Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • شاہ محمود قریشی  پی ٹی آئی کے لیے کام نا کرنے کے معاہدے کےتحت باہر ہیں،راجہ ریاض

    شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے لیے کام نا کرنے کے معاہدے کےتحت باہر ہیں،راجہ ریاض

    سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے دعویٰ کیا ہےکہ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی معاہدے کے تحت باہر ہیں-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کےپروگرام میں گفتگومیں راجہ ریاض نےکہا کہ اسحاق ڈار اور شاہد خاقان کےنام بطور نگران وزیرا عظم زیر غور ہی نہیں آئے، وزیراعظم سے طے ہوا تھا کہ جب تک نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہیں ہوتا، سامنےنہیں لایا جائےگا، میں نےجو وعدہ کیا تھا پورا کیا ہوسکتا ہےکہ معاشی ماہرین کے نام نگران کابینہ میں ہوں، نگران وزیر خزانہ کوئی نہ کوئی معاشی ماہر ہی ہوں گے، میرا خیال ہےکہ نگران وزیرخزانہ ٹیکنوکریٹ ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ عام انتخابات فروری میں ہوں گے، الیکشن میں پی ٹی آئی ہوگی یا نہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتا،قریشی صاحب پی ٹی آئی کے لیےکام نہ کرنےکا معاہدہ کرکے باہر آئے ہیں، ان کا معاہدہ یہی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے لیے کام نہیں کریں گے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ہیں کچھ کہنے سے پہلے اپنی پوزیشن واضح کریں، میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کے بارے میں جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا۔

    یوم آزادی، قیدیوں کی سزاؤں میں 180 روز کی کمی

    دوسری جانب نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سینیٹر انوار الحق کاکڑ پر بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے، دیکھنا ہو گا نگران وزیراعظم صاف شفاف انتخابات کرا پائیں گے نگران کابینہ کیسی کابینہ چنتے ہیں جو غیر جانبدار ہو انوار الحق کاکڑ اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے آئے ہیں، نگران وزیراعظم سے توقعات وابستہ کرنا بری بات نہیں،انوار الحق آئینی ذمہ داری اچھے طریقے سے نبھاتے ہیں تو جمہوری قدروں میں اضافہ ہوگا، نگران وزیراعظم کا آئینی کا م صاف شفاف الیکشن کرانا ہے۔

    مصر میں سکندر اعظم کا 2200 پرانا مجسمہ دریافت

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر صورت میں الیکشن میں حصہ لے گی، ن لیگ الیکشن آگے لے جانا چاہتی ہے ، الیکشن کے بارے میں مطلع ابرآلود دکھائی دے رہا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا کے فیصلے میں بہت سے نقائص موجود ہیں، اگر انوار الحق کاکڑ ماحول میں تبدیلی لاتے ہیں تو خوش آئند ہو گا۔

  • مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری

    مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا

    ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری دے دی گئی ملک بھر میں نئے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونگے ،پہلی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 میں مکمل ہو چکی ہے

    چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء اور مختلف محکموں کے حکام بھی شریک ہوئے ، اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان کی فلائٹ میں تاخیر کے باعث اجلاس میں کچھ دیر کیلئے وقفہ کردیا گیا تھا .مشترکہ مفادت کونسل کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نگراں وزیراعلی پنجاب محسن نقوی، وزراء اسحاق ڈار، قمر زمان کائرہ، احسن اقبال، سعد رفیق، نوید قمر اور دیگر حکام بھی شریک تھے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

    دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو وزیراعلیٰ بلوچستان بھی اجلاس میں شریک ہوئے مشترکہ مفادات کونسل نے ڈیجیٹل مردم شماری کی متفقہ طور پر منظوری دے دی جس کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ ہوگئی ، اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت آبادی کی سالانہ گروتھ 2.55 فیصد ہے سب سے زیادہ گروتھ بلوچستان میں ہے جبکہ سب سے کم گروتھ خیبرپختونخوا میں رجسٹر ہوئی ،وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پنجاب 12 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ سندھ میں 5 کروڑ سے زائد، کے پی 3 کروڑ سے زائد اور بلوچستان 2 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے بن گئے

  • پنجاب انتخابات کیس،چار ماہ بعد تفیصلی فیصلہ جاری

    پنجاب انتخابات کیس،چار ماہ بعد تفیصلی فیصلہ جاری

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات سے متعلق سوموٹو کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،

    سپریم کورٹ نے چار ماہ بعد پنجاب انتخابات کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، تحریری فیصلہ جسٹس منیب اختر نے لکھا ہے

    جسٹس منیب اختر لکھتے ہیں "انتخابات صرف درخواست گزاروں کا نہیں بلکہ پنجاب اور کے پی کے عوام کا مطالبہ ہے.الیکشن کمیشن کسی طور پر انتخابات کی تاریخ کو ازخود آگے نہیں بڑھا سکتا۔ الیکشن کمیشن اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا کہ انتخابات کی تاریخ کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ الیکشن کمیشن کا فرض نہ صرف انتخابات بلکہ ان کا منصفانہ اور شفاف انعقاد بھی یقنی بنانا ہے.الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کا ماسٹر نہیں بلکہ وہ آئینی جزو یا ادارہ ہے”

    سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ یہاں کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے،

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ذمہ داری ہے انتخابات کرانا آرٹیکل 218/3 کے تحت الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ پنجاب انتخابات کے لیے سکیورٹی ہے اور نہ فنڈز ہیں عوام، سیاسی جماعتوں اور الیکٹوریٹس کے لیے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات صرف درخواست گزاروں کا نہیں بلکہ کے پی اور پنجاب کے عوام کا درینہ مطالبہ ہے الیکشن کمیشن اپنی ایک آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے دوسری ذمہ داری نظر انداز نہیں کر سکتا آئین ڈیوٹی اور پاورمیں فرق کو واضح کرتا ہےآئین الیکشن کمیشن کو انتخابات سے متعلق تمام معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کیا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ اسمبلیاں تحلیل کرنے سے پہلے بھی الیکشن کمیشن سے اجازت لیں؟ الیکشن کمیشن کو فنڈزاورسکیورٹی کی عدم فراہمی پرعدالت میں آئینی درخواست دائر کرنی چاہیے تھی الیکشن کمیشن بتاتا کہ ایگزیکٹیو اتھارٹیز سکیورٹی اورفنڈز فراہم نہیں کر رہیں الیکشن کمیشن کو غیر قانونی آرڈر جاری کرنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ انتخابات وقت پر نہ بھی ہوں تو آرٹیکل 254 کا تحفظ حاصل ہو گا الیکشن کمیشن کا آرٹیکل 254 کی بنیاد پر انتخابات میں التوا کا مؤقف غلط ہے آرٹیکل 254 کسی کو بھی آئینی ذمہ داری سے فرار کا راستہ نہیں دیتا

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انتخابات میں رکاوٹ سے الیکشن کمیشن نے ایک طرح سے جمہوریت کو پٹری سے اتارا ہے، کے پی کے انتخابات سے متعلق معاملے کو ملتوی کیا جاتا ہے، تمام تر تفصیلی وجوہات کے ساتھ یہ عدالت کیس نمٹاتی ہے۔

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • چاہے کچھ بھی ہو،اگلی حکومت پی ٹی آئی کی ہی ہو گی، عمران خان

    چاہے کچھ بھی ہو،اگلی حکومت پی ٹی آئی کی ہی ہو گی، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے چاہے جیل میں ڈالیں یا نااہل کردیں انتخابات میں تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی، کوئی طاقت عوام کے دلوں سے پی ٹی آئی کی محبت ختم نہیں کر سکتی۔جمعرات کو ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عارضی طور پر دہشت پھیلا کر لوگوں کو چپ تو کرایا جا سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ انتخابات میں قوم کا مقابلہ کیا جا سکے کیوں کہ موجودہ حکمرانوں کے خلاف عوام کے دلوں میں غم وغصہ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ علی محمد خان کی رہائی پر مجھے خوشی ہے، کسی کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں تھا کہ علی محمد خان 9 مئی کے واقعہ میں ملوث تھا، یہی کیس شہریار آفریدی کا ہے اس کی بھی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔
    پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اس ملک میں تحریک انصاف کی حمایت کرنا جرم بن گیا ہے، یہاں تک کے شوکت خانم جیسے ادارے کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا۔عمران خان نے کہا کہ میں ان ظالم حکمرانوں کے خلاف اکیلا کھڑا ہوں اور یہ صرف ایمان کی بنیاد پر ہے۔ یہ جو بھی چال چلتے ہیں خود اس میں پھنس جاتے ہیں اور سچ سامنے آ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب برطانیہ سے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقم کے حوالے سے تحقیقات کر چکا ہے اور جب اسے کچھ نہیں ملا تو انکوائری بند کر دی گئی۔ جب ایک انکوائری بند ہو جائے تو دوبارہ کھولی ہی نہیں جا سکتی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں مجھ سے وہ سوالات پوچھے جا رہے ہیں جو آج تک کسی سے نہیں پوچھے گئے۔ جب میں نے رقم ادا کر کے تحفہ لے لیا تو پھر میری مرضی جسے مرضی دے دوں۔

  • چیئرمین پی سی بی کا الیکشن 22 روز کے اندر کرانے کا حکم

    چیئرمین پی سی بی کا الیکشن 22 روز کے اندر کرانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا الیکشن 22 روز کے اندر کرانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ نے نوید مشتاق کی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ 15 دن کے اندر بورڈ آف گورنر کی تشکیل مکمل کی جائے اور بورڈ کی تشکیل کے بعد 7 روز میں چیئرمین پی سی بی کا الیکشن کرایا جائے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ 5 جولائی کو مینجمنٹ کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن درست ہے، حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایشوز عدالتوں میں آجاتے ہیں، ریاستی اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کو اب دیکھنا چاہیئے،اداروں میں سیاسی مداخلت سے ملک میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے، سیاسی پسند اور ناپسند پر آئین کو ترجیح دے کر استحکام یقینی بنا سکتے ہیں۔

    ہندی اور اردو ادب کی معروف افسانہ اور ناول نگار

    خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کے نئے ممبران کی منظوری دیدی ہےوفاقی وزیر احسان مزاری کے نامزد کردہ چوہدری ذکا اشرف کا نام تجویزکیا ہے، گورننگ بورڈ کیلٸے مصطفیٰ رمدے کا نام بھی تجویز کیا گیا ہے،اپنے حتمی اجلاس کےدوران، مینجمنٹ کمیٹی موصول ہونے والی نامزدگیوں پرغور کرے گی اور پی سی بی کے نئے سربراہ کے انتخاب کے ایجنڈے پر مکمل توجہ مرکوز کرے گی۔

    ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    نمائندگی اور شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے، چار محکموں اور چار صوبوں کے نمائندوں کو کرکٹ بورڈ آف گورنرز میں خدمات انجام دینے کے لیے مطلع کیا جائے گااس نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد کمیٹی غیر فعال ہو جائے گی، تمام اختیارات قائم مقام چیئرمین چیف الیکشن کمشنر رانا شہزاد کو منتقل ہو جائیں گےذمہ داری مکمل طور پر ہاتھ میں آںے کے بعد قائم مقام چیئرمین اس کے بعد اس عمل کو مکمل کرنے اور چیئرمین کے انتخاب کے لیے شیڈول مرتب کریں گے-

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کیس کا فیصلہ جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق یہ پورا عمل اگلے 21 دنوں میں اپنے اختتام کو پہنچنے کی امید ہے مؤثر طریقہ کار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام ضروری عمل دو سے تین دن کی مدت میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔

  • عدالت کا پی سی بی الیکشن 22 روز میں کرانے کا حکم

    عدالت کا پی سی بی الیکشن 22 روز میں کرانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا الیکشن 22 روز کے اندر کرانے کا حکم دے دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے نوید مشتاق کی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 15 دن کے اندر بورڈ آف گورنر کی تشکیل مکمل کی جائے اور بورڈ کی تشکیل کے بعد 7 روز میں چیئرمین پی سی بی کا الیکشن کرایا جائے۔فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایشوز عدالتوں میں آجاتے ہیں، ریاستی اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کو اب دیکھنا چاہیئے، اداروں میں سیاسی مداخلت سے ملک میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
    عدالت نے فیصلے میں مزید کہا کہ سیاسی پسند اور ناپسند پر آئین کو ترجیح دے کر استحکام یقینی بنا سکتے ہیں، 5 جولائ کو مینجمنٹ کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن درست ہے۔

  • قومی اسمبلی کی تحلیل اور نئے انتخابی قوانین،اہم اجلاس طلب

    قومی اسمبلی کی تحلیل اور نئے انتخابی قوانین،اہم اجلاس طلب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے 8 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ قومی اسمبلی 8 اگست کو تحلیل ہوگی،جو بھی فیصلہ ہو گا آگاہ کیا جائے،

    اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت سے چار روز قبل آٹھ اگست کو تحلیل کردی جائے گی قومی اسمبلی کی تحلیل کی سمری صدر مملکت کو ارسال کی جائے گی صدر مملکت نے سمری پر دستخط نہ کیے تو اسمبلی اڑتالیس گھنٹے بعد تحلیل ہوجائے گی قومی اسمبلی کی آئینی مدت بارہ اگست رات بارہ بجے تک ہے آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق قبل از وقت اسمبلی کی تحلیل سے نوے دن میں الیکشن کرانا ہوگا۔ اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کریں تو ساٹھ دن میں انتخابات کرانا ہوتا ہے

    قومی اسمبلی کی تحلیل اور نئے انتخابی قوانین کا معاملہ،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 20 جولائی کو آئینی کمیٹی کا اہم اجلاس بلا لیا،ذرائع اسپیکر آفس کے مطابق اجلاس میں حکمران اتحاد کے پارلیمانی رہنماؤں اور قانونی ماہرین کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ،ایاز صادق ،نوید قمر ،اٹارنی جنرل ،اسلم بھوتانی ،قادر مندوخیل بھی اجلاس میں شرکت کرینگے اجلاس میں اہم آئینی و قانونی امور کا جائزہ لیا جائے گا انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کے تیار کردہ مجوزہ مسودے پر بھی غور ہوگا

    قومی اسمبلی قبل از وقت تحلیل کرنے یا مدت پوری کرکے از خود تحلیل ہوجانے کے سیاسی فوائد و نقصانات پر بھی غور ہوگا قومی اسمبلی میں زیر التوا اہم قوانین کو اس کی مدت سے قبل پاس کروانے کی حکمت عملی بھی طے کی جائے گی

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    باغی ٹی وی کی ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • جلد سے جلد انتخابات کرانے کے خواہشمند ہیں.خالد مقبول صدیقی

    جلد سے جلد انتخابات کرانے کے خواہشمند ہیں.خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی میں مصنوعی تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی ،5 سال میں اعلانیہ غیر اعلانیہ پابندیوں کے باوجود قربانیاں دیں،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالتوں اور ایوانوں میں مکالمے کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑا،ہم نے 22 اگست 2016 کو پاکستان میں ایک تاریخ رقم کی تھی ،اس شہر کو امن دینے کلیئے تمام تر کوششیں کر لیں، پاکستان کی حرمت اور نعرے کی خاطر اپنی لیڈر شپ کو خیر باد کہا تھا،بار بار وہ آواز کراچی میں ایک اندیشہ اور خطرہے کا احساس پیدا کرتی ہے،ان خطرات کو ایڈریس کرنے کے بجائے ایم کیو ایم ہی نشانے پر ہے،ایم کیو ایم لندن کے درجن بھر لوگوں کی ریلی نکالی گئی جو سازش کا تاثر دیتی ہے،

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی کے چلنے سے ملکی معیشت وابستہ ہے ،اگست میں حکومتیں اور اسمبلیاں ختم ہو جائیں گی ،بہت سے مطالبات عدالتوں اور ایوانوں میں انصاف کے متلاشی ہیں ،لندن سے اب کوئی ایم کیو ایم نامی جماعت نہیں ہے، وفاق اپنے وعدے پورے کرے ،سندھ کے شہری علاقوں سے انصاف کریں ،شہر کے امن کی تباہی کے اندر حصہ دار نہ بنا جائے، کراچی کی حلقہ بندیوں میں دھاندلی کی گئی، چند درجن لوگ اس شہر کا مقدمہ نہیں لڑ سکتے ، دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں منصوبے کے تحت دھاندلی ہوئی ،انتخابات پرانی مردم شماری پر قبول نہیں ،تین کروڑ لوگ مردم شماری نتائج کے منتظر ہیں۔الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہوں اور متنبہ کرتا ہوں کہ اگر مردم شماری کا مسئلہ حل نہیں ہوا تو جس امن کی ذمہ داری ہم نے لی ہے وہ ہم سے نہ ہو پائے گا۔ ہم پاکستان میں جلد سے جلد انتخابات کرانے کے خواہشمند ہیں
    ہم غیرجانبدار انتخابات کوہی انتخابات سمجھتے ہیں

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری

    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری

    پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے انتخابات سے متعلق اہم بیان دیا ہے جس میں نیئر بخاری نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری ہونے کی تجویز دے دی۔

    نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ میری رائے ہے کہ اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی بجائے انہیں مدت پوری کرنے دینی چاہئے، مدت پوری ہونے سے چند روز قبل اسمبلیاں تحلیل کرنے سے اچھا پیغام نہیں جائیگا،اراکین اسمبلی نے 13 اگست 2018 کو حلف لیا تھا،ملک میں عام انتخابات 12 اکتوبر تک ہوجانے چاہئے، تیس دن مزید حاصل کرنے کے لئے اسمبلیاں تحلیل کرنے سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا .الیکشن کمیشن سمیت سیاسی جماعتوں کے علم میں ہے کہ حکومت کی مدت کب ختم ہو رہی ہے۔آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کمیشن مدت پوری ہونے کے 60 روز کے اندر انتخابات کروانے کے لئے تیار ہوتا ہے،

    نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے سے چند روز زیادہ مل جائیں گے جس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا اور پیغام بھی اچھا نہیں جائیگا، نگران حکومت کا فیصلہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ملکر کریں گے، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائیگا،چیئرمین پیپلزپارٹی اور وزیر خارجہ بلال بھٹو زرداری کابینہ کا حصہ ہیں،وزیراعظم نگران حکومت کے حوالے سے قیادت سے مشاورت کریں گے

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    ایف اے ٹی ایف اجلاس ،سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا؟

    سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کوووٹ دیا یا نہیں؟ طاہر اشرفی نے حقیقت بتا دی

  • کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں، ہر حلقے میں امیدوار ہو گا،ن لیگ کا اعلان

    کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں، ہر حلقے میں امیدوار ہو گا،ن لیگ کا اعلان

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ن لیگ پنجاب میں ہر حلقے سے الیکشن لڑے گی،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کسی سیاسی جماعت سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ کرنے کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ مسلم لیگ ن پنجاب میں ہر حلقہ سے الیکشن لڑے گی ن لیگ آج سے انتخابی سرگرمیاں شروع کردے گی ہم اس بات سے پوری طرح متفق ہیں کہ ہم الیکشن الائنس میں نہیں جائیں گے، ہم اپنے مخلص اور جیتنے والے امیدواران کارکنان پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کرینگے۔ جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع میں سیٹ ایڈجسمنٹ کی بات محدود پیمانے پر ہوسکتی ہے

    باقاعدہ طور پر انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کرنے جا رہے ہیں اس مقصد کے لیے پنجاب کا تنظیمی اجلاس بلایا گیا ہے بنیادی ایجنڈا زیر غور آئے گا پنجاب میں بھرپور انداز سے انتخابی عمل کو آگے لے کر بڑھے گی 443 تمام قومی و صوبائی حلقوں میں مسلم لیگ ن کا امیدوار موجود ہوگا اس سے پہلے چند اضلاع میں امیدوار نہیں ہوتے تھے ہم نے تنظیمی طور پر اسے چیلنج کے طور پر لیا ہے شیر کا نشان ہر حلقے میں ہوگا صوبائی, ڈویژنل, ڈسٹرکٹ, یوسی سطح تک تنظیم کو منظم کیا گیا ہے پارٹی کی تنظیم بھرپور انداز سے اپنے امیوار کو مضبوط کرے گی مسلم لیگ ن تخلیق پاکستان نے استحکام پاکستان کا سفر میاں نواز شریف کی قیادت میں طے گیا 28 مئی کو نا قابل تسخیر بنا دیا جب پاکستان ایشئن ٹائیگر بننے جارہا تھا تب پوری دنیا کے اخبارات یہ لکھ رہے تھے کہ پاکستان ایٹنی قوت بننے کے بعد ایک معاشی قوت بننے جارہا ہے اس وقت ایک سازش کے تحت پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کے قائد نوازشریف کو سزا دیکر ملک کو بحران سے دوچار کیا گیا

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں