Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • کراچی بلدیاتی الیکشن،عدالت کا چھ یونین کونسلز میں دوبارہ پولنگ کا حکم دینے کا عندیہ

    کراچی بلدیاتی الیکشن،عدالت کا چھ یونین کونسلز میں دوبارہ پولنگ کا حکم دینے کا عندیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، جماعت اسلامی کی کراچی کی چھ یونین کونسلز میں دوبارہ گنتی روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے چھ یونین کونسلز میں دوبارہ پولنگ کا حکم دینے کا عندیہ دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوبارہ پولنگ کا حکم دینے سے قبل مدمقابل امید واروں کو بھی سن لیتے ہیں ،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو چھ امیدوار مقابلے میں تھے انھیں نوٹس کردیتے ہیں ، آئیندہ سماعت 19 اپریل تک دوبارہ گنتی روکنے کے عدالتی حکم میں توسیع کر دی گئی ،جماعت اسلامی کی جانب سے وکیل قیصر امام، حسن جاوید شورش پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کی جانب سے سعد حسن عدالت کے سامنے پیش ہوئے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی

    وکیل قیصر امام نے کہا کہ کراچی کی چھ یونین کونسلز میں ووٹوں کے تھیلے کھل چکے تھے ،فارم 12 بھی فراہم نہیں کیا گیا ، دھاندلی کے واضح شواہد موجود ہیں ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو الیکشن کمیشن کو دوبارہ پولنگ کی جانب جانا چاہیئے تھا ، صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے عدالت نے چھ یونین کونسل میں مخالف امیدواروں کو نوٹس جاری کردیا ،کیس کی مزید سماعت 19 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    کراچی کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلے۔

    ، جماعت اسلامی کو چاہیے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو مانے

    حلقہ بندیوں میں تحفظات کے باوجود بھی ہم الیکشن میں گئے،

  • تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کی قرارداد منظور

    تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کی قرارداد منظور

    تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کی قرار داد سینیٹ نے منظور کرلی، قرار داد سینیٹر طاہر بزنجو نے پیش کی تھی.

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، سینیٹر طاہر بزنجو نے صوبوں اور وفاق میں بیک وقت الیکشن کروانے کی قرارداد ایوان میں پیش کی، ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی، پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے اجلاس کے دوران ایوان میں احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے، اپوزیشن کی کرسی پرسینیٹر مشتاق احمد موجود رہے، انہوں نے بھی قرارداد کی مخالفت نہیں کی جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ سینیٹر مشتاق احمد نے بھی بل کی مخالفت نہیں کی

    سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کارخانہ جات ترمیمی بل 2023 پیش کیا جس پر وزیر مملکت شہادت اعوان نے کہا میری درخواست ہے بل پرنظرثانی کی جائے ثمینہ ممتاز زہری نے کہا اس بل میں میری تین ترامیم شامل ہیں مزدوروں کو ہیلتھ اور سیفٹی مہیا کرنا ضروری ہے بعدازاں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ثمینہ ممتاز زہری اور شہادت اعوان کو مشاورت کی ہدایت کر دی

    سینیٹ اجلاس میں بیک وقت انتخابات سے متعلق قرارداد کیخلاف اپوزیشن لیڈر سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آج اپوزیشن اور پاکستان کی عوام کی پیٹھ پر چھرا گھونپا گیا ہے ،اپوزیشن اراکین چئیرمین سینیٹ کے ڈائز کے گرد جمع ہوگئے،اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی ، ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ ایوان میں ڈاکہ ڈالا گیا،

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارلیمانی اقدار کا خیال رکھیں، سپریم کورٹ پریکٹس بل کی منظوری کے وقت بھی یہ ہار گئے تھے ، ایوان میں موجود نو سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی موجودگی میں قراداد منظور ہوئی ، اپوزیشن کو شور شرابے اور کاغذ پھاڑنے کے علاؤہ کچھ نہیں آتا، یہ چلے ہوئے کارتوس ہیں، جو تھوڑے بہت پارلیمانی امور میں آداب رہ گئے ہیں اپوزیشن انکا خیال رکھے ،انکو عادت پڑ گئی ہے بائیکاٹ کرنے کی ، انہیں بیٹھ کر بات کرنے نہیں آتی کاغذ پھاڑنے آتے ہیں ،ساٹھ لوگوں کی موجودگی میں قرارداد پاس ہوئی ہے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

    الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن اخراجات کا بل قومی اسمبلی مین پیش کر دیا گیا، بل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پیش کیا،

    سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں اسمبلی اجلاس میں معمول کی کارروائی کا ایجنڈا معطل کر دیا گیا ،اجلاس میں نیشنل یونیورسٹی پاکستان کے قیام کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الیکشن اخراجات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے دور میں شرح نمو اور پالیسی ریٹ 6 فیصد تھا نوازشریف دور میں ملک میں خوشحالی تھی نوازشریف دور میں زرمبادلہ کے ذخائر24 ارب ڈالر سے زیادہ تھے نوازشریف کے دور میں مہنگائی کی شرح 2 فیصد تھی،2018 میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا،عالمی مالیاتی اداے پاکستان کی معاشی ترقی کے معترف تھے پی ٹی آئی کی حکومت کوشاں ہے ملک میں مایوسی اور انتشار پھیلے،دورہ امریکا کی منسوخی پر بے بنیاد خبریں پھیلائیں، یہ ملک دشمنی پر اتر آئی ہے، موجودہ حکومت آئی تو غیریقینی صورتحال کا سامنا تھا،سازشی عناصر ذاتی مفاد کی خاطر ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں،پی ٹی آئی قیادت افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے الیکشن اخراجات بل قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھجوا دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات دن دو بجے تک ملتوی کردیا

    پنجاب اور کے پی میں انتخابی اخراجات کا معاملہ ،قومی اسمبلی میں پیش بل کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔بل کا نام لازمی اخراجات برائے جنرل الیکشن پنجاب اور کے پی 2023 ہے۔5 شقوں پر مبنی بل اب قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں زیر بحث آئے گا۔کے پی اور پنجاب میں الیکشن کمیشن کو اخراجات کی ادائیگی فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے تحت لازمی اخراجات کی مد میں ہو گی۔قومی اسمبلی، بلوچستان اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کے بغیر پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات کے بعد یہ قانون ختم ہو جائے گا۔یہ حکم قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات کے بغیر دیا گیا۔ضروری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 81 کے تحت لازمی اخراجات کی مد میں رقم جاری کی جائے،

    بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا

    قبل ازیں آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے پر گولڈن جوبلی تقریبات کا آغاز ہوگیا ہے پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں ایس ایم ڈیز نصب کر دی گئیں ،پارلیمنٹ ہاؤس کے صدر دروازے پر 1973 کے آئین کی منظوری کی تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا سپیکر قومی اسمبلی نے آئین پاکستان کی یادگار کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، آئین پاکستان 1973 کی یادگار کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے خطاب کیا سپیکرقومی اسمبلی نے جمہوریت کے گمنام ہیروز کی یادگار پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں،راجہ پرویزاشرف کا کہنا تھا کہ آج 10 اپریل 2023 کو آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا آغاز کر رہے ہیں، آئین کا متفقہ منظور ہونا ایک کامیابی ہے، 1973 میں آئین متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا، دستور پاکستان کی یادگارکی تعمیر ایک مثبت اور اہم قدم ہے امید ہے سی ڈی اے اس یادگار کی تعمیر جلد مکمل کرے گا، اس یادگار کے ڈیزائن کیلئے ملک گیرمقابلہ ہوگا، ڈی چوک پر یادگار کی تعمیر کے ساتھ ایک باغ بھی تعمیرہوگا جس کا نام باغ دستور ہوگا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    قبل ازیں وفاقی کابینہ نے الیکشن کے فنڈز کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کی منظوری دی تھی، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس ہوا تھا جس میں الیکشن کے لئے فنڈز کی سمری پیش کی گئی، وزارت خزانہ نے گزشتہ روز کے کابینہ اجلاس کی روشنی میں فنڈز سے متعلق سمری آج کابینہ اجلاس میں پیش کی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ،سمری کی کابینہ سے منظوری کے بعد اب پنجاب میں الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے سے متعلق فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو حکم دیا تھا کہ وفاق 10 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دے ، الیکشن کمیشن 21 اپریل کو رقم سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا

  • الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق ملک کی سالمیت خود مختاری اور عدلیہ کی آزدی کے خلاف کوئی مواد شائع اور جاری نہیں کیا جائے گا ،انتخابی مہم کے دوران قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں خلل پیدا کرنے پر مبنی کو بیان شائع نہیں کیا جائے گا اخبارات ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا بھی اس کے پابند ہوں گے ،مذہب ،نسل ،جنس ،ذات برادری سمیت ذاتی حملوں سے گریز کیا جائے گا اس طرح کی کسی بھی شکایت پر قانونی کاروائی کی جائے گی ،میڈیا کو الیکشن مہم کے دوران پولنگ کے دن امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والے مواد سے اجتناب کرنا چاہیے ۔میڈیا سرکاری اخراجات سے چلنے والی سیاسی مہم کا حصہ نہ بنے ۔میڈیا ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار کے خلاف الزامات کی تصدیق کیلیے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے۔پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک میڈیا کو نتائج کی خبر دینے سے روک دیا گیا ۔میڈیا کے نمائندے الیکشن کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنیں گے ۔حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے میڈیا کے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنائیں۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    پنجاب میں انتخابات ، الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کردیا ،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق شیڈول جاری کیا،پنجاب میں پولنگ 14 مئی کو ہوگی ، ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 10 اپریل ہے ،الیکشن ٹربیونل 17 اپریل تک اپیلوں پر فیصلہ کرے گا،نوٹیفکیشن کے مطابق اپیلیٹ ٹریبونل اپیلوں پر فیصلے 17 اپریل تک کرے گا اور امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 18 اپریل کو جاری ہو گی کاغذات نامزدگی واپس لینےکی آخری تاریخ 19 اپریل ہوگی اور امیدواروں کو انتخابی نشانات 20 اپریل کو جاری ہوں گے

  • پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    سپریم کورٹ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابا ت کا معاملہ ،جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    جسٹس اطہر من نے اللہ نے 22 فروری کے ازخود نوٹس کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ، تحریری فیصلے میں کہا کہ ازخود نوٹس سمیت تینوں پیٹیشن خارج کی جاتی ہیں،پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ہے تحریری فیصلے میں جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی درخواست پر جس انداز سے کارروائی شروع کی گئی اس سے عدالت سیاسی تنازعات کا شکار ہوئی ،اس درخواست پر کارروائی شروع کرنے سے پولیٹیکل اسٹیک ہولڈرز کو عدالت پر اعتراض اٹھانے کی دعوت دی گئی ،اس قسم کے اعتراضات سے عوام کے عدالت پر اعتماد پر اثر پڑتا ہے تحریک انصاف کی درخواست پر کارروائی شروع کرنا قبل ازوقت تھی ،چیف جسٹس کا سوموٹو لینا نہیں بنتا تھا کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں پہلے ہی زیرالتوا تھا

    جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں قاسم سوری رولنگ کیس کا بھی حوالہ دیا گیا،کہا کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن میں جانے کی بجائے استعفے دیے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا،پی ٹی آئی نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔سیاسی بحران عدم اعتماد میں شکست کے بعد عمران خان کے لیڈر آف اپوزیشن کا کردار نہ لینے سے شروع ہوا ،مجاز اتھارٹیز کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دینا باقی تھا کہ پی ٹی آئی لاہور ہائیکورٹ چلی گئی سیاسیتدانوں کی پیدا کردہ دلدل سے نکالنے کیلئے ایک بار پھر عدالت کو دعوت دی گئی،سیاسی معاملات پر سوموٹو میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، سیاسی حکمت عملی کیلئے صوبائی اسمبلی توڑنے کا کنڈکٹ کیا آئینی جمہوریت سے مطابقت رکھتا ہے؟ پہلے عدالتوں میں آئے کہ استعفے منظور کرائیں جب ہو گئے تو کہا اب اسپیکر کا فیصلہ ریورس کرائیں ،سیاستدان عدالت میں کیس خود شاید جیت جائیں مگر ہارعدالت کی ہوتی ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات نہ کرانے پر متعلقہ ہائیکورٹس سے رجوع کیا گیا، جہاں کیس زیرالتوا تھا، اس کے باوجود سوموٹو نوٹس لیا گیا، ہائیکورٹس کی صلاحیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ،جسٹس منصور، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس یحیی آفریدی کی رائے سے متفق ہوں، 27 فروری کو ججز کے غیر رسمی اجلاس میں طے ہوا تھا کہ فیصلہ چار تین کا ہے،

    تفصیلی نوٹ میں کہا گیا پنجاب،کے پی انتخابات کی تاریخ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے درخواستوں اور از خود نوٹس کو خارج کرنےکی تین بنیادی وجوہات ہیں فل کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 184 تھری کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی پابندی بینچ پرلازم تھی عدالت کو اپنی غیر جانبداری کے لیے سیاسی جماعتوں کے مفادات کے معاملات پر احتیاط برتنی چاہیے، عدالت کو سیاسی درخواست گزارکا طرز عمل اور نیک نیتی بھی دیکھنی چاہیےدرخواست گزاروں کا رویہ اس بات کا متقاضی نہیں کہ 184/3کا اختیارسماعت استعمال کیا جائے ازخود نوٹس لینےکا مطلب غیر جمہوری اقدار اورحکمت عملی کو فروغ دینا ہوگا، ماضی کے فیصلوں کو مٹایا نہیں جاسکتا لیکن کم ازکم عوامی اعتماد بحال کرنےکی کوشش کی جاسکتی ہے انتخابات کی تاریخ کامعاملہ ایک تنازع سے پیدا ہوا ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے درست کہا کہ عدالت کو ازخودنوٹس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، سپریم کورٹ کو یکے بعد دیگرے تیسری بار سیاسی نوعیت کے تنازعات میں گھسیٹا گیا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

  • پاکستان مرکزی مسلم لیگ  نے لاہورسے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے لاہورسے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا کہ ہم کھوکھلے نعروں پر نہیں بلکہ عملی خدمت کی سیاست پر عمل پیرا ہیں, اس وقت پورے ملک میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ عوام الناس کے لیے سحری و افطاری کے دسترخوان لگا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کی خدمت کرکے اللہ کی رضا کو تلاش کرنا ہے، ہم ملکی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے خود انحصاری کی پالیسی اپنائیں گے,ہم کسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناۓ بغیر قوم میں ہر ممکن آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں- ہم خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر ملک و قوم کو ترقی پر گامزن کریں گے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کی جانب سے ایک نجی ہوٹل میں دعوتِ افطار کی تقریب میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس میں پاکستان مرکزی مسلم کے لاہور کے نامزد امیدواران براۓ ایم این ایز اور ایم پی ایز نے شریک ہوئے اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد اعظم ،پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے جنرل سیکرٹری انجنئیر حارث ڈار سمیت دیگر نے خطاب کیا صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مذید کہا کہ اس وقت پاکستان مرکزی مسلم لیگ خدمت کے سیاست پر یقین رکھتے ہوئے ملک کے تمام صوبوں میں عوام الناس کے لیے سستی روٹی سستی سبزی اور سستے بازار لگا کر معاشی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے

    اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد اعظم نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس تھیم کے ساتھ میدان عمل میں آئی ہے ہم نے پاکستان اور عوام کی خدمت کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے،پورے پاکستان میں اس ایجنڈے کو ہم عام کریں گے کہ وہ پارٹی باقی رہے گی جو قوم کی خدمت کی سیاست کرے گی، پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے جنرل سیکرٹری انجنئیر حارث ڈار نے کہا کہ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار اور باکردار امیدواران براۓ قومی و صوباٸی اسمبلی ہر قومی خوشی و دکھ میں اپنے حلقے کی قوم کے شانہ بشانہ ہیں اور اس وقت جب ہمارے پاس کوٸی سرکاری اختیارات بھی نہیں ہیں ان حالات میں بھی ہم قوم کے لیے ہر ممکن آسانی پیدا کر رہے ہیں اس تقریب کے موقع پر صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے صوباٸی الیکشن شیڈول کے مطابق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے لاہور کے 30 امیدواران برائے صوباٸی اسمبلی کو پارٹی ٹکٹ جاری کٸے جس کے مطابق
    پی پی 144 سے عادل خلیق
    پی پی 145 سے میاں کاشف
    پی پی 146 سے شیخ صداقت
    پی پی 147 ڈاکٹر مقبول احمد
    پی پی 148 سے شاٸمان بٹ
    پی پی 149 سے حافظ عبید اللہ
    پی پی 150 سے رضوان اکرم
    پی پی 151 سے حاجی اسحٰق مغل
    پی پی 152 سے رانا آصف
    پی پی 153 سے محمد ارشد
    پی پی 154 سے عمر عبداللہ
    پی پی 155 سے عبدالرحمن نقوی
    پی پی 156 سے خواجہ عمران
    پی پی 157 سے عمر بن عبدالعزیز
    پی پی 158 سے چوہدری عبدالسلام
    پی پی 159 سے محمد رضوان
    پی پی 160 سے محمود الاسلام
    پی پی 161 سے یاسمین سیف
    پی پی 162 سے حافظ عبدالماجد
    پی پی 163 سے سیٹھ اکرم
    پی پی 164 سے احمد یاسین
    پی پی 165 سے ناٸلہ خالد
    پی پی 166 سے ریاست وڑاٸچ
    پی پی 167 سے چوہدری عبدالرزاق
    پی پی 168 سے طلحہ احسان
    پی پی 169 سے سے عابد رحمٰن
    پی پی 170 سے محمد ارسلان
    پی پی 171 سے عباس بھٹی
    پی پی 172 سے ریاض احمد احسان
    اور پی پی 173 سے ناصر محمود گھمن
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیں گے

  • خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سابق اسپیکرکے پی مشتاق غنی نے درخواست بیرسٹرگوہرکی وساطت سے دائر کی ہے درخواست میں الیکشن کمیشن اور گورنرکے پی کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر کے پی یکم مارچ کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے گورنر کے پی نے میڈیا پر 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا اور بعد میں انکار کر دیا، آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ضروری ہیں سپریم کورٹ گورنرکے پی کو انتخابات کی تاریخ کا حکم دے

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • الیکشن ضرور ہوں گےلیکن وقت اورتمام اسٹیک ہولڈرزکی مرضی اور رائے سے،رانا ثنااللہ

    الیکشن ضرور ہوں گےلیکن وقت اورتمام اسٹیک ہولڈرزکی مرضی اور رائے سے،رانا ثنااللہ

    راولپنڈی: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ الیکشن ضرور ہوں گے لیکن وقت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مرضی اور رائے سے ہی ہوں گے-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں متنازع طریقے سے الیکشن کرانےکی کوشش کی جا رہی ہے الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کےججز میں بھی اتفاق نہیں ،اس قسم کا الیکشن ملک کوانارکی اورافرا تفری کی طرف دھکیلے گا، ایسے انتخابات خدانخواستہ ملک کی تباہی کا باعث بنیں گے، ہم اس تباہی کے راستے میں رکاوٹ ہیں-

    الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا،مراد علی شاہ

    انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی ہٹ دھرمی کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ایک آدمی اپنی انا اور ضد پر اڑا ہوا ہے، کبھی لانگ مارچ اور کبھی عوام کے ذریعے الیکشن چاہتا ہے، ہم الیکشن سے گھبرانے والے نہیں ہیں، ہم ہمیشہ عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئے، الیکشن لڑے اور ووٹ کی طاقت سے منتخب ہو کر آئے-

    مجھے معلوم ہے پولیس کیا کارنامے انجام دے رہی ہے،عدالت کے ریمارکس

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن ضرور ہوں گے لیکن وقت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مرضی اور رائے سے، جن الیکشنز پر سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن اور باقی اداروں کا اتفاق نہیں تو ایسے الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں۔

    فن لینڈ نیٹو کا رکن بن گیا

  • سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے  ،وکیل الیکشن کمیشن

    سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے ،وکیل الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کے وکیل اور سینئر قانون دان عرفان قادر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پنجاب میں الیکشن کا امکان رد کردیا۔

    باغی ٹی وی: عرفان قادر نے کہا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تین رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے الیکشن کمیشن اس فیصلے کا پابند نہیں ہے، یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے ۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    سینئر قانون دان کا کہنا تھا کہ یہ نہ آئین میں ہے نہ قانون میں کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے، اس فیصلے کو کابینہ ہی نہیں ایک عام شہری بھی مسترد کرسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو الیکشن کرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا-

    سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم …

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے، صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، آئین وقانون انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنےکا اختیارنہیں دیتا، 22 مارچ کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا تب انتخابی عمل پانچویں مرحلے پر تھا، الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، الیکشن کمیشن نے غیر آئینی فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں. وزیراعظم

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے افواج، رینجرز، ایف سی اور دیگر اہلکار فراہم کرے، وفاقی حکومت 17 اپریل تک الیکشن کمیشن کو سکیورٹی پلان فراہم کرے، وفاقی حکومت اور نگران حکومت پنجاب نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا تو کمیشن عدالت کو آگاہ کرے۔

    الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

  • الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ صدر مملک کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے،الیکشن پروگرام 13 دن آگے کرنے کا حکم دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی قراردے دیا،فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، مارچ سے اب تک کے وقت کو کور کر کے الیکشن کمیشن انتخابی پروگرام کے 6 سے 11 مرحلے کو شروع کرے ،الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ،نگران حکومت پنجاب الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،

    الیکشن کمیشن کا شیڈول پروگرام بحال کردیا گیا الیکشن کمیشن کو الیکشن ٹریبونلز سے دوبارہ کاروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے 30 اپریل کو ہونے والے پنجاب میں انتخابات کا شیڈول بحال کردیا ،عدالت نے الیکشن کمیشن کا آٹھ اکتوبر کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔عدالت نے کہا کہ الیکش 90 روز سے آگے نہیں جا سکتے ،سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کروانے کا حکم دے دیا،عدالت نے وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک 20 ارب روپے فراہم کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کو 11 اپریل کو فنڈز کے حوالے سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پنجاب کی نگران حکومت، چیف سیکرٹری اور آئی جی 10 اپریل تک الیکشن کی سیکیورٹی کا مکمل پلان پیش کریں، نگران حکومت یا وفاقی حکومت معاونت نہ کرے تو الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کو آگاہ کرے گا۔ یہ فیصلہ صرف پنجاب اسمبلی کی حد تک ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومت مسلح افواج اور رینجرز سے ہر صورت اہلکار لے،2 ججز کی رائے 3 ججز کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوتی،فیصلہ سنانے کے بعد ججز عدالت سے اٹھ کر چلے گئے، عدالت نے کہا کہ ابھی شارٹ آرڈر جاری کررہے ہیں ، تفصیلی فیصلہ بعد میں آئے گا

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی کی حد تک معاملہ زیر سماعت رہے گا، کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے، کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

    عدالت کے فیصلہ سنانے سے قبل کورٹ روم نمبر 1 کھچا کھچ بھر گیا تھا، فیصلے سے قبل عدالت میں قرآن پاک کی آیات کی تلاوت کی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآنی آیات سے فیصلے کا آغاز کیا ،

    سپریم کورٹ میں الیکشن التوا کیس کا فیصلہ ،عدالت کے احاطےاندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے،
    پولیس کی نفری امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائے گی بڑے فیصلے کے تناظر میں شہر بھر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں،

    وزارت دفاع نے عدالتی حکم پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی وزارت دفاع نے تحریری رپورٹ سربمہر لفافے میں جمع کروائی ،گزشتہ روز عدالت نے پنجاب اور کے پی انتخابات پر وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کی تھی.

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا، پنجاب اور کے پی انتخابات کیس میں سپریم کورٹ میں چھ سماعتیں ہوئیں پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کےخلاف آئینی درخواستیں دائر کی تھیں

    وزیراعظم کے معاونین خصوصی ملک احمد خان اور عطاء تارڑ سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کے سامنے پی ڈی ایم کے حامی وکلاء کی بڑی تعداد جمع تھی،وکلاء نے پی ٹی آئی کے خلاف نعرے بازی کی،وکلاء نے ‘پی ٹی آئی ججز ونگ’ کے عنوان سے پوسٹرز اٹھا رکھے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، انہوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت بھی کی ہے، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف پوری قوم کی آواز ہے سارے حربے ناکام ہونے پر عمران خان نے اسمبلیاں توڑیں سیاسی عدم استحکام سے ملک معاشی بحران کا شکار ہوا انصاف ہوتا نظر آنا چاہئے فیصلہ ایسا ہونا چاہئے جس سے معاملات آگے کی جانب بڑھتے نظر آئیں دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے انتخابات ملک کو انارکی کی جانب دھکیلیں گےپورے ملک میں ایک ہی روز انتخابات ہونے چاہئیں فل بینچ کا مطالبہ ہر طرف سے آ رہا ہے جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے فوج کی بجائے طاقت کا منبع سیاسی ادارے ہیں سیاسی اداروں کو طاقت کا منبع بنانے کیلئے نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے عمران خان کی وجہ سے ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا عدالتی بحران کی بنیاد فتنہ خانہ نے ڈالی،ریفرنس دائر کرنا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، حالات پیدا ہوں گے تو ایمرجنسی کا آپشن موجود ہے، فل کورٹ کا مطالبہ صرف سیاسی نہیں ہر طرف سے یہی مطالبہ ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں سیاسی بحران کے خاتمے کا سبب ہونا چاہئیے ،

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت اور آئین کو ماننے والے ہیں،ہم نے آمریت کے خلاف جیلیں کاٹی ہیں، جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے،سب اداروں کو آئین میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ادارے اجتماعیت سے چلتے ہیں، کسی ایک شخص کے احکامات سے نہیں،اگر یہی بینچ فیصلہ دیتا ہے تو یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا

    رانا ثناء کے ہمراہ سپریم کورٹ آنے والا وکلاء اور کارکنوں کی سیکورٹی اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی ہے ،وکلاء اور دیگر افراد نے نوازشریف اور مریم نواز کے بینرز کے ہمراہ سپریم کورٹ کے اندر آنے کی کوشش کی،جن کو سیکورٹی اہلکاروں نے روک دیا

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک الیکشن نہیں ہوگا یہ جو غیر نمائندہ اسمبلی، غیر نمائندہ حکومت کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں ہونا بلکہ مسائل بڑھیں گے، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ پر حملہ آور تھا، بھائی تمہارا کام الیکشن کروانا ہے یا انصاف ہوتے ہوئے دیکھنا؟

    سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد کل فیصلہ محفوظ کیا تھا

    سپریم کورٹ میں وقفے سے قبل کی سماعت کے بارے میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،