Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی

    سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کروانے سے متعلق سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرہا ہے،پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو میں دلائل کا آغاز کرنا چاہوں گا،وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ میں اس کیس میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی کروں گا،فاروق نائیک وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو اعتراض تو نہیں اگر عدالت فاروق نائیک صاحب کو اس کیس میں سنے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم فاروق ایچ نائیک صاحب کو خوش آمدید کہتے ہیں ،عدالت نے پیپلز پارٹی کو انتخابات کیس میں فریق بننے کی اجازت دے دی

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہاپنی استدعا کو صرف ایک نقطے تک محدود کروں گا،استدعا ہے الیکشن آئین کے مطابق وقت پر ہونے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی 90 دنوں میں انتخابات کی استدعا تو اب غیر موثر ہو چکی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کی رائے جاننے سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے،

    میرا نہیں خیال انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ اب آپ صرف انتخابات چاہتے ہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ہم انتخابات چاہتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا؟ میرا نہیں خیال انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ مخالفت کریں گے ،چیف جسٹس کے سوال پر اٹارنی جنرل نےانکار میں جواب دیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 58 اور 224 پڑھا جا سکتا ہے،انتخابات نہیں ہوں گے تو نہ پارلیمنٹ ہوگئی نا قانون بنیں گے،انتخابات کی تاریخ دینا اور شیڈول دینا دو چیزیں ہیں،الیکشن کی تاریخ دینے کا معاملہ آئین میں درج ہے،صدر اسمبلی تحلیل کرے تو 90دن کے اندر کی الیکشن تاریخ دے گا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تاریخ دینے کیلئے صدر کو وزیر اعظم سے مشورہ لینا ضروری ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ضروری نہیں ہے صدر کا اپنا آئینی فریضہ ہے وہ تاریخ دے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا صدر نے الیکشن کی تاریخ دی ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری رائے میں صدر نے تاریخ دیدی ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق تاریخ دینا صدر کا اختیار نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وہ خط دیکھ سکتے ہیں جس میں صدر نے تاریخ دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدر نے تاریخ دینے کا حکم دینا ہے، حکومت نے اسے نوٹیفائی کرنا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدر نے جس خط میں تاریخ دی وہ کہاں ہے، علی ظفر نے صدر کا خط پڑھ کر سنا دیا

    صدر مملکت ہدایات پر عمل نہ کریں تو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسمبلی 9اگست کو تحلیل ہوئی اس پر تو کسی کا اعتراض نہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی کسی کا اعتراض نہیں،وزارت قانون نے رائے دی کہ صدر مملکت تاریخ نہیں دے سکتے،90 دنوں کا شمار کیا جائے تو 7 نومبر کو انتخابات ہونے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدر مملکت کو الیکشن کمیشن کو خط لکھنے مئں اتنا وقت کیوں لگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا صدر مملکت نے سپریم کورٹ سے رائے لینے کیلئے ہم سے رجوع کیا،وکیل علی ظفر نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر آپ خط ہمارے سامنے کیوں پڑھ رہے ہیں،صدر کے خط کا متن بھی کافی مبہم ہے،صدر نے جب خود ایسا نہیں کیا تو وہ کسی اور کو یہ مشورہ کیسے دے سکتے ہیں،علی ظفر کیا آپ کہہ رہے ہیں صدر نے اپنا آئینی فریضہ ادا نہیں کیا،9 اگست کو اسمبلی تحلیل ہوئی اور صدر نے ستمبر میں خط لکھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین کی کمانڈ بڑی واضح ہے صدر نے تاریخ دینا تھی اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اختلاف کرنے والے بھلے اختلاف کرتے رہیں ،کیا سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کہا کہ صدر تاریخ دیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ صدر مملکت نے تاریخ نہیں دی، اس پہلو کو ایک جانب رکھ کر سپریم کورٹ کو بھی انتخابات کا معاملہ دیکھنا چاہئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ صدر کے خلاف جاکر انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ کیا آئین پاکستان سپریم کورٹ کو تاریخ دینے کا اختیار دیتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ کیا ہم صدر مملکت کو ہدایات دے سکتے ہیں؟اگر صدر مملکت ہدایات پر عمل نہ کریں تو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ کس جماعت کی نمائندگی کرہے ہیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں پاکستان تحریک انصاف کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں صدر مملکت نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیڈر انکے بھی لیڈر ہیں ، تو آپ سپریم کورٹ آنے کی بجائے انہیں کال کریں اور الیکشن کی تاریخ لیں،

    صدر مملکت نے تو تاریخ نہ دے کر خود آئینی خلاف ورزی کی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اب یہ عدالت صدر کے خلاف رٹ جاری کر سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 98 بہت واضح ہے اس پر اس عدالت کا کردار کہاں آتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے مطابق تاریخ دینا صدر کا اختیار ہے،پھر آپ بتائیں کہ کیا اس عدالت کو بھی تاریخ دینے کا اختیار ہے،اگر صدر نے بات نہ مانی تو ہم انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے،وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات ممکن نہیں تو صدر کو کہا جائے 54 روز میں انتخابات کا اعلان کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو کون کہے گا آپ نہیں بلکہ ہم تین ججز ہی کہہ سکتے ہیں،جب ہم آرڈر جاری کریں گے تو ذہن میں رکھیں کہ جو تاخیر کا ذمہ دار ہوگا اس کیخلاف لکھیں گے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ صدر کو انفرادی طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ صدر مملکت کے طور پر دیکھا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر فرد نہیں ادارہ ہے،صدر کو تو تمام طریقہ کار معلوم تھا،صدر کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنی حاصل ہے لیکن آپ بتا دیں کہ انہوں نے تاریخ دی کب؟ صدر مملکت کی گنتی درست تھی کہ اسمبلی تحلیل ہونے سے 89واں دن 6 نومبر ہے، صدر مملکت نے تو تاریخ نہ دے کر خود آئینی خلاف ورزی کی،آئین پاکستان نے ہمیں تاریخ دینے کا اختیار کہاں دیا ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک مرحلے میں مداخلت کر چکی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس وقت سوال مختلف تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد تو اچھی چیز ہے پرابلم نہیں ہے،آپ کے لیڈر صدر کے بھی لیڈر ہیں،صدر کو فون کر کے کیوں نہیں کہا گیا کہ انتخابات کی تاریخ دیں ،جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ کی دلیل تو یہ ہے کہ صدر نے آئین سے انحراف کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بادی النظر میں حکومت ،الیکشن کمیشن اور صدر مملکت تینوں ذمہ دار ہیں،اب سوال یہ ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے،انتخابات تو وقت پر ہونے چاہیں،آئین کی خلاف ورزی تو ہوچکی جس نے خلاف ورزی کی نتائج بھگتنا ہونگے،

    آپ چاہتے ہیں عدالت آئین کی خلاف ورزی کو درگزر کر دے؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پر کہا تھا کہ کوئی حل بتائیں ورنہ تو صدر کیخلاف آپ خود برا وقت لانا چاہتے ہیں،تاریخ جہاں سے آئے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بس انتخابات ہونے چاہیں،آپ کہتے کہ صدر نے تاریخ دینی ہے تو پھر ٹھیک ہے صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہم لکھ دیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت آئین کی خلاف ورزی کو درگزر کر دے؟ عدالت ایک دن کی تاخیر بھی کیوں درگزر کرے چاہے کرنے والا کوئی بھی ہو، عدالت کو نظریہ ضرورت کی طرف نہ لیکر جائیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ اس طرح معاملہ چلتا رہا تو انتخابات نہیں ہوسکیں گے،

    درخواست گزار منیر احمد کے وکیل انور منصور خان عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا درخواست گزار کے وکیل کے طور پر اپ نے درخواست لکھی تھی؟ انور منصور خان نے کہا کہ جناب درخواست میں نے نہیں لکھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منیر احمد پر کل ابصار عالم نے ایک کیس میں سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،عدالتی عملے کی جانب بتایا گیا ہے کہ آپ کا وکالت نامہ اس میں موجود نہیں،آپ اگر ان کے وکیل ہیں تو وکالت نامہ جمع کرائیں ہم آپ کا وکالت نامہ قبول کرتے ہیں، انور منصور خان نے کہا کہ مجھ سے وکالت نامہ دستخط کرایا گیا ، کیوں جمع نہیں ہوا، نہیں معلوم ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اظہر صدیق ایڈوکیٹ سمیت سات وکلا ہیں ان میں سے ایک بھی ہمارے سامنےآج موجود نہیں،عملے نے بتایا ہے عزیر چغتائی کو لاہور رجسٹری کی جانب سے سماعت کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ انور منصور خان آپ اس کیس میں پھنس سکتےہیں، منیر احمد جیسے لوگوں کو بھی فکس کرنا ہوگا،وکیل انور منصور خان نے کہا کہ میں اس کیس میں واک آؤٹ کرتا ہوں،

    آئین معطل کرنے کی سزا پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل عابد زبیری سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ پی ٹی آئی وکیل کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں،وکیل سپریم کورٹ عابد زبیری نے کہا کہ میں علی ظفر سے اتفاق کرتا ہوں مگر میری استدعا الگ ہے،14 مئی کو انتخابات والے فیصلے کو پڑھنا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 14 مئی کو انتخابات والا کیس تو ہمارے سامنے نہیں ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکمنامہ پڑھ رہا ہوں جو ہم سب پر لازم ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی طرف لےجارہے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا انتخابات کا فیصلہ 4 اپریل کا ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر بعد میں آیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جوبھی انتخابات نہیں کروا رہا وہ آئین کومعطل کئے ہوئے ہیں،آئین کومعطل کرنےپرآرٹیکل6بھی لگ سکتاہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ علی ظفر یہ کہہ رہےہیں کہ صدرآئین کی خلاف ورزی کررہے،آج کی تاریخ تک خلاف ورزی موجود نہیں ہے7نومبرسے شروع ہوجائے گی،آپ جو دلائل دے رہے ہیں اس سے تو صدر مملکت پر آرٹیکل 6 لگ جائے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین معطل کرنے کی سزا پر آرٹیکل 6 لگتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری رائے میں ابھی تک آئینی خلاف ورزی نہیں ہوئی،7 نومبر کی تاریخ گزرنے کے بعد آئین کی خلاف ورزی کی بات ہوگی،ہم کوشش کریں گے کہ آج ہی کیس مکمل کر لیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ اتنا چاہتے ہیں ناں کہ انتخابات ہوں تو باقی باتیں چھوڑ دیں،ماضی میں جائیں تو آئین اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوچکی ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ ہے کہ صدر انتخابات کی تاریخ دے سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ وہ کام ہم سے کرانا چاھتے ہیں جو ہمارا کام نہیں،یہ کام جن کا ہے وہ کریں،عابد زبیری نے کہا کہ یہ جو کام نہیں کررہے ہیں اس لئے تو ہم اپ کے پاس آئےہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب آپ صدر کے خلاف آرٹیکل 6 invoke کروانا چاہتےہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی ہوسکتی ہے،صرف اتنا بتا دیں کہ سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے،سپریم کورٹ کیسے انتخابات کی تاریخ بدل سکتی ہے یا 21 ارب دینے کا کیسے کہہ سکتی ہے،
    ہمیں دوسری طرف لیکر نہ جائیں،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات نہیں ہوئے اس لیے سپریم کورٹ نے احکامات دیئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی نے توہین عدالت کی درخواست کیوں نہیں دی،میرا سوال یہ ہے کہ انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے اور اس کی سزا کیا ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی اور کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ صدر کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کروانا چاہتے ہیں،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ جب آئین کی خلاف ورزی ہوگی تو سپریم کورٹ کوئی بھی فیصلہ دے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پنجاب انتخابات کیس کا ہمارے ساتھ لینا دینا ہی نہیں ہے،ہم دوسری درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آخری سماعت پر خود کہا تھا کہ صرف انتخابات کی بات تک محدود رہیں گے،ہمیں پتا ہے آپ چاہتے ہیں کہ یہ بینچ ٹوٹ جائے،آپ پہلے یہ بتائیں علی ظفر سے متفق ہیں یا نہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں اپنی استدعا پڑھوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں آپ کی استدعا سے نہیں آئین سے مطلب ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ چاہتے ہیں مزید آئین کی خلاف ورزی جاری رہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا، عابدی زبیری نے 14 مئی کے الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ فیصلہ کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ اس جھگڑے میں پڑے ہیں تو پھر بتائیں اس کا کورٹ آرڈر کہاں ہے؟ آپ وہ آرڈر دکھا ہی نہیں سکتے کیونکہ اس کا باضابطہ آرڈر موجود نہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دے رہا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب ہم نے نہیں کہا تھا کہ 90 دن میں الیکشن آئین کے تحت ضروری نہیں ہیں،

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نائیک صاحب آپ سینئر وکیل ہے آپ پیچھے جاکر بیٹھ گئے آپ کو تو آگے آنا چاہیے تھا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق لازمی ہونے چاہئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت معاملہ الیکشن کا ہے۔یہ کام کمیشن کا ہے اگر وہ نہیں کراتا تو پھر شاید یہ معاملہ ہمارے پاس آئے، کیا آپ علی ظفر کے ساتھ متفق ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں علی ظفر سے متفق نہیں ہوں،تاریخ دینے کی زمہ داری صدر کی ہے کمیشن اس کا شیڈول دے گا، پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ انتخابات آئین کے مطابق وقت ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل میں پیپلز پارٹی نے مردم شماری کی مخالفت کی؟ پیپلز پارٹی نے مخالفت نہیں کی، فاروق نائیک نائیک صاحب چھوڑ دیں آپ کی جماعت سمیت سب ذمہ دار ہیں، پیپلزپارٹی سمیت تمام لوگ انتخابات میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں،

    وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری کو عام انتخابات کراسکتا ہے۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی،الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے سپریم کورٹ میں عام انتخابات کی تاریخ دیدی وکیل نے کہا کہ چار فروری کو پہلا اتوار ہے اور دوسرا اتوار گیارہ فروری کو ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت اس سارے عمل میں آن بورڈ ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر سے مشاورت نہیں کی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سو چ سمجھ کر سوالوں کے جواب دیں، آپ کا ادارہ ایک آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن آج ہی صدر مملکت سے مشاورت کرے، الیکشن کمیشن آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، آئین میں واضح ہے کہ انتخابات کی تاریخ صدر دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ابھی جا کر صدر مملکت سے مشاورت کر سکتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندی کے بعد 54 دن کا انتخابی شیڈول ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا صدر پاکستان کو تاریخ سے آگاہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق صدر کو بتانےکے پابند نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ آئین کی خلاف ورزی کی ذمہ داری لے رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن ابھی جا کر صدر سے کیوں نہیں ملاقات کرتا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہدایات لیکر بتا سکتا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی جائیں اور پتا کرکے بتائیں، وہ اتنے بڑے ہیں کہ عدالت نہیں آ سکتے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا صدر کو جواب بظاہر آئین کیخلاف ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کسی خط و کتابت میں نہیں جائے گی،

    الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول سے متعلق سپریم کورٹ کا آگاہ کر دیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 29 جنوری کو حلقہ بندیوں سمیت تمام انتظامات مکمل ہو جائیں گے،11 فروی کو ملک بھر میں انتخابات ہوں گے، 3 سے 5 دن حتمی فہرستوں میں لگیں گے،5 دسمبر کو حتمی فہرستیں مکمل ہو جائیں گی، 5 دسمبر سے 54 دن گنیں تو 29 جنوری بنتی ہے،انتخابات میں عوام کی آسانی کیلئے اتوار ڈھونڈ رہے تھے،4 فروی کو پہلا اتوار بنتا ہے جبکہ دوسرا اتوار 11 فروری کر بنتا ہے،ہم نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا کہ 11 فروری والے اتوار کو الیکشن کروائے جائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم جواب کا انتظار کر لیتے ہیں۔صدر مملکت بھی پاکستانی ہے۔صدت مملکت اور الیکشن کمیشن آپس میں بات کریں۔کسی کو اعتراض ہے اگر الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے۔وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مرتبہ تاریخ آ جائے۔ حلقہ بندیوں کا عمل بھی ہے ، انتخابات کب ہونا ہے یہ آئینی کھلاڑیوں نے فیصلہ کرنا ہے ، ہم چاہتے ہیں انتخابات ہو جائیں، ہم اہک تنازعہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر صدر کیساتھ لازمی ملاقات کرے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کاروائی میں پھر وقفہ کر دیتے ہیں۔سب کو انتخابات چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کہ ادارے ترقی کریں،پارلیمنٹ اپنا کام کرے۔صدر مملکت اپنا کام کرے۔الیکشن کمیشن اپنا کام کرے۔ ہم بھی سوچ لیتے ہیں کیا کریں۔ آرڈر جاری کریں یا نہ کریں۔ہم کسی کا کردار نہیں لینگے،ہم چاہتے ہیں جس کی ذمہ داری ہے وہ پوری کریں۔ ہر کسی کو اپنا کام خود کرنا ہوگا ہم دوسروں کا کام نہیں کرینگے۔ ہو سکتا ہے صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی آج ملاقات ہو جائے۔ ہر ملک کو آگے جانا ہوتا ہے مہذب معاشروں میں بات چیت سے فیصلہ ہوتے ہیں

    سپریمُ کورٹ کا حکم ، الیکشن کمیشن میں مشاورت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر کی قانونی ٹیم اور الیکشن کمیشن حکام سے مشاورت ہوئی، سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غورکیا گیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیاہے کہ صدرمملکت سے مشاورت کی جائیگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ اس سارے عمل میں شامل رہیں ،اس سارے عمل میں کوئی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوگا،آپ اس کو کیسے کرینگے؟ہم اس کیس کو ختم کرنا چاہتےہیں۔ آپ آج مشاورت کرلیں، وکیل نے کہا کہ سر ہم چیک کرتے ہیں کہ صدر کی کیا مصروفیات ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ الیکشن کمشین کے مطابق 30 نومبر کو حلقہ بندی کا عمل مکمل ہوگا، پانچ دسمبر کو حلقہ بندیوں کے نتائج شائع ہونگے، الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندی شائع ہونے کے بعد انتخابی پروگرام جاری ہوگا،
    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی پروگرام 30 جنوری کو مکمل ہوگا،الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات اتوار کے دن ہوں، انتخابی پروگرام کے بعد پہلا اتوار چار فروری بنتا ہے، عوام کی شرکت کیلئے الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات 11 فروری کو ہونگے، الیکشن کمیشن آج صدر سے ملاقات کرکے انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے،صدر اور الیکشن کمیشن کے درمیان جو بھی طے ہو عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، تحریر پر صدر اور الیکشن کمیشن کے دستخط ہونا لازمی ہیں، الیکشن کمشنر اپنے ممبران سے خود مشاورت کرے، آج کے عدالتی حکم پر ابھی دستخط کرینگے،عدالتی حکم کی تصدیق شدہ نقول صدر، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اپنا پروگرام عوام میں لیکر جائیں جسے پسند آئے گا ووٹ دیدیں گے، اعلان کے بعد کوئی درخواست نہیں سنی جائے گی ،انتخابات کی تاریخ پر سب کے دستخط ہوں ۔ فاروق نائیک اور اٹارنی جنرل بھی صدر سے ملنے جاسکتے ہیں

  • انتخابات،امیدواروں کے لئے ن لیگ نے فارم جاری کر دیا

    انتخابات،امیدواروں کے لئے ن لیگ نے فارم جاری کر دیا

    مسلم لیگ ن نے آئندہ انتخاب کے حوالے سے سرگرمیاں شروع کر دی ہیں

    مسلم لیگ ن نے قومی اور صوبائی حلقوں کے امیدواروں کے لیے فارم جاری کر دیے ،مسلم لیگ ن نے صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے لیے ایک لاکھ روپے فیس درخواست گزار کے لیے مخصوص کر دی ،قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے دو لاکھ روپے فیس مختص کی گئی، قومی اسمبلی کی مخصوص نشت کے لیے بھی فیس ایک لاکھ روپے رکھی گئی ،جبکہ صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشت کے لیے بھی ایک لاکھ روپے مختص کی گئی ،تمام امیدوار درخواست ماڈل ٹاؤن سیکٹریٹ میں جمع کروائیں گے ،فیس جمع کروانے کے لیے مسلم لیگ ن کا آفیشل اکاؤنٹ نمبر بھی فارم میں دیا گیا ہے.

    دوسری جانب ن لیگ کی جنرل کونسل کا اجلاس 4 نومبر ہفتے کو ہوگا ،ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی زیرصدارت جنرل کونسل کا اجلاس رائیونڈ میں ہو گا ،جنرل کونسل کا اجلاس فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منعقد ہوگا،احسن اقبال کی نگرانی میں الیکشن سیل اورپارلیمانی بورڈز بھی تشکیل دے کا فیصلہ کیا ،انتخابات کے لیے پارٹی امیدواروں سے درخواستوں کی وصولی آج سے شروع ہو گئی ہیں،پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواستیں 10 نومبر تک جمع کرائی جا سکتی ہیں ،پارٹی منشور کی تیاری کے لیے عرفان صدیقی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ،سینیٹر عرفان صدیقی منشور کمیٹی کے دیگر ارکان کا اعلان کریں گے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • میاں صاحب اچھے برے دن آتے ہیں پھر آپ چیخیں مت مارنا،پیپلز پارٹی

    میاں صاحب اچھے برے دن آتے ہیں پھر آپ چیخیں مت مارنا،پیپلز پارٹی

    پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے قائم مقام صدر رانا فاروق سعید نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے قائد نواز شریف چار سال آرام کے بعد واپس آئے ہیں،ان کا شکریہ ادا کرتے ہے اور ویلکم کرتے ہے ،

    رانا فاروق سعید کا کہنا تھا کہ جس طرح سزا یافتہ مجرم کو پروٹول دیا گیا جس کی مثال نہیں ملتی ،وہ پہلے جیل جاتے خود کو سرینڈر کرتے تو عزت بڑھتی ،نواز شریف پروٹوکول سے ثابت کرنا چاہتے ہے کہ وہ وزیراعظم ہے،وہ نگران حکومت کو ختم کردے اور وزیر اعظم بن جائیں ،افسوس کی بات ہے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا لیکن آنے سے پہلے ہمیں بتایا نہیں گیا ،آپ کسی کے سہارے وزیراعظم بن جائیں گے لیکن عزت نہیں ہوگی،نواز شریف نے الیکشن کا اعلان کیے بغیر تقریر ختم کردی جو افسوس ناک ہے ، نواز شریف ہمیشہ سہاروں سے حکومت میں آئے ، عوام کے ووٹوں سے کبھی نہیں آئے،آپ کو لیول پلینگ فیلڈ مل گئی ، آپ کو سب کے لیے لیول پلینگ فیلڈ ملنی چاہیں میاں صاحب اچھے برے دن آتے ہیں پھر آپ چیخیں مت مارنا،

    رانا فاروق سعید کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو الیکشن سے دور کیا تو عوام نہیں مانے گی ،اقتدار میں سب نواز شریف کے چہیتے بیٹھے ہوئے ہیں،مریم نواز جو کہتی تھی وہ آج لفظ با لفظ پوری ہو رہی ہے،میاں صاحب آپ نےکہا بہت بڑا پلان لے کر آ رہا ہو لیکن آپ کے پاس وہی ٹیم ہے جو پہلے شہباز شریف تھے اب نواز شریف ہے ، وہی اسحاق ڈار ، احسن اقبال خواجہ آصف،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • پیپلز پارٹی سب کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتی ہے،نیئر بخاری

    پیپلز پارٹی سب کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتی ہے،نیئر بخاری

    پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے،

    پی پی رہنما نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ آزادانہ صاف شفاف انتخابات کے زریعے پارلیمانی جمہوری نظام قیام آئینی تقاضہ ہے،پاکستان پیپلز پارٹی حق حکمرانی اختیار دینے والے عوام الناس ہی مقتدرہ درجہ پر یقین رکھتی ہے،ملک مستحکم۔و مضبوط بنانا ہے تو آئین پر من و عن عمل کرنا ہوگا ،پیپلز پارٹی سب کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتی ہے ،لیول پلینگ فیلڈ نہ ملنے سے انتخابی نتائج سوالیہ نشان ہونگے،انتخابی نتائج تسلیم نہ ہوئے تو ملک میں آئینی بحران پیدا ہونے سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا ,

    نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ نگران حکومتیں اور اداروں کی جانب سے مخصوص سہولت کاری کا تاثر زبان زد عام ہے, نگران حکومت پنجاب کس حیثیت میں سزائیں معطل کر رہی ہے , وفاقی اور نگران حکومتیں مخصوص جماعت اور شخصیات کی سہولتکاری اقدامات سے باز رہیں ، کیا کسی ملزم کا لاونچ میں بائیو میٹرک کی سہولت غیر معمولی بات نہیں ہے،

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف

    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

  • ہفتہ اور اتوار کو الیکشن کمیشن نے  دفاتر کھلے رکھنے کا اعلان کردیا

    ہفتہ اور اتوار کو الیکشن کمیشن نے دفاتر کھلے رکھنے کا اعلان کردیا

    نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے ہفتہ اور اتوار کو دفاتر کھلے رکھنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات وصول کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے دفاتر ہفتہ اور اتوار کے روز بھی کھلے رہیں گے علاوہ ازیں ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں قائم سہولت ڈیسک اور اعتراضات وصولی سینٹر کا عملہ ہفتہ اور اتوار کے روز بھی چھٹی نہیں کرے گا۔

    خیال رہے کہ ترجمان نے کہا کہ نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات 27 اکتوبر تک جمع کروائے جا سکتے ہیں جبکہ دفتری اوقات میں سینٹر سے نقشہ جات بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں تاہم یاد رہ کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے سندھ میں عام انتخابات کیلئے عملے کی فہرست مانگ لی تھی اور کہا تھا کہ صوبے کے 19 ہزار 236 پولنگ اسٹیشنز کے لیے 2 لاکھ 38317 سرکاری ملازمین کی خدمات درکار ہوں گی۔
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    نواز شریف ،شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان استقبال کیلئے تیار ہے، شہباز شریف
    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے
    جبکہ سندھ سیکریٹریٹ میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کا حکومت سندھ کے ساتھ اجلاس ہوا تھا جس میں الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کرانے کیلئے عملے کی فہرست مانگی گئی تھی اور الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 83 لاکھ سے زائد ہے، صوبے میں قومی اسمبلی کی61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جس کے لئے 19 ہزار 236 پولنگ اسیشنز بنائے جائیں گے علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے بتایا تھا کہ سندھ بھر میں 4430 انتہائی حساس اور 8080 حساس پولنگ اسٹیشن ہوں گے، تمام پولنگ اسٹیشنز کی سیکیورٹی کیلئے 2 لاکھ 5388 اہلکار درکار ہوں گے، جب کہ پولنگ اسٹیشن کے لیے 2 لاکھ 38317 سرکاری ملازمین کی خدمات درکار ہوں گی۔

  • الیکشن سے قبل  ساڑھے 700 کروڑ روپے  برآمد ہونے پر ہنگامہ مچ گیا

    الیکشن سے قبل ساڑھے 700 کروڑ روپے برآمد ہونے پر ہنگامہ مچ گیا

    رات تقریباً ساڑھے دس بجے پولیس اہلکاروں نے ایک مشکوک ٹرک کو روکا تو ٹرک کو چیکنگ کے دوران اہم انکشاف ہوا ہے کیونکہ ٹرک میں 750 کروڑ روپے کی نقد رقم برآمد ہوئی ہے خیال رہے کہ الیکشن سے پہلے ساڑھے 700 کروڑ روپے کی اتنی بڑی رقم برآمد ہونے پر ہنگامہ مچ گیا ہے اور خیال رہے کہ بھارتی ریاست تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کی تاریخ طے ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کے ساتھ ریاستی پولیس بھی چوکس ہے اور اسی لیے آنے جانے والے ہر ٹرک کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جس سڑک سے یہ ٹرک گزر رہا تھا اسے عام طور پر اسمگلرز استعمال کرتے ہیں، اسی لیے وہاں ناکہ بندی کی گئی تھی۔ اور اسی ناکہ بندی کے دوران 750 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 25 ارب پاکستانی روہے) برآمد ہوئے اور چند گھنٹوں کے سسپنس کے بعد معاملہ ختم ہو گیا کیونکہ یہ رقم یونین بینک آف انڈیا کی تھی، اور اسے کیرالہ سے حیدرآباد منتقل کیا جا رہا تھا۔

    جبکہ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے تمام قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ ٹرک کو بینک حکام کی تصدیق کے بعد آگے کے سفر کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا اور وکاس راج نے کہا، ’750 کروڑ روپے نقد لے کر جانے والا ٹرک کچھ گھنٹوں تک سرخیوں میں رہا، لیکن آخر کار ہمیں معلوم ہوا کہ یہ پیسے کی منتقلی تھی۔ تصدیق ہونے کے بعد، پولیس نے ٹرک کو اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست منظور
    نواز شریف کی آمد،چار افراد ایئر پورٹ پر پھول پھینک سکتے،ایوی ایشن کی اجازت
    سابق وزیر قانون اور سینیٹر ایس ایم ظفر وفات پاگئے
    تاہم سی ای او نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کڑی نگرانی کی وجہ سے ریاست میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کا بغور معائنہ کیا جا رہا ہے اور دہلی میں تلنگانہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنے سے پہلے حیدرآباد کے اپنے حالیہ دورہ کے دوران چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے ریاستی انتخابی عہدیداروں سے کہا تھا کہ وہ گوا اور دیگر مقامات سے مہابوگ نگر کے راستے حیدرآباد تک اسمگلنگ کو روکیں۔ وہ ریاستی پولیس کی طرف سے ’کم‘ نقدی ضبط کرنے سے بھی پریشان تھے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی شکایات کے بعد بھارتی الیکشن کمیشن نے اعلیٰ پولیس افسران، چار کلکٹرز اور سینئر عہدیداروں کا تبادلہ بھی کیا۔

  • پی ٹی آئی کی ایسی صورتحال نہیں کہ اس سے اتحاد کیا جائے ،سعید غنی

    پی ٹی آئی کی ایسی صورتحال نہیں کہ اس سے اتحاد کیا جائے ،سعید غنی

    پیپلز پارٹی کے رہنمائوں سعید غنی، وقار مہدی نے پریس کانفرنس کی ہے،سعید غنی کا کہنا تھا کہ کل اٹھارہ اکتوبر ہے سانحہ کارساز کو سولہ برس ہوگئے، اس سال ملک بھر میں تعزیتی اجتماع ہو رہے ،کراچی میں بلاول ہائوس کے باہر تعزیتی اجتماع ہوگا ، آج شام شہداء کے یادگار پر دیئے جلائیں گے ،کل شہداء کی یادگار پر جائیں گے ، کل اجتماع میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ سانحہ کارساز کی یاد فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی ہوگی ، کل کے اجتماع سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے، اس پر امریکہ کے رویہ کی مذمت بھی کریں گے، 18 اکتوبر کے شہدا کی قربانی ہے، یہ دنیا کی بہت بڑی دہشت گردی تھی،شاہراہِ فیصل پر ہمارے کارکنان پر دھماکے ہوئے،اس واقعہ کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے کارکنان نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ، یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک درد ناک واقعہ تھا،اگلے روز محترمہ نے بہادری کا مظاہرہ کیا، بی بی اگلے روز جناح اسپتال گئی تھی ، لیاری بھی گئی اور شہدا کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کی،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت کم زیادہ ہونے سے انتخابات کے عمل کا تعلق نہیں ہونا چاہئے ،پاکستان اس وقت جس عدم استحکام اور معاشی بحران ہے اس کا حل عام انتخابات میں ہیں ،اگر انتخابات وقت پر نہ ہوئے تو حالات مزید خراب ہوں گے، انتخابات نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ، جنوری کے آخری ہفتے سے آگے نہیں جانا چاہئے ، مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ کیا یہ کہے گی کہ انتخابات آگے ہوں ، تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات ہونے چائیں، معاشی بد حالی کا آغاز عمران خان کی حکومت سے ہوا تھا ، سندھ کی سیاست میں جو الائنس کا شور مچ رہا ہے، یہ الائنس ہر الیکشن میں پیپلز پارٹی کے خلاف بنتے ہیں ،2018 میں بھی تمام جماعتیں پیپلز پارٹی کے خلاف تھیں ،پیپلز پارٹی نے ہر الیکشن میں اپنی سیٹوں میں اضافہ کیا ، دو چار آچکے ہیں دو چار مزید پی پی میں آئیں گے ،پی ٹی آئی کی ایسی صورتحال نہیں کہ اس سے اتحاد کیا جائے ،مرتضی وہاب تینوں نشستوں پر جیتیں گے ، بلدیاتی الیکشن میں ہمارے امیدوار پہلے سے زیادہ ووٹ لیں گے ، ہمیں کوئی خوف نہیں وہ تمام نشستیں پیپلز پارٹی پہلے ہی جیت چکی ہے، موسم کو بنیاد بنا کر الیکشن کو روکا نہیں جاتا، الیکشن ہر حال میں جنوری میں ہونے چائیں ،کہیں سردی ہوتی ہے کہیں گرمی ہوتی ہے پہلے بھی دسمبر اور جنوری میں الیکشن ہوئے ہیں ،

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ نگران حکومت میں مسلم لیگ ن کی نمائندگی موجود ہے ،نگران حکومت کا کام صرف الیکشن کرانا ہے ، نگران حکومت دس سالہ منصوبے بنا رہی ہے ، طویل المدتی منصوبے نہ بنائے جائیں،صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں سارے افسران تبدیل ہوئے ، ایس ایچ اور پٹواری بھی سندھ میں تبدیل ہوئے ، وہاں پر الزام ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگ ہیں ، کسی اور صوبے یا پنجاب میں ایسی بات کی جائے ، جو مخالفین ہیں وہ اپنے لوگ لگوانے چاہتے ہیں، ہر الیکشن سے پہلے بہت سارے لوگ شیروانیاں سلوا کر بیٹھے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ سب کو ملنی چائیے ،پی ٹی آئی ایم کیو ایم کو بھی لیول پلئینگ فیلڈ ملنی چاہئے ، کراچی میں لوگوں کو ایم کیو ایم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ،کسی جماعت کے لیئے یہ مناسب نہیں، ایم کیو ایم سیاست کرے دھمکیاں نہ دے ، ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم کا برا حشر ہوا تھا ،آج ایم کیو ایم جو دعوے کر رہی ہے وہ غلط ہیں ، ہم اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کریں گے،محسن نقوی کا نام حمزہ شہباز نے پیش کیا تھا ، پیپلز پارٹی کا ان کی نامزدگی یا وزیر اعلی بنانے میں کردار نہیں،آصف زرداری سے آپ بھی ملوگے تو بیٹا بولے گا ، جس شخص نے جرم کیا ہے ، وہ استحکام پاکستان پارٹی یا کسی بھی پارٹی میں جائے تو سزا ختم نہیں ہونی چاہئے، یہ پارٹی ڈرائی کلین مشین نہیں ہونی چاہئے

  • ریاست اگر چاہے تو کسی بھی موسم میں انتخابات ہو سکتے ہیں،مرتضیٰ سولنگی

    ریاست اگر چاہے تو کسی بھی موسم میں انتخابات ہو سکتے ہیں،مرتضیٰ سولنگی

    نگران وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں فلسطین کے مسئلے پر بات چیت ہوئی، کابینہ نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے حل کیا جائے، کابینہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کی 1967ءسے پہلے کی حیثیت کو بحال کیا جائے، کابینہ نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں بالخصوص شہری آبادی پر بمباری کی شدید مذمت کی، وفاقی کابینہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے گھیراﺅ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گھمبیر صورتحال بالخصوص خوراک اور پانی کی قلت جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا،کابینہ نے زور دیا کہ مقبوضہ فلسطین میں حالیہ کشیدگی اسرائیل کی جانب سے سات دہائیوں پر محیط ناجائز قبضے، نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،کابینہ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر جاری بمباری روکی جائے اور ناجائز محاصرے کو ختم کر کے متاثرین تک بین الاقوامی امداد کو پہنچنے دیا جائے،کابینہ نے حکومت پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کی سرحدیں 1967ءکے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے پہلے کے مطابق ہوں اور اس کا دارالخلافہ القدس الشریف ہو،

    نگران وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے وفاقی وزراءکو صرف ضروری نوعیت کے غیر ملکی دورے کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو ہدایت کی کہ ایسے دورے نہ کئے جائیں جو ضروری نہ ہوں،کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج سہیل ناصر کی بطور ڈپٹی چیئرمین نیب تعیناتی کی منظوری دی،کابینہ نے سید احتشام قادر شاہ کی بطور نیب پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅنٹیبلٹی تعینات کرنے کی منظوری دی، کابینہ اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے لئے فنانشل ایڈوائزری کنسورشیم کی خدمات لینے کی منظوری دی گئی، کابینہ نے وزارت خارجہ کی سفارش پر بریگیڈیئر شاہد عامر افسر کو پاک چین تعلقات کے فروغ کے لئے چین کی طرف سے تفویض کردہ میڈل وصول کرنے کی منظوری دی، وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین طے شدہ حوالگی کے معاہدے کے تحت دھوکے بازی کیس میں مطلوب پاکستانی شہری ملزم شہزاد احمد ولد ولی محمد قریشی کی حوالگی کی منظوری دی، کابینہ نے کویت اور پاکستان کے مابین طے شدہ حوالگی معاہدے کے تحت ایک اور پاکستانی مطلوب شہری ارشد علی ولد مظہر علی کی حوالگی کی بھی منظوری دی، وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 3 اکتوبر 2023ءکو منعقد ہونے والے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی،اجلاس میں کاینہ کمیٹی آن اسٹیٹ اون انٹر پرائزز (ریاستی ملکیتی ادارے) کے بارے میں 21 اور 28 جنوری کو ہونے والے اجلاسوں میں فیصلوں کی توثیق کی،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ ایسے افغان شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی جو گزشتہ 40 سالوں سے یہاں مقیم ہیں اور ان کے پاس پی او آر کارڈز موجود ہیں، ایسے افغان شہریوں کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہو رہی جنہیں پچھلی افغان حکومت نے سٹیزن شپ کارڈ جاری کیا گیا، ان کی تصدیق کے عمل میں اس وقت کی افغان حکومت کے نمائندے بھی شامل تھے، 31 اکتوبر کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن ان لوگوں کو دی گئی ہے جن کے پاس ویزا یا کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں، وہ غیر قانونی طور پر یہاں مقیم ہیں، ہزاروں کی تعداد میں ایسے غیر قانونی مقیم افراد واپس جانا شروع ہو گئے ہیں،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ پہلے بھی سخت سردی اور گرمی میں انتخابات ہوئے، ریاست اگر چاہے تو کسی بھی موسم میں انتخابات ہو سکتے ہیں،اگر الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ فروری کے آخر میں انتخابات ہوں گے تو لازمی ہونگے،

    فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ پی آئی اے نجکاری کے عمل کی معطلی کا امکان نہیں ، جن سیکٹر میں حکومت ناقابل برداشت نقصان اٹھا رہی ہے انکی نجکاری ہونی چاہیے،ہر مرحلے پر میں نے پی آئی اے کی نجکاری کی رائے دی،ماضی کی طرح جو فیصلہ حکومت کرے گی اسکے ساتھ کھڑا ہوں گا، پی آئی اے کی 713 ارب روپے کے قرضے ہیں ، جن اداروں میں خسارے کا سامنا ہے انکی نجکاری ہونی چاہیے،یہ یقین دلایا ہے کہ کوئی بھی ملازم بیروزگار نہیں ہوگا ،

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

  • ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نئے مستقبل کیلئے نئی سوچ پیدا کی جائے ، ہمارے ہاں آئے روز ایک نئی جماعت آ کر تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہے ،ووٹ کو جن سے خطرہ تھا اب وہ خطرہ ختم ہو چکا،ہم الیکشن کیلئے ہر وقت تیار ہیں ،جنوری میں بر فباری ہوتی ہے الیکشن پر اثر پڑے گا،جے یو آئی نے ہمیشہ عوام کے حقوق کیلئے جدو جہد کی،ملین مارچ نے جمعیت علمااسلام کو بڑی سیاسی قوت ثابت کیا،ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے کہ ہماری طاقت کیا ہے، ،پیپلزپارٹی اندر اندر ایک فیصلہ کرتی ہے، باہر آکر سیاست کرتے ہیں،

    ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا فرض ہے فلسطین کی مددکریں،دنیا ہمیں غلام بنانا چاہتی ہےامت مسلمہ کو فلسطین کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے۔پاکستان کو بڑے غیر مبہم الفاظ کے ساتھ اپنا موقف دینا چاہیے۔دو جنگوں میں پاکستانی فوج فلسطین میں لڑی ہے اسرائیل کےخلاف اب پاکستان کو اسی روز میں واپس آجاناچاہیئے ، پیپلزپارٹی نے خود کہا تھا کہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونے چاہیے، نئی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیاں ہوں گی یہ لوگ اندر ایک فیصلہ کرتے ہیں باہر آکر سیاست کرتے ہیں کہ ہمیں اتفاق رائے اور نئی مردم شماری کےساتھ الیکشن میں جاناچاہئے، الیکشن کمیشن کام کررہا ہے ابہام کیوں پیدا کیے جارہے ہیں؟ہمارے لیے حالات مشکل ہیں، جب میں یہ بات کرتا ہوں تو کہا جاتا ہے الیکشن ملتوی کرارہا ہے،ووٹ کوعزت کا نعرہ اس وقت تھا جب ووٹ کو خطرہ تھا.

    آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے،

    مستونگ اور ہنگو دھماکے قابل مذمت اور انتہائی افسوسناک ہیں ۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا. نگراں وزیراعظم

    انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا. نگراں وزیراعظم

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیاں آئینی عمل کا حصہ ہیں، نگراں حکومت کا کام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے علاوہ ازیں‌انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے واضح ہدایات دی ہیں، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے احسن انداز سےکام جاری ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتیں بتدریج کم ہورہی ہیں، سول اداروں کی کارکردگی میں بہتری سے صورتحال مزید بہترہوگی، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کچھ عرصہ جاری رہی، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی نشاہدہی ہوچکی ہے، ڈالر کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، امید ہے روپے کی قدر میں مزید استحکام آئے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی
    ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ شدید تنقید کے زد میں
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/
    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، ماضی میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے برآمدات میں کمی ہوئی ہے، معاشی اصلاحات وقت کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت ملکی مفاد کے خلاف اقدامات نہیں اٹھا سکتی، سانحہ 9 مئی جیسے واقعات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، انتشار میں ملوث عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی۔