Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کی قرارداد منظور

    تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کی قرارداد منظور

    تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کی قرار داد سینیٹ نے منظور کرلی، قرار داد سینیٹر طاہر بزنجو نے پیش کی تھی.

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، سینیٹر طاہر بزنجو نے صوبوں اور وفاق میں بیک وقت الیکشن کروانے کی قرارداد ایوان میں پیش کی، ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی، پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے اجلاس کے دوران ایوان میں احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے، اپوزیشن کی کرسی پرسینیٹر مشتاق احمد موجود رہے، انہوں نے بھی قرارداد کی مخالفت نہیں کی جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ سینیٹر مشتاق احمد نے بھی بل کی مخالفت نہیں کی

    سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کارخانہ جات ترمیمی بل 2023 پیش کیا جس پر وزیر مملکت شہادت اعوان نے کہا میری درخواست ہے بل پرنظرثانی کی جائے ثمینہ ممتاز زہری نے کہا اس بل میں میری تین ترامیم شامل ہیں مزدوروں کو ہیلتھ اور سیفٹی مہیا کرنا ضروری ہے بعدازاں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ثمینہ ممتاز زہری اور شہادت اعوان کو مشاورت کی ہدایت کر دی

    سینیٹ اجلاس میں بیک وقت انتخابات سے متعلق قرارداد کیخلاف اپوزیشن لیڈر سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آج اپوزیشن اور پاکستان کی عوام کی پیٹھ پر چھرا گھونپا گیا ہے ،اپوزیشن اراکین چئیرمین سینیٹ کے ڈائز کے گرد جمع ہوگئے،اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی ، ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ ایوان میں ڈاکہ ڈالا گیا،

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارلیمانی اقدار کا خیال رکھیں، سپریم کورٹ پریکٹس بل کی منظوری کے وقت بھی یہ ہار گئے تھے ، ایوان میں موجود نو سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی موجودگی میں قراداد منظور ہوئی ، اپوزیشن کو شور شرابے اور کاغذ پھاڑنے کے علاؤہ کچھ نہیں آتا، یہ چلے ہوئے کارتوس ہیں، جو تھوڑے بہت پارلیمانی امور میں آداب رہ گئے ہیں اپوزیشن انکا خیال رکھے ،انکو عادت پڑ گئی ہے بائیکاٹ کرنے کی ، انہیں بیٹھ کر بات کرنے نہیں آتی کاغذ پھاڑنے آتے ہیں ،ساٹھ لوگوں کی موجودگی میں قرارداد پاس ہوئی ہے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

    الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن اخراجات کا بل قومی اسمبلی مین پیش کر دیا گیا، بل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پیش کیا،

    سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں اسمبلی اجلاس میں معمول کی کارروائی کا ایجنڈا معطل کر دیا گیا ،اجلاس میں نیشنل یونیورسٹی پاکستان کے قیام کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الیکشن اخراجات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے دور میں شرح نمو اور پالیسی ریٹ 6 فیصد تھا نوازشریف دور میں ملک میں خوشحالی تھی نوازشریف دور میں زرمبادلہ کے ذخائر24 ارب ڈالر سے زیادہ تھے نوازشریف کے دور میں مہنگائی کی شرح 2 فیصد تھی،2018 میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا،عالمی مالیاتی اداے پاکستان کی معاشی ترقی کے معترف تھے پی ٹی آئی کی حکومت کوشاں ہے ملک میں مایوسی اور انتشار پھیلے،دورہ امریکا کی منسوخی پر بے بنیاد خبریں پھیلائیں، یہ ملک دشمنی پر اتر آئی ہے، موجودہ حکومت آئی تو غیریقینی صورتحال کا سامنا تھا،سازشی عناصر ذاتی مفاد کی خاطر ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں،پی ٹی آئی قیادت افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے الیکشن اخراجات بل قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھجوا دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات دن دو بجے تک ملتوی کردیا

    پنجاب اور کے پی میں انتخابی اخراجات کا معاملہ ،قومی اسمبلی میں پیش بل کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔بل کا نام لازمی اخراجات برائے جنرل الیکشن پنجاب اور کے پی 2023 ہے۔5 شقوں پر مبنی بل اب قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں زیر بحث آئے گا۔کے پی اور پنجاب میں الیکشن کمیشن کو اخراجات کی ادائیگی فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے تحت لازمی اخراجات کی مد میں ہو گی۔قومی اسمبلی، بلوچستان اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کے بغیر پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات کے بعد یہ قانون ختم ہو جائے گا۔یہ حکم قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات کے بغیر دیا گیا۔ضروری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 81 کے تحت لازمی اخراجات کی مد میں رقم جاری کی جائے،

    بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا

    قبل ازیں آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے پر گولڈن جوبلی تقریبات کا آغاز ہوگیا ہے پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں ایس ایم ڈیز نصب کر دی گئیں ،پارلیمنٹ ہاؤس کے صدر دروازے پر 1973 کے آئین کی منظوری کی تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا سپیکر قومی اسمبلی نے آئین پاکستان کی یادگار کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، آئین پاکستان 1973 کی یادگار کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے خطاب کیا سپیکرقومی اسمبلی نے جمہوریت کے گمنام ہیروز کی یادگار پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں،راجہ پرویزاشرف کا کہنا تھا کہ آج 10 اپریل 2023 کو آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا آغاز کر رہے ہیں، آئین کا متفقہ منظور ہونا ایک کامیابی ہے، 1973 میں آئین متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا، دستور پاکستان کی یادگارکی تعمیر ایک مثبت اور اہم قدم ہے امید ہے سی ڈی اے اس یادگار کی تعمیر جلد مکمل کرے گا، اس یادگار کے ڈیزائن کیلئے ملک گیرمقابلہ ہوگا، ڈی چوک پر یادگار کی تعمیر کے ساتھ ایک باغ بھی تعمیرہوگا جس کا نام باغ دستور ہوگا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    قبل ازیں وفاقی کابینہ نے الیکشن کے فنڈز کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کی منظوری دی تھی، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس ہوا تھا جس میں الیکشن کے لئے فنڈز کی سمری پیش کی گئی، وزارت خزانہ نے گزشتہ روز کے کابینہ اجلاس کی روشنی میں فنڈز سے متعلق سمری آج کابینہ اجلاس میں پیش کی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ،سمری کی کابینہ سے منظوری کے بعد اب پنجاب میں الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے سے متعلق فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو حکم دیا تھا کہ وفاق 10 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دے ، الیکشن کمیشن 21 اپریل کو رقم سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا

  • الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق ملک کی سالمیت خود مختاری اور عدلیہ کی آزدی کے خلاف کوئی مواد شائع اور جاری نہیں کیا جائے گا ،انتخابی مہم کے دوران قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں خلل پیدا کرنے پر مبنی کو بیان شائع نہیں کیا جائے گا اخبارات ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا بھی اس کے پابند ہوں گے ،مذہب ،نسل ،جنس ،ذات برادری سمیت ذاتی حملوں سے گریز کیا جائے گا اس طرح کی کسی بھی شکایت پر قانونی کاروائی کی جائے گی ،میڈیا کو الیکشن مہم کے دوران پولنگ کے دن امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والے مواد سے اجتناب کرنا چاہیے ۔میڈیا سرکاری اخراجات سے چلنے والی سیاسی مہم کا حصہ نہ بنے ۔میڈیا ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار کے خلاف الزامات کی تصدیق کیلیے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے۔پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک میڈیا کو نتائج کی خبر دینے سے روک دیا گیا ۔میڈیا کے نمائندے الیکشن کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنیں گے ۔حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے میڈیا کے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنائیں۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    پنجاب میں انتخابات ، الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کردیا ،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق شیڈول جاری کیا،پنجاب میں پولنگ 14 مئی کو ہوگی ، ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 10 اپریل ہے ،الیکشن ٹربیونل 17 اپریل تک اپیلوں پر فیصلہ کرے گا،نوٹیفکیشن کے مطابق اپیلیٹ ٹریبونل اپیلوں پر فیصلے 17 اپریل تک کرے گا اور امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 18 اپریل کو جاری ہو گی کاغذات نامزدگی واپس لینےکی آخری تاریخ 19 اپریل ہوگی اور امیدواروں کو انتخابی نشانات 20 اپریل کو جاری ہوں گے

  • پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    سپریم کورٹ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابا ت کا معاملہ ،جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    جسٹس اطہر من نے اللہ نے 22 فروری کے ازخود نوٹس کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ، تحریری فیصلے میں کہا کہ ازخود نوٹس سمیت تینوں پیٹیشن خارج کی جاتی ہیں،پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ہے تحریری فیصلے میں جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی درخواست پر جس انداز سے کارروائی شروع کی گئی اس سے عدالت سیاسی تنازعات کا شکار ہوئی ،اس درخواست پر کارروائی شروع کرنے سے پولیٹیکل اسٹیک ہولڈرز کو عدالت پر اعتراض اٹھانے کی دعوت دی گئی ،اس قسم کے اعتراضات سے عوام کے عدالت پر اعتماد پر اثر پڑتا ہے تحریک انصاف کی درخواست پر کارروائی شروع کرنا قبل ازوقت تھی ،چیف جسٹس کا سوموٹو لینا نہیں بنتا تھا کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں پہلے ہی زیرالتوا تھا

    جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں قاسم سوری رولنگ کیس کا بھی حوالہ دیا گیا،کہا کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن میں جانے کی بجائے استعفے دیے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا،پی ٹی آئی نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔سیاسی بحران عدم اعتماد میں شکست کے بعد عمران خان کے لیڈر آف اپوزیشن کا کردار نہ لینے سے شروع ہوا ،مجاز اتھارٹیز کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دینا باقی تھا کہ پی ٹی آئی لاہور ہائیکورٹ چلی گئی سیاسیتدانوں کی پیدا کردہ دلدل سے نکالنے کیلئے ایک بار پھر عدالت کو دعوت دی گئی،سیاسی معاملات پر سوموٹو میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، سیاسی حکمت عملی کیلئے صوبائی اسمبلی توڑنے کا کنڈکٹ کیا آئینی جمہوریت سے مطابقت رکھتا ہے؟ پہلے عدالتوں میں آئے کہ استعفے منظور کرائیں جب ہو گئے تو کہا اب اسپیکر کا فیصلہ ریورس کرائیں ،سیاستدان عدالت میں کیس خود شاید جیت جائیں مگر ہارعدالت کی ہوتی ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات نہ کرانے پر متعلقہ ہائیکورٹس سے رجوع کیا گیا، جہاں کیس زیرالتوا تھا، اس کے باوجود سوموٹو نوٹس لیا گیا، ہائیکورٹس کی صلاحیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ،جسٹس منصور، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس یحیی آفریدی کی رائے سے متفق ہوں، 27 فروری کو ججز کے غیر رسمی اجلاس میں طے ہوا تھا کہ فیصلہ چار تین کا ہے،

    تفصیلی نوٹ میں کہا گیا پنجاب،کے پی انتخابات کی تاریخ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے درخواستوں اور از خود نوٹس کو خارج کرنےکی تین بنیادی وجوہات ہیں فل کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 184 تھری کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی پابندی بینچ پرلازم تھی عدالت کو اپنی غیر جانبداری کے لیے سیاسی جماعتوں کے مفادات کے معاملات پر احتیاط برتنی چاہیے، عدالت کو سیاسی درخواست گزارکا طرز عمل اور نیک نیتی بھی دیکھنی چاہیےدرخواست گزاروں کا رویہ اس بات کا متقاضی نہیں کہ 184/3کا اختیارسماعت استعمال کیا جائے ازخود نوٹس لینےکا مطلب غیر جمہوری اقدار اورحکمت عملی کو فروغ دینا ہوگا، ماضی کے فیصلوں کو مٹایا نہیں جاسکتا لیکن کم ازکم عوامی اعتماد بحال کرنےکی کوشش کی جاسکتی ہے انتخابات کی تاریخ کامعاملہ ایک تنازع سے پیدا ہوا ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے درست کہا کہ عدالت کو ازخودنوٹس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، سپریم کورٹ کو یکے بعد دیگرے تیسری بار سیاسی نوعیت کے تنازعات میں گھسیٹا گیا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

  • پاکستان مرکزی مسلم لیگ  نے لاہورسے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے لاہورسے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا کہ ہم کھوکھلے نعروں پر نہیں بلکہ عملی خدمت کی سیاست پر عمل پیرا ہیں, اس وقت پورے ملک میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ عوام الناس کے لیے سحری و افطاری کے دسترخوان لگا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کی خدمت کرکے اللہ کی رضا کو تلاش کرنا ہے، ہم ملکی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے خود انحصاری کی پالیسی اپنائیں گے,ہم کسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناۓ بغیر قوم میں ہر ممکن آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں- ہم خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر ملک و قوم کو ترقی پر گامزن کریں گے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کی جانب سے ایک نجی ہوٹل میں دعوتِ افطار کی تقریب میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس میں پاکستان مرکزی مسلم کے لاہور کے نامزد امیدواران براۓ ایم این ایز اور ایم پی ایز نے شریک ہوئے اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد اعظم ،پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے جنرل سیکرٹری انجنئیر حارث ڈار سمیت دیگر نے خطاب کیا صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مذید کہا کہ اس وقت پاکستان مرکزی مسلم لیگ خدمت کے سیاست پر یقین رکھتے ہوئے ملک کے تمام صوبوں میں عوام الناس کے لیے سستی روٹی سستی سبزی اور سستے بازار لگا کر معاشی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے

    اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد اعظم نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس تھیم کے ساتھ میدان عمل میں آئی ہے ہم نے پاکستان اور عوام کی خدمت کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے،پورے پاکستان میں اس ایجنڈے کو ہم عام کریں گے کہ وہ پارٹی باقی رہے گی جو قوم کی خدمت کی سیاست کرے گی، پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے جنرل سیکرٹری انجنئیر حارث ڈار نے کہا کہ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار اور باکردار امیدواران براۓ قومی و صوباٸی اسمبلی ہر قومی خوشی و دکھ میں اپنے حلقے کی قوم کے شانہ بشانہ ہیں اور اس وقت جب ہمارے پاس کوٸی سرکاری اختیارات بھی نہیں ہیں ان حالات میں بھی ہم قوم کے لیے ہر ممکن آسانی پیدا کر رہے ہیں اس تقریب کے موقع پر صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے صوباٸی الیکشن شیڈول کے مطابق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے لاہور کے 30 امیدواران برائے صوباٸی اسمبلی کو پارٹی ٹکٹ جاری کٸے جس کے مطابق
    پی پی 144 سے عادل خلیق
    پی پی 145 سے میاں کاشف
    پی پی 146 سے شیخ صداقت
    پی پی 147 ڈاکٹر مقبول احمد
    پی پی 148 سے شاٸمان بٹ
    پی پی 149 سے حافظ عبید اللہ
    پی پی 150 سے رضوان اکرم
    پی پی 151 سے حاجی اسحٰق مغل
    پی پی 152 سے رانا آصف
    پی پی 153 سے محمد ارشد
    پی پی 154 سے عمر عبداللہ
    پی پی 155 سے عبدالرحمن نقوی
    پی پی 156 سے خواجہ عمران
    پی پی 157 سے عمر بن عبدالعزیز
    پی پی 158 سے چوہدری عبدالسلام
    پی پی 159 سے محمد رضوان
    پی پی 160 سے محمود الاسلام
    پی پی 161 سے یاسمین سیف
    پی پی 162 سے حافظ عبدالماجد
    پی پی 163 سے سیٹھ اکرم
    پی پی 164 سے احمد یاسین
    پی پی 165 سے ناٸلہ خالد
    پی پی 166 سے ریاست وڑاٸچ
    پی پی 167 سے چوہدری عبدالرزاق
    پی پی 168 سے طلحہ احسان
    پی پی 169 سے سے عابد رحمٰن
    پی پی 170 سے محمد ارسلان
    پی پی 171 سے عباس بھٹی
    پی پی 172 سے ریاض احمد احسان
    اور پی پی 173 سے ناصر محمود گھمن
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیں گے

  • خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سابق اسپیکرکے پی مشتاق غنی نے درخواست بیرسٹرگوہرکی وساطت سے دائر کی ہے درخواست میں الیکشن کمیشن اور گورنرکے پی کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر کے پی یکم مارچ کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے گورنر کے پی نے میڈیا پر 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا اور بعد میں انکار کر دیا، آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ضروری ہیں سپریم کورٹ گورنرکے پی کو انتخابات کی تاریخ کا حکم دے

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • الیکشن ضرور ہوں گےلیکن وقت اورتمام اسٹیک ہولڈرزکی مرضی اور رائے سے،رانا ثنااللہ

    الیکشن ضرور ہوں گےلیکن وقت اورتمام اسٹیک ہولڈرزکی مرضی اور رائے سے،رانا ثنااللہ

    راولپنڈی: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ الیکشن ضرور ہوں گے لیکن وقت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مرضی اور رائے سے ہی ہوں گے-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں متنازع طریقے سے الیکشن کرانےکی کوشش کی جا رہی ہے الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کےججز میں بھی اتفاق نہیں ،اس قسم کا الیکشن ملک کوانارکی اورافرا تفری کی طرف دھکیلے گا، ایسے انتخابات خدانخواستہ ملک کی تباہی کا باعث بنیں گے، ہم اس تباہی کے راستے میں رکاوٹ ہیں-

    الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا،مراد علی شاہ

    انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی ہٹ دھرمی کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ایک آدمی اپنی انا اور ضد پر اڑا ہوا ہے، کبھی لانگ مارچ اور کبھی عوام کے ذریعے الیکشن چاہتا ہے، ہم الیکشن سے گھبرانے والے نہیں ہیں، ہم ہمیشہ عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئے، الیکشن لڑے اور ووٹ کی طاقت سے منتخب ہو کر آئے-

    مجھے معلوم ہے پولیس کیا کارنامے انجام دے رہی ہے،عدالت کے ریمارکس

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن ضرور ہوں گے لیکن وقت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مرضی اور رائے سے، جن الیکشنز پر سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن اور باقی اداروں کا اتفاق نہیں تو ایسے الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں۔

    فن لینڈ نیٹو کا رکن بن گیا

  • سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے  ،وکیل الیکشن کمیشن

    سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے ،وکیل الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کے وکیل اور سینئر قانون دان عرفان قادر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پنجاب میں الیکشن کا امکان رد کردیا۔

    باغی ٹی وی: عرفان قادر نے کہا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تین رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے الیکشن کمیشن اس فیصلے کا پابند نہیں ہے، یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے ۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    سینئر قانون دان کا کہنا تھا کہ یہ نہ آئین میں ہے نہ قانون میں کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے، اس فیصلے کو کابینہ ہی نہیں ایک عام شہری بھی مسترد کرسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو الیکشن کرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا-

    سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم …

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے، صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، آئین وقانون انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنےکا اختیارنہیں دیتا، 22 مارچ کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا تب انتخابی عمل پانچویں مرحلے پر تھا، الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، الیکشن کمیشن نے غیر آئینی فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں. وزیراعظم

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے افواج، رینجرز، ایف سی اور دیگر اہلکار فراہم کرے، وفاقی حکومت 17 اپریل تک الیکشن کمیشن کو سکیورٹی پلان فراہم کرے، وفاقی حکومت اور نگران حکومت پنجاب نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا تو کمیشن عدالت کو آگاہ کرے۔

    الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

  • الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ صدر مملک کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے،الیکشن پروگرام 13 دن آگے کرنے کا حکم دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی قراردے دیا،فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، مارچ سے اب تک کے وقت کو کور کر کے الیکشن کمیشن انتخابی پروگرام کے 6 سے 11 مرحلے کو شروع کرے ،الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ،نگران حکومت پنجاب الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،

    الیکشن کمیشن کا شیڈول پروگرام بحال کردیا گیا الیکشن کمیشن کو الیکشن ٹریبونلز سے دوبارہ کاروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے 30 اپریل کو ہونے والے پنجاب میں انتخابات کا شیڈول بحال کردیا ،عدالت نے الیکشن کمیشن کا آٹھ اکتوبر کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔عدالت نے کہا کہ الیکش 90 روز سے آگے نہیں جا سکتے ،سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کروانے کا حکم دے دیا،عدالت نے وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک 20 ارب روپے فراہم کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کو 11 اپریل کو فنڈز کے حوالے سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پنجاب کی نگران حکومت، چیف سیکرٹری اور آئی جی 10 اپریل تک الیکشن کی سیکیورٹی کا مکمل پلان پیش کریں، نگران حکومت یا وفاقی حکومت معاونت نہ کرے تو الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کو آگاہ کرے گا۔ یہ فیصلہ صرف پنجاب اسمبلی کی حد تک ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومت مسلح افواج اور رینجرز سے ہر صورت اہلکار لے،2 ججز کی رائے 3 ججز کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوتی،فیصلہ سنانے کے بعد ججز عدالت سے اٹھ کر چلے گئے، عدالت نے کہا کہ ابھی شارٹ آرڈر جاری کررہے ہیں ، تفصیلی فیصلہ بعد میں آئے گا

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی کی حد تک معاملہ زیر سماعت رہے گا، کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے، کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

    عدالت کے فیصلہ سنانے سے قبل کورٹ روم نمبر 1 کھچا کھچ بھر گیا تھا، فیصلے سے قبل عدالت میں قرآن پاک کی آیات کی تلاوت کی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآنی آیات سے فیصلے کا آغاز کیا ،

    سپریم کورٹ میں الیکشن التوا کیس کا فیصلہ ،عدالت کے احاطےاندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے،
    پولیس کی نفری امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائے گی بڑے فیصلے کے تناظر میں شہر بھر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں،

    وزارت دفاع نے عدالتی حکم پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی وزارت دفاع نے تحریری رپورٹ سربمہر لفافے میں جمع کروائی ،گزشتہ روز عدالت نے پنجاب اور کے پی انتخابات پر وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کی تھی.

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا، پنجاب اور کے پی انتخابات کیس میں سپریم کورٹ میں چھ سماعتیں ہوئیں پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کےخلاف آئینی درخواستیں دائر کی تھیں

    وزیراعظم کے معاونین خصوصی ملک احمد خان اور عطاء تارڑ سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کے سامنے پی ڈی ایم کے حامی وکلاء کی بڑی تعداد جمع تھی،وکلاء نے پی ٹی آئی کے خلاف نعرے بازی کی،وکلاء نے ‘پی ٹی آئی ججز ونگ’ کے عنوان سے پوسٹرز اٹھا رکھے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، انہوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت بھی کی ہے، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف پوری قوم کی آواز ہے سارے حربے ناکام ہونے پر عمران خان نے اسمبلیاں توڑیں سیاسی عدم استحکام سے ملک معاشی بحران کا شکار ہوا انصاف ہوتا نظر آنا چاہئے فیصلہ ایسا ہونا چاہئے جس سے معاملات آگے کی جانب بڑھتے نظر آئیں دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے انتخابات ملک کو انارکی کی جانب دھکیلیں گےپورے ملک میں ایک ہی روز انتخابات ہونے چاہئیں فل بینچ کا مطالبہ ہر طرف سے آ رہا ہے جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے فوج کی بجائے طاقت کا منبع سیاسی ادارے ہیں سیاسی اداروں کو طاقت کا منبع بنانے کیلئے نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے عمران خان کی وجہ سے ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا عدالتی بحران کی بنیاد فتنہ خانہ نے ڈالی،ریفرنس دائر کرنا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، حالات پیدا ہوں گے تو ایمرجنسی کا آپشن موجود ہے، فل کورٹ کا مطالبہ صرف سیاسی نہیں ہر طرف سے یہی مطالبہ ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں سیاسی بحران کے خاتمے کا سبب ہونا چاہئیے ،

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت اور آئین کو ماننے والے ہیں،ہم نے آمریت کے خلاف جیلیں کاٹی ہیں، جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے،سب اداروں کو آئین میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ادارے اجتماعیت سے چلتے ہیں، کسی ایک شخص کے احکامات سے نہیں،اگر یہی بینچ فیصلہ دیتا ہے تو یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا

    رانا ثناء کے ہمراہ سپریم کورٹ آنے والا وکلاء اور کارکنوں کی سیکورٹی اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی ہے ،وکلاء اور دیگر افراد نے نوازشریف اور مریم نواز کے بینرز کے ہمراہ سپریم کورٹ کے اندر آنے کی کوشش کی،جن کو سیکورٹی اہلکاروں نے روک دیا

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک الیکشن نہیں ہوگا یہ جو غیر نمائندہ اسمبلی، غیر نمائندہ حکومت کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں ہونا بلکہ مسائل بڑھیں گے، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ پر حملہ آور تھا، بھائی تمہارا کام الیکشن کروانا ہے یا انصاف ہوتے ہوئے دیکھنا؟

    سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد کل فیصلہ محفوظ کیا تھا

    سپریم کورٹ میں وقفے سے قبل کی سماعت کے بارے میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • چیف جسٹس کے بغیرکوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے بغیرکوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراپی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ، وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی، سپریم کورٹ نے حکومتی وکلاء کو سننے سے انکار کردیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی آپ کو نہیں سن رہے،ہمیں معلوم ہے حکومتیں کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کرتیں، اگر آپ بائیکاٹ نہیں کر رہے تو تحریری طور پر بتائیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں نے بائیکاٹ نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ پھر کس نے بائیکاٹ کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کارروائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں، فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ جی کارروائی کا حصہ ہیں، ہم نے تو بائیکاٹ کیا ہی نہیں تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اخبار میں تو کچھ اور لکھا تھا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک طرف بینچ پر اعتراض کرتے ہیں دوسری طرف کارروائی کا حصہ بھی بنتے ہیں ، ، حکومتی اتحاد اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنائیں،جو زباں اس میں استعمال کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کیا ہدایت ملی ہیں؟ حکومت عدالت کا بائیکاٹ کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ حکومت بائیکاٹ نہیں کرسکتی، حکومت آئین کے مطابق چلتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ اٹارنی جنرل سے ہمیں ایسی ہی توقع تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ بہت تیز جا رہے ہیں، سٹیپ بائی سٹیپ آگے چلیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک معاملے پر اپنا فیصلہ سنا چکی ہے، اس فیصلے پر عملدر آمدضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو عدالتی کاروائی کا حصہ نہ بنیں،بائیکاٹ نہیں کیا تو لکھ کر دیں، وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ وکالت نامہ واپس لینے تک وکیل دلائل دے سکتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکلالت نامہ دینے والوں نے ہی عدم اعتماد کیا ہے، اکرم شیخ وکیل نے کہا کہ وکیلوں کا عدالت آنا ہی اعتماد ظاہر کرتا ہے ،عدالت نے سیاسی جماعتوں کے وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کردی

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا ہے، صدر کو کے پی میں تاریخ دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے، درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ ہے، فیصلے میں عدالت نے پنجاب کے لیے صدر اور کے پی کے لیے گورنر کو تاریخ دینے کا کہا تھا ،گورنر کے پی کے نے درخواستیں دائر ہونے تک کوئی تاریخ نہیں دی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سوال اٹھایا تھا کہ الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ کیسے دے سکتا یے؟ قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا، عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے،1988 میں بھی عدالت کے حکم پر انتخابات آگے بڑھائے گئے تھے، عدالت زمینی حقائق کا جائزہ لے کر حکم جاری کرتی ہے، جس حکم نامے کا ذکر کرر ہے ہیں اس پر عمل ہو چکا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل معاملہ الیکشن کمیشن کے حکم نامے کا ہے، عدالتی حکم الیکشن کمیشن پر لازم تھا، الیکشن کمیشن کا حکم برقرار رہا تو باقی استدعائیں ختم ہو جائیں گی، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پہلے راؤنڈ میں نو رکنی بینچ نے مقدمہ سنا تھا ، اٹارنی جنرل 21 فروری کو سماعت کا حکم نامہ آیا، دو ججز کے اختلافات کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں دو ججز نے پہلے دن درخواستیں خارج کر دی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک جج نے درخواست خارج کی تھی ، جسٹس اطہر من اللہ نے شاید نوٹ میں درخواست خارج کرنے کا نہیں لکھا، اٹارنی جنلرل نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس اطہر من اللہ سے اتفاق کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا نقطہ نظر سمجھ گئے ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے تفصیلی نوٹ کتنے رکنی بینچ کے تھے؟ کتنے رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا؟ 27 فروری کو 9 رکنی بینچ نے ازسرنو تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجا تھا، عرفان قادر نے اٹارنی جنرل کے کان میں سرگوشی کی جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عرفان قادر اٹارنی جنرل کو بچانے آئے ہیں؟ عرفان قادر نے کہا کہ 15 سیکنڈز کا معاملہ ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ تین منٹ سے پندرہ سیکنڈ پر آگئے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بینچ دوبارہ تشکیل ہوا تو پانچ رکنی تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسارکیا کہ کیا چیف جسٹس کوئی بھی پانچ ججز شامل نہیں کرسکتے تھے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت مین کہا کہ آپ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں،اٹارنی جنرل نے بینچ کی تشکیل پر دلائل دیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا کیس مجھے نہیں ملا جس میں چیف جسٹس کو بینچ تبدیل کرنے سے روکا گیا ہو،اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ پشاور کا کیس ہے جس میں چیف جسٹس کو مرضی کے بنچ سے روکا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پہلے والے اراکین شامل کرنے کے پابند نہیں تھے،جس عدالتی فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ اقلیتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یکم مارچ کو بھی کوئی عدالتی حکم نہیں تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں پانچ رکنی بینچ بنا نہیں تھا،ججز میں ہم آہنگی سپریم کورٹ کیلئے بہت اہم ہے،ججز کے بہت سے معاملات آپس کے ہوتے ہیں،عدالتی کارروائی پبلک ہوتی ہے لیکن ججز کی مشاورت نہیں،تفصیلی اختلافی نوٹ بینچ کے ازسرنو تشکیل کا نقطہ شامل نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوٹ کے مطابق بینچ کی ازسرنو تشکیل انتظامی اقدام تھا،نوٹ کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی نے سماعت سے معذرت کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹ کے مطابق چار ججز نے خود کو بینچ سےالگ کیا، بہتر طریقہ یہ تھا کہ لکھتے کہ چار ججز کو بینچ سے نکالا گیا،نو رکنی بینچ کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کون رضاکارانہ الگ ہورہا ہے، کسی نے بینچ سے الگ ہونا ہو تو جوڈیشل آرڈر لکھا جاتا ہے،کوئی شق نہیں کہ جج کو بینچ سے نکالا نہیں جاسکتا، عدالت بینچ کی ازسرنو تشکیل کا حکم دے تو اسے نکالنا نہیں کہتے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازسرنو تشکیل میں تمام پانچ نئے ججز آجاتے تو کیا ہوتا؟ کیا نیا بینچ پرانے دو ججز کے فیصلوں کو ساتھ ملا سکتا ہے؟ نیا بینچ تشکیل دینا جوڈیشل حکم تھا انتظامی نہیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ دو ججز نے جو رائے دی تھی اسے الگ نہیں کیا جاسکتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کہا وہ اپنی شمولیت چیف جسٹس پر چھوڑتے ہیں،بینچ کا کوئی رکن بھی نہ ہو تو سماعت نہیں ہوسکتی، پانچ رکنی بینچ نے دو دن کیس سنا، کسی نے کہا دو ارکان موجود نہیں؟ کیا کسی نے یہ کہا کہ بینچ سات رکنی ہے؟ پہلی سماعت پر کوئی جج درخواست خارج کردے پھر بینچ میں نہ بیٹھے تو کیا فیصلہ نیا بینچ کرے گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو ججز کی رائے کے بعد نیا بینچ بنا اور ازسرِنو سماعت ہوئی، بینچ ارکان نے دونوں ججز کے رکن ہونے کا نقطہ نہیں اٹھایا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ چار آراء کے مطابق درخواستیں خارج ہوئی ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا نقطہ سمجھ گئے اگلے نقطے پر آئیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیر حاشیہ میں بھی لکھا کہ دو ججز کی آراء ریکارڈ کا حصہ ہے فیصلے کا نہیں، ریکارڈ میں تو متفرق درخواستیں اور حکمنامے بھی شامل ہوئے ہیں، ابھی تک آپ ہمیں اس نقطے پر قائل نہیں کرسکے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اکثریت میں رائے کس کی ہے،حل یہ ہے کہ جنہوں نے پہلے مقدمہ سنا وہ اب بنچ سے الگ ہوجائیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا نقطہ نوٹ کرلیا ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ججز نے کہا کہ آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکمنامے میں ایسا کچھ نہیں لکھا، نوٹ آپ پڑھ رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 31 مارچ کو ایک سرکولر جاری کیا،سرکولر میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا گیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کا فیصلہ کیسے سرکولر سے ختم ہوسکتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکولر میں از خود نوٹس کے انتظامی احکامات کو موخر کیا گیا،سرکولر میں کسی عدالتی فیصلے کو مسترد نہیں کیا،سرکلر میں لکھا ہے کہ پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تھی،مقدمات سماعت کیلئے مقرر نہ کرنے کے انتظامی حکم پر سرکلر آیا ہے ،جسٹس فائز عیسی کے فیصلے میں کوئی واضح حکم نہیں دیا گیا، چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ 184/3 کے تحت درخواستوں کے حوالے سے رولز موجود ہیں،ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ میں لکھا ہے کہ مناسب ہوگا کہ 184/3 کے مقدمات کی سماعت روکی جائے29 مارچ کے فیصلہ میں ہدایت نہیں بلکہ خواہش ظاہر کی گئی ہے عوام کے مفادات میں مقدمات پر فیصلے ہونا ہیں ناں کہ سماعت موخر کرنے سے،فیصلہ میں تیسری کیٹگری بنیادی حقوق کی ہے،بنیادی حقوق تو 184/3 کےہر مقدمےمیں ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ آئینی درخواست نہیں ہے جس کے رولز بنےہوئے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ مقدمہ میں بنیادی حقوق کا زکر ہے، موجودہ کیس تیسری کیٹگری میں آ سکتا ہے،رولز بننے تک سماعت موخر کی جائے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواست کے رولز بنے ہوئے ہیں تو کاروائی کیسے موخر کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کو پھر بھی سرکولر کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے رواں سال میں پہلا سوموٹو نوٹس لیا تھا،دو اسمبلیوں کے سپیکرز کی درخواستیں آئی تھیں،سپیکر ایوان کا محافظ ہوتا ہے،ازخود نوٹس کے لئے بنچ کا نوٹ بھی پڑا ہوا تھا از خودنوٹس لینے میں ہمیشہ بہت احتیاط کی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے متفق نہیں کہ یہ مقدمہ دیگر 184/3 کے مقدمات سے مختلف ہے،جن کے رولز بنے ہیں ان مقدمات پر کیسے کارروائی روک دیں؟ 184/3 کے دائرہ اختیار پر بہت سخت طریقہ کار بنایا ہوا ہے،دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج میں فل کورٹ کی تشکیل کے لئے درخواست لایا ہوں، کچھ دن پہلے میڈیا میں غلط رپورٹ ہوا کہ میری فل کورٹ کی درخواست مسترد ہوئی،جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک طرف فل کورٹ کی بات کرتے ہیں،دوسری طرف کیس موخر کرنے کا کہہ رہے، آپ اپنا ایک ذہن بنا لیں کہ عدالت سے چاہتے کیا ہیں،پہلے طے تو کر لیں سماعت ہوسکتی ہے یا نہیں،اپ کا مؤقف مان لیں تو فل کورٹ بھی سماعت نہیں کرسکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی استدعاء فی الوقت مسترد کی تھی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فیصلے پر دستخط کرنے والے جج نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا، کیسے ہوسکتا ہے فیصلہ لکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مقدمہ سنیں؟ جسٹس امین الدین خان نے فیصلے پر صرف دستخط کیے تھے سماعت سے معذرت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ ہوگا،سماعت سے انکار تو فرض نہیں کیا جاتا، یہ جوڈیشل آرڈر ہوتا ہے،تمام پندرہ ججز مختلف آراء اپنانے پر مقدمہ نہیں سن سکتے، آپ نے معاملہ فہم ہوتے ہوئے دوبارہ فل کورٹ کی استدعاء نہیں کی ،آپ کی زیادہ سے زیادہ استدعاء فل لارجر بینچ کی ہوسکتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لارجر بینچ کی استدعا آگے جاکر کروں گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی جج کو بینچ سے نکالا گیا نہ کوئی رضاکارانہ الگ ہوا، 9 ارکان نے چیف جسٹس کو معاملہ بھجوایا، 27 فروری کے نو ججز کے حکم نامے سے دکھائیں بینچ سے کون الگ ہوا؟ عدالتی ریکارڈ کے مطابق کسی جج نے سماعت سے معذرت نہیں کی، جسٹس فائز عیسیٰ کا حکم خوبصورت لکھا گیا یے، فل کورٹ میٹنگ فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن فل بینچ نہیں، گزشتہ تین دن میں سینیر ججز سے ملاقاتیں کی ہیں ،لارجر بینچ کے نکتے پر دلائل دینا چاہیں تو ضرور دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو ججز نو رکنی بینچ کا حصہ نہیں تھے ان پر مشتمل بینچ بنایا جائے ،3/2 اور 3/4 کا فیصلہ باقی دو ججز کو کرنے دیا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک فیصلہ تین رکنی اکثریت نے دیا ایک دو رکنی اقلیت نے، بنیادی اصول مقدمہ کی سماعت ہے، سنے بغیر فیصلہ محدود نوعیت کا ہی ہوسکتا ہے، سماعت کے بعد کیے گئے فیصلے کا ہی وجود ہوتا ہے، کورٹ فیس ادا نہ کرنے پر بھی تو مقدمہ خارج ہوجاتا یے، نظرثانی اکثریتی فیصلے کی ہوتی ہے، جن ججز کے نوٹ کا حوالہ دے رہے ہیں کیا وہ پانچ رکنی بینچ میں تھے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالتی حکم کے بغیر کوئی فیصلہ قابل عمل نہیں ہوتا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دو الگ الگ بینچز نے الگ الگ کارروائی کی تھی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے بہترین دلائل دے رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ صورتحال سب کیلئے ہی مشکل ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ کہاں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ رپورٹ کے ہمراہ عدالت میں موجود ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اصل مسئلہ سیکیورٹی ایشو ہے، دونوں افسران کو سن کر بھیج دیتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حساس معاملہ ہے، سیکیورٹی معاملات ہر ان کیمرا سماعت کی جائے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ فائلز دے دیں ہم جائزہ لے لیتے ہیں،فورسز کا معاملہ صرف آرمی کا نہیں بلکہ نیوی اور ائیر فورس کا بھی ہے، بری فوج مصروف ہے تو نیوی اور ائیر فورس سے مدد لی جاسکتی ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے 50 فیصد پولنگ سٹیشنز محفوظ ہیں، فوج میں ہر یونٹ یا شعبہ جنگ کیلئے نہیں ہوتا، عدالت نے وہ کام کرنا ہے جو کھلی عدالت میں ہو، کوئی حساس چیز سامنے آئی تو چیمبر میں سن لیں گے، کوئی اکر کہے تو صحیح کہ کتنے سیکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کچھ وجوہات بتائی ہیں،

    سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ر حمود الزمان روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حساس معلومات نہیں لیں گے، مجموعی صورتحال بتا دیں، فی الحال پنجاب کا بتائیں کیونکہ کے پی کے میں ابھی تاریخ ہی نہیں آئی، کیا پنجاب میں سیکورٹی حالات سنگین ہیں، سیکرٹری دفاع نے عدالت میں کہا کہ پنجاب میں سیکورٹی حالات سنگین ہیں، کھلی عدالت میں تفصیلات نہیں بتا سکتا، نہیں چاہتے معلومات دشمن تک پہنچیں، عدالت نے علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کا کہ ان چیمبر سماعت پر آپکا کیا موقف ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ اہلکار دے دیں تو انتحابات کروا سکتے ہیں، سیکورٹی اہلکار صرف ایک دن کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں سیکورٹی کا ایشو رہے گا آئینی ضرورت نوے دن کی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکار کون دے گا؟ وال یہ ہے کہ اٹھ اکتوبر کو کیسے سب ٹھیک ہو جائے گا؟ کیا الیکشن کمیشن کو لڑنے والے اہلکار درکار ہیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ریٹائرڈ لوگوں کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے پنتالیس فیصد پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا ہے،جھنگ ضلع پہلے حساس ہوتا تھا اب نہیں، جنوبی پنجاب اور کچے کا علاقہ بھی حساس تصور ہوتا ہے،سیکرٹری دفاع نے کہا کہ ریزور فورس موجود ہے جسے مخصوص حالات میں بلایا جاتا ہے، ریزور فورس کو بلانے کا طریقہ کار موجود ہے،ریزرو فورس کی طلبی کیلئے وقت درکار ہوتا ہے،ریزرو فورس کی تربیت بھی کی جاتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوج کی بڑی تعداد بارڈرز پر بھی تعینات ہے، الیکشن ڈیوٹی کیلئے کمبیٹ اہلکاروں کی ضرورت نہیں ہوتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کل نہیں ہونے پورا شیڈول آئیگا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ پیرا ملٹری فورسز، بحری اور ہوائی فورسز سے بھی معلومات لیں،

    عدالت نے سیکریٹری دفاع سے دو گھنٹے میں تحریری رپورٹ طلب کرلی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جو زبانی بریفنگ دینا چاہتے ہیں وہ لکھ کر دے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سیکرٹری دفاع کو ہدایت کی کہ اپنی پوری کوشش کریں، سیکریٹری دفاع نے کل تک مہلت مانگ لی،عدالت نے سیکریٹری دفاع کو کل تک کی مہلت دیدی،سیکریٹری خزانہ کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ رپورٹ بھی حساس ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ کی رپورٹ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں ہے،سیکریٹری خزانہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث پیش نہیں ہوسکے،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ عامر محمود عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے،کرنٹ اکاؤنٹ اور مالی خسارہ کم کیا جارہا ہوگا، آمدن بڑھا کر اور اخراجات کم کر کے خسارہ کم کیا جاسکتا ہے،کون سا ترقیاتی منصوبہ 20 ارب روپے سے کم ہے ،درخواست گزار کے مطابق ارکان کو 170 ارب روپے کا فنڈ دیا جارہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اکتوبر 2022 کی بات ہے،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز پلاننگ کمیشن جاری کرتا ہے،ترقیاتی فنڈز پر کوئی کٹ نہیں لگایا گیا،

    اسد عمر نے کہا کہ خسارے کا ٹارگٹ جی ڈی پی 4.97فیصد ہے۔بیس ارب روپیے کا خسارے کے ٹارگٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریونیو بڑھانے میں زیادہ وقت لگے گا۔ کس شعبے سے اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات سات سو ارب روپے ہیں۔ابھی تک چار سو پچاس ارب روپیے خرچ ہونا باقی ہیں حکومت نے اٹھ ماہ میں صرف دو سو ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ ترقیاتی اسکیموں کے لیے حکومت نے مزید اٹھ ارب روپیے ترقیاتی اخراجات میں شامل کیے ہیں۔ کیسے ممکن ہے سات سو ارب روپے کے بجٹ سے اکیس ارب روپے نہ نکالے جا سکتے ہوں۔آئینی تقاضا اہم ہے یا سڑکیں بنانا؟ اس سے بڑا کوئی مذاق نہیں ہو سکتا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ الیکشن پہلے ہو جائیں تو پورا چار سو پچاس ارب بچ سکتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ حکومت نے کہا کسی سے بات نہیں کریں گیے۔عدالت فیصلہ کرے چار سو پچاس ارب روپے خرچ نہ ہونے کیوجہ اخراجات میں کمی ہے۔ ترقیاتی اخراجات کم نہیں کرنے توغیر ترقیاتی اخراجات کم کر دیں ،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ آپریشنل اخراجات اورتنخواہیں ہی غیر ترقیاتی اخراجات ہوتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تنخواہوں میں کمی نہیں کی جا سکتی؟ ججز سے تنخواہیں کم کرنا کیوں شروع نہیں کرتے،الیکشن کمیشن کو بھی اخراجات کم کرنے کا کہیں گے، قانونی رکاوٹ ہے تو عدالت ختم کردے گی، حکومت نے اخراجات کم کرنے کیلٸے اقدامات کٸے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آٸینی تقاضہ پورا کرنے کیلٸے آرٹیکل 254 ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مثال بن گٸی تو ہمیشہ مالی مشکلات پر الیکشن نہیں ہوا کرینگے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آٸندہ مالی سال کے بجٹ میں پیسے رکھیں گے،

    قبل ازیں فواد چوہدری چیف جسٹس کے رو برو پیش ہوئے اور کہا کہ ریڈ زون میں وکلاء کو آنے سے روکا جارہا ہے ،ریڈ زون کے داخلی راستے سیل کر دئے گئے ہیں،لگتا ہے ہم غزہ میں ہیں، وکلاء کو بھی آنے سے روکا جا رہا ہے، ریڈی زون کے داخلی راستوں پر جھگڑے ہو رہے ہیں، چیف جسٹس نے فواد چوہدری کی ریڈ زون کے داخلی راستے کھلوانے کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ اپنے سکیورٹی اقدامات کر رہی ہے، کیس کی سماعت کر رہے ہیں، ہزاروں وکلاء کا آنا ضروری نہیں،وکلاء کو آپ نے کال دی ہے تو ان سے بات کریں، فواد چودھری نے کہا کہ ہم نے کسی کو کال نہیں دی،وکلاء کا کنونشن ہے اس کیلئے بھی روکا جا رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اس سب سے کیا لینا دینا؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوموٹو پر پہلے ہی مسائل بنے ہوئے ہیں، آپ پھر سے سوموٹو لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احاطے میں معمول کی شناخت کے بعد وکلاء آ سکتے ہیں، خاتون وکیل نے شکایت کی کہ کمرہ عدالت نمبر ایک میں بھی آنے نہیں دیا جا رہا،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گنجائش کے مطابق ہی کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی،ہر وکیل کو کمرہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے سابق صدر شعیب شاہین نے بھی راستوں کی بندش کی چیف جسٹس سے شکایت کردی، شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ کورٹ میں مقدمات کیلئے بھی وکلا کو نہیں آنے دیا جا رہا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس چلنے دیں ،انتظامیہ کیلئے پریشانی نہ بنائیں ،انتظامیہ سب انتظامات عدالت اور پرامن فضا قائم رکھنے کیلئے کر رہی ہے،اپنے ادارے کیلئے احکامات دیں گے باقیوں کیلئے نہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ 25 مئی کا واقعہ ہم سب کے سامنے ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 25 مئی کا ذکر مت کریں، 25 کی درخواست آپ لائے تھے ایک حد تک اپ بھی اسکے ذمہ دار ہیں ،

    اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، سماعت کے موقع پر تحریک انصاف لائرز ونگ نے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ سے یکجہتی کے لئے ریلی کا بھی اعلان کر رکھا ہے، وکلاء کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر پہنچ چکی ہے،وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی خصوصی بنچ سماعت کرے گا ، تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر اور الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل مکمل ہوچکے ہیں

    از خود نوٹس کیس، اٹارنی جنرل نے متفرق درخواست دائر کر دی
    دوسری جانب اٹارنی جنرل نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی جس میں مذکورہ بینچ سے مقدمہ نہ سننے کا کہا ہے یعنی بینچ پر اعتراض کیا ہے ،اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ الیکشن سے متعلق چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کیس نہ سنے یہ کیس ان ججز کو سماعت کے لیے بھجوایا جائے جو اس کیس کا حصہ نہیں رہ چکے ہوں

    وفاقی حکومت نے انتخابات کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا ،وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کی استدعا کر دی، وفاقی حکومت کے جواب میں کہا گیا ہے کہ یکم مارچ کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اکثریت سے دیا گیا تین رکنی بینچ متبادل کے طور پر تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت نہ کرے ،جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی درخواست موخر کی جائے۔سپریم کورٹ کے جو ججز الیکشن کیس کو سن چکے ہیں ۔انھیں نکال کر باقی ججز پر مشمتل بینچ بناجائے۔جسٹس اعجاز الاحسن پہلے راؤنڈ میں الیکشن کا کیس سننے سے انکار کرچکے ہیں۔پہلے راؤنڈ میں دیا گیا الیکشن کا فیصلہ چار تین اکژیت سے دیا گیا۔ چیف جسٹس اور جسٹس منیب اختر فیصلہ دینے والے بینچ کا حصہ تھے۔چیف جسٹس اور جسٹس منیب اختر بھی اس کیس کو نہ سنیں۔

    اسلام آباد میں دہشت گردی کے خطرات ،وکلاء کے لباس میں شرپسند عناصر کے داخلے کا خدشہ ہے۔ ترجمان اسلام آباد پولیس
    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں آج وہی افراد داخل ہوسکیں گے، جن کے مقدمات ہیں جن افراد کے پاس سپریم کورٹ انتظامیہ کا اجازت نامہ ہوگا وہ داخل ہوسکیں گے قانون کا احترام سب پر لازم ہے، اس کا نفاذ برابری کی سطح پر کیا جائے گا ، ریڈ زون میں تعینات پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کریں، ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں داخلے کے لئے چیکنگ کی جارہی ہے،وکلا اور صحافی سپریم کورٹ داخلے سے پہلے شناخت کروائیں۔سپریم کورٹ میں داخلے کے لیے سپریم کورٹ انتظامیہ کی اجازت لازمی ہے۔وکلاء کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔وکلاء حضرات سے گذارش ہے کہ راستے مسدود نہ کریں۔ اور سپریم کورٹ کے سامنے پارکنگ مت کریں اس سے گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے۔اسلام آباد میں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں،وکلاء کے لباس میں شرپسند عناصر کے داخلے کا خدشہ ہے۔ وکلاء سے گذارش ہے کہ اپنے اردگرد وکلاء کے لباس میں غیر معروف افراد پر نظر رکھیں پولیس اہلکار دوران چیکنگ شائستگی کا مظاہرہ کریں۔وکلاء کے عدالت عظمیٰ آنے پر کوئی پابندی نہیں،عدالت عظمیٰ کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں عدالتی احاطے میں داخلہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی اجازت کے ساتھ مشروط ہے ۔سپریم کورٹ میں داخل ہونے والے صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں،شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق اطلاع پکار 15 پر دیں۔

    31 مارچ کو پنجاب اورخیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کیس کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا تھا ، جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ سےعلیحدہ ہوگئے اور کل کے حکم نامے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سماعت کا حکم نامہ عدالت میں نہ تو لکھوایا گیا نہ مجھ سے مشاورت کی گئی بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کر دی تھی، جس کے بعد اتحادی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تین رکنی بینچ پراعتماد نہیں ہے،چیف جسٹس سمیت تین رکنی بینچ کے دیگرجج صاحبان مقدمے سے دستبردار ہو جائیں

    سیاسی بحران پیچھے رہ گیا، آئینی بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر