Baaghi TV

Tag: القاعدہ

  • نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    امریکی ملٹری جج نے نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر افراد کے پلی بارگین ایگریمنٹس بحال کر دیے

    واشنگٹن: امریکا کے ایک ملٹری جج نے نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کے ساتھ طے شدہ پلی بارگین ایگریمنٹس (مفاہمتی معاہدے) کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے، جو کہ تین ماہ قبل امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے ختم کر دیے تھے۔ ان معاہدوں کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ سزائے موت کی سزا کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں،

    گوانتاانامو بے میں ایک فوجی جج نے فیصلہ دیا کہ 9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور اس کے دو ساتھیوں کے لیے درخواستوں کے معاہدے قانونی اور درست ہیں، جس کے نتیجے میں ان افراد کو ممکنہ طور پر سزائے موت سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے، بشرطیکہ وہ عمر قید کی سزا قبول کریں۔ایئر فورس کے کرنل میتھیو مک کال نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع لوئڈ آسٹن کے پاس ان معاہدوں کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں تھا، جیسا کہ 2 اگست کو پینٹاگون کی جانب سے ان معاہدوں کے اندراج کے بعد آسٹن نے انہیں کالعدم کر دیا تھا۔خالد شیخ محمد اور اس کے دو اہم ساتھی، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الہوسوی نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ وہ 2,976 افراد کے قتل اور دیگر الزامات میں قصوروار قرار پائیں گے، اس کے بدلے میں ان کے خلاف سزائے موت کی سزا ختم کر دی جائے گی۔ یہ معاہدے ان افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کی ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم انہیں متنازعہ قرار دیا گیا۔ معاہدوں کے اعلان کے فوراً بعد آسبن نے انہیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    آسٹن نے اس فیصلے کے بارے میں ایک یادداشت میں کہا تھا کہ "میرے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا کہ ملزمان کے ساتھ مقدمے سے پہلے کی کارروائیوں میں میں خود کو ذمہ دار سمجھوں”۔ تاہم، جج مک کال نے بدھ کے روز کہا کہ آسٹن کا یہ فیصلہ دیر سے آیا تھا اور انہوں نے اس بنیاد پر کہ آسٹن کو اس کیس پر اتنی وسیع اختیار حاصل نہیں تھا، ان معاہدوں کو برقرار رکھا۔9/11 کے متاثرین کے خاندانوں میں ان معاہدوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں نے ان معاہدوں کی حمایت کی ہے، جب کہ کچھ اس بات پر مصر ہیں کہ مقدمہ ٹرائل کی صورت میں چلے اور ان افراد کو سزائے موت دی جائے۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے متاثرین کے خاندانوں کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں سے انہیں اگلے سال کی سزا کی سماعت میں اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والے حملے کے اثرات پر بات کرنے کا موقع ملے گا، اور وہ القاعدہ کے حملے میں ان کے کردار اور محرکات کے بارے میں سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔

    اس فیصلے سے یہ واضح ہوا کہ اب نائن الیون حملوں میں ملوث تینوں ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی کے خلاف مقدمات کا کوئی منطقی نتیجہ نکلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے ان کیسز کو کئی سالوں تک التوا میں رکھا گیا تھا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی سماعت کو آگے نہیں بڑھایا جا رہا تھا۔

    امریکی عہدیداروں نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے کہ ملٹری جج نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ملزمان کے مقدمات کے لیے جو ایگریمنٹس کیے گئے تھے وہ بالکل درست اور قابلِ نفاذ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان ملزمان کے مقدمات کسی منطقی انجام کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ استغاثہ کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ایسا کریں گے یا نہیں۔امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائیڈر نے اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔”

    نائن الیون حملوں کے تین ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی اس وقت گوانتا نامو بے جیل میں قید ہیں، جہاں انہیں طویل عرصے سے قید رکھا گیا ہے۔ ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2001 میں ہونے والے نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔طویل عرصے سے جاری قانونی کارروائیوں اور تشویشات کے باوجود، ملٹری جج کا حالیہ فیصلہ ان مقدمات کو ایک نئے موڑ پر لے آیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا یا نہیں۔

  • القاعدہ بھارت کے پہاڑوں پر خود کش دستے تیار کرنے لگی

    القاعدہ بھارت کے پہاڑوں پر خود کش دستے تیار کرنے لگی

    بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت میں القاعدہ ایک خود کش دستہ تیار کر رہی تھی اس ضمن میں پہاڑوں پر تربیت جاری تھی

    القاعدہ سے منسلک ڈاکٹر اشتیاق کو بھارتی حکام نے جھارکھنڈ کے علاقے رانچی سے گرفتار کیا تھا، اب حکام نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ القاعدہ بھارت میں   ایک خودکش اسکواڈ تیار کر رہی تھی اور اس ضمن میں ڈاکٹر اشتیاق نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک پہاڑی علاقے کا انتخاب کیا تھا جہاں وہ اپنے ساتھیوں کو لا کر انہیں حملوں کی تربیت دینا چاہتا تھا۔ کچھ افراد کو تربیت بھی دی گئی،ڈاکٹر اشتیاق نے دہلی پولیس کے سامنے دوران تحقیقات یہ انکشاف کئے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے حال ہی میں اشتیاق، انعام الانصاری، شہباز انصاری، مطیع الرحمان اور الطاف ودیگر کو گرفتار کیا تھا،گرفتار افراد نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ وہ رانچی کے چانہو گاؤں کے قریب نکتا جنگل میں جاتے تھے۔ اس گھنے جنگل کے آس پاس کوئی رہائش نہیں ہے اور اس وجہ سے گھنے جنگل کے اندر ہونے والی سرگرمیوں پر کسی کا دھیان نہیں جاتا جس کی وجہ سے اسے خود کش دستے کی تربیت کے لیے موزوں ترین جگہ سمجھاگیا،وہاں نوجوانوں کی ہتھیار چلانے کی تربیت بھی دی جا نی تھی

    ڈاکٹر اشتیاق کو القاعدہ برصغیر کا رہنما بتایا گیا ہے، ان میں سے کچھ افراد کو مبینہ طور پر اسی نے تربیت کے لیے راجستھان بھیجا تھا۔ حکام نے ایک مدرسہ کی تلاشی بھی لی۔ جھارکھنڈ کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے 22 اگست کو چھاپے مارے اور اشتیاق اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کیاتھا،اشتیاق نے اپنا نیٹ ورک اتر پردیش اور راجستھان تک پھیلایا تھا۔ اس نے بہار کے لکھی سرائے سے ہتھیار خریدے تھے۔

    بھارت کا سب سے بڑا سیکس سیکنڈل،مودی کے اتحادی نے کی 400 خواتین سے زیادتی

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    کوئٹہ نازیبا ویڈیو سیکنڈل،عدالت نے دو ملزمان کو بری کر دیا

    گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

  • اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی امین الحق کی پولیس حراست میں تصویر سامنے آ گئی

    اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی امین الحق کی پولیس حراست میں تصویر سامنے آ گئی

    اسامہ بن لادن کے سابق قریبی ساتھی، ڈاکٹر امین الحق کی پولیس حراست میں تصویر سامنے آ گئی

    امین الحق کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جو تصویر سامنے آئی ہے اس میں پولیس سخت سیکورٹی میں امین الحق کو عدالت پیشی کے لیے لے کر جار ہی ہے،امین الحق نے سفید لبا س پہنا ہوا ہے اورپولیس نے ملزم کو ہتھکڑی لگائی ہوئی ہے،

    امین الحق افغان شہری ہے،اور اسکے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ موجود ہے، امین الحق کے پاس موجود شناختی کارڈ کی کاپی پر سال 2020 کی تاریخ درج ہے پاکستانی شناختی کارڈ کے اجرا پر بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، دوران تحقیقات امین الحق نے انکشاف کیا کہ کہ اس کی القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن سے 15 نومبر 2001 کو آخری ملاقات ہوئی تھی،

    ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سینئر جنگجو امین الحق کو سرائے عالمگیر سے گرفتار کرلیا ۔القاعدہ کے سینئر جنگجو امین الحق کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔ ترجمان کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا سینئر جنگجو امین الحق 1996 سے اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی اور کئی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا ۔ گرفتار دہشت گرد امین الحق کا نام اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے ۔سی ٹی ڈی نے دہشت گرد کی گرفتاری کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ۔ امین الحق کی گرفتاری پاکستان اور دنیا بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جاری کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

    بنوں واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان

  • بھارت میں القاعدہ نے تربیتی کیمپ بنا لیے،رہنما سمیت 14 گرفتار

    بھارت میں القاعدہ نے تربیتی کیمپ بنا لیے،رہنما سمیت 14 گرفتار

    بھارت میں القاعدہ کے لئے کام کرنیوالے ڈاکٹر اشتیاق سمیت 16 افراد کو گرفتار کر لیا گیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق القاعدہ انڈین برصغیر کے سربراہ، ڈاکٹر اشتیاق کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل، این آئی اے، جھارکھنڈ اے ٹی ایس، اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا ہے، ڈاکٹر اشتیاق رانچی کے ایک اسپتال میں کام کرتے ہیں۔ڈاکٹر اشتیاق القاعدہ سے منسلک ہے اور بھارت میں حملوں کے لئے کئی افراد کو ٹریننگ بھی دے رہا تھا،چھ افراد کو راجھستان کے علاقے بھیواڑی میں دہشت گردی کی تربیت دی گئی، اداروں نے اب تک ڈاکٹر اشتیاق سے منسلک 16 افراد کو گرفتار کیا ہے.

    القاعدہ انڈین برصغیر کےڈاکٹر اشتیاق کے روابط بھی زمین گھوٹالے سے جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی گرفتاری ہوئی تھی۔ ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ کے مطابق ای ڈی نے اس معاملے میں ببلو خان ​​نامی شخص کو طلب کیا ہے۔ ای ڈی اب اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا زمین گھوٹالے سے کمائی گئی رقم سے القاعدہ کو کو فنڈ فراہم کیا گیا ؟، کیونکہ ببلو خان ​​افسر خان اور طلحہ خان کے رشتہ دار ہیں، جو زمین گھوٹالے میں جیل میں بند ہیں۔

    ساتھ ہی ڈاکٹر اشتیاق ببلو خان ​​کے ہسپتال سے وابستہ رہے ہیں۔ یہ دونوں خاندانی رشتہ دار بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی افسر علی اور طلحہ خان پر آرمی اراضی گھوٹالہ اور ہیمنت سورین سے متعلق زمین گھوٹالے میں چارج شیٹ داخل ہے۔ ایسے میں ای ڈی نے بھی اپنی تحقیقات کا رخ دہشت گردی کی فنڈنگ ​​کی طرف موڑ دیا ہے۔ اب ببلو خان ​​سے پوچھ گچھ کر کے ای ڈی اور دیگر ایجنسیاں پتہ لگائیں گی کہ آیا زمین گھوٹالے سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے کیا گیا تھا۔

    القاعدہ انڈین برصغیر کے رہنما ڈاکٹر اشتیاق اپنے نیٹ ورک کو رانچی سے چلا رہے تھے اور انہوں نے اپنے نیٹ ورک کو راجستھان اور اتر پردیش تک پھیلا دیا تھا۔ ڈاکٹر اشتیاق رانچی کے معروف میڈیکل ہسپتال میں کام کر رہے تھے۔ تاہم اے ٹی ایس کی کارروائی کے بعد 22 اگست کو ہی ادارے کی انتظامیہ نے ڈاکٹر اشتیاق احمد کو نوکری سے فارغ کرنے کا نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے، ڈاکٹر اشتیاق کی گرفتاری کے بعد سیکورٹی اداروں نے آٹھ افراد کو راجستھان اور اتر پردیش سے گرفتار کیا ۔ گرفتار افراد سے اے کے 47 سمیت کئی ہتھیاروں کی برآمدگی کی بھی اطلاعات ہیں۔ جھارکھنڈ کے آئی جی آپریشنز امول ہومکر نے کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے آٹھ لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر اشتیاق بھارت میں خلافت کا اعلان کرنے اور کئی دہشت گردانہ حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

    دہلی پولیس کے اسپیشل سیل سے موصول ہونے والی خفیہ اطلاع پر، جھارکھنڈ اے ٹی ایس نے رانچی کے علاقے میں الحسن ریذیڈنسی پر چھاپہ مار کر ڈاکٹر اشتیاق کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس کے لیپ ٹاپ اور موبائل فون کی جانچ پڑتال کی گئی، ڈاکٹر اشتیاق نے چھ مشتبہ افراد کو بھیواڑی، راجستھان میں تربیت کے لیے بھیجا تھا۔ ان سبھی کو راجستھان پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے اے کے 47 رائفل، 38 بور ریوالور اور چھ زندہ کارتوس،32 بور کے 30 زندہ کارتوس، اے کے 47 کے 30 کارتوس، ایئر رائفل، لوہے کا کہنی کا پائپ، دستی بم اور دیگر چیزیں برآمد کی ہیں۔

    ڈاکٹر اشتیاق کون ہے؟
    ڈاکٹر اشتیاق پیشے کے لحاظ سے ایک ریڈیولوجسٹ ہیں، جنہوں نے RIMS، رانچی سے طب کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 3 سال تک میڈیکل ہسپتال میں کل وقتی کام کیا۔ ڈاکٹر اشتیاق ہزاری باغ میں ایک کلینک بھی چلاتے ہیں۔ وہ ہندوستان کو اسلامی ملک بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

    جھارکھنڈ اے ٹی ایس کی ٹیم نے محمد مدبیر، رضوان، چٹوال کے مفتی رحمت اللہ ماجھیری اور پپراتولی کے مطیع الرحمان کو حراست میں لیا ہے۔اے ٹی ایس کی ٹیم نے بیک وقت پکریو گاؤں کے انعام الانصاری، شہباز انصاری ، چنہو کے بالسوکارہ، چٹوال، پپراٹولی کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران محمد مدبر، محمد رضوان، مفتی اور مطیع الرحمن کو اے ٹی ایس نے ان کے گھروں سے اور مفتی رحمت اللہ کو ان کے مدرسے سے حراست میں لیا تھا۔ چھاپے کے دوران انعام الانصاری اور شہباز گھر پر نہیں ملے۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ جیرت انصاری کا بیٹا  امتحان کے لیے دہلی گیا ہے، جب کہ شہباز اور انعام الانصاری تبلیغی جماعت میں گئے ہیں۔

    اللہ کا واسطہ مجھے بچا لیں، ماچھکہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال پولیس اہلکار کی دہائی

    اطلاع دیں،ایک کروڑ انعام پائیں، خطرناک ڈاکوؤں کی تصاویر جاری

    رحیم یار خان،پولیس اہلکاروں کی شہادت پر مقدمہ درج

    کچے کے علاقے میں شہید 12 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    رائفل پکڑ لو لگتا ہے آخری ٹائم ہے،حملے سے قبل پولیس اہلکاروں کی ویڈیو وائرل

    پنجاب پولیس کی جوابی کارروائی،حملے کا مرکزی ملزم بشیر شر ہلاک

  • اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی پنجاب سے گرفتار

    اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی پنجاب سے گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی، القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کا انتہائی قریبی ساتھی گرفتار کر لیا

    سی ٹی ڈی پنجاب نے کاروائی کی ہے اور بڑی کامیابی ملی ہے،سی ٹی ڈی پنجاب کیمطابق القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی اور عالمی سطح پہ مطلوب امین الحق کو گرفتار کرلیا گیا گیا ہے، القاعدہ کمانڈر جعلی دستاویزات کیساتھ پنجاب میں مقیم اور القاعدہ کی تنظیم نو کر رہا تھا ،

    ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سینئر جنگجو امین الحق کو سرائے عالمگیر سے گرفتار کرلیا ۔القاعدہ کے سینئر جنگجو امین الحق کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔ ترجمان کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا سینئر جنگجو امین الحق 1996 سے اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی اور کئی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا ۔ گرفتار دہشت گرد امین الحق کا نام اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے ۔سی ٹی ڈی نے دہشت گرد کی گرفتاری کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ۔ امین الحق کی گرفتاری پاکستان اور دنیا بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جاری کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔
     ترجمان سی ٹی دی نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردامین الحق ملک میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے منصوبے کو پلان کررہا تھا، یہ گرفتاری دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے میں حکومت پنجاب نے سی ٹی ڈی کی کاوشوں کو سراہا اور پوری قوت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا۔ کاو ¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب تندہی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،انہوں نے کہا کہ کسی بھی متعلقہ معلومات کی صورت میں ہیلپ لائن پر کال کریں ۔ کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب0800-11111 ۔