Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • ضمنی الیکشن:پی ٹی آئی16سیٹوں پرکامیاب،ن لیگ کی 3نشستیں،جبکہ ایک آزادامیدوارکامیاب

    ضمنی الیکشن:پی ٹی آئی16سیٹوں پرکامیاب،ن لیگ کی 3نشستیں،جبکہ ایک آزادامیدوارکامیاب

    لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان کا بیانیہ جیت گیا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 20 میں سے 16سیٹوں پر پی ٹی آئی، 3 پر مسلم لیگ ن جبکہ ایک پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔ ایک پر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔

    ان 20 نشستوں میں لاہور کی 4، راولپنڈی کی ایک، خوشاب کی ایک، بھکر کی ایک، فیصل آباد کی ایک، جھنگ کی 2، شیخوپورہ کی ایک، ساہیوال میں ایک، ملتان میں ایک، لودھراں میں 2، بہاولنگر میں ایک، مظفر گڑھ میں 2، لیہ میں ایک اور ڈیرہ غازی خان کی ایک نشست شامل ہے۔

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج

    پی پی 7 راولپنڈی:

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کرنل (ر) شبیر اعوان 68902 ووٹ لیکر آگے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے راجہ صغیر احمد 68744 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

     

     

    2018ء کے عام انتخابات میں راجہ صغیر احمد نے بطورِ آزاد امیدوار فتح حاصل کی اور بعد میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے ن لیگ اور پی ٹی آئی کے راجہ محمد علی اور غلام مرتضیٰ ستی کو شکست دی تھی۔

    پی پی 83 خوشاب:

    پاکستان تحریک انصاف نے ضمنی الیکشن کے دوران پی پی 83 کی نشست بھی جیت لی۔

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 83 خوشاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار حسن اسلم نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 48475 ووٹ حاصل کیے۔

    آزاد امیدوار اسلم بھاء نے 41752 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

    2018ء کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار ملک غلام رسول سنگھا کامیاب ہوئے تھے اور پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، انہوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد آصف ملک، آزاد امیدوار ملک ظفر اللہ خان بگٹی اور تحریک انصاف کے گل اصغر خان کو زیر کیا تھا۔

    پی پی 90 بھکر:

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے عرفان اللہ نیازی 68982 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سعید اکبر نوانی 59856 لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار سعید اکبر خان نوانی نے فتح حاصل کی اور پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، انہوں نے ن لیگ کے عرفان اللہ خان نیازی اور پی ٹی آئی کے احسان اللہ کو شکست دی تھی۔

    پی پی 97 فیصل آباد:

    غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی افضل ساہی 44550 ووٹ لیکر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد اجمل چیمہ 37016 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018ء کے جنرل انتخابات میں انہی امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا، اجمل چیمہ نے بطورِ آزاد امیدوار فتح حاصل کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    پی پی 125 ، 127جھنگ:

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اعظم چیلہ نے 82382 ووٹ حاصل کیے اور فتح حاصل کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار فیصل حیات جبوانہ نے 52128 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی۔

    پی پی 127 میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار مہر نواز بھروانہ نے 69986 ووٹ حاصل کر کے فتح کو گلے لگایا جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار مہر اسلم بھروانہ نے 46825 ووٹ حاصل کیے۔

    2018ء کے جنرل انتخابات میں پی پی 125 سے آزاد امیدوار فیصل حیات جبوانہ نے فتح سمیٹی تھی اور میاں اعظم چیلہ کو شکست دی تھی جبکہ پی پی 127 سے بھی آزاد امیدوار مہر محمد اسلم بھروانہ نے مہر محمد نواز بھروانہ کو پچھاڑا تھا۔

    پی پی 140 شیخوپورہ:

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار خرم شہزاد ورک نے 49 ہزار 734 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں خالد محمود نے 32 ہزار 812 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میاں خالد محمود نے مسلم لیگ ن کے امیدوار یاسر اقبال کو شکست دی تھی۔

    پی پی 158لاہور

    پی پی 158 سے پاکستان تحریک انصاف کے اکرم عثمان نے 37463 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی، ن لیگ کے امیدوار رانا احسن شرافت 13906 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پی پی 167لاہور

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے پی پی 167 سے امیدوار چودھری شبیر گجر نے فتح حاصل کی، انہوں نے 40206 ووٹ حاصل کیے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نذیر چوہان 26535 ووٹ حاصل کر سکے۔

    پی پی 168لاہور

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 168 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک اسد کھوکھر 25685 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار 15 ہزار 81 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پی پی 170 لاہور

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر نے 23969 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد امین ذوالقرنین نے 14916 ووٹ حاصل کیے۔

    2018ء میں صوبائی دارالحکومت لاہور کے چار حلقوں میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا جوڑ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں سے پڑے گا۔ چاروں حلقوں میں پی ٹی آئی نے فتح حاصل کی تھی، تاہم حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی پاداش میں تمام امیدوار ڈی سیٹ ہو گئے ہیں۔

    پی پی 202 چیچہ وطنی

    پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میجر (ر) غلام سرور نے 61 ہزار 989 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار نعمان لنگڑیال نے 59167 ووٹ حاصل کیے۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک نعمان لنگڑیال نے ن لیگ کے شاہد منیر کو 13 ہزار کی ووٹوں سے شکست دی تھی۔

    پی پی 217 ملتان

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 122 پولنگ سٹیشنوں میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے امیدوار مخدوم زین قریشی نے 46427 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد سلمان نعیم 40285 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    واضح رہے کہ فاتح امیدوار زین قریشی سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے ہیں۔

    محمد سلمان نعیم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن تھے اور جہانگیر ترین گروپ کے حصے ہونے کے باعث وزارتِ اعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کے باعث ڈی سیٹ ہوئے تھے۔

    خیال رہے کہ 2018ء کے جنرل الیکشن میں بطورِ آزاد امیدوار محمد سلمان نعیم نے تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی اور جہانگیر ترین کے توسط سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن تھے تاہم ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے باعث یہ آزاد امیدوار میدان میں اُترے تھے۔

    پی پی 224، 228 لودھراں:

    پی پی 228 لودھراں میں آزاد امیدوار رفیع الدین بخاری نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 42719 ووٹ حاصل کیے۔ پی ٹی آئی کے کیپٹن (ر) عزت جاوید 34 ہزار 635 ووٹ لے کر دوسرے جبکہ مسلم لیگ ن کے نذٰیر احمد بلوچ 30 ہزار 841 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

    پی پی 224 لودھراں سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عامر اقبال شاہ 69265 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار زوار حسین وڑائچ 55748 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں دونوں حلقوں زوار حسین وڑائچ نے ن لیگ کے رہنما محمد عامر اقبال شاہ اور نذیر احمد خان نے مسلم لیگ ن کے سیّد محمد رفیع الدین بخاری کو پچھاڑا تھا، پی ٹی آئی کے دونوں فاتح امیدوار اب ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لے رہے ہیں۔

    پی پی 237 بہاولنگر:

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار فدا حسین وٹو نے 61248 ووٹ حاصل کیے اور کامیابی کو گلے لگایا، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سیّد آفتاب رضا نے 25227 ووٹ حاصل کیے۔۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار فدا حسین نے پاکستان تحریک انصاف کے محمد طارق عثمان کو شکست دی تھی، اور بعد میں جہانگیر ترین خان کے توسط سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔

    پی پی 272، 273 مظفر گڑھ:

    پی پی 272 میں پاکستان تحریک انصاف کے معظم جتوئی 49823 ووٹ لیکر فاتح ٹھہرے جبکہ زہرہ باسط بخاری 42995 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پی پی 273 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سبطین رضا 21795 ووٹ لیکر آگے تحریک انصاف کے یاسر عرفات جتوئی 21625 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018ء کے بائی الیکشن کے دوران زہرہ بتول نے کامیابی حاصل کی تھی، انہوں نے آزاد امیدوار سیّد ہارون احمد بخاری کو ہرایا تھا جبکہ پی پی 273 میں پاکستان تحریک انصاف کے سبطین رضا بخاری نے آزاد امیدوار رسول بخش کو پچھاڑا تھا۔

    پی پی 282 لیہ:

    پاکستان تحریک انصاف کے قیصر عباس مگسی 43922 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے جبکہ لالہ طاہر رندھاوا 29715 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018ء کے الیکشن میں آزاد امیدوار لالہ طاہر رندھاوا نے پی ٹی آئی کے قیصر عباس خان کو شکست دیکر فتح حاصل کی تھی۔

    پی پی 288 ڈی جی خان :

    ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) نے ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ کو پچھاڑ دیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سیف الدین کھوسہ نے 56 ہزار 857 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار عبد القادر کھوسہ نے 33 ہزار 254 ووٹ حاصل کیے۔

    2018ء کے جنرل الیکشن کے دوران اس حلقے میں محسن عطاء خان کھوسہ نے بطورِ آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی تھی اور پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

  • الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو نوٹس جاری کردیا

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو نوٹس جاری کردیا

    ملتان: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو نوٹس جاری کردیا،اطلاعات کے مطابق ملتان میں ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ہونے والی بدمزگی کے حوالے سے صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے ، اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی سے وضاحت طلب کرلی ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں شاہ محمود قریشی کونوٹس ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سلیم اختر خان نے جاری کیا.الیکشن کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کوڈ آف کنڈکٹ کے پوائنٹ 56 کی خلاف ورزی کررہے ہیں

    الیکشن کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ صرف امیدوار،ووٹرز اور پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز میں داخلے کی اجازت ہے، پولنگ اسٹیشنز کے اندر بلاجواز ،بغیر ثبوت الزام تراشی پر مبنی بیانات دیئے جارہے ہیں

    الیکشن کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کے پاس اگر ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو دئے جائیں،یاد رہے کہ شاہ محمود ملتان میں ایک نجی فیکٹری میں پہنچے جہاں ان کے مطابق بیلٹ پیپرز پر مہریں لگائی جارہی تھیں ، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اس صورت حال پرقابو پانے کےلیے اوراصل حقائق جاننے کے لیے شاہ محمود قریشی کو 24 گھنٹوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے

    ترجمان الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل جھوٹی خبریں پھیلانے کا ٹھیکہ لے چکے ہیں ۔

    میڈیا کے مطابق الیکشن کمیشن نے شہباز گل کے الزامات پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر ایسا نہیں کرتے ، راہ دکھاتے ہیں گمراہ نہیں کرتے ، حلقہ 272 مظفر گڑھ کے پولنگ ستیشن 46 پر پی ٹی آئی کے مرد اور پولنگ ایجنٹ موجود ہے ، ریٹرننگ آفیسر نے دونوں سے فون پر رابطہ کر کے کنفرم کیا ہے ، غلط خبریں نہ پھیلائیں ، عوام بھی افواہوں پر یقین نہ کریں ۔

     

    واضح رہے کہ اس سے قبل شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا تھاکہ پی پی 272 اور پی پی 273 میں ہمارے پولنگ ایجنٹ کو اندر نہیں جانے دیا گیا، پی تی ائی کے خلاف ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر فیصلے کئے جا رہے ہیں ۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئر مین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دھاندلی کا الزام لگا کر فیکٹری میں داخلے کی کوشش پر فیکٹری مینیجر نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کر دیا ہے ۔

    ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے الزام عائد کیا تھا کہ فیکٹر ی میں بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے جا رہے ہیں جس کی فیکٹری مینیجر نے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے مسلح افراد کے ساتھ دھاوا بولا اور گالیاں بھی دیں، وہ بڑی شخصیت ہیں انہیں یہ زیب نہیں دیتا، سابق وزیر خارجہ کیخلاف ایف آئی آر درج کرواؤں گا،ریٹرننگ آفیسر کو درخواست دے دی ہے ۔

    آج پنجاب کے مختلف حلقوں میں ضمنی انتخابات ہورہے ہیں اور یہ انتخابات بھی ایک اہم ایشو بن کررہ گئے ہیں ، کہیں لڑائی جھگڑے ہیں تو کہیں لوگوں کا اتفاق ہے ، جس طرح ساہیوال کے ایک گاوں والوں نے کیا ، اطلاعات ہیں کہ ساہیوال کے حلقے پی پی 202میں گاؤں والوں کی جانب سے خواتین کو ووٹ کاسٹ نہ کرانے کا فیصلہ سامنے آنے پر انتظامیہ حرکت میں آگئی ہے ۔

     

    ووٹ ڈالتے ہوئے گزشتہ دور میں تبدیلی کےنام پر برپا کی گئی تباہی کےبارے ضرور سوچئےگا،وزیر اعظم

    ذرائع کےمطابق ضمنی انتخاب کےلیے ساہیوال کے حلقے پی پی 202میں ایک گاؤں والوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خواتین کو ووٹ کاسٹ نہیں کرائیں گے جس کے بعد الیکشن کمیشن ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام گاؤں پہنچ چکے ہیں ،یہ فیصلہ کیوں کیا اس کے بارے میں فی الحال تفصیلات جاری نہیں کی گیں‌مگریہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ واقعہ ایک حقیقت ہے ، ادھر اس گاوں سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ رپورٹ کے مطابق آر پی او ساہیوال بھی گاوں 10612-ایل میں موجود ہیں ، الیکشن کمیشن کے حکام کی جانب سے مساجد میں اعلان کرائے جا رہے ہیں کہ خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے دیئے جائیں ،آر پی او ساہیوال بھی گاؤں والوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے دیا جائے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے رواج ہے کہ ہماری خواتین ووٹ کاسٹ نہیں کرتیں یہاں تک کہ ہمارے گاوں سے بھی کوئی شخص الیکشن میں حصہ لے لیکن ہماری خواتین ووٹ کاسٹ نہیں کرتیں، رپورٹ کے مطابق 2018کے الیکشن میں بھی انتظامیہ نے گاؤں والوں کو منانے کی کوشش کی تھی جس پر گاؤں کے مردوں نے بھی الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا اب بھی گاؤں والوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اگر زیادہ دباو ڈالا گیا تو ہم الیکشن کا ہی بائیکاٹ کر دیں گے ۔

    ووٹ ڈالتے ہوئے گزشتہ دور میں تبدیلی کےنام پر برپا کی گئی تباہی کےبارے ضرور سوچئےگا،وزیر اعظم

    ضمنی انتخابات:ووٹنگ کا ٹرن آوٹ فی الوقت 20 فیصد کے لگ بھگ ،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں جہاں ایک طرف ضمنی انتخابات ہورہےہیں ، سیاسی جماعتوں کی طرف سے بہت زیادہ مہم جوئی کے باجود ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ بہت کم دکھائی دے رہا ہے ، اس حوالے سے بعض ذرائع نے مختلف مقامات سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر جاری ٹرن آؤٹ 20 فیصد بتایا ہے،

    جنرل انتخابات کی نسبت اس مرتبہ بہت کم تعداد میں ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں‌ اور اس موقع پر امیدوار بھی خاصے پریشان نظر آئے اور انہوں نے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک لانے کے لئے ٹرانسپورٹ کےخصوصی انتظامات کررکھے تھے چھٹی کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد دیر سے اٹھتی ہے اور ناشنہ کرکےفار غ ہوتی ہے دوپہر کے بعد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کا خاصا رش نظر آیا جبکہ اس سے قبل پولنگ اسٹیشنزپراس قدر زیادہ رش نہیں تھا جس کی توقع کی جارہی تھی

    میر ے حکم پر کبھی کسی صحافی کو نہیں اٹھایا گیا،عمران خان کا دعویٰ

    پولنگ اسٹیشنز کے باہر امیدواروں کی جانب سے کیمپ بھی لگائے گئے جہاں پرامیدواروں کو ان کی پرچی کی فراہمی جاری کی جارہی تھی جبکہ ہر امیدوار کے کارکن اس موقع پر ووٹرز کو اپنے اپنے امیدواروں کو ووٹ ڈالنے کے لئے قابل کرنے کی کوششوں میں نظر آئے اس موقع پر کئی افراد کو اپنے ووٹ کی تلاش میں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے ،ووٹرز کی جانب سے یہ شکایت بھی سامنے آرہیں ہیں کہ چند دن پہلے ان کے ووٹ ان کے حلقے میں تھے مگراب ان کے ووٹ دیگرحلقوں میں ٹرانسفر کردیئے گئے ہیں

  • پنجاب ضمنی انتخابات:لاہوراور فیصل آباد پولنگ اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی

    پنجاب ضمنی انتخابات:لاہوراور فیصل آباد پولنگ اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی

    لاہور: گرین ٹاؤن لاہور پولیس نے گجرات شناختی کارڈ کے ساتھ پولنگ سٹیشنوں کی طرف آنے والے 13 افراد کو گرفتار کر لیا ہے-

    باغی ٹی وی : پولیس کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ قربان لائن سکول کے باہر سے پی ٹی آئی کارکن کو حراست میں لے لیا تحریک انصاف کا ورکر امن امان کی صورتحال کو خراب کر رہا تھا تحریک انصان نے الزام عائد کیا ہے کہ ہمارے ورکر کو علیم خان کی ایما پر گرفتار کیا گیا ہے-

    دوسری جانب پی پی 168، پی ٹی آئی اور لیگی کارکنوں میں ہنگامہ،پولنگ کا عمل رک گیا لاہور،پولیس نےپی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنوں کے درمیان ہنگامہ آرائی بند کروادی ،دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو اپنے اپنے کیمپوں میں بھیج دیاگیا-

    پولنگ اسٹیشن50،51،53،59اور60 پر پولیس نفری طلب کر لی گئی ایمرجنسی صورتحال میں تعیناتی کیلئے دوسرے اضلاع سے بھی نفری بلائی جاسکتی ہے ولیس فورس کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ پی پی 7،رینجرز کے دستے کلر سیداں کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر پہنچ گئے-


    ذرائع کے مطابق پولیس اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق پنجاب بھر میں انتخابی عمل پرامن طور پر جاری ہے لاہور میں ٹرن آؤٹ 7 سے 8 % ہے۔ پنجاب کے دیگر حلقوں میں بھی اب تک ٹرن آؤٹ کم ہے-


    سوشل میڈیا صارف کے مطابق گرین ٹاؤن لاہور پولیس نے گجرات شناختی کارڈ کے ساتھ پولنگ سٹیشنوں کی طرف آنے والے 13 افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جارہی ہے۔ لاہور پولیس اپنا کام بھرپور طریقے سے کر رہی ہے لاہور پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے رینجرز کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کیا ہے۔ قبل از وقت گشت کا اچھا اثر ہو رہا ہے۔


    پی پی 170 رکھ چندرائے میں پولنگ کا عمل روک دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری امین اور پی ٹی آئی کے ظہیر عباس موقع پر موجود ہیں۔


    ٹرن آؤٹ اب بڑھ رہا ہے زیادہ تر پولنگ سٹیشنوں پر تقریباً 20 فیصد ٹرن آوٹ ہوا۔

    دوسری جانب فیصل آباد ، پی پی 97 ، پولنگ اسٹیشن 72چک 106میں ہنگامہ آرائی ،جھگڑا پولنگ ایجنٹ کے منع کرنے پر ہوا پولیس اہلکاروں اور پولنگ ایجنٹس کی باہر جانے پر تکرار ہوئی

    ڈیرہ غازی خان،خواتین کی بڑی تعداد پولنگ میں حصہ لے رہی ہیں بارش کے باعث پولنگ کا عمل سست روی کا شکار ہے ڈیرہ غازی خان اور گردونواح میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے-

    پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ 2 حلقوں میں پولنگ تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے 52 ہزار سے زائد اہلکار و افسران ڈیوٹی پر مامور ہیں۔

    لاہور کے حلقے پی پی 167 میں پولنگ کے عمل میں تاخیر ہوئی ہے حلقہ پی پی 167 میں پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز پہنچ گئے مگر پولنگ کا عمل وقت پر شروع نہ ہو سکا مذکورہ حلقے میں پولنگ کے عملے کے نہ پہنچنے کی وجہ سے پولنگ بروقت شروع نہیں کروائی جا سکی۔

    الیکشن کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ پولنگ ایجنٹ کو فارم46 کی کاپی بھی حاصل کر کے اس کی وصولی کی رسید دینی چاہیے،پولنگ ایجنٹ کو پریذائیڈنگ افسر سے لازمی فارم 45 حاصل کرنی چاہیے، پولنگ ایجنٹ کے پاس اختیار نامہ اور اصل قومی شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے-

    ادھر راولپنڈی کے حلقے پی پی 7 کلر سیداں میں وقت پر پولنگ کا آغاز نہ ہو سکاکلر سیداں شہر کے مذکورہ حلقے میں ووٹرز پہنچنا شروع ہو گئے، پولنگ آفیسرز بھی موجود تھے تاہم پولنگ ایجنٹ کے نہ پہنچنے کے سبب پولنگ میں تاخیر ہوئی۔

    صبح 8 بجے شروع ہونے والا ووٹنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا 175 امیدواروں میں مقابلہ ہورہا ہے،مسلم لیگ ن کو حمزہ شہباز کی وزارتِ اعلیٰ برقرار رکھنے کے لیے مزید 9 نشستوں کی ضرورت ہے، جبکہ پی ٹی آئی مزید 13 نشستوں کی خواہش مند ہے۔

    جلیل شرقپوری نے اسمبلی سے استعفی دے دیا

    20 حلقوں میں 45 لاکھ سے زائد ووٹرز کے لیے 3131 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جس میں سے 676 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 1194 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے، انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    صوبائی اسمبلی کے 20 حلقوں میں 175 امیدوار میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان ہے پنجاب اسمبلی کے لیے راولپنڈی کے حلقے پی پی 7، خوشاب میں پی پی 83، پی پی 90 بھکر 2، پی پی 97 فیصل آباد 1، پی پی 125 جھنگ، پی پی 127 جھنگ 4 ، پی پی 140 شیخوپورہ کی نشست پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    اس کے علاوہ لاہور کے حلقوں پی پی 158، پی پی 167، پی پی 168 اور پی پی 170 پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 202 ساہیوال، پی پی 217 ملتان، پی پی 224 لودھراں ون اور پی پی 228 لودھراں 5، پی پی 237 بہاولنگر، پی پی 272 مظفر گڑھ 5، پی پی 273 مظفر گڑھ 6، پی پی 282 لیہ اور پی پی 288 ڈیرہ غازی خان میں بھی ضمنی انتخاب کا میدان سج گیا ہے۔

    پی پی 158 میں ن لیگ کے رانا احسن شرافت اور پی ٹی آئی کے اکرم عثمان درمیان مقابلہ ہے، پی پی 167 میں ن لیگ کے نذیر چوہان پی ٹی آئی کے شبیر گجر کے مدِ مقابل ہیں، پی پی 168 میں ن لیگ کے اسد کھوکھر کا پی ٹی آئی کے نواز اعوان سے ٹاکرا ہے، پی پی 170 میں ن لیگ کے امین ذوالقرنین پی ٹی آئی کے ظہیر کھوکھر سے مقابلہ ہے۔

    پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات: آج کانٹے دار مقابلے ہوں گے

    ملتان میں پی ٹی آئی کے زین قریشی اور مسلم لیگ ن کے سلمان نعیم آمنے سامنے ہیں، پیپلز پارٹی نے بھی اپنا پورا وزن مسلم لیگ ن کے پلڑے میں ڈال دیا، کہوٹہ، بھکر، خوشاب، مظفر گڑھ، ڈیرا غازی خان اور ساہیوال میں بھی ٹکر کے مقابلے متوقع ہیں۔

    الیکشن کے دوران امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ رینجرز اور ایف سی کو بھی تعینات کیا گیا ہے جبکہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے دستے کوئیک ری ایکشن فورس کی حیثیت سے ڈیوٹی دیں گے۔

    وزارت داخلہ میں بھی ضمنی الیکشن کے لیے امن و امان مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہے، مانیٹرنگ سیل ناخوشگوار واقعے پر فوری ریسپانس کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پولنگ اسٹیشنز میں اے کیٹیگری کے 676، بی کیٹیگری کے ایک ہزار 197 اور سی کیٹیگری کے ایک ہزار 258 اسٹیشنز شامل ہیں اور سیاسی جماعتوں کے ایک ہزار سے زائد کارکن و امیدواران سے شورٹی بانڈز لیے گئے ہیں۔

    خواتین کے پولنگ بوتھوں پر لیڈی پولیس اہلکار تعینات ہیں جبکہ حساس اضلاع میں اینٹی رائٹ اور ریزور فورس کے اضافی دستے اسٹینڈ بائی ہیں۔ پر امن انتخابات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مکمل شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو ہر ممکن سپورٹ فراہم کی جائے گی جبکہ اسلحے کی نمائش، ہوائی فائرنگ، لڑائی جھگڑے اور مخالفین کے کیمپ اکھاڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    لاؤڈ اسپیکر ایکٹ سمیت ہر قسم کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرینس ہو گا اور نقص امن کا باعث بننے والے عناصر قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور مانیٹرنگ آفیسرز پرتشدد واقعات کا نوٹس لیں، قانون کے تحت فوری بلا امتیاز سخت کارروائی ہوگی، قانون کی خلاف ورزی اور پر تشدد واقعات کی بالکل اجازت نہیں ہوگی،اپنا ووٹ اپنی پسند کے امیدواروں کے حق میں ضرور استعمال کریں-

    چیف ایکشن کمشنر نے کہا کہ جہاں پر ضروری ہو وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کریں،کہیں الیکشن کمیشن مجاز اتھارٹی ہے تو کیس کو فوری طور پر الیکشن کمیشن بھجوایا جائے-

    لودھراں میں پی پی 228 میں آزاد امیدوار پیر رفیع الدین شاہ نے ووٹ کاسٹ کردیا،پیر رفیع الدین شاہ نے مہر آباد میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا-

    ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر لاہور نذر عباس نے کہا کہ ایف سی کے 3 سو جوان لاہور پولیس کے ڈسپوزل پر ہیں، ووٹرز بلا خوف اور بلا تعطل اپنا حق رائے دہی استعمال کریں،کسی قسم کا اسلحہ اور موبائل فون پولنگ اسٹیشنز کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں-

    پی پی83،ڈی پی او خوشاب اسد اعجاز ملہی نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا ،،ڈی پی او ڈاکٹراسداعجازملہی نے سیکیورٹی امور کا جائزہ لیا، 3ہزار سے زائد پولیس افسر اور جوان ڈیوٹی پر مامور ہیں جبکہ راولپنڈی،حلقہ پی پی 7 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 77 پر میڈیا کو کوریج سے روک دیا گیا ہے-

  • آپ لوگ کوئی غیر آئینی کام نہ کریں کیونکہ قانون اپنا راستہ لے گا:مریم اورنگزیب

    آپ لوگ کوئی غیر آئینی کام نہ کریں کیونکہ قانون اپنا راستہ لے گا:مریم اورنگزیب

    اسلام آباد:آپ لوگ کوئی غیر آئینی کام نہ کریں کیونکہ قانون اپنا راستہ لے گا ، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان افواج پاکستان کوکہہ رہے ہیں کہ الیکشن میں مداخلت کریں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کو معلوم ہے کہ وہ ناکام ہوچکے ہیں، انہوں نے چار سال میں ہر طرف تباہی مچائی، انہوں نے عوام کو تکلیف پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی، پاکستان کے عوام ووٹ کا استعمال عمران خان 4 سال کی کارکردگی دیکھ کر کریں گے۔

    ہفتے کے روز سیمینار سے عمران خان کے خطاب پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ اپنی تقریر میں جھوٹ پہ جھوٹ بول رہے تھے، عمران خان کے دور میں میڈیا پر سب سے زیادہ سینسرشپ تھی، ان کے دور میں صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی تھیں، جو اینکر پسند نہیں آتے تھے ان کے پروگرامز بند کر دیئے جاتے تھے۔

    الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان حکومت میں آئے تو سب سے پہلے اپنے مخالفین کو گرفتار کروایا، سیاسی مخالفین کو چار سال سزائے موت کی چکیوں میں رکھا، اپنی ہی حکومت کے اسکینڈلز سامنے آنے پر لوگوں کو بیوقوف بنانے کیلئے استعفے لیے جاتے تھے۔

    عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے تمہیں آئین شکن قراردیا ہے، تم پہلے شخص ہو جسے آئین شکن کا سرٹیفکیٹ ملا، آئین شکن نے صدر، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سے آئین شکنی کروائی، تم نے چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا اور نیب کے ادارے کو مفلوج کیا۔

    ضمنی الیکشن، ن لیگی امیدوار نذیر چوہان کی پیسے دینے کی ویڈیو آ گئی

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان افواج پاکستان کوکہہ رہے ہیں کہ الیکشن میں مداخلت کریں، وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں، فساد اور غنڈا گردی کے لئے خیبر پختونخوا سے لوگ بھیجے گئے، غنڈوں کے ذریعے فساد کی کوشش کی تو ذمہ دارعمران خان ہوں گے۔

    پنجاب کے ضمنی انتخابات میں فوج کی تعیناتی ضروری ہے،چیف الیکشن کمشنر

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلی بار صاف اور شفاف الیکشن ہورہا ہے، اب پنجاب میں بزدار اور فرح نہیں کہ بیلٹ بکس اٹھوالیے جائیں گے، کسی نے الیکشن کو فساد کی طرف دھکیلا تو قانون اپنا راستہ لے گا۔

  • خدشہ تھا کہ اسلحہ سے لیس جتھے پختونخوا سے پنجاب آئیں گے،عطا تارڑ

    خدشہ تھا کہ اسلحہ سے لیس جتھے پختونخوا سے پنجاب آئیں گے،عطا تارڑ

    خدشہ تھا کہ اسلحہ سے لیس جتھے پختونخوا سے پنجاب آئیں گے،عطا تارڑ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر پر پنجاب میں داخلے پر پابندی قانونی طور پر لگائی گئی

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پابندی کے باوجود مقبول گجر کی پنجاب داخلے کی کوشش ان کے مذموم مقاصد ظاہر کرتا ہے، مقبول گجر کے پنجاب میں داخلے کے پلان سے ان کے خطرناک ارادے ظاہر ہوگئے ،خدشہ تھا کہ اسلحہ سے لیس جتھے پختونخوا اور آزاد کشمیر سے پنجاب آئیں گے ،ان کا ارادہ تھا کہ ضمنی الیکشن کے دوران امن و امان کی صورتحال خراب کریں ،ضمنی الیکشن کے دوران کسی کو بدامنی پھیلانے کی ہر گز اجازت نہیں اسلحہ سے لیس جتھوں کو کسی صورت پنجاب میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا

    صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ اسلحہ سے لیس لوگوں کے خلاف پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر کارروائی کی جائے گی ،اسلحہ کی نمائش کی گئی یا اسلحہ برآمد ہوا تو قانون حرکت میں آئے گا ، اسلحہ بردار لوگوں کو فورا گرفتار کیا جائے گا الیکشن کے دوران امن و امان قائم کرنا پنجاب حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اسلحہ بردار لوگوں کو فوری گرفتار کیا جائے گا ،ان کا ارادہ تھا کہ ضمنی الیکشن کے دوران امن و امان کی صورتحال خراب کریں

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    بزدار کی رہائشگاہ پر اینٹی کرپشن کے چھاپے

    عثمان بزدار کاجنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ گیا

    قبل ازیں پنجاب حکومت نے تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پوراورمقبول گجر کے پنجاب میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے  پنجاب میں داخلے سے پابندی بارے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے مذکورہ رہنماوں کو رواں مال 15 جولائی سے 18 جولائی تک پنجاب میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ضمنی الیکشن میں حکومتی مداخلت کو روکا جائے،علی امین گنڈاپور کے پنجاب داخلے پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،اقدام سے وفاق کے اتحاد اور یگانگت کو بھی نقصان پہنچے گا، علی نے تمام زندگی لاہور میں گزاری ان پر پابندی ماحول خراب کرنے کی کوشش ہے،یہ لوگ انتظامی مداخلت کر کے انتخابات کا ماحول خراب کر رہے ہیں،

  • الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    لاہور:جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں تلخیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور مخالفین نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کا بازار بھی گرم کررکھا ہے ، اس حوالے سے کچھ زیادہ تلخی اس وقت سامنے آئی جب پنجاب کے وزیرداخلہ عطااللہ تارڈ نے یہ خبر وائرل کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں کے پنجاب داخلے پرپابندی لگا دی ہے ،

    عطااللہ تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے پنجاب میں داخلےپرپابندی عائد کیےجانےپر قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئےکہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا۔

    اس حوالے سے اپنا ردعمل دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے پہلےجعلی ایف آئی آرز کاٹیں ان لوگوں نے پھر ہمارےکارکنوں کو بےبنیاد گرفتار کیا ان لوگوں کو اپنی شکست نظرآرہی ہے اس لیےایسی حرکتیں کررہےہیں۔

    پنجاب حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا الیکشن کمیشن کیسےکہہ سکتا ہےکہ میں پنجاب میں کچھ کرنے لگا تھا پنجاب حکومت کیسےکہہ سکتی ہےکہ میں پنجاب میں کچھ کروں گا۔

    پنجاب میں داخلے پر پابندی کے خلاف اپنا نقطہ اعتراض دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پاکستان کاشہری ہوں مجھےپنجاب میں جانےسےکیسے روکا جاسکتا ہے سابق وفاقی وزیر ہوں میرے کو پنجاب جانے سے کیسے روکا جا سکتاہے یہ لوگ سری لنکاجیسےحالات پاکستان میں چاہتےہیں۔

    علی امین گنڈا پور نے پنجاب میں کشمیری رہنما کے داخلے پرپابندی پر بھی سخت ردعمل دیا ،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مقبول گجر کشمیری ہیں ان پر کیسے پنجاب میں جانےپرپابندی لگائی گئی؟ مقبول گجر جیسے کشمیری پر پابندی لگا کر کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے صوبائی حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا ،، وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ نے کہا ہے کہ امن وامان کو یقینی بنانےکیلئے علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر پر پنجاب میں پابندی لگا دی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ضمنی الیکشن کےدوران سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرداخلہ پنجاب عطاتارڑ نے کی۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنےکی اجازت نہیں ہوگی اسلحےسےپاک مہم میں پولیس نےبھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا۔

    عطاتارڑ نے کہا کہ دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کودھمکیاں دینے پر آگئے ہیں تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کرلوگوں کوبدامنی پراکسارہی ہے امن وامان کویقینی بنانےکیلئے مقبول گجر بھی پابندی لگائی گئی ہے اطلاعات تھیں علی گنڈاپور، مقبول گجر پرُتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔4 روزہ پابندی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے نوٹیفکیشن جاری کیا

  • 17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی پی 168دائم مارکی آشیانہ روڈ پر جلسے سے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ جذبہ اور جنوں دونوں پی پی 168 میں نظرآرہی ہے۔ نواز اعوان اور ان کی ٹیم کو مبارک دیتا ہوں۔ آخری سروے کے مطابق آپ اس حلقے میں لوٹوں سے آگے نکل گئے ہیں ۔ پہلے 130 روپے ڈیزل بڑھایا پھر 35 روپے کم کی۔ بڑی دھاندلی کی کوشش کی جا رہی ہے

    الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ میں کہا 40 لاکھ لوگ مردہ ہو گئے۔ انہی اسی بار پر استعفی دے دینا چاہیے
    نوجوان ایک ایک پولنگ سٹیشن کا پہرہ دیں گے۔شرم کی بات ہے اس ملک میں الیکشن ایمانداری سے نہیں کروا سکتے۔ سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کا بیٹا رشوت دیتا پکڑا گیا مگر کچھ نہیں کیا گیا۔22کروڑ کی قوم ہے با شعور قوم ہے۔ گھر گھر جا کر اس کو 17 تاریخ کو شکت دیں گے اور حمزہ کو گھر بھیجیں گے۔ کرپشن سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کرپشن کی وجہ سے سری لنکا کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔حمزہ نے کہا چوری ہوتی ہے تو ہونے دو۔ چوری اور کرپشن میں پھر کیا فرق ہے۔ مریم نے کہا میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ۔اس نے جب یہ کہا تو اسے نہیں پتا تھا کہ سچ سامنے أ جائے گا۔جب پاناما کا انکشاف ہوا تو پتا چلا کہ مریم کے بھائی نے اسے مان لیا۔ سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز آپ دونوں میری نظر پر ہو ۔آپ نے بہت ظلم کیا آپ کو ہم کٹگہرے میں لائیں گے۔ جذبہ اور جنون دونوں مجھے پی ہی 168 میں نظر آرہا ہے۔ تازہ سروے کے مطابق نواز اعوان کی جیت ہو گی۔

    چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہونا چاہیے۔الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا ہے کہ 40 لاکھ ووٹرز کو ماردیا ہے۔ہم 22 کروڑ کی قوم ہیں بھیڑ بکریاں نہیں۔ وزیر اعظم کا بیٹا مفرور۔وزیراعلی انڈر ٹرائیل 4 گواہ مرچکے ہیں.حمزہ شہباز پر 16 ارب روپے کی کرپشن میں ملوث ہے۔ مریم نواز سزایافتہ ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو کہا کہ جلدی پولنگ اسٹیشن پہنچنا ہے ۔پرسوں کا الیکشن نہیں جہاد ہے۔

    نواز اعوان نے پی پی 168 کا خوف توڑا ہے۔ دھاندلی کے باوجود ن لیگ کو شکست دیں گے۔ لاہور کے سی سی پی او اور آئی جی تم دونوں میری نظر میں ہو۔ 17 جولائی کو فتح کا جشن منائیں گے۔ حمزہ شہباز جائے گا تو ہم 17 جولائی کے بعد قانون کے کٹہرے میں لائیں گے.

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے جلسے سے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ مریم نواز کا پورا خاندان چور ہے۔ لوٹے منہ کے بل گریں گے ۔نوجوان عمران خان کے ساتھ ہیں۔ قوم کو امریکا کی غلامی قبول نیہں۔ عوام لوٹوں کو مسترد کریں گے۔ امریکہ نواز حکمران عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہے۔ن لیگ سب کو ساتھ ملا لے پھر بھی عوام ان کو شکست دیں گے۔ ضمنی انتخابات میں پی ٹی ائی کامیاب ہوگی۔

    آشیانہ روڈ پر منعقدہ جلسے سے عندلیب عباس نے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ 17 جولائی کو عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے لوٹوں کو پھینٹا لگائیں گے۔ تمام سروے میں پی ٹی آئی سب سے آگے ہے پی ٹی آئی کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی ہے۔ پی ٹی آئی جہاد کر رہی ہے ۔ الیکشن ڈے پر پی ٹی آئی کے کارکنان چوکنا رہیں گے۔

  • ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا آج آخری دن،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا آج آخری دن،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے آج انتخابی مہم کا آخری دن ہے، رات 12 بجے کے بعد انتخابی مہم پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام جماعتیں اور امیدوار آج رات انتخابی مہم ختم کردیں، رات 12 بجے کے بعد جلسہ جلوس کارنر میٹنگز پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔پنجاب اسمبلی ضمنی انتخابات کے سلسلے میں جاری انتخابی مہم آج رات 12 بجے ختم ہو جائے گی۔

    عمران خان سیاسی وفاداریاں بدلنے والے کیساتھ کھڑے کر لوٹوں کو ووٹ نہ دینے کا کہتے رہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا۔ پی پی 7راولپنڈی، پی پی83 خوشاب،پی پی90 بھکر ، فیصل آباد کے حلقہ پی پی 97 ، جھنگ میں حلقہ پی پی125 ،127 اور شیخوپورہ میں پی پی 140 پر ضمنی انتخاب ہوگا۔اس کے علاوہ لاہور کی نشست پی پی 158، 167، 168 اور پی پی 170 پر ضمنی انتخاب ہوگا جبکہ ساہیوال میں پی پی202 ، پی پی217 ملتان، لودھراں کے حلقہ پی پی 224 اور 228 پر ضمنی الیکشن ہوگا۔بہاولنگر میں پی پی 237 اور مظفر گڑھ کے 3 حلقوں پی پی 237، 272، 273 پرضمنی انتخاب ہوگا۔ لیہ کے حلقہ پی پی 282 اور ڈیرہ غازی میں پی پی 288 پر بھی ضمنی انتخاب کا میدان سجے گا۔

     

    آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،مریم نواز

     

    پنجاب میں 20 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کے لیے امیدواروں کی جانب سے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے مہم کا آج آخری دن ہے جس کے لیے امیدوار ووٹروں کو منانے کے لیے آخری جتن کر رہے ہیں اور وعدے قسموں کا کھلا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ضمنی انتخابات کے دوران ماحول سازگار رکھنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور متعلقہ اداروں کو ضمنی انتخابات کے دوران پر امن ماحول کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران اسلحہ بردار اکٹھے کرنے والے امیدوار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےگی۔ پولنگ کے دوران شر پسند عناصر سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کرنےکی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کی زیر صدارت امن و امان اور ضمنی الیکشن کے دوران سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منوقد ہوا. ئی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور اس کی نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے،الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ ہوگیی،اسلحہ سے پاک کمپین کے دوران پولیس نے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ،دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں، تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کر لوگوں کو بدامنی پر اکسا رہی ہے ،امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر کے پنجاب داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔پنجاب حکومت کی اطلاعات تھیں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی خط موصول ہوا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر پنجاب میں پرتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں،پنجاب میں پرامن ،صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا.اسلحہ کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائے گا ، بد امنی پھیلانے والے عناصر سے قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا ۔ تحریک انصاف کے مسلح جتھے اپنی سازش میں ناکام ہوں گے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 حلقوں کے لیے 47 لاکھ 30 ہزار 600 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 53 ہزار657 اضافی بیلٹ پیپرز بھی چھاپے گئےہیں۔

    ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز اور فارمز کی ریٹرننگ افسران کو ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آر اوز کے مجاز نمائندوں کو بیلٹ پیپرز وصولی کے لیے طلب کیا ہوا ہے، تمام بیلٹ پیپرز کی چھپائی اسلام آباد میں ہوئی، تمام بیلٹ پیپرز سخت سکیورٹی میں متعلقہ حلقوں میں پہنچائے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے لاہور کے 4 حلقوں سمیت بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ تمام حلقے انتہائی حساس ہیں اس لئے سکیورٹی میں رینجرز کو ڈالا گیا ہے، پاک فوج کو 4 حساس حلقوں میں تعینات کرنے کی درخواست دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملتان، بھکر اور لاہور کے حلقے انتہائی حساس ہیں، تمام انتخابی حلقوں میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات ہو گی۔

    دوسری جانب رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب کے محاذ پر پی پی 158 کا حلقہ سیاسی طورپر انتہائی متحرک نظر آرہا ہے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ امیدواروں کا اپنا اثرو رسوخ اہم کردار ادا کرے گا۔

    پی پی 158 واحد حلقہ ہے جہاں ڈی سیٹ ہونے والے سابق صوبائی وزیر علیم خان مقابلے میں نہیں، تحریک انصاف نے میاں اکرم عثمان اور مسلم لیگ ن نے رانا احسن شرافت کو انتخابی اکھاڑے میں اتار دیا.پی پی 158 کے حلقے میں ٹوٹل آباد ی تین لاکھ 64 ہزار 205 ہے، کل ووٹر ایک لاکھ 95 ہزار 777 ہیں، مرد ووٹرز ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انہتر جبکہ خواتین ووٹرز نوے ہزار پانچ سو آٹھ ہیں، پی پی 158 میں گلبر گ ، گلدشت کالونی، اپرمال، شاد مان ،شاہ جمال، دھر م پورہ ،گڑھی شاہو اورصدر کے علاقے شامل ہیں،اس حلقہ کے عوام مسائل بارے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے سلسلے میں اس حلقے میں پارٹی چیئرمین عمران خان بھی ایک ورکر کنونشن سے خطاب کرچکےہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدار رانا احسن شرافت کی مہم میں لیگی رہنما بھی پیش پیش ہیں۔ سابق صوبائی وزیرعلیم خان ڈی سیٹ ہونے کے بعد الیکشن تو نہیں لڑ رہے لیکن رانا احسن کے ساتھ مکمل تعاون ضرور کر رہے ہیں۔لاہور ہی کے حلقہ پی پی 167 میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے.

    پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے وقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کو جھنگ میں بڑا دھچکا لگ گیا، مخدوم فیصل صالح حیات نے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے جھنگ آمد پر پی پی 125 فیصل حیات جبوانہ اور پی پی 127 مہر اسلم بھروانہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور الیکشن مہم میں بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم بھی کیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد 20 حلقہ میں ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا جب کہ 5 مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہے۔

    زرائع کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات سے قبل 17 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر سیاسی جماعتوں میں ایک ایسا سیاسی معرکہ ہونے جا رہا ہے جو کہ ناصرف پنجاب میں سیاسی بحران کو ختم کرے گا بلکہ اگلے وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی انہی سیٹوں پر منحصر ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی جو کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، مگر گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ کو اصل ضرب اسی ضلع سے پڑی تھی اور مسلم لیگ ن کو اپنے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی شکست سمیت بڑے بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مرتبہ راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 سے چھ امیدواران انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں۔ حلقہ پی پی 7 میں کل 3 لاکھ 35 ہزار 295 ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 71 ہزار 464 مرد ووٹرز جبکہ ایک لاکھ 63 ہزار 831 خواتین ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حلقہ پی پی 7 راولپنڈی کے اہم علاقوں کہوٹہ،کلرسیداں، مٹور ، نرڑ، بیور، نارہ، کلر سیداں شہر، چوآخالصہ اور دوبیرن کلاں پر مشتمل ہے۔ پی پی 7 میں دو بڑی برادریوں راجپوت اور اعوان کا اثر رسوخ ہے

    اس حلقے میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 57آتا ہے جس میں صداقت علی عباسی ایم این اے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کا تعلق بھی اسی حلقے سے ہے اور وہ کھل کر راجہ صغیر کی حمایت اور مہم چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ا لیکشن میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کاررکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہار گئی تھیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں کل 266 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 36 مردوں، 35 خواتین اور195 مشترکہ پولنگ اسٹیشن ہیں، جبکہ قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی تعداد 789 ہے ، جن میں سے 396 مردوں اور 393 خواتین کے لیے مختص ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن نے راجہ صغیر احمد کو انتخابی میدان میں اتارا ہے، جو دوسری مرتبہ انتخابی عمل میں قسمت آزمانے جارہے ہیں۔ راجہ صغیر احمد نے 2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی، ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے تجربہ کار سیاست دان کرنل (ر) محمد شبیر اعوان پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    دیگر جماعتوں کی بات کی جائے تو جماعت اسلامی پاکستان نے تنویر احمد جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے منصور ظہور کو ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک لبیک کے امیدوار کو تحصیل کلرسیداں اور کہوٹہ میں کافی پزیرائی مل رہی ہے۔ اس حلقے میں لوگ ووٹ برادری اور شخصیت کو دیکھ کر ڈالتے ہیں۔

    پی پی 7 میں تحریک لبیک پاکستان جو کہ اپنی انتخابی مہم بھی زور و شور سے چلا رہی ہے اس حلقے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے امیدوار منصور ظہور نے 2018 کے عام انتخابات میں 15 ہزار 68 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پی پی 7 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    کل مسالک کے علماء بورڈ کے مرکزی قائدین نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

    پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکرٹری حماد اظہر نے سیکرٹری اطلاعات سینٹرل پنجاب عندلیب عباس اور کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا مخدوم عاصم محمود کے ہمراہ پارٹی دفتر جیل روڈ میں پریس کانفرنس کرتے ھوئےکہاکہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں علما کرام کا جنہوں نے ہماری حمایت کا علان کیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ صوبائی مشینری استعمال کر کے الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے، حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر آئینی وزیراعلیٰ ہیں ،ہمارے امیدواروں کو نامعلوم نمبرز سے فون کالز آرہی ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر قانونی وزیر اعلیٰ ہے لیکن ہم نے ضمنی الیکشن کے نتائج آنے تک انہیں وزیراعلیٰ مان لیا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا حمزہ شہباز نے کسی طور پر انتظامی طور پر اثر انداز نہیں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی حیثیت نگراں وزیراعلیٰ سے زیادہ نہیں ہے جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے پٹواریوں کے پاس کالیں جا رہی ہیں، ڈی پی او جھنگ کے خلاف پہلے ہی تحریک جمع تھی کیونکہ ضمنی الیکشن شیڈول کے بعد انہیں خلاف قانون ڈی پی او جھنگ لگا دیا گیا۔

    اسد عمر نے کہا کہ پولیس ہمارے لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ رہی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر، ڈی سی او لیہ اور ایس ایچ او چیچہ وطنی کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں، یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں وہ قانون اور الیکشن قواعد کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، غیر قانونی کام کرنے والے افسروں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

  • چودھری پرویزالٰہی سے اسد عمر کی ملاقات،ضمنی انتخابات میں حکومت کی مداخلت پر تشویش

    چودھری پرویزالٰہی سے اسد عمر کی ملاقات،ضمنی انتخابات میں حکومت کی مداخلت پر تشویش

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی، ارکان قومی اسمبلی مونس الٰہی اور حسین الٰہی سے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے وفد کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وفد میں سابق وفاقی وزیر ریاض فتیانہ، اپوزیشن لیڈر محمد سبطین خان، سابق صوبائی وزیر محمود الرشید اور محمد علی اکبر خان شامل تھے۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت پنجاب کے ضمنی اور وزیر اعلیٰ کے الیکشن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پنجاب میں ضمنی انتخابات میں حکومت پنجاب کی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    سپریم کورٹ میں منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ کے سامنے کیا عہد توڑ دیا، سپریم کورٹ پنجاب حکومت کی ضمنی انتخابات میں مداخلت کا نوٹس لے اور حمزہ شہباز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شکست کو دیکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے سرکاری وسائل کا رخ ضمنی حلقوں کی طرف کر دیا ہے، حمزہ شہباز کے حکم پر ترقیاتی ادارے اور پولیس انتخابی عمل میں بدترین مداخلت کر رہی ہے، حمزہ شہباز کو مرکز سے سپورٹ کی جا رہی ہے، باپ بیٹا مل کر پنجاب پر غیر قانونی قبضہ کرنا چاہتے ہیں.

     

    یہ جتنی بھی کوشش کر لیں الیکشن نہیں جیت سکتے،عمران خان

     

    انہون نے کہا کہ ترقیاتی کام اور سرکاری وسائل کا ضمنی انتخاب کے حلقوں میں استعمال ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر کے حکومت پنجاب بدترین دھاندلی کی مرتکب ہورہی ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہر حلقے کا سروے اور خلق خدا کی آواز پی ٹی آئی امیدواروں کے حق میں ہے۔

    پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

     

    سیکرٹری جنرل تحریک انصاف اسد عمر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری بار بار پارٹی لائن کراس کررہے ہیں اور ن لیگ کی ہر پارٹی میٹنگ میں بیٹھے نظر آتے ہیں، پنجاب حکومت پری پول دھاندلی کی مرتکب ہورہی ہے، الیکشن کمیشن کو مسلسل پنجاب حکومت کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کررہے ہیں، الیکشن کمیشن تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پنجاب حکومت کے خلاف کب کارروائی کرے گا۔

  • ضمنی الیکشن،پی ٹی آئی کے ن لیگ پر دھاندلی کے الزامات

    ضمنی الیکشن،پی ٹی آئی کے ن لیگ پر دھاندلی کے الزامات

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سینیٹر اعجاز چوہدری نےالزام لگایا کہ پی پی167 کے علاقے میں حکومت کی جانب سے ترقیاتی کام جاری ہیں۔تحریکِ انصاف کے سینیٹر اعجاز چوہدری نے ترقیاتی کاموں کی فوٹیج بھی جاری کر دی۔
    اداروں کے خلاف مہم بشریٰ بی بی چلا رہی ہیں،مریم اورنگزیب

    اعجاز چوہدری کاکہنا ہے کہ یونین کونسل 236 کے وارڈ نمبر 3 میں واٹر سپلائی اسکیم پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، حکومت ترقیاتی کاموں کے نام پر ووٹ مانگنے کا سلسلہ بند کرے۔ سینیٹر اعجاز چوہدری نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کا نوٹس لے۔اعجاز چوہدری نے یہ بھی کہا کہ حکومتی بدنیتی کی انتہا ہے کہ ترقیاتی کام بھی جاری ہیں اور ان سے انکار بھی جاری ہے۔

    عمران خان کے گھر کا فون ٹیپ کیا گیا. تحریک انصاف

     

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے وکلاء رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ کے ہمراہ پنجاب الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ھوئے کہاکہ 17جولائی کے ضمنی انتخابات ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ جو یہ الیکشن جیتے گا وہ پنجاب میں حکومت بنائے گا۔ ہم ضمنی انتخابات جیت رہے ہیں ۔ن لیگ دھاندلی کرنے کی کوشش میں ہے۔ ثبوت سامنے ہیں یہ اداروں کو استعمال کرتے ہیں عوام کو ڈراتے ہیں ۔ایک سو چھبیس فیصد ووٹوں میں ردوبدل کیا گیا۔ ہم تمام دھاندلی کے منصوبے میڈیا کے سامنے لائے گے۔جس بندے نے الیکشن نہ لڑا ہو اسے کیا پتہ وزارت کس طرح کی جاتی ہیں۔الیکشن کمیشن ادارہ ہے اس کا کام ہے شفاف انتخابات کا انعقاد کروایا جائے۔ یہ جتنے مرضی جتن کر لیں یہ ناکام ہوگی۔

     

    سیاستدانوں کو غدار قرارد دینے کی مہم ،چیف جسٹس آف پاکستان سے بشری بی بی کیخلاف ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

     

    پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد نے صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو پی پی 158کی ووٹر لسٹوں میں ووٹرز کی تبدیلی کے ثبوتوں کی درخواست جمع کروائی ھے جبکہ ن لیگی عطاء تارڑ کا جھنگ میں ڈی سی کی کرسی پر اجلاس کی تصویر بھی ثبوت کے طور پر پیش کی، الیکشن کمیشن پنجاب نے تین دن کے اندر اس درخواست کا جواب دینے کا کہاھے۔