سینیٹ انتخابات کیلئے ووٹنگ کے بارےمیں عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا جائیگا’ ہمایوں اختر خان۔ قابل تقسیم محاصل سے 60فیصد صوبوں کو ،باقی 40فیصد میں سے بڑ ا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوتا ہے.
لاہور، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ آرڈیننس کے اجراء کے بعد سینیٹ انتخابات الیکشن ایکٹ2017ء کے تحت اوپن بیلٹ پر ہوناہے تاہم اس حوالے سے عدالت عظمیٰ کا جو بھی فیصلہ آئے گا اس پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا ،قابل تقسیم محاصل سے 60فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے جبکہ باقی بچ جانے والے 40فیصد میں سے ایک بڑ ا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوتا ہے ، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کئی محاذوں پر چیلنجز سے نبرد آزما ہے ۔ اپنے ایک بیان میں ہمایوں اختر خان نے کہا کہ اپوزیشن انتخابی اصلاحات کے جامع پیکج کی وضاحت کر دے ، یہ جامع پیکج کہیں ایف اے ٹی ایف اور نیب قانون میں ترامیم کی طر ح کا تو نہیں جس میں اپنی قیادت کو ریلیف دینے کیلئے نکات سر فہرست تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سوائے احتساب کے کسی معاملے پر بھی اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے سے انکار نہیں کیا لیکن اپوزیشن کی پیشگی شرط ہی احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالنا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے انعقاد میں ابھی کافی وقت پڑا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے بل کا مسودہ ایوان میں پیش کر دیا ، اپوزیشن اس پر بات کرنے کی بجائے ایوان میں گتھم گتھا ہو گئی ،یہاں پر مسلم لیگ (ن) کے دور میں آٹھویں ترمیم صرف اڑتیس منٹ میں پاس ہونے کا منفرد ریکارڈ بھی موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی پابند ہے اور سینیٹ انتخابات کی ووٹنگ کے حوالے سے معزز عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے گا اس پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا
Tag: الیکشن

اپوزیشن انتخابی اصلاحات کے جامع پیکج کی وضاحت کرے،ہمایوں اختر خان۔

ٍ سینٹ انتخابات: کاغذات جمع کروانے کا سلسلہ شروع
سینیٹ الیکشن کاغذات نامزدگی وصولی کا سلسلہ شروع، خصوصی کاونٹر قائم، امیدوار کاغذات نامزدگی دفتری اوقات میں حاصل کرسکتے ہیں۔
ٍ سینٹ انتخابات کے متوقع امیدواروں کی جانب سے کاغذات وصولی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کی سہولت کے پیش نظر کاغذات نامزدگی وصولی کے لئے دفتر صوبائ الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا میں خصوصی کاونٹر قائم کردیا گیا ہے۔ امیدوار کاغذات نامزدگی دفتری اوقات یعنی صبح 10 بجے سے شام 4بجے تک صوبائی الیکشن کمشنرخیبرپختونخواہ کے دفتر واقع بالمقابل گالف کلب گیٹ نمبر2 شامی روڈ پشاور سے حاصل کر سکتے ہیں۔
تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو یاددہانی کرائی جاتی ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت پارٹی ٹکٹ منسلک کر دیں تاہم آزاد حیثیت سے حصہ لینے والے امیدواران پارٹی ٹکٹ منسلک کرنے سے مبرا ہیں۔ مزید برآں امیدواران کو اس بات کی بھی یاددہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ اپنے انتخابی اخراجات کرنے کے حوالے سے کسی بھی شیڈول بینک کی کسی بھی برانچ میں اس مقصد کے لیے مخصوص اکاؤنٹ کا اجراء کروا لیں کیونکہ اس کا اکاؤنٹ نمبرکاغذات نامزدگی میں درج کرنا ضروری ہے لہذا اس حوالے سے بھی پہلے سے تیاری کر لی جائے۔ قانون کے مطابق امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انتخابی اخراجات اس مخصوص بینک اکاؤنٹ کے علاوہ کسی بھی دوسرے بینک اکاؤنٹ سے کرنے کا مجاز نہیں۔ ایک امیدوار کے لیے انتخابی اخراجات کی حد 15 لاکھ روپے مقرر ہے لہذا امیدوار بینک اکاؤنٹ کھولتے وقت 15 لاکھ سے زیادہ رقم بینک اکاؤنٹ میں نہ رکھی جائے۔
واضح رہےکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان 11 فروری 2021 کو سینیٹ الیکشن کشیڈول جاری کریگا۔

جرنلسٹس کیمونٹی کی آواز مضبوط تر کرنے کے لئے الیکشن لاہور پریس کلب کی لسٹ پر کرنے کا اعلان
جرنلسٹس یونٹی پینل کی صدارتی امیدوار قمرالزمان بھٹی کی زیر قیادت انتخابی مہم ۔ پولنگ 3 فروری کو (پلاک )قذافی سٹیڈیم میں ہوگی ۔
لاہور۔پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے 3 فروری کو ہونےوالے الیکشن کے لئے "جرنلسٹس یونٹی پینل "کا اے پی پی۔ روزنامہ ایکسپریس۔روزنامہ پاکستان۔ روزنامہ نوائے وقت۔ دی نیشن۔ روزنامہ خبریں اور روزنامہ اوصاف کا دورہ۔ اس موقع پر صدارتی امیدوار قمرالزمان بھٹی نے لاہور پریس کلب کے تمام ممبران کو ووٹنگ کے عمل میں بھرپور حصہ لینے کی دعوت دی۔ قمرالزمان بھٹی کا کہنا تھا کہ جرنلسٹس کیمونٹی کی آواز کو مضبوط تر کرنے کے لئے یہ الیکشن لاہور پریس کلب کی لسٹ پر ہو رہے ہیں لہذا ایک اور متحدہ یونین کے قیام کے خواہش مند صحافی اس الیکشن کے عمل کا حصہ ضرور بنیں اور 3 فروری کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج ۔آرٹ اینڈ کلچر ( پلاک ) قذافی سٹیڈیم تشریف لائیں۔ پولنگ صبح 9 بجے تا شام 5 بجے تک ہوگی۔
ڈسٹرکٹ بار کے الیکشن کی تیاریاں عروج پر
قصور
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن قصور کے سالانہ انتخابات کی تیاریاں عروج پر ،نسیم الحسن ایڈووکیٹ اور سردار نبی احمد خان کے درمیان 9 جنوری کو کانٹے دار مقابلہ ہو گا
تفصیلات کے مطابق قصور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 9 جنوری کو ہو رہے ہیں جس کے باعث امیدواروں میں جوڑ توڑ چل رہی ہے اور اس گہما گہمی کی بدولت ڈسٹرکٹ کورٹس قصور کی رونقیں برھ گئی ہیں 9 جنوری کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کیلئے سردار نبی احمد خان ایڈووکیٹ اور مرزا نسیم الحسن ایڈووکیٹ کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہو گاسیاسی جوڑ توڑ اور دعوے شروع
قصور
سیاسی جوڑ توڑ شروع،دعوے بھی سامنے آنے لگے
تفصیلات کے مطابق الہ آباد کے نواحی گاؤں میں امیداوار چیئرمین پرویز مہدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تلونڈی کو ماڈل قصبہ بنانا میرا مشن ہے
میں نے سیاست میں اپنے قصبہ کی عوام کی خدمت کے لیے قدم رکھا ہے میں اپنے قصبہ کو تعلیم صحت سپورٹس صفائی نکاسی بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں عروج پر دیکھنا چاہتا ہوں انفرادی مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی مفادات کو ترجیح دینا میرا مقصد حیات ہے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد قصبہ تلونڈی کی تعمیر وترقی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑوں گا اور اس قصبہ کی ترقی کے لیے دن رات مصروف عمل نظر آؤں گاصدارتی انتخاب کےابتدائی نتائج دوسری بارملتوی کر دیے گئے۔
کابل:افغانستان کے آزادی الیکشن کمیشن (آئی ای سی) کے حکام نے مختلف تکنیکی مسائل کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ انتخاب کے ابتدائی نتائج کا اعلان 19 اکتوبر کو کیا جانا تھا، جنہیں بعد ازاں 14 نومبر تک موخر کردیا گیا تھا۔تاہم اب اس تاریخ کو بھی آگے بڑھا دیا گیا ہے۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ پر اعتراض،اٹارنی جنرل نے بہت بڑی بات کہہ دی
ترجمان عبدالعزیز ابراہیمی نے بتایا کہ ‘بدقسمتی سے تکنیکی مسائل اور دیگر معاملات کی وجہ سے ہم کل انتخابی نتائج کا اعلان نہیں کر پائیں گے۔’تاہم انہوں نے مزید تفصیلات یا نتائج کے اعلان کی نئی تاریخ نہیں بتائی۔الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے جمعرات کو معاملے کو لے کر پریس کانفرنس کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
ٹی ٹین کھیلنے کی اجازت ؛ قومی کرکٹر انورعلی کی پی سی بی پر تنقید
حالیہ اعلان الیکشن کمیشن کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس کا کہنا تھا کہ اسے چند امیدواروں کی جانب سے فراڈ کا دعویٰ کرتے ہوئے نتائج کے بائیکاٹ اور احتجاج کے اعلان کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور آڈٹ روکنا پڑا تھا۔افغان الیکشن کمیشن نے 8 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل ہفتے سے شروع کیا تھا، تاہم اس عمل کو عبداللہ عبداللہ کے حامیوں نے چیلنج کیا تھا۔
نوازشریف ہمیں چھوڑکرجارہے ہیں ، شہباز شریف نےقیادت کا اجلاس طلب کر لیا

بھٹوکی نگری میں عام تعطیل،پی ٹی آئی اورجے یوآئی کی صلح ہوگئی
لاڑکانہ : بھٹوکی نگری میں عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے اور آج کا دن لاڑکانہ کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،دوسری طرف اطلاعات یہ ہیںکہ لاڑکانہ میں مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے چاہنے والوں کی آپس میںصلح ہوگئی ہے .لاڑکانہ ميں صوبائی اسمبلی کےحلقہ پی ایس 11 کے ضمنی انتخاب کے ليے پولنگ جاری ہے۔ پي ايس 11 لاڑکانہ میں ضمنی انتخاب کےليے پولنگ صبح 8 سے شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گی۔
16-اکتوبر،تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما کے سفر کی داستان
لاڑکانہ سے گرم گرم سیاسی درجہ حرارت بھی تیز ہورہا ہے ، ایک طرف چيئرمين پی پی بلاول بھٹو زرداری کے پولیٹيکل سيکريٹری جميل سومرو اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے امیدوارمعظم عباسی کے درميان کانٹے دارمقابلے کی توقع ہے۔ معظم عباسی کو تحريک انصاف اور جے يو آئی دونوں جماعتوں کی حمايت حاصل ہے ۔
"خداپاکستان کی حفاظت کرے”وزیراعظم شہید کردیئے گئے ، کب اور کہاں؟
الیکشن کمیشن ذرائع کےمطابق اس حلقے میں 138 پولنگ اسٹيشن قائم کیے گئے ہيں جن ميں سے 20 کوانتہائی حساس جبکہ 50 کو حساس قرار ديا گيا ہے ۔ حلقہ پی 11 میں رجسٹرڈ ايک لاکھ 52 ہزار سے زائد ووٹرز حق رائے دہی کا استعمال کريں گے ۔
وہ کبھی بھی آپ سے خوش نہیںہوں گے،قرآن کا فرمان اور ایف اے ٹی ایف کااعلان
یادرہے کہ اس نشست پر عام انتخابات ميں جی ڈی اے کے معظم عباسی نے نثار کھوڑو کی صاحبزادی ندا کھوڑو کو 12 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔ بعد ازاں سپريم کورٹ نے اثاثے ظاہر نہ کرنے پر معظم عباسی کو ڈی سيٹ کردیاتھا۔

س سیٹھ ص صحافی …
کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔
لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے ہونے والے استحصال پر نہیںلیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .






