Baaghi TV

Tag: امارات اسلامیہ افغانستان

  • ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا

    ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا

    کابل: طالبان نے ماہ رمضان کے تقدس اور احترام کا خیال نہ رکھنے اور مملکت کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے پرخواتین کے زیرِ انتظام شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں ریڈیو اسٹیشن ’’صدائے بانوان‘‘(وائس آف وومن ریڈیو) کو بند کر دیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے اطلاعات اور ثقافت کے ڈائریکٹر معیز الدین احمدی نے بتایا کہ صوبہ بدخشاں میں خواتین کے زیرِ انتظام ریڈیو اسٹیشن کو رمضان کے مقدس مہینے میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر بند کر دیا گیا۔

    4 سالہ بچے نے کتاب لکھ کر دنیا کے سب سے کم عمر مصنف …

    احمدی نے کہا کہ مذکورہ ریڈیو نے رمضان المبارک کے دوران گانے اور موسیقی نشر کرکے امارت اسلامیہ کے قوانین و ضوابط کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہم نے انہیں بارہا کہا کہ موسیقی نشر کرنا حرام ہے اور آپ کو موسیقی نشر نہیں کرنی چاہیے بدقسمتی سے، رمضان کے مہینے میں، انہوں نے کئی انتباہات کو نظر انداز کیا اور موسیقی نشر کی۔

    معیز الدین احمدی نے بتایا کہ آخر کار کل مشاورت کے بعد، ہم نے ریڈیو اسٹیشن بند کر دیا ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بندش عارضی ہے، اور اگر ریڈیو حکام اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ موسیقی نشر نہیں کریں گے، تو ہم ریڈیو کو دوبارہ نشر کرنے کی اجازت دیں گے۔

    حکومت رواں سال 10 لاکھ پاکستانیوں کوبیرون ملک بھجوائے گی،ساجد حسین طوری

    دوسری جانب صدائے بانواں اسٹیشن کی سربراہ ناجیہ سوروش نے کسی بھی قانون، اصول یا روایت کی خلاف ورزی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو کی بندش کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ اظہار رائے پر پابندی کی ایک سازش ہے۔

    خیال رہے کہ ریڈیو صدا بانوان ان چند افغان ریڈیو اسٹیشنوں میں سے ایک تھا جو خواتین چلاتے ہیں جو اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سے کام کر رہا تھا صدائے بانواں جس کا دری میں مطلب خواتین کی آواز ہے، افغانستان میں خواتین کے زیر انتظام چلنے والا واحد ریڈیو اسٹیشن ہے جس کا آغاز 10 سال قبل ہوا تھا –

    دیگراضلاع اور صوبوں کے شہری بھی لاہور سے ڈرائیونگ لائسنس بنوا سکیں گے

  • امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

    امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

    کابل: امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری کرسٹوفر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے-

    باغی ٹی وی :افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسلام کی حقانیت کا اقرار کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ہاتھوں اسلام قبول کرلیا طویل عرصے سے افغانستان میں مقیم امریکی شہری کرسٹو فر نے اسلام کے آفاقی پیغام کی حقانیت کو پہچان کر اور طالبان کے اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    امارت اسلامیہ افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات اور ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی شہری کو کلمہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا اور اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا اسلام قبول کرتے وقت امریکی شہری کی آنکھوں میں آنسو تھے اور کلمہ پڑھنے کے بعد وہ طالبان کے گلے لگ گئے ترجمان طالبان نے محمد عیسٰی کو اسلام میں داخل ہونے پر مبارک باد دی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی طالبان کی قید سے رہا ہونے والی خاتون صحافی اور ایک پروفیسر بھی اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرچکے ہیں۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    قبل ازیں افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں طالبان کے افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    افغان حکومت کی اکنامک کانفرنس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے کانفرنس میں شرکت کی، 40 ممالک کے نمائندوں نے کانفرنس کو آن لائن جوائن کیا،افغانستان کی معاشی صورتحال، نجی شعبہ اور بینکنگ سیکٹر کے مسائل پر بات چیت ہوئی وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں، افغانستان کے وزیراعظم کے مطابق طالبان نے امن اور سلامتی کی بحالی کے لیے تمام شرائط پوری کی ہیں۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

  • رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    امارات اسلامیہ افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات اور ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ’’ اے پی ‘‘ کو انٹرویو میں بتایا کہ لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں افغانستان کے نئے سال کا آغاز 21 مارچ سے ہوتا ہے اور رواں برس نئے سال کی شروعات سےلڑکیوں اور خواتین کےلیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے تاہم مخلوط تعلیم کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔

    ترجمان طالبان نے کہا کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    عالمی قوتوں نے افغانستان کے منجمد فنڈز کی بحالی کے لیے طالبان حکومت پر لڑکیوں کے اسکول کھولنے، خواتین کو ملازمتوں پر آنے کی اجازت دینے اور کابینہ میں تمام طبقات کی شمولیت کے لیے دباؤ میں اضافہ کیا ہے طالبان نے بھی عالمی قوتوں سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اس کے انتظامات کے لیے وقت مانگا تھا البتہ اب تک خواتین کی ملازمتوں میں واپسی اور تمام طبقات پر مشتمل قومی حکومت پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔

    افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان…

    واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے 7 جماعت سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد تھی تاہم کچھ صوبوں میں پرائمری اسکول کھلے ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ حال ہی میں طالبان حکومت نے عوامی شکایات پرغیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے شفافیت کوبرقراررکھنے کے لیے طالبان حکومت نے ایسے 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے جو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امارت اسلامیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے۔

    اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    طالبان حکومت کے وزیر لطیف اللہ حکیمی نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ عوامی شکایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے بعد ان ارکان کےخلاف شفاف جانچ پڑتال کی گئی مکمل تحقیقات کے بعد 2 ہزار 480 ارکان کو برطرف کیا گیا یہ لوگ کرپشن، منشیات کی اسمگلنگ اور لوگوں کی نجی زندگیوں میں مد اخلت کرنے میں ملوث تھے اور بعض داعش کے ساتھ بھی منسلک تھےیہ افراد اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث اماراتِ اسلامی کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے تنظیم میں تطہیر کا عمل جارہے گا تاکہ مستقبل میں ایک شفاف عوام دوست پولیس اور فوج بنائی جاسکے۔

    اگرمالی امداد نہ دی گئی توافغانستان میں لوگ بھوک و افلاس سے مرجائیں گے،اقوام متحدہ

  • افغان وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے

    افغان وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے

    کابل: امارات اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے وفد کے ہمراہ پڑوسی ملک ایران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افغان مہاجرین اور معاشی بحران سمیت اہم باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا وفد کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔


    طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ٹویٹر پر لکھا کہ یہ دورہ ایران کی دعوت پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد افغانستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی، راہداری اور پناہ گزینوں کے مسائل پر بات چیت کرنا ہے۔

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان ابتدائی ملاقات وزارت خارجہ کی سطح پر ہوچکی ہے تاہم اب وزیر خارجہ بہ نفس نفیس ایران جا رہے ہیں۔


    افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والا پڑوسی ملک ایران پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے چکا ہے اور اب مزید مہاجرین کی آمد کا اندیشہ لیے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات کا خاکہ تیار کرنے کی کوششں کر رہا ہے۔

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    واضح رہے کہ ایران نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور دو دہائیوں کے بعد دوبارہ قائم ہونے والی طالبان کی نئی حکومت کو بھی تاحال تسلیم نہیں کیا تاہم اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    افغان حکومت کا دکانداروں کولباس آویزاں کرنے والی پلاسٹک ڈمیز کےسرقلم کرنے کاحکم

    قبل ازیں فغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے کہا تھا کہ مریکہ نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کیے ہوئے ہیں، جبکہ امدادی رسد بھی تعطل کا شکار ہے اس وقت کئی جگہوں پر لوگوں کے پاس خوراک، رہنے کی جگہ، گرم کپڑے اور پیسے نہیں ہیں دنیا کو بغیر کسی سیاسی تعصب کے افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے اور انسانی ہمدردی کا فرض پورا کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ہ موسم کی صورت حال خراب ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہےطالبان ملک بھر میں بین الاقوامی امداد کو تقسیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟