Baaghi TV

Tag: الیکشن 2024

  • الیکشن کے لئے سامان آج رات پہنچا دیا جائے گا

    الیکشن کے لئے سامان آج رات پہنچا دیا جائے گا

    قصور
    الیکشن 2024 کیلئے ووٹنگ کل ہو گی ،آج رات سامان پہنچا دیا جائے گا،فوج،پولیس و دیگر عملہ تعینات ہو گا

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی کل عام انتخابات 2024 کیلئے پولنگ ہو گی جس میں فوج،پولیس و دیگر انتخابی عملہ حصہ لے گا
    انتخابی عملے کو پولنگ سٹیشنوں پہ آج رات سامان پہنچا دیا جائے گا
    اور کل صبح سے قبل از شام ووٹنگ ہو گی

    کل رات سے جلسے جلوسوں کی مدت ختم ہونے کے باعث امیدوار اپنے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو بذریعہ کال اور خود جا جا کر یاددہانی کروا رہے ہیں

    قصور میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہو گا تاہم اس بار مذہبی جماعتوں میں سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ ،تحریک لبیک پاکستان اور جماعت اسلامی کے بھی مضبوط امیدوار ہونے کے باعث مقابلہ مذید سخت ہو گا تاہم اس بار ووٹ کے بائیکاٹ اور مذہبی جماعتوں کو ووٹ دینے والوں کی بڑی تعداد بھی کافی سامنے آ رہی ہے

  • پولیس اور پاک فوج کے مشترکہ فلیگ مارچ

    پولیس اور پاک فوج کے مشترکہ فلیگ مارچ

    قصور
    الیکشن 2024 کی امد کے پیش نظر ضلع بھر میں قصور پولیس اور پاک آرمی نے مشترکہ فلیگ مارچ کئے،

    تفصیلات کے مطابق جنرل الیکشن 2024 کیلئے قصور پولیس کی طرف سے سکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں
    قصور پولیس اور پاک آرمی نے ضلع بھر میں مشترکہ فلیگ مارچ کئے تاکہ الیکشن ڈے پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے
    ڈی پی او قصور کا کہنا ہے کہ فل ڈریس ریہرسل کا انعقاد کرنے کا مقصد
    انتشار پھیلانے اور نقص امن کا سبب بننے والوں کیلئے پیغام جاری کرنا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ایسے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا
    لہٰذہ قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے انتشار اور غیر قانونی ہتھکنڈوں سے بچا جائے

  • مہنگائی کا طوفان برقرار،سانسیں اکھڑنے لگیں

    قصور
    مہنگائی کا طوفان نا تھم سکا،عوام پریشان

    تفصیلات کے مطابق 5 سال قبل شروع ہونے والے مہنگائی کے طوفان نے تھمنے کی بجائے شدت اختیار کر لی ہے جس کے باعث غریب آدمی کی دو وقت کی روٹی تو چھنی ہی تھی اب سانسیں بھی اکھڑنے لگی ہیں مگر اس ساری صورتحال کے پیش نظر حکمران انجان بنے بیٹھے ہیں اور ان کے پاس تسلیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں
    ہر روز مہنگائی بڑھتی ہی جا رہی ہے
    ضروریات زندگی کی تمام اشیاء قوت خرید سے باہر چکی ہیں
    ہر روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس پہ لوگ سوچ سوچ کر مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    پیاز 240 روپیہ کلو،آٹا 150 روپیہ فی کلو، کوکنگ آئل 470 روپیہ فی کلو،دودھ 180 روپیہ فی کلو، مرغی گوشت 659 روپیہ فی کلو فروخت ہو رہا ہے
    مڈل کلاس اور غریب طبقہ کیلئے تو سانس لینا بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے
    جبکہ دوسری جانب الیکشن کمپین کی مد میں کھربوں روپیہ لگایا جا رہا ہے
    غریب سوچ رہے ہیں کہ اگر الیکشن کمپین کی بجائے پیسے غرباء کی بحالی میں لگائے جائیں تو کیا غربت میں کمی واقع نہیں ہو سکتی؟ اور اگر ہو سکتی ہے تو غریب کو شاید غریب رکھنا ہی مشن جمہوریت ہے

  • عام انتخابات 2024 کیلئے بریفننگ،پلان ترتیب

    عام انتخابات 2024 کیلئے بریفننگ،پلان ترتیب

    قصور
    الیکشن 2024 کے لئے ڈی پی او کی بریفننگ

    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور طارق عزیز سندھو نے پتوکی سرکل کی نفری کو الیکشن 2024 کے حوالہ سے بریفنگ جس میں
    پولنگ کے عمل اور سیکورٹی انتظامات سمیت سامان کی ترسیل اور نگرانی کے بارے نفری کو آگاہ کیا
    دوران بریفنگ عام انتخابات 2024 کے سیکورٹی امور اور ضابطہ اخلاق سے متعلق آگاہ کیا گیا
    پولنگ اسٹیشن اور الیکشن ڈیوٹی کی حساسیت سے نفری کو آگاہ کیا اور کہا کہ تمام اہلکاران و افسران دوران الیکشن ڈیوٹی ایمانداری سے فرائض سر انجام دیں گے اور حکومتی احکامات اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے
    نیز الیکشن مہم کے دوران قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی اور اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی ہو گی کسی کی بھی جانب سے خلاف ورزی پہ فوری قانونی کارروائی کی جائے گی

  • الیکشن کمپین،بےروزگاروں کو وقتی روزگار ،مستقل حل کوئی نہیں

    الیکشن کمپین،بےروزگاروں کو وقتی روزگار ،مستقل حل کوئی نہیں

    قصور
    الیکشن نے وقتی طور پہ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار دیا،پھولوں کی پتیاں،کھانے کی اشیاء جلسوں میں فروخت کرکے کمانے لگے،تاہم مستقل روزگار کے لئے پریشان،کیا لیڈران کے سروں سے پانی کی طرح پیسہ بہانے والے لوگوں کے پاس بےروزگاروں کو کام کروانے کا پیسہ نہیں؟

    تفصیلات کے مطابق 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کی بدولت ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی الیکشن کمپین چل رہی ہے جس کی وجہ سے جگہ جگہ جلسے جلوس ہو رہے ہیں
    جلسوں،جلوسوں میں امیدواروں پہ پھولوں کی پتیاں پھینکنا،مالائیں پہننا،شرکاء کو کھانے کھلانا,ساونڈ سسٹم لگانا،کرسیاں لگانا اور نت نئی خدمت جاری ہے جس کا فائدہ اٹھا کر بےروزگار نوجوانوں نے پھولوں کی پٹیاں،مالائیں،ساؤنڈ سسٹم،بینر سازی و دیگر کام شروع کئے ہیں جس کے باعث ان نوجوانوں کو 8 فروری تک وقتی روزگار تو ملا ہے تاہم مستقل روزگار کے لئے نوجوان پریشان ہیں کہ قوم کے پاس جتنا پیسہ ان لیڈران کے سروں سے وارنے کا ہے کیا کسی کے پاس اتنا پیسہ کسی بےروزگار نوجوانوں کو اچھا حلال روزگار کروانے کا نہیں؟
    لیڈران نے کیا روزگار دیا اور اگے کیا روزگار دیں گے؟
    یہ سوچ سوچ کر بےروزگار نوجوان وقت گزار رہے ہیں اور ماضی کی طرح اس بار بھی تماشہ دیکھ رہے ہیں

  • عوامی سروے کیمطابق ووٹ مانگنے ائے امیدواروں سے سوالات،سوالات کے جواب مشکل

    عوامی سروے کیمطابق ووٹ مانگنے ائے امیدواروں سے سوالات،سوالات کے جواب مشکل

    قصور
    پی پی،178,176 177,این اے 131 ،132 کی عوامی سروے رپورٹ کے مطابق لوگوں نے ووٹ لینے آنے والے ایم پی اے،ایم این اے کے امیدواروں سے کارکردگی رپورٹ مانگنا شروع کر دی ہے جس پہ ابتک کی پانچ سالہ کارکردگی پہ وفاقی اور صوبائی اسمبلی کے گزشتہ دور میں جیتنے والے ممبروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے عوام کو پوچھنا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں ہمیں کیا دیا گیا ہے؟
    منی موٹر وے لاہور قصور روڈ پانچ سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی لوگ چیختے چلاتے رہے مگر پانچ سال تک سڑک نا بنی اور اگر کام شروع بھی ہوا تو رکا رہا اور بالآخر نگران گورنمنٹ میں کچھ کام ہوا آخر اس کا ذمہ دار کون؟
    قصور رائیونڈ روڈ کہ جس کو 2020 میں 4 کروڑ 20 لاکھ کا فنڈ جاری کیا گیا مگر ایک پیسے کا کام نا ہوا مگر اب نگران حکومت میں 90 فیصد کام پایہ تکمیل تک پہنچا اس کے باعث کئی لوگ موت کے منہ میں چلے گئے جب حادثات ہوتے رہے لوگ مرتے رہے تو گورنمنٹ کہاں تھی؟
    اسی طرح براعظم ایشیا کا سب سے بڑا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قصور عرصہ دراز سے بند پڑا ہے اس پہ کیا کام کیا گیا اور کھربوں روپیہ سے لگایا گیا پلانٹ عوام کو کیا فائدہ دے سکا؟
    40 لاکھ آبادی والا ضلع قصور ابھی تک یونیورسٹی سے محروم ہے اور روزانہ سینکڑوں طالبعلم قصور سے سفر کرکے لاہور جاتے ہیں ابتک یونیورسٹی کیوں نہیں بنائی گئی اور لوگوں کو یونیورسٹی کے قیام پہ بیوقوف ہی بنایا جاتا رہا تاہم عملاً کچھ نا کیا گیا
    قصور کے بیشتر گلی محلے اور ضلع قصور کا سب سے بڑا گاؤں کھارا کہ جس کی آبادی تقریباً 40 ہزار ہے اور ووٹ تقریباً 15 ہزار ہے اس کو بار بار عوامی مطالبے پہ نا تو گیس کی سپلائی دی گئی نا دیگر سہولیات حتی کہ گزشتہ 5 سالوں سے گیس پائپ سڑکوں پہ پڑے ہیں کیا یہ لوگ جانور ہیں جو سب سے زیادہ اکثریتی ووٹ ہونے کے باوجود نالیوں،سڑکوں،واٹر سپلائی اور سوئی گیس سے محروم ہیں؟
    ڈی ایچ کیو ہسپتال سیاست کی نذر ہے ابھی بھی ڈاکٹرز مریض کو دیکھتے ہی لاہور لیجانے کی گردان رٹاتے ہیں بلہے شاہ ہسپتال قصور جو کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ہے اس سے عوام کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟
    آٹے کے لائنوں میں لگی عوام سوال کرتی ہے کہ کل تک سارا سارا دن لائن میں لگ کر 10 کلو آٹا لینے والی عوام اب ووٹ کسے دے؟
    کیا کچھ کیا آپ نے ہم عوام کیلئے؟
    عوامی سروے کے مطابق لوگوں میں اس بار سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور لوگ اپنی بہت سی محرومیوں پہ سوال کررہے ہیں جس پہ نئے امیدوار پھر وعدے کر رہے ہیں جبکہ پرانے ممبرز اپنی شرمندگی مٹانے کی خاطر ٹامک ٹوئیاں مارنے کیساتھ ایک بار پھر سے آزمانے کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں

  • الیکشن کمپین التواء کا شکار،مذہبی جماعتوں کی طرف رجحان

    الیکشن کمپین التواء کا شکار،مذہبی جماعتوں کی طرف رجحان

    قصور
    سخت سردی و دھند،ٹھنڈا موسم،الیکشن کمپین التواء کا شکار،اس بار روایتی سیاسی جماعتوں کی بجائے مذہبی جماعتوں کے حق میں عوام کا زیادہ جھکاؤ،اس نظام سے بغاوت کے لوگ بھی میدان میں، ووٹ نا ڈالنے کا عزم

    تفصیلات کے مطابق قصور میں سخت سرد ترین موسم ہے اور دھند کا راج بھی برقرار ہے جس کے باعث الیکشن کمپین التواء کا شکار ہے گزشتہ الیکشن کی نسبت اس سال الیکشن کمپین نا ہونے کے برابر ہے
    ابھی چیدہ چیدہ فلیکس و بینرز نظر آ رہے ہیں وگرنہ الیکشن کے قریب آتے ہی الیکشن کمپین زوروں پہ ہوتی تھی اور ہر طرف بینرز و فلیکسز کا راج ہوتا تھا اس بار امیدواروں کی طرف سے گلی محلے و گاؤں دیہات میں لوگوں کے پاس جانے کا تسلسل بھی پہلے کی نسبت بہت کم ہے جبکہ دوسری طرف عوامی سروے کے تحت لوگوں کا رجحان اس بار روایتی سیاسی پارٹیوں کی بجائے مذہبی جماعتوں اور امیدواروں کی طرف زیادہ ہے نیز اس بار بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس جمہوری نظام سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں اور اس عمل کو فضول اور بے معنی قرار دیتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ وہ ووٹ نا ڈالیں گے