Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • این اے 15 ،نواز شریف کو جھٹکا،الیکشن کمیشن میں درخواست مسترد

    این اے 15 ،نواز شریف کو جھٹکا،الیکشن کمیشن میں درخواست مسترد

    اسلام آباد: این اے 15 مانسہرہ،میاں نواز شریف کی انتخابی عذرداری پر سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،نواز شریف کے وکیل سماعت میں پیش نہ ہوئے ،ریٹرننگ افسر این اے 15 مانسہرہ نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی ، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ حلقے کا نتیجہ فارم 45 کے مطابق مرتب کیا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا مسترد کر دی ،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی ،

    نواز شریف کے وکیل تاخیر سے پیش ہوئے، درخواست مسترد نہ کرنے کی استدعا کی، الیکشن کمیشن نے نواز شریف کے وکیل کو دوبارہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کر دی،این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار شہزادہ گستاسب کامیاب ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی این اے15انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے این اے 15 مانسہرہ پر اپنی شکست تسلیم کریں این اے 15 مانسہرہ میں کہیں سےدھاندلی کی شکایت نہیں ملی، وہ خود بھی امیدوار تھے اور سارے حلقے میں ان کے ایجنٹ موجود تھے این اے 15سے وہ خود اور نواز شریف ہارگئے ہیں نواز شریف جس بنیاد پر عدالت جا رہے ہیں وہ بہت کمزور ہے-

    مانسہرہ این اے 15 انتخابی نتائج،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابی نتائج چیلنج کیئے تھے،نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے انتخابی نتائج چیلنج کیے،درخواست میں کہا گیا کہ 125 پولنگ اسٹیشن کے نتائج مکمل نہیں ہوئے،آار او نے بقیہ پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے بغیر ہی فارم 47 جاری کر دیا،نواز شریف نامکمل فارم 47 پر ہارے ، انھیں فارم 47 پر تحفظات ہیں،مانسہرہ این اے 15 کے نتائج روکے جائیں،بقیہ پولنگ اسٹیشن کو حتمی نتیجے میں شامل کیے جائیں ،تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے

    این اے 15 مانسہرہ، نواز شریف کو شکست، آزاد امیدوار جیت گیا
    این اے 15 مانسہرہ ، نواز شریف ہار گئے، غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار شہزاد محمد گستاسپ خان نے ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انچاس ووٹ حاصل کئے،نواز شریف نے اس حلقے سے80 ہزار 382 ووٹ حاصل کئے ہیں، نواز شریف نے مانسہرہ میں جلسہ بھی کیا تھا ،کیپٹن ر صفدر بھی مانسہرہ میں نواز شریف کی بھر پور مہم چلاتے رہے، اس حلقے سے اعظم سواتی دستبردار ہو گئے تھے

  • این اے 117،علی اعجاز بٹر کا سپریم کورٹ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان

    این اے 117،علی اعجاز بٹر کا سپریم کورٹ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان

    لاہور کے حلقہ این اے 117 سے علیم خان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار علی اعجاز بٹر نے کہا ہے کہ مینڈیٹ واپس نہ کیا گیا سپریم کورٹ کےباہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگاؤں گا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر علی اعجاز بٹر کا کہنا تھا کہ میرے حلقے NA-117 کے لوگ مجھے سارا سارا دن فون کر کے پوچھتے ہیں کہ کیا بنا ہمارے ووٹ کا،میں ان کے سامنے شرمندہ ہوں کہ ان کے ووٹ کی حفاظت نہیں کرسکااس لیے میں نے فیصلہ کیا ہےکہ اگر میرے حلقے کے لوگوں کا چرایا ہوّا مینڈیٹ واپس نہ کیا گیا تو بطوروکیل سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر بھوک ہڑتال کیمپ لگاؤں گا جس میں پاکستان بھر کے وکلاء برادری، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کو مدعوکروں گا، میرا اپنے حلقے کی عوام سے وعدہ ہے کہ آپکا دیا ہوّا ووٹ ہضم نہیں ہونے دو گا۔ انشاءاللّٰہ

    قبل ازیں ایک ویڈیو میں علی اعجاز بٹر کا کہنا تھا کہ جس طرح انہوں نے مینڈیٹ چرایا کچے کے ڈاکو بھی شرمندہ ہیں، آر او کے بچوں کو اٹھایا گیا ، بیوی کو ریپ کی دھمکیاں دی گئیں، لوگ عمران خان سے پیا ر کرتے ہیں ،سات سیٹوں والے کو اسمبلی میں حکومت دے رہے ہو، فارم 45 کے مطابق میں جیتا ہوا تھا، علیم خان 15،16 ہزار سےہارا ہوا تھا،الحمد اللّٰہ ہمارے پاس NA-117 کے ٹوٹل 329 پولنگ سٹیشن کےتصدیق شدہ وجاری کردہ فارم-45محفوظ جگہ پر پورے ہیں جس جس پریزیڈنگ آفیسرز،اسسٹنٹ پریزیڈنگ آفیسرزاورریٹرننگ آفیسرنے ریکارڈ کو بدلہ بطور وکیل مدعی بن کر اُن پر ضابطہ فوجداری ,109, 467, 420,468, 471 دفعات کےمقدمات درج کرواؤں گا۔

    واضح رہے کہ ریٹرننگ افسر نے این اے 117 لاہور کا جو نتیجہ جاری کیا اسکے مطابق ن لیگ کے حمایت یافتہ علیم خان 91489 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے،علی اعجاز بُٹر 80838 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

  • الیکشن گیا تو بجلی بھی گئی،سدا الیکشن ہی رہے،عوامی خواہش

    الیکشن گیا تو بجلی بھی گئی،سدا الیکشن ہی رہے،عوامی خواہش

    قصور
    الیکشن گیا تو بجلی بھی گئی،الیکشن دنوں میں مہمان کی طرح آرام پہنچانے والی بجلی نے جانا اور آنا شروع کر دیا،الیکشن سدا ہی رہے تو اچھا ہے معصوم عوام کی خواہش

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں الیکشن سے قبل لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی چیخیں نکلوا رکھی تھیں سخت سردی کے دنوں میں جب لوڈ نا ہونے کے برابر تھا،تب گھنٹوں بجلی بند رکھی جاتی تھی جس پہ عوام نے پرزور مطالبے کئے تاہم کوئی شنوائی نا ہوئی مگر جیسے جیسے الیکشن کے دن قریب آتے گئے غیبی امداد کی طرز پہ لوڈشیڈنگ میں کمی ہوتی گئی حتی کہ الیکشن سے ایک ہفتہ قبل سے الیکشن دن سے دو چار روز بعد تک بجلی مہمان کی طرح لوگوں کو آرام پہنچاتی رہی اور عوام نے گمان کرنا شروع کر دیا کہ شاید اب لوڈشیڈنگ نا ہوگی تاہم دو تین دن سے جب کہ الیکشن کی بازگشت بہت کم رہ گئی ہے،لوڈشیڈنگ نے لوگوں کو یاد کروا دیا کہ مہمان کبھی بھی جا سکتا ہے
    سو اب ایک بار پھر سے بجلی جانے اور آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے بابت گمان ہے کہ گرمی کیساتھ لوڈ بڑھنے سے 24 گھنٹوں میں شاید دو چار گھنٹے ہی بجلی ملا کرے گی
    معصوم اور سادا لوح عوام نے سوچنا شروع کیا ہے کہ اگر بجلی الیکشن دنوں میں رہنا لازم ہے تو سدا الیکشن ہی رہنے دیں تاکہ لوگ بجلی سے محروم تو نا رہیں

  • میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا امیدوار نہیں ہوں جس کا مینڈیٹ ہے اس کا حق ہے

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس وفاق میں حکومت بنانے کیلئے مینڈیٹ نہیں ہے،خود کو وزیر اعظم کیلئے پیش نہیں کرسکتا،فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینا ہے، وقت آ گیا ہے ہم آج بھی کھپے کا نعرہ لگائیں،مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد میں نہیں جاسکتےپیپلز پارٹی کیبنٹ کا حصہ نہیں ہوگی البتہ ن لیگ کے وزیراعظم کو ووٹ دیں گے ، مسلم لیگ ن کے حوالہ سے کمیٹی اجلاس میں دوستوں نے کافی اعتراض کئے، لوگوں نے شکایات کیں کہ انکے کام نہیں ہوئے اٹھارہ ماہ کی حکومت میں، ہم کمیٹی بنا رہے ہیں جو مسلم لیگ ن ، دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرے گی، اس الیکشن میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ایگزیکٹو کمیٹی میں اراکین نے اعتراض شیئر کئے، لیول پلینگ فیلڈ کی بات ہے،تو اس پر ایک یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی احتجاج کے ساتھ تمام نتائج ملک کے لئے قبول کرے گی،ماضی کی طرح بھی الیکشن رزلٹ پر سوالات اٹھائے ،اگر کوئی سیاسی جماعت حکومت نہ بنا سکی تو دوبارہ انتخابات جانا پڑے گا،پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کیساتھ بات نہیں کریں گے اسکا مطلب تحریک انصاف کی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے نیشنل اسمبلی میں ہم سے زیادہ سیٹیں لی ہیں،

    سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،میرا نہیں خیال کہ اپوزیشن لیڈر بن سکوں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سازی کے لیے ن لیگ کو ووٹ دیں گے ،صرف مسلم لیگ نے ہی ہم سے رابطہ کیا ہے،سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں،دوبارہ الیکشن کی طرف نہیں جانا چاہتے اگر جائیں گے تو پہلے بھی ہمارے لوگ شہید ہوئے، دوبارہ الیکشن نظر ہو گئے تو بھی کوئی سیاسی جماعت قبول نہیں کرے گی، پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ملکر کام کریں،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے لے رہی جو جمہوریت کے حق میں نہیں، لوگوں نے ووٹ اس لئے دیا کہ مسائل حل کر سکیں، بات چیت تو کرنی پڑے گی، سنے بغیر اگر وہ اپنے کام کریں گے تو بسم اللہ کریں، لیکن اس کا نقصان ہو گا، پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو ملک کے حالات ہوں عوام پیپلز پارٹی کی طرف دیکھیں ،آج پیپلز پارٹی پاکستان کھپے کا نعرہ لگا رہی ہے، پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں نہیں لے گی، پیپلز پارٹی اپنے منشور پر عمل کروائے گی اور اہم معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، اپوزیشن لیڈر میرا نہیں خیال کہ میں بن سکوں،

    صدر زرداری اگلے صدر مملکت پاکستان کے امیدوار ہوں گے، بلاول
    بلاول کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوشش کریں گے کہ پیپلز پارٹی حکومت بنائے، پی ڈی ایم پارٹ ٹو اب نہیں بنے گا، پیپلز پارٹی بجٹ و دیگر معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، پیپلز پارٹی صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر شپ کے لئے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، ن لیگ یا کسی بھی جماعت کا وزیراعظم کا امیدوار، وہ انکا ہی فیصلہ ہے،ہمارے فیصلے متفقہ ہوں گے، خواہش ہیں کہ صدر کے الیکشن ہوں تو صدر زرداری حصہ لیں اور صدر بنیں، پاکستان جل رہا ہے اگر کوئی صلاحیت رکھتا ہے اس آگ کو بجھانے کی تو وہ آصف زرداری نہیں ، اس ملک کے لئے ضروری ہے کہ آصف زرداری وفاق کا عہدہ سنبھالیں،

    ن لیگ، تحریک انصاف سمیت سب سیاسی جماعتیں اپنا نہیں ملک کا سوچیں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہیں گے کہ پارلیمنٹ مدت مکمل کرے اور وزیراعظم بھی اپنا ٹرم مکمل کرے،اگر جو بھی ن لیگ کا وزیراعظم کا امیدوار ہے اگر وہ پرانی سیاست کرے گا، نفرت ،تقسیم کی سیاست کرنی ہے تو میرا خیال ہے بہت مشکل ہو گا، اب بہت ضروری ہے کہ نہ صرف مسلم لیگ بلکہ تمام سیاسی جماعتیں، تحریک انصاف بھی اپنے لئے نہ سوچیں، پاکستان کی فکر کریں، جو ماحول بن رہا ہے اس ماحول کا فائدہ ملک کے دشمن اٹھانا چاہیں گے،ہم سیاست کریں ، سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کریں انتہا پسندی کی سیاست چھوڑیں، ذاتی انتقام کی سیاست چھوڑنی پڑے گی، الیکشن مہم کے دوران تنقید کرنی پڑتی ہے، ن لیگ کے خلاف جو مہم چلائی وہ چلانی پڑتی ہے، تنقید کرنا یہ جمہوریت کا حصہ ہے، الیکشن کے دوران ذمہ داری ہے کہ دوسروں کی کوتاہیاں سامنے لائیں، عوام کو بتائیں،اب اگر ن لیگ یا پی ٹی آئی کو بلیک میل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے ، ہم نے جو فیصلہ کیا اس سے ہمیں ضرور نقصان ہو گا، اس فیصلے میں میرا سیاسی نقصان ہوسکتا ہے لیکن ملک کی بربادی نہیں ہونی چاہیےہم نے پاکستان کے عوام کی خاطر فیصلہ کیا میرے کارکنان، خاندان نے شہادتیں دیں،پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک سازش کے تحت ہرایا گیا،پیپلز پارٹی کے ساتھ اس الیکشن میں جو ہوا اس کا فیصلہ کرنا پڑے گا، بار بار ہم جمہوریت کی خاطر قربانی دیتے رہیں اور ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہے، آج فارم 45 کیوں ملتے ہیں، بینظیر نے مشرف کے دور میں یہ فارم 45 والا کام کروایا،کس نے کہا پی ٹی آئی کومیدان چھوڑے، آپ چاہتے ہو پیپلز پارٹی انتہا پسندی کی سیاست کرے، وہ نہیں ہو سکتا، میں نے اپنی مہم اور سیاست میں ثابت کر دیا کہ باقی سیاستدان عمر میں ضرور بڑے ہوں گے لیکن میں نے ملک کے لئے اچھا فیصلہ کیا،

    ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں دیں یا 50 ،کراچی کی ترقی اور امن پر کمپرومائز نہیں کریں گے، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو چلانا ہے اور اسےاستحکام دلانا ہے،پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایسا الیکٹورل سسٹم بنائیں کہ اس پر کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکے،تحریک انصاف آج بھی ایسے فیصلے کررہی ہے جو جمہوریت کے حق میں نہیں ،پیپلز پارٹی ایک سنجیدہ جماعت ہے جو پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے،ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں؟میرا بھی یہ سوال ہے، ہمارے اعتراض ہیں انکا جواب چاہئے، جو دہشت گردی میں ملوث لوگ ہیں مجھے بتایا گیا کہ جو انکے دہشت گرد لوگ تھے انکو بھی الیکشن میں آزاد کروایا گیا ہمارے لوگوں پر حملے ہوئے، فائرنگ ہوئی، آپ انکو 18 سیٹ دیں یا 50 دیں ہم کراچی کے امن اور ترقی پر کمپرومائز نہیں کریں گے، انکو پیغام دیں گے کہ نفرت کی بنیاد پر شہر کو تقسیم نہ کریں،پیپلز پارٹی ملک میں مزید افرا تفری نہیں چاہتی.

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد پر لاتعلقی کا اعلا ن کر دیا،

    جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوا، پی ٹی آئی جس کے ساتھ بھی حکومت بنانا چاہے ان کو اختیار ہے, جماعت اسلامی کا نام استعمال کرنے کا اخلاقاً کوئی جواز نہیں بنتا،

    جماعت اسلامی کے رہنما عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار جماعت اسلامی کو جوائن کر سکتے ہیں ،ابھی صرف ٹیلی فونک رابطے ہوئے ہیں، بیٹھ کر ہی فیصلہ کیا جاسکتا ہے، جماعت اسلامی غیر مشروط بات کرے گی،

    ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کا کہنا ہے کہ فارم 45 کے مطابق کے پی کی تینوں سیٹیں جماعت اسلامی جیتی ہوئی ہے،تینوں نشستوں پر جماعت اسلامی کو واضح بر تری حاصل ہے،ایک غیر جمہوری رویہ جماعت اسلامی کے ساتھ اپنایا جارہا ہے،جماعت اسلامی کے طرف سے اتحاد سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،مشاورت کے بعد پی ٹی آئی کو حتمی فیصلے سے آگاہ کر دیا جائے گا،

    رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم تعاون کیلئے تیار ہیں لیکن پہلے اندرونی مشاورت کی جائے گی، فی الوقت کوئی زنانی یا تحریری معاہدہ نہیں ہوا،سینیٹ یا وزیراعظم کے چنائو سے متعلق فی الحال کوئی بات نہیں ہوئی

    مجلس وحدت مسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
    دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کاکہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب اراکین اسمبلی کی مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کے فیصلے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے اور وہ اس جماعت کے حوالے سے جو چاہے فیصلہ کر سکتے ہیں ہم اسے بلامشروط اورمن و عن قبول کریں گے۔ہمارا روز اول سے یہ موقف بھی رہا ہے اور ہم نے اپنے عمل و کردار سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ہم کسی جماعت پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ مشکل وقت میں باوفا دوست بن کر ساتھ نبھاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہمارا اتحاد ، آزاد خارجہ پالیسی، داخلی خودمختاری،سرحدوں کےتحفظ، عالمی طاقتوں کی غلامی سے انکار،مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات اور گلگت بلتستان کے لیے آئینی حقوق کے حصول بیانیہ کی بنیاد پر ہے جو خون کے آخری قطرے تک قائم رہے گا۔عمران خان کی قیادت میں پوری قوم مل کر وطن عزیز کو ایک آزاد، خود مختار اور باوقار ریاست بنانے میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں سے اتحاد کا اعلان کر دیا،
    ترجمان تحریک انصاف رؤف حسن کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم کیساتھ اتحاد ہوگا.خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کریں گے،فارم 45 اور اصل نتائج کے مطابق ہماری قومی اسمبلی میں 180 نشستیں ہیں،کچھ کور کمیٹی کے حوالے سے خان صاحب نے بتایا ہے اس پر بھی عمل درآمدکیا جائے گا،مجھے یہ اہم ذمہ داری دی ہے خان صاحب نے کہ مختلف جماعتوں کے ساتھ رابطہ قائم کروں،ہم دوسرے جماعتوں کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کو تیار ہیں، ایک اور یہ بھی فیصلہ کیا کہ کے پی کے میں علی امین گنڈا پور حکومت بنائے گا،عمران خان نے عامر ڈوگر کو ایک بار پھر قومی اسمبلی میں چیف و ہپ مقرر کر دیا، اور کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن جتنی ہوسکے وہ کروائیں،انٹرا پارٹی الیکشن دس دن میں کرانے کی ہدایت کی گئی،

    اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں،شریفوں اور زرداری سے لڑائی ہے ان سے لڑیں گے،ترجمان تحریک انصاف
    رؤف حسن کا کہنا تھا کہ میز کے آمنے سامنے ہم بیٹھے تھے، سرکار پیچھے بیٹھی تھی، کچھ اہم بات کرنی ہوتی تو وہ کان قریب لاتے ، اشارہ کرتے، لیکن سب کچھ برداشت کرنے کے باوجود عمران خان کی سمائل نہیں گئی، ویسے ہی سمائل کررہا تھا، یہ ناقابل یقین ہے۔موجودہ صورتحال میں مستحکم حکومت کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانا مسئلے کا حل نہیں،مسئلے کا حل اوورسیز پاکستانیز کی سرمایہ کاری ہے، اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں، ان سے نہیں لڑیں گے،شریفوں اور زرداری سے لڑائی ہے ان سے لڑیں گے،عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس کے مطابق حکومت بنانے دی جائے،

    قبل ازیں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کردی،جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کو حکومت سازی کے لیے اتحاد کا گرین سگنل دے دیا،لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کے تحفظ کیلئے اگر پی ٹی آئی کو جماعت اسلامی کی ضرورت پڑی تو ویلکم کہیں گے،

    ایم کیوایم ،پیپلز پارٹی، ن لیگ سے اتحاد نہیں، چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کریں گے، بیرسٹر گوہر
    ہمیں اصل مینڈیٹ جو عوام نے دیا وہ دیں تو کل حکومت بنا لیں ،بیرسٹر گوہر
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہم 4 سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں،پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی 180 نشستیں جیتی ہیں، اس مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ،سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کی آراوز عدلیہ سے دیئے جائیں ، عوام نے ہمیں جو مینڈیٹ دیا ہے اس پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں ہم جیت چکے ہیں،ہمیں اصل مینڈیٹ جو عوام نے دیا وہ دیں تو کل حکومت بنا لیں ،جن لوگوں کو اپروچ کیا گیا انہیں 25 ، 25 کروڑ کی آفر کی گئی، کسی جماعت سے منصوب آزاد امیدواروں کو اپروچ کرنا غیر اخلاقی اور غیر آئینی ہے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے اہم عہدوں کیلئے نام تجویز کیے ہیں،تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 180 سیٹیں جیت چُکی ہے، یہ عوام کا مینڈیٹ ہے، وائٹ پیپر میں فارم 45 جاری کریں گے،5 دن کے اندر اندر 3 سزائیں دی گئیں، 14، سال 10 سال اور 7 سال کی سزائیں دی گئیں ،عوام کو یہ میسج دینے کی کوشش کی گئی کہ خان صاحب اندر چلے گئے اب کسی اور طرف دیکھیں ،ایم کیو ایم کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کریں گے،ہم چھوٹی پارٹیوں کو ملا کر حکومت بنائیں گے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کریں گے،لیڈر شپ جیل میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی،بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کر دیا ہے،اللہ نے ہمیں عوام کی طاقت سے سرخرو کیا ہے،پاکستان میں پہلی بار ایسا الیکشن ہوا کہ لیڈر شپ اور نشان نہ ہونے کے باوجود جیت گئے، جیت کا سرچشمہ عوام ہے اور غلامی نامنطور ہے، عوام نے بڑا مینڈیٹ دیا ہے ،بلوچستان کی 16 سیٹوں میں سے ہم 4 اور پنجاب کی 115 سیٹیں جیت گئے ،

    مریم ، شہباز، نواز ،سب ہارے ہوئے ان کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے ،علیمہ خان
    عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان آج بہت خوش تھے ، اُنہوں نے پوری قوم کے لیے مبارک باد دی ہے، اکثریت پی ٹی آئی کو ملی، لیکن دھاندلی کی گئی، عمران خان ، پی ٹی آئی دو تہائی جیتیں سیٹ چکی ہے، پی ٹی آئی کو حکومت بنانی چاہئے ایک چھوٹا سا مسئلہ آ گیا ہے، امیدواروں کے ہاتھ میں 45 ہے، لیکن 47 میں انہیں ہروا دیا گیا، دو راستے ہیں ،ایک، عمران خان کا خاص پیغام ہے کہ معیشت کو اس طرح کر کے مزید گڑھے میں دھکیل دیں گے، مینڈیٹ چوری ہو گا تو لوگوں کو کون جواب دے گا، ایک راستہ یہی ہے کہ ووٹ چوری رکھیں، چوری مینڈیٹ اور سیٹوں کی یہ ن لیگ، ایم کیوایم نے کی ہے، ایم کیو ایم نے پی ٹی آئی کی ساری سیٹیں اٹھا لی ہیں، پیپلز پارٹی نے بھی چوری کی ہے یہ تینوں جماعتیں پی ٹی آئی کی سیٹیں لے کر شرمندہ ہو ں گے،مریم ، شہباز، نواز ،سب ہارے ہوئے ہیں، سب کو ان کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے ایک اچھے طریقے سے خوش اسلوبی سے یہ سیٹیں واپس کر دیں،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • اس حکومت کے ساتھ ملکر کام کریںگے جسے پاکستانی عوام نے منتخب کیا،امریکہ

    اس حکومت کے ساتھ ملکر کام کریںگے جسے پاکستانی عوام نے منتخب کیا،امریکہ

    عام انتخابات آٹھ فروری کو ہوئے، آزاد امیدوار، جماعت اسلامی،پیپلز پارٹی، تحریک لبیک سمیت متعدد جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، آراوز نے گنتی کے وقت امیدواروں کو نکال دیا،دھاندلی کے خلا ف ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے،کئی شہروں میں احتجاج کرنیوالوں کےخلاف مقدمے بھی درج ہوئے،دھاندلی کے الزام لگے اب پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات پر امریکہ کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

    امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں پر مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں، اس کا جائزہ لیتے رہیں گے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اس حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے جسے پاکستانی عوام نے منتخب کیا، دھاندلی کے دعوؤں پر مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں،دھاندلی کے دعوؤں کی مکمل چھان بین کی ضرورت ہے، بے ضابطگیوں کی تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم جمہوری عمل کا احترام بھی کرتے ہیں،قانون کی حکمرانی، آئین کا احترام، آزاد صحافت، متحرک سول سوسائٹی کے احترام پر زور دیتے ہیں،سیاسی اور انتخابات سے متعلق تشدد، انٹرنیٹ ، فون سروس پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں، ان اقدامات نے انتخابی عمل کو منفی طور پر متاثر کیا، مداخلت،دھاندلی کے دعوے پر پاکستانی قانونی نظام کے تحت مکمل تحقیقات کی جائیں، آزادانہ تحقیقات کے لیے پاکستان قانونی نظام ہی پہلا مناسب قدم ہو گا، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہی وہ اقدام ہے جو کرنے چاہئیں، اگرتحقیقات کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہو تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • انتخابات نے ہمارے عزائم اور حوصلے کو مزید مضبوط کیا،خالد مسعود سندھو

    انتخابات نے ہمارے عزائم اور حوصلے کو مزید مضبوط کیا،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ کامیابی کا پہلا مرحلہ طے کرلیا، انتخابات نے ہمارے عزائم اور حوصلے کو مزید مضبوط کیا، عوام نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے منشور اور مقصد کو شاندار قبولیت دی ہے۔اپنے ووٹرز، سپورٹرز، کارکنان، امیدواران اور پارٹی عہدیداران کے مشکور ہیں جنہوں نے انتہائی محنت سے انتخابی مہم چلائی اور ہمارا ساتھ دیا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور مرکزی سیکریٹریٹ میں قومی و صوبائی حلقوں کے امیدواران، پی پی صدور اور جنرل سیکرٹریز کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید، مرکزی رہنما سیف اللہ خالد، چوہدری محمد سرور، انجنئیر حارث ڈار سمیت دیگر عہدیداران نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔

    انجنئیر حارث نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پہلے عوام کی خدمت کررہے تھے، اب بھی صبح و شام ان کے درمیان موجود رہیں گے، مزید محنت اور جذبے اس کام کو آگے بڑھائیں گے۔معاشرے تمام سیاسی و سماجی دھڑوں کو لے کر آگے بڑھیں گے، معاشرے سے نفرت و انتشار اور تفرقہ و تقسیم ختم کریں گے اور قومی مقاصد کی تکمیل کریں گے۔مرکزی مسلم لیگ عوامی امنگوں کی ترجمان اور مضبوط ملی سیاسی قوت بن کر ابھر رہی ہے۔

  • جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    الیکشن ہارنے کے بعد جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ الیکشن میں میری حمایت کرنے والوں کا مشکور ہوں مخالفین کو مبارکباد ، میں پاکستانی عوام کی مرضی کا بے پناہ احترام کرتا ہوں، میں نے آئی پی پی کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور سیاست سے یکسر کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے،

    واضح رہے کہ جہانگیر ترین قومی اسمبلی کی دو سیٹوں سے الیکشن لڑے تھے تا ہم دونوں سے ہار گئے تھے،استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین آبائی علاقے لودھراں سے ہار گئے ، این اے 55 لودھراں کے تمام 369 پولنگ سٹیشن کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آئے ہیں،مسلم لیگ ن کے صدیق خان بلوچ 117671 ووٹ لے کر جیت چکے ہیں جبکہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے جہانگیر ترین 71128 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے، جہانگیر ترین قومی اسمبلی کی ایک اور سیٹ این اے 149 سے بھی میدان میں تھے، وہاں سے بھی ہار چکے ہیں،این اے 149 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ملک محمد عامر ڈوگر ایک لاکھ 43 ہزار 613 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ جہانگیر خان ترین 50 ہزار 166 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے .جہانگیر ترین کو ملتان میں نوے ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی ہے

    عمران خان کے سابق ساتھی، اور 2018 میں عمران خان کی حکومت کے لئے جہاز چلانے والے جہانگیر ترین نے 2024 میں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی،نومئی کے بعد جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی بنائی اور پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کو اس میں شامل کیا تا ہم الیکشن میں استحکام پاکستان پارٹی کوئی پوزیشن حاصل نہ کر سکی،لاہور سے دو سیٹوں پر علیم خان اور ایک پر عون چودھری جیتے، قومی کی دو اور صوبائی کی ایک سیٹ استحکام پاکستان پارٹی نے جیتی، علیم خان کو ایک سیٹ چھوڑنی پڑے گی، اب جہانگیر ترین کے استعفے سےپاکستانی سیاست میں کیا موڑ آتا ہے، آںیوالے دن اہم ہیں، آٹھ فروری کو جہانگیر ترین نے جب ووٹ کاسٹ کیا تھا اسوقت جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ہاں جہاں استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار ہیں انشاء اللہ سب جیتیں گے، ایک مستحکم حکومت کو بننا چاہئے،پاکستان کے لیے اگلے 5 سال انتہائی اہم ہیں، 8 فروری کے بعد حکومت بنانے سے متعلق سب جواب دوں گا،تاہم اپنی انتخابی مہم کے دوران وہ کہتے رہے کہ ن لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے اور ملک کی خوشحالی کے لئے کام کریں گے تا ہم اب جہانگیر ترین پاکستانی سیاست سے "آؤٹ” ہو گئے ہیں

    عفت طاہرہ سومرو کا جہانگیر ترین کے حق میں دستبرداری کا اعلان

    عمران خان کے ساتھ تعلقات کیوں خراب ہوئے؟جہانگیر ترین نے خاموشی توڑ دی

    تاحیات نااہلی کالعدم قرار، نوازشریف اور جہانگیر ترین کی سزا ختم

    امریکی سفیر کی نواز شریف کے بعد جہانگیر ترین سے ملاقات

    جہانگیر ترین کی سیاست کو بنی گالا کی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھایا گیا. فردوس عاشق اعوان

    جہانگیر ترین نے گزشتہ برس 8 جون کو استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب نہ کبھی 9 مئی ہونے دیں گے نہ کسی سیاسی مخالف کے گھروں پر حملے ہونے دیں گے ، سیاسی تقسیم ختم کریں گے، قوم میں امید پیدا کریں گے،علیم خان اور جہانگیر ترین تحریک انصاف میں تھے اور عمران خان کے انتہائی قریبی تھے، مگر اقتدار ملنے کے بعد عمران خان تکبر میں آ گئے اور انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو دور کر دیا،

    جہانگیر خان ترین ہمیشہ آئی پی پی اور ہم سب کے سرپرست اعلیٰ رہیں گے،علیم خان
    جہانگیر ترین کے پارٹی عہدے سے استعفے کے بعد صدر استحکام پاکستان پارٹی علیم خان کا ردعمل سامنے آیا ہے، علیم خان کا کہنا ہے کہ جہانگیر خان ترین کے فیصلے سے دلی طور پر دکھ ہوا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جہانگیر خان ترین اعلیٰ پائے کے پروفیشنل ہیں،جہانگیر خان ترین کا کسی بھی حکومت میں ہونا اُس حکومت کیلئے اعزاز کی بات ہے،بد قسمتی سے کوئی حکومت بھی جہانگیر خان ترین کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکی، جہانگیر خان ترین کو بطور چھوٹا بھائی اور صدر آئی پی پی خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جہانگیر خان ترین ہمیشہ آئی پی پی اور ہم سب کے سرپرست اعلیٰ رہیں گے،اُن کی فلاحی سرگرمیاں بھی لائق تحسین، سیاست سے ہٹ کر وہ درد دل رکھنے والی شخصیت ہیں،

  • 5 آزاد  ارکان اسمبلی کی شہباز شریف سے ملاقات ، ن لیگ میں شمولیت کا اعلان

    5 آزاد ارکان اسمبلی کی شہباز شریف سے ملاقات ، ن لیگ میں شمولیت کا اعلان

    عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لئے ن لیگ کی کوششیں جاری ہیں، آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں

    سابق وزیر اعظم شہباز شریف سے 5 آزاد منتخب ارکان اسمبلی نے ملاقات کی اور ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے آزاد منتخب ہونے والے پانچ ارکان اسمبلی نے ملاقات کی۔ این اے 189 سے سردار شمشیر مزاری، پی پی 195 سے عمران اکرم، پی پی 240 سے سہیل خان، پی پی 297 سے خضر حسین مزاری اور پی پی 249 سے صاحبزادہ محمد گزین عباسی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔ تمام ارکان نے قائد نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا، شہباز شریف نے آزاد ارکان کا پارٹی میں شمولیت کا خیر مقدم کیا اور مبارک دی ،شہباز شریف نے ارکان سے گفتگو میں کہا کہ آپ کے جذبے کو سراہتا ہوں، آپ پاکستان کو سنوارنے اور عوام کو مشکلات سے نجات دلانے والے قافلے کا حصہ بنے ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اولین ایجنڈا ملک اور قوم کی معاشی خوشحالی ہے، پہلے سے بھی بڑھ کر عوام کی خدمت کریں گے،نومنتخب ارکان اسمبلی نے نواز شریف اور شہباز شریف کی ملک وقوم کے لئے خدمات اور جذبے کو سراہا ۔اس دوران نو منتخب ارکان اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو نواز شریف کے پرخلوص وژن، ترقی کے ایجنڈے اور خدمت کے تجربے کی ضرورت ہے

    وزیر اعظم کے امیدوارکا اعلان تمام جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا،عطا تارڑ
    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ جوق در جوق آزاد امیدوار مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، کسی ایک سیاسی جماعت کو اتنا بڑا مینڈیٹ نہیں ملا، چند سیاسی جماعتوں نے ابتدائی نتیجوں پر ابہام پیدا کیا، 5 6 فیصد پر رائے قائم کرنے کی کوشش کی،20 سے 25 فیصد نتائج پر تقریر نہیں کی جاتی، پنجاب میں ہم سادہ اکثریت حاصل کر گئے ہیں،آزاد امیدواروں کی شمولیت کا سلسلہ چل رہا ہے،پچھلے 15 سال ہم نے پنجاب کی سیاست کی ہے،آج ہم پنجاب میں 150 کا فگر مکمل کر لیں گے، پنجاب حکومت بنانے کے لیے اللہ کے فضل سادہ اکثریت کراس کریں گے،دو دن میں ایم پی ایز کی تعداد میں کافی اضافہ ہوگا، بہت سارے آزاد نے مسلم لیگ ن کا پارٹی ٹکٹ اپلائی کیا تھا،لیکن ٹکٹ نا ملنے پر انہوں نے نشت جیتی، وزیر اعظم کے امیدوارکا اعلان تمام جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ ہماری مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور انشاءاللہ تعالیٰ اس کے نتیجے میں وزیراعظم کے لیے امیدوار کا اتفاق رائے اور مشاورت سے اعلان ہوگا۔

    قبل ازیں گزشتہ روز قومی اسمبلی حلقہ این اے 127 سے کامیاب پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار وسیم قادر نے باضابطہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ،وسیم قادر نے پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے ہمراہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں وسیم قادر جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف لاہور اپنے گھر واپس آگیا ہوں میں اپنے علاقے کی ترقی کیلئے اور اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کرتا ہوں

    علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 97 چنیوٹ سے نومنتخب آزاد امیدوار ثاقب خان چدھڑ مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے،لاہور میں ثاقب خان چدھڑ نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا،شہباز شریف نے ثاقب خان چدھڑ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور انہیں مبارک باد دی۔

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • نتائج،میڈیا نے جلد بازی کی، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا،نگران وزیراعظم

    نتائج،میڈیا نے جلد بازی کی، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انارکی کی کوئی حکومت اجازت نہیں دیتی، نہ ہم دینگے، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہدہشتگردی کے خطرات کے باوجود پر امن انتخابات کا انعقاد ہوا، چیلنجز کے باوجود جمہوری تسلسل خوش آئند ہے، پاکستان اب بھی دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، انتخابات کے کامیاب انعقاد پر سکیورٹی اداروں نے اہم کردار ادا کیا، مجھے 2018 کی باتیں یاد ہیں، کہا جاتا تھا پاکستان ڈھاکا بن جائے گا، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے،ایسی بات سوچی بھی نہیں جا سکتی کہ پاکستان ڈھاکا بن جائیگا، پر امن احتجاج لوگو ں کا حق ہے،لوگ پر امن احتجاج نہ کریں تو یہ فاشزم کی طرف چلا جائے گا،کوئی حکومت انار کی اجازت نہیں دیتی، نہ ہم دیں گے، پرامن احتجاج ماضی میں بھی ہوئے، یہ جمہوریت کا حصہ ہے,الیکشن نتائج 36 گھنٹے میں تیار ہوئے، غیر حتمی نتائج کیسے آرہے ہوتے ہیں، میڈیا کا کیا سورس ہوتا ہے؟میڈیا نے انتخابی نتائج جاری کرنے میں جلد بازی کر دی،الیکشن کا رزلٹ 36 گھنٹے میں تیار ہوا،2018 میں انتخابی نتائج 66 گھنٹے میں مکمل ہوئے تھے،

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں قانون سازی نہیں کریں گی تو مسائل کیسے حل ہوں گے، ہر الیکشن میں ایسے مسائل ہوتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں، الیکٹوریل پروسیس کو ایسا کرنا ہو گا کہ سب کو قابل قبول ہو،پرامن احتجاج کریں، تشدد برداشت نہیں کریں گے، نتائج میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں، 9 فروری کو قلعہ سیف اللہ میں داعش کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس آپریشن ہوا لیکن وہ مجھے میڈیا یا سوشل میڈیا پر کہیں نظر نہیں آیا بس موبائل فون بند ہونے کا شور مچانے والے نظر آئے.ترقی یافتہ ممالک میں ووٹوں کی گنتی میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں، الیکشن ختم ہونے کے فوری بعد ہی سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ پھیلا دیا گیا کہ پاکستان میں دھاندلی ہوگئی ہے،ایک انقلاب آ گیا اور اسکو روک دیا گیا،ایسا نہیں ہے، کہیں دھاندلی ہوئی تو فورم موجود ہیں، پہلے ڈھائی گھنٹے میں یہ سب کیا گیا،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا