Baaghi TV

Tag: الیکشن کمشین

  • دھوکہ نہیں ،تحریک انصاف کا پلان بی، کسی کو نشان نہیں ملے گا، الیکشن کمیشن

    دھوکہ نہیں ،تحریک انصاف کا پلان بی، کسی کو نشان نہیں ملے گا، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جو امیدوار کسی اور جماعت کا ممبر ہو اور دوسری جماعت کا نشان مانگے وہ نہ دیاجائے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اکثر امیدواروں کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں،ان درخواستوں کے ذریعے سے الیکشن کمیشن کو دھوکا دیا جارہا ہے، الیکشن کمیشن کو دھوکا دے کر قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، الیکشن کمیشن حکم دیتا ہے کہ کوئی انتخابی نشان کسی دوسرے پارٹی کے امیدوار کو نہ دیا جائے،جو امیدوار کسی اور جماعت کا ممبر ہو اور دوسری جماعت کا نشان مانگے وہ نہ دیاجائے،آر اوز ایسے کسی امیدوار کو دوسرا انتخابی نشان نہ دیں،الیکشن ایکٹ کے تحت امیدوار اپنی پارٹی وابستگی کا سرٹیفکیٹ دیتا ہے،ایک شخص ایک وقت میں ایک سے زیادہ پارٹی کا رکن نہیں ہوسکتا،

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    واضح رہے تحریک انصاف کی جانب سے تمام امیدواران کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اپنے “تحریک انصاف نظریاتی” کے ٹکٹ ریٹرننگ افسران کے دفتر میں جمع کروائیں اور اس کی ریسیونگ لیں ،اگر کوئی آپ کا ٹکٹ جمع نہیں کرتا یا جمع کروانے میں پولیس یا آر او رکاوٹ ڈالتے ہیں تو فوری طور پر ڈسٹرکٹ، صوبائی اور سنٹرل الیکشن کمیشن کو شکایت ای میل کریں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے گزشتہ روز امیدواروں‌کو ٹکٹ جاری کیے تھے، تحریک انصاف نے امیدواروں کو دو ٹکٹ جاری کیے تھے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے بلے کا نشان لے لیا تھا ، سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے،تاہم پی ٹی آئی نے امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلے باز کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے،

    ٹکٹوں کی تقسیم پر شدید اختلافات دیکھنے میں آیا ہے،کئی امیدواروں نے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے، عمران خان کے سخت ناقد صحافی امتیاز عالم کو بھی پی ٹی آئی نے ٹکٹ جاری کر دیا جس پر سوشل میڈیا ٔپر پی ٹی آئی کارکنان سراپا احتجاج ہیں،جہلم میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے امیدوار کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دے دیا.

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

  • کاغذات نامزدگی جمع کرانےکا وقت ختم ، نواز شریف اور بلاول سمیت دیگر رہنماؤں کے کاغذات بھی جمع

    کاغذات نامزدگی جمع کرانےکا وقت ختم ، نواز شریف اور بلاول سمیت دیگر رہنماؤں کے کاغذات بھی جمع

    اسلام آباد: الیکشن 2024 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مشکل مرحلہ مکمل ہوگیاقومی اور صوبائی نشستوں کیلئے امیدواروں نے آج بھی کاغذات جمع کرائے۔ کاغذات جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع سے رش ختم ہوگیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں سیاسی گہما گہمی جاری ہے، اتوار کی چھٹی کے باوجود ملک بھر میں تمام ریٹرننگ، اسسٹنٹ افسران اور عملہ آر او آفس میں حاضر رہے اس موقع پر ریٹرننگ اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کے دفاتر کے باہر سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے کل 25 دسمبر سے آراو اور ڈی آراو کے دفاتر کے احاطے میں موجود امیدواروں سے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا عمل شروع ہوگا جو 31 دسمبر تک جاری رہے گا،الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہےکہ کاغذات نامزدگی جمع کرانےکے وقت میں اضافہ نہیں کیا گیا-

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے این اے 130 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ہیں، نواز شریف کے کورنگ امیدوار بلال یسین ہیں، نواز شریف کو 26 دسمبر کو اسکروٹنی کیلئے بلا لیا گیا،جبکہ خرم دستگیر خان نے این اے 78 گوجرانوالہ کی نشست کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں،لیگی رہنما مریم نواز نے بھی پی پی 80 شاہ پور سرگودھا سے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ہیں-

    پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے مقابلے میں حلقہ این اے 15 مانسہرہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دئیے ہیں،پی ٹی آئی کارکنان ریلی کی صورت میں اعظم سواتی کے کاغذات جمع کرانے ریٹرنگ آفیسر کے پاس پہنچے اور سابق صدر ڈسٹرکٹ بار عامر خان نے اعظم سواتی کے کاغذات جمع کرائے۔

    این اے 130 سے تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، جماعت اسلامی کی جانب سے صوفی خلیق اور احمد بٹ نے کاغذات جمع کروائے ہیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے این اے 194 لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے این اے 150 ملتان سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔

    این اے 150سے زین قریشی اور مہربانو قریشی نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ این اے 180 کوٹ ادو سے سابق وزیر خارجہ حناربانی کھر نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی کراچی سے این اے 249 کی نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، سربراہ ایم کیوایم نے این اے 248 اور این اے 250 سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

    معروف ٹک ٹاکر صندل خٹک نے بھی سیاسی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اُنہوں نے خیبرپختونخوا سے خواتین کی مخصوص نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں صندل خٹک نے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ بتانا قبل از وقت ہے کہ میں کس سیاسی جماعت سے وابستہ ہوں میرے آبائی علاقے میں بہت مسائل ہے، انہی مسائل کے حل کے لیے نکلی ہوں خواتین کو بااختیار بنانا میرا مقصد ہوگا، فی الحال کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوں،گیس ہمارے علاقے کی ہے لیکن ہمیں گیس نہیں ملتی، خواتین کو گیس، بجلی اور پانی کے مسائل کا سامنا ہے مجھے عوام کی حمایت حاصل ہے، میں جیت کر اپنے علاقے کی بہتری کے لیے کام کروں گی۔

    علاوہ ازیں کراچی کے علاقے لیاری سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق رکن سندھ اسمبلی جاوید ناگوری گدھا گاڑی پر کاغذات جمع کرانے پہنچےجاوید ناگوری قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 239 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 106 سے کاغذات جمع کرائیں گے۔

    دوسری جانب پنجاب میں امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھیننے کے معاملے پر الیکشن کمشنر پنجاب سعید گل نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر عبدالودود خان نے صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل کو ایک شکایتی خط لکھا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں لاہور کے ریٹرننگ افسران (آر اوز) کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اورخصوصاً پولیس کی مداخلت کی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔

    خط میں کہا گیا کہ شکایات موصول ہونے کے بعد متعلقہ اداروں سے فون پر رابطے کی کئی بار کوشش کی گئی اور متعدد خطوط بھی لکھے، تاہم کوئی نتیجہ نہیں نکلا ضلعی الیکشن کمشنر نے اپنے خط میں صوبائی الیکشن کمشنر سے درخواست کی کہ وہ آئی جی پنجاب سے چیف سیکریٹری پنجاب سے رابطہ کریں تاکہ انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے بچا جاسکے۔

    ضلعی الیکشن کمشنر کے اس خط کے بعد الیکشن کمشنر پنجاب نے آئی جی پنجاب کو فون کیا اور کہا کہ ریٹرنگ افسران کےکام میں مداخلت قبول نہیں ہے، شفاف الیکشن کیلئے سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ دینی ہے۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ان کے رہنماؤں اور امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے روکا جارہا ہے اور ان پر تشدد کرکے گرفتار کیا جارہا ہے تحریک انصاف میں شمولیت کرنے والے معروف قانون دان لطیف کھوسہ کا بھی کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    عام انتخابات 2024 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہے ای سی پی کی جانب سے 2 روزہ توسیع آج ختم ہو جائے گی، چاروں صوبوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ آج مکمل ہوگا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں 2 روز کی توسیع کی تھی، الیکشن کمیشن کے نظرثانی شدہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 25 سے 30 دسمبر تک ہوگی۔ ای سی پی کے مطابق ریٹرننگ افسر کے فیصلوں کیخلاف اپیل 3 جنوری تک دائر ہوگی، پولنگ شیڈول کے مطابق 8 فروری 2024 کو ہوگی۔

    بلاول بھٹو کا این اے 128 کی بجائے کسی اور حلقے سے الیکشن …

    دوسری جانب عام انتخابات میں حصہ لینے والے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو این اے 128 لاہور سے الیکشن لڑیں گے، نواز شریف این اے 15 مانسہرہ سے انتخابات میں حصہ لیں گے، بانی پی ٹی آئی کے میانوالی کی نشست این اے 89 سے کاغذات جمع کرا دیئے گئے۔ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے قصور کے حلقہ این اے 132 سے بھی کاغذات جمع کرادیئے، مریم نواز این اے 119 اور این اے 120 لاہور سے الیکشن لڑیں گی، مریم نواز اور شہباز شریف کے خلاف صنم جاوید میدان میں اتریں گی۔

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    فواد چودھری کی اہلیہ حبا فواد چودھری حلقہ این اے 61 جہلم سے بطور آزاد امیدوار سامنے آگئیں، مسلم لیگ ق کے چودھری سالک حسین نے این اے 64 سے کاغذات جمع کرائے۔ آصف زرداری این اے 207 نواب شاہ سے الیکشن لڑیں گے، پرویز خٹک نے این اے 33 نوشہرہ اور 2 صوبائی نشستوں سے کاغذات جمع کرادیئے-

    سراج الحق این اے 7 لوئر دیر سے قسمت آزمائیں گے، مصطفیٰ کمال نے این اے 242 اور این اے 247 کراچی سے کاغذات جمع کرا دیئے، بانی پی ٹی آئی لاہور کے حلقہ این اے 122 سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں، عطا اللہ تارڑ نے پی پی 35 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے خیال رہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران متعدد سیاسی رہنماؤں نے کاغذات نامزدگی وصول کئے اور جمع کرائے ہیں۔

    اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے غلطی سے فلسطین کے حق میں ہاتھ اٹھادیا

    استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین خان نے بھی تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہانگیر ترین این اے 155 لودھراں اور پی پی 227 لودھراں سے انتخابات میں حصہ لیں گےجہانگیر ترین این اے 149 ملتان اور پی پی 227 سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔ قبل ازیں، جہانگیر ترین این اے 155 سے کاغذات نامزدگی جمع کراچکے ہیں-

  • پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات،الیکشن کمیشن کی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست

    پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات،الیکشن کمیشن کی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست

    پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر کردی، درخواست میں سپریم کورٹ سے 14 مئی پولنگ کی تاریخ واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے فنڈز نہیں ملے، موجودہ صورتحال میں انتخابات کرانے سے قاصر ہیں

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا ،الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار عدلیہ کو حاصل نہیں، آئین بنانے والوں نے عدلیہ کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ انتخابات کیلئے تاریخ دے، سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دے کر طے شدہ قانون کو تبدیل کیا، سپریم کورٹ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینے کی غلطی کو درست کرے،آئین پاکستان نے اداروں کے اختیارات کو بالکل واضح کر رکھا ہے،عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کی واضح آئینی حدود کے تحت سپریم کورٹ کا انتخاب کیلئے تاریخ دینا درست نہیں،آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دیکر اپنے ہی طے کردہ اصول کی نفی کی،

    قبل ازیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کو واضح طور پر ناممکن قرار دے دیا تھا،
    الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں تین رپورٹیں جمع کرائی ہیں۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ مذکورہ تاریخ کو صوبائی انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت عظمیٰ اس معاملے کی مزید سماعت کیلئے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔ مقررہ تاریخ تک ضروری مطلوبہ انتظامات کی تکمیل ممکن نہیں جبکہ انتخابات کے التوا یا تنسیخ کا اعلان آئندہ ہفتے کیاجائے گا سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے الیکشن کمیشن کو طلب نہیں کیا ۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے اور اس حوالے سے چیف جسٹس نے کیس میں ریمارکس دیے تھے کہ عدالت اپنا 14 مئی کو الیکشن کا حکم واپس نہیں لے گی , چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    تلہ گنگ کے شہری ملک فیصل محمود نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات عام انتخابات تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے ذریعے ہی عوام اپنے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کرسکتے ہیں ،دو صوبوں میں پہلے اور قومی اسمبلی کے بعد میں انتخابات سے زیادہ اخراجات آئیں گے، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نگران حکومتوں کو صرف ایک مرتبہ کے لیے عام انتخابات تک توسیع دے دی جائے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پہلے انتخابات ہونے سے ملک بھر کے عام انتخابات میں نگران حکومتوں کا نظام بھی متاثر ہوگا ،درخواست میں وفاق، صدر، الیکشن کمیشن اور دونوں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

    ،حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،

    دو حکومتیں اب بن جائیں تو کیا اکتوبر میں شفاف انتخابات ہوسکیں گے

     بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں نگران حکومتیں چل رہی ہیں، نگران حکومت نے 90 روز میں الیکشن کروانے ہوتے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن کا 30 اپریل کا شیڈول دے کر اسے ملتوی کر دیا اور 8 اکتوبر کا نیا شیڈول جاری کر دیا، اب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے الیکشن مقررہ وقت پر ہوں جبکہ حکمران اتحاد کی کوشش ہے کہ الیکشن ایک ساتھ اکتوبر میں ہوں

  • الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،وزیر قانون

    الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،وزیر قانون

    اسلام آباد: وزیر قانون نے کہا ہے کہ فل بینچ تشکیل دینے سے مقدمات میں ابہام دورہوجائے گا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ الیکشن کے معاملے پر اسی دن بتا دیا تھا فیصلہ چار تین کا ہے فل بینچ تشکیل دینے سے مقدمات میں ابہام دورہوجائے گا، موجودہ بینچ سے استدعا ہے فل کورٹ تشکیل دیاجائے، ادا رے کی تکریم کے لیے فل کورٹ معاملے کو دیکھے۔

    پی ٹی آئی کا بلدیاتی امیدوار "ڈکیت” نکلا، رنگے ہاتھوں عوام نے پکڑ لیا

    انہوں نےکہاکہ ن لیگ ،جے یوآئی اورپیپلزپارٹی کے وکلا عدالت میں ہیں،ججز کے اختلافی نوٹ کے مطابق چار تین کی نسبت درخواستیں مسترد ہوئیں ہیں،گذشتہ روز 2ججز کا اختلافی فیصلہ آیا الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،الیکشن کمیشن آرٹیکل 218(3) کے تحت اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا، الیکشن کمیشن کسی فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سپریم کورٹ میں درخواست کے کیس میں حکومتی اتحاد نے فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے،حکومتی اتحاد کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کے خلاف مقدمات کی درخواست نمٹا دی

  • الیکشن کمیشن کی حمایت میں ن لیگی نکلیں:رانا ثنااللہ کا پیغام

    الیکشن کمیشن کی حمایت میں ن لیگی نکلیں:رانا ثنااللہ کا پیغام

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ن لیگ کی تمام تنظیمیں اور پارلیمنٹیرینز پرامن طور پر الیکشن کمیشن سے اظہار یکجہتی کیلئے باہر نکلیں۔

    الیکشن کمیشن عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس پر فیصلہ کل سنائےگا

    وفاقی دارالحکومت میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تمام ممبران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ن لیگ کی تمام تنظیمیں اور پارلیمنٹیرئینز پرامن طور پر الیکشن کمیشن سے اظہار یکجہتی کریں، الیکشن کمیشن کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے باہر نکلیں، اللہ کا شکر ادا کریں کہ فتنہ ایکسپوز ہوا ہے، ہر پاکستانی کو اس فتنے کی شناخت کرنی چاہئے، اس فتنے نے قوم کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی،

    بس اب بہت ہوگیا:مکاربھارت سے بائیکاٹ کا اعلان کریں:مدثرنذر

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ یہ کہتا ہے میں سیاسی مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دوں گا، کیا یہ جمہوری رویہ ہے؟ ایسا شخص لیڈر بننے کے قابل نہیں، عمران خان کسی بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ہے، عمران خان کسی بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ہے، الیکشن کمیشن نے آج عمران خان کو چور ثابت کر دیا ہے۔ اس کو دوسرے ممالک نے ملک کی عزت کی خاطر تحائف دیئے، ابھی تو اربوں روپے کا حساب باقی ہے۔

    عالمی،علاقائی معاملات میں عرب امارات کے کردارکو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں:آرمی…

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فتنہ خان کو الیکشن کمیشن نے چورثابت کردیا ہے، دوسروں کو چور کہنے والا آج خود کٹہرے میں ہے، پنجاب پولیس، آئی جی، چیف سیکرٹری سے کہنا چاہتا ہوں چورکے بجائے ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں، بنی گالہ میں چور ٹولہ اکٹھا ہوگیا ہے۔ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا۔ اس نے قوم کو 50 ارب کا ٹیکہ لگایا۔

  • الیکشن کمیشن عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس پر فیصلہ کل سنائےگا

    الیکشن کمیشن عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس پر فیصلہ کل سنائےگا

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کل (جمعہ کو) سنائے گا۔ ای سی پی نے سابق وزیراعظم عمران خان سمیت تمام فریقین کو آگاہ کردیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کل (جمعہ کو) دو بجے سنایا جائے گا، فیصلہ 19 ستمبر کو محفوظ کیا گیا تھا۔

    ای سی پی نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام فریقین کو آگاہ کردیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ڈی ایم ارکان اسمبلی کی درخواست پر ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا۔

    الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ تحائف ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کی نااہلی سے متعلق ریفرنس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار تھا کیا کہ عمران خان نے تحائف وصول اور فروخت کرنا تسلیم کیا مگر تاریخ اور قیمت نہیں بتائی۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بتانا ضروری نہیں کہ توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی؟۔

    وکیل خالد اسحاق نے کہا کہ عمران خان نے دعویٰ بھی کیا کہ ایف بی آر میں فروخت شدہ تحائف کی آمدن ظاہر کردی تھی، لیکن دونوں گوشوارے الگ الگ ہیں، لندن فلیٹ کی رسیدیں دینے والا بیچے گئے تحائف کی رسیدیں کیوں نہیں دے رہا۔

    خالد اسحاق نے مؤقف پیش کیا کہ ننکانہ صاحب کے ضمنی انتخاب میں تحائف کا اعتراض اٹھا تو عمران خان نے ریٹرننگ افسر سے کہا کہ یہ فیصلہ کرنے کا مجاز فورم الیکشن کمیشن ہے، اب یہاں الیکشن کمیشن کا اختیار ہی نہیں مان رہے۔ جب کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن ہی کسی ممبر کو نااہل کرسکتا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ ممکن ہے اثاثے ظاہر کرنے میں غلطی ہوگئی ہو؟ تب تو نااہلی نہیں بنتی۔خالد اسحاق نے کہا کہ اگر غلطی ہوئی تو تسلیم کی جائے۔ عمران خان بیان حلفی پر جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کے لیے عدالت کا ڈیکلریشن لازمی ہے مگر اسپیکر کے پاس کوئی ڈیکلریشن نہیں تھا۔ وہ ریفرنس بھیجنے کے اہل ہی نہیں، تحائف خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی اس کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں۔

    کمیشن ارکان نے ریمارکس دیئے کہ اگر کمیشن کچھ کرنہیں سکتا تو اسپیکر کے ریفرنس بھیجنے کی شق کیوں ڈالی گئی؟ جہاں شک ہو وہاں الیکشن کمیشن اسکروٹنی بھی کرتا ہے۔

  • عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر 50، 50 ہزار روپے جرمانہ

    عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر 50، 50 ہزار روپے جرمانہ

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے پشاور جلسے میں سرکاری وسائل کا استعمال اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہوگئی، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان پر 50، 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔

    پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان 10 صوبائی وزراء اور مشیروں پر بھی 50، 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق این اے 31 پشاور میں ہونیوالے پی ٹی آئی جلسے میں سرکاری وسائل کے استعمال پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سامنے آئی تھی۔

    خلاف ورزی ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی چیئرمین سمیت دیگر رہنماؤں پر جرمانہ عائد کیا۔وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آج (جمعرات کو) فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں عمران خان، محمود خان سمیت تمام افراد کو جرمانے کی رقم 18 ستمبر تک جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

  • دباؤ یا دھمکی سے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوا جاسکتا: ترجمان الیکشن کمیشن

    دباؤ یا دھمکی سے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوا جاسکتا: ترجمان الیکشن کمیشن

    اسلام آباد:دباؤ یا دھمکی سے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوا جاسکتا: ترجمان الیکشن کمیشن نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ یا دھمکی سے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوا جاسکتا۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے مردان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے لوٹوں کو بچایا تو قوم معاف نہیں کرے گی، لوگ ان کے خلاف بھی نکلیں گے، سازشیوں کے چہرے دل پر نقش، جو سازش روک سکتے تھے ان کو بتایا تھا معاشی بحالی دم توڑ جائے گی، افسوس پھر بھی کچھ نہیں کیا گیا، آج حالات سب کے سامنے ہیں، ڈالر دو سو روپے تک پہنچنے والا ہے، اسٹاک مارکیٹ بھی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔

    سابق وزیراعظم کی تقریر پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کرتا ہے، ادارے کے فیصلوں پر کسی طرح کے دباؤ یا دھمکی سے اثر انداز نہیں ہوا جاسکتا۔

  • آزاد الیکشن کمیشن:دلیرانہ فیصلے:ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی:سپیکرقومی اسمبلی کونوٹس جاری

    آزاد الیکشن کمیشن:دلیرانہ فیصلے:ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی:سپیکرقومی اسمبلی کونوٹس جاری

    پشاور:خیبر پختونخوامیں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 دسمبر کو طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات ہوں گے اور ای سی پی نے اس کا شیڈول جاری کردیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد دیگر 18 اضلاع میں انتخابات 16 جنوری 2022 کو ہوں گے۔

    ادھر الیکشن کمیشن ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ابھی تک مجموعی طور پر 19ہزار 282 امیدوار 2 ہزار 359 وی سی این سیز پر جنرل کونسلرز کی نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں، جبکہ وی سی این سیز کی اتنی ہی نشستوں کے لیے خواتین امیدواروں کی تعداد 3 ہزار 905 ہے۔

    جن اضلاع میں 19 دسمبر کو انتخابات ہوں گے ان میں بونیر، باجوڑ، صوابی، پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، کرک، ڈیرہ اسمٰعیل خان، بنوں، ٹانک، ہری پور، خیبر، مہمند، چارسدہ، مردان، ہنگو اور لکی مروت شامل ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر صوابی نے جاری کیا اور انہیں 13 دسمبر کو طلب کر لیا گیا ہے۔ نوٹس میں سپیکر اسد قیصر کو ذاتی حیثیت میں یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ڈی ایم او نے کہا کہ اسد قیصر مبینہ طور پر آڈیو کلپ میں ووٹرز سے اپیل کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) امیدواروں کو ترقیاتی فنڈز کی بھی یقین دہانی کروائی۔

    ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر پشاور نے پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی شوکت علی کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا اور انہیں 12 دسمبر کو طلب کر لیا ہے۔

    دوسری طرف بلدیاتی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر پشاور نے 13 دسمبر کو طلب کر لیا۔

    اُدھر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر بنوں نے جمعیت علمائے اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کو تنبیہ کرکے ان کو جاری کیا گیا نوٹس نمٹا دیا۔

    اس سے قبل ای سی پی نے علی امین گنڈا پور سمیت پی ٹی آئی کے متعدد وفاقی اور صوبائی وزرا پر 50 ہزار فی کس جرمانہ اور تنبیہ کی تھی

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پی پی چیئرمین بلاول بھٹو سمیت دیگرکئی پی پی رہنماوں کو بھی جرمانے کیے گئے ہیں