ایک مضمون Bs-MS (Management Sciences) پڑھانےکی اجازت دی گئی ہےاورگورنمنٹ کالج یونیورسٹی پنجاب کے ساتھ اس کے الحاق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 50 طلباء کو داخلہ دے سکتا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جہاں ہر قسم کے اخراجات عطیہ دینے والے اپنے معاہدے کے مطابق برداشت کر رہے تھے وہیں القادر انسٹی ٹیوٹ نے ان طلباء سے ٹیوشن فیس بھی وصول کی۔

    جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک، ٹرسٹ کو 180 ملین روپے کے عطیات ملے جولائی 2020 سے جون 2021 تک ٹرسٹ کی کل آمدنی 101 ملین روپے تھی۔جبکہ عملے اور کارکنوں کی تنخواہوں سمیت کل اخراجات صرف 8.58 ملین روپے کے لگ بھگ تھے۔

    رئیل اسٹیٹ ٹائیکون نے یونیورسٹی کو 458 کنال اراضی عطیہ کی جس کی سٹیمپ پیپر کے مطابق اس کی مالیت 244 ملین روپے تھی یہ زمین پہلے زلفی بخاری کو منتقل کی گئی جنہوں نے بعد میں جنوری 2021 میں ٹرسٹ کی تشکیل کے بعد اسے منتقل کر دیا یہ زمین موضع بکرالا، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم میں واقع ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ عطیہ کی گئی اراضی کے اعترافی معاہدے پر مسز بشریٰ خان (القادر یونیورسٹی کی جانب سے) اورٹرسٹ دینے والے ادارے کے درمیان اس وقت دستخط کیے گئے جب عمران خان (القادر یونیورسٹی کے چیئرمین) وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔

    عطیہ دہندہ نے تصدیق کی کہ اس نے القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کے مقصد کے لیے زمین خریدی تھی عطیہ دہندہ نے اعلان کیا کہ اس کی وجہ سے 22 جنوری 2021 کو یہ زمین زلفی بخاری کی القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کی واحد ملکیت کے نام سے ٹرسٹ کو منتقل ہوئی۔

    معاہدے میں عطیہ کنندہ نے القادر ٹرسٹ پراجیکٹ کے لیے عمارت کی سہولیات کی تعمیر پر اتفاق کیا۔ عطیہ دہندہ نے معاہدے میں تصدیق کی کہ اس نے عمارت کا ایک حصہ پہلے ہی تعمیر کر لیا ہے۔

    عطیہ کنندہ نے معاہدے میں مزید تصدیق کی کہ وہ مجوزہ القادر یونیورسٹی کے قیام اور اسے چلانے کے تمام اخراجات برداشت کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ القادر پروجیکٹ کے قیام اور اسے چلانے کے لیے ٹرسٹ کو فنڈز فراہم کرے گا۔ ٹرسٹ نے اراضی، عمارت، سہولیات اور تعمیر شدہ یا تعمیر کیے جانے والے انفراسٹرکچر کی شکل میں عطیہ دہندگان کے تعاون کو قبول اور تسلیم کیا۔

    12 مارچ 2021 کو عمران خان نے القادر یونیورسٹی، سوہاوہ، جہلم میں شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔ 29 نومبر 2021 کو عمران خان نے یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاکس کا افتتاح کیا۔

    مزید برآں، القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پروجیکٹ نے اپنے ویب پیج – alqadir.edu.pk میں خود کو ایک یونیورسٹی کے طور پر بتایا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک کالج ہے کیونکہ کمیشن (PHEC) 17 مارچ 2022 سے ڈگری دینے کے لیے چارٹر دینے کی درخواست پنجاب ہائر ایجوکیشن کے پاس زیر التوا ہے۔

    اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ ٹرسٹ نے ایک کالج قائم کیا جس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے اور ٹرسٹ القادر انسٹی ٹیوٹ کے نام سے ڈگری دینے کا درجہ دینا چاہتا ہے۔

    پی ایچ ای سی نے اس خط کے جواب میں کہا کہ درخواست کے ساتھ کچھ دستاویزات غائب ہیں مثال کے طور پر القادر انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران کے لیے ایچ ای سی کے مساوی سرٹیفکیٹ۔ پی ایچ ای سی نے درخواست دہندگان سے مالی اور غیر مالیاتی تفصیلات کے ساتھ ایک آڈٹ رپورٹ بھی جمع کرانے کو کہا کیونکہ پہلے سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو کمیشن نے ناکافی سمجھا۔

    رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عارف نذیر بٹ نے بتایا کہ ایک ٹرسٹیز ڈگری دینے کی حیثیت کے طور پر چارٹر حاصل کرنے کے لیے، پی ایچ ای سی کے قوانین کے تحت پہلے ایک سرکاری یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ کالج قائم کرنا ہوتا ہے 2021 میں مینجمنٹ سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا الحاق شدہ کالج بن گیا تھا-

    ” ڈاکٹر عارف بٹ نے کہا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (GCU) کے الحاق شدہ کالج کے طور پر، ہمیں 2021 کے موسم خزاں میں 50 سیٹوں کے ساتھ BS مینجمنٹ سائنس پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔

    ڈاکٹر عارف نذیر بٹ نے کہا کہ ٹرسٹ نے مختصر وقت میں ڈگری دینے والا ادارہ بننے کے تقاضوں کو پورا کیا ہے اور پنجاب حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ مینجمنٹ سائنس اور اسلامک سٹڈیز دونوں شعبوں کی بنیاد پر ڈگری دینے کے لیے چارٹر کی اجازت دے۔ درخواست HEC پنجاب حکومت میں زیر عمل ہے۔ تنظیم کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہر سال مزید محکموں کا اضافہ کیا جائے گا-

    عارف نذیر بٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ 2020 کے آخر میں القادر ٹرسٹ کی انتظامی کمیٹی کے رکن اور مسز فرحت شہزادی کے ساتھ دسمبر 2021 میں ٹرسٹی بنے۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب تمام اخراجات رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں تو ٹرسٹ اضافی عطیات کیوں وصول کر رہا ہے، اور وہ طلباء سے ٹیوشن فیس کیوں وصول کر رہا ہے، ڈاکٹر عارف نے جواب دیا، "القادر ٹرسٹ کے پاس سرمایہ اور آپریشنل اخراجات ہیں جب سے یہ چل رہا ہے۔ الحاق کالج. ٹرسٹ کو مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایک ریزرو فنڈ بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، ٹرسٹ عطیات اور داخلی وسائل جیسے ٹیوشن فیس سے فنڈز کے ذرائع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ٹرسٹ میں داخل ہونے والے تمام طلباء کو مالی امداد میں ٹیوشن کی چھوٹ ملی تھی۔

    ڈاکٹر عارف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کیا گیا۔ تاہم، انہوں نےآڈٹ کی تفصیلات شئیر نہیں کیں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بات کرنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے-

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پروجیکٹ کے دیگر ٹرسٹیز سے بھی یہی سوال پوچھا گیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔

    زلفی بخاری نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وزیر اعظم نے تعلیمی اداروں کی تعمیر اور ہمارے مذہب ‘اسلام’ کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے عطیات کو حقیقی طور پر استعمال کیا ان سے اس زمین (تقریباً 500 کنال) کے بارے میں بھی بار بار سوال کیا گیا جو کہ رئیل اسٹیٹ کمپنی نے ان کے نام منتقل کی تھی جسے بعد میں بشریٰ خان اور کمپنی کے درمیان ایک معاہدے میں تسلیم کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    26 دسمبر 2019 کو ظہیر الدین بابر اعوان کے ذریعہ سب رجسٹرار اسلام آباد کے دفتر میں ایک ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر کی گئی ٹرسٹ کا نام ’’القادر یونیورسٹی پروجیکٹ‘‘ رکھا گیا اور ایف 8 اسلام آباد میں اعوان کے گھر کو اس کا دفتر قرار دیا گیا اس وقت اصل معتمد عمران خان، بشریٰ خان، ذوالفقار عباس بخاری (سابق ایس اے پی ایم برائے اوورسیز پاکستانی) اور بابر اعوان (اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے قانونی مشیر) تھے۔

    دی نیوز کی رہورٹ میں بتایا گیا کہ 22 اپریل 2020 کو، عمران خان نے القادر ٹرسٹ اسلام آباد کے چیئرمین کی حیثیت سے جوائنٹ سب رجسٹرار، اسلام آباد کو ایک خط لکھا، جس میں انہیں مطلع کیا گیا کہ ظہیر الدین بابر اعوان اور ذوالفقار عباس بخاری کو ٹرسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ ٹرسٹ ڈیڈ کے ساتھ ٹرسٹ کا دفتر عمران خان کے بنی گالہ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا۔ خط کے ساتھ ترمیم شدہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کرکے جوائنٹ سب رجسٹرار اسلام آباد کو بھیج دیا گیا جب عمران خان وزیراعظم کے عہدے پر فائز تھے۔ تمام دستاویزات اس کاتب کے پاس موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق عطیہ کے حصے کے طور پر، رئیل اسٹیٹ کمپنی نے 458 کنال کی زمین موضع بکراالہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم میں ذوالفقار عباس بخاری کے نام پر القادر ٹرسٹ پروجیکٹ کے کسٹوڈین کے طور پر خریدی اور 22 جنوری 2021 کو، 22 جنوری 2021 کو جناب ذوالفقار عباس بخاری نے یہ زمین ٹرسٹ کے نام منتقل کی۔ اسٹامپ ڈیوٹی کے مقصد کے لیے زمین کی قیمت 243,972,300 روپے مقرر کی گئی تھی۔ تمام دستاویزات اس نمائندے کے پاس موجود ہیں۔

    24 مارچ 2021 کو رئیل اسٹیٹ کمپنی اور بشریٰ خان (ٹرسٹ کی جانب سے) کے درمیان عطیہ کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

    جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک، ٹرسٹ کو 180 ملین روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ جولائی 2020 سے جون 2021 تک ٹرسٹ کی کل آمدنی 101 ملین روپے تھی۔ بیلنس شیٹ کے مطابق عملے اور کارکنوں کی تنخواہوں سمیت کل اخراجات تقریباً 8.58 ملین روپے تھے۔

    17 فروری 2022 کو چیریٹی کمیشن حکومت پنجاب نے القادر پروجیکٹ ٹرسٹ، جی ٹی روڈ سوہاوہ، بکرالا، ضلع جہلم کو بطور چیریٹی رجسٹر کیا۔

    چیریٹی پورٹل کے مطابق القادر ٹرسٹ پروجیکٹ کے ٹرسٹیز کے نام عمران خان، مسز بشریٰ خاور عمران احمد خان نیازی، ڈاکٹر عارف نذیر بٹ اور مسز فرحت شہزادی شامل ہیں۔

    2 مارچ 2022 کو سب رجسٹرار سوہاوہ کے دفتر میں ‘انڈومنٹ فنڈ برائے القادر انسٹی ٹیوٹ’ کے عنوان سے ایک ٹرسٹ دستاویز رجسٹر کی گئی۔ اس دستاویز کے ٹرسٹیز کے نام بشریٰ خان، فرحت شہزادی اور ڈاکٹر عارف نذیر بٹ ہیں جبکہ اس دستاویز کے مصنف عمران خان ہیں۔