Baaghi TV

Tag: امان اللہ کنرانی.

  • سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ بدھ 9 اگست 2023 کو سپریم کورٹ کے بنچ 3 میں جناب جسٹس یحی آفریدی کے سامنے دو دیگر جج صاحبان مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس حسن رضا رضوی، عمران احمد خان نیازی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کے کمیٹی کے قتل میں ایف آئ آر کے خلاف برائے استرداد فوجداری کیس کی سماعت کی ابتداء میں درخواست گزار کے وکیل سردار محمد لطیف کھوسہ نے معمول کے مطابق اپنے دلائل کا آغاز کیا اس دوران بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب چونکہ آپ کے موکل گرفتار ہوچکے ہیں لہذا مزید اس کیس میں کاروائی کیسے جاری رکھی جائے.

    جبکہ اس پر شہید وکیل عبدالرزاق شر کے صاحبزادے سراج شر مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو اس کیس میں صرف جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لئے کہاگیا ہے جس پر وہ مسلسل پیش نہیں ہورہے ہیں حالانکہ 2017 میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کو میاں نواز شریف کے کیس میں قانونی جواز فراھم کردیا PLD 2017 SC 265 عدالت نے فرمایا اب چونکہ ملزم گرفتار ہے تو جے آئی ٹی اس سے باز پرس و تفتیش کرسکتی ہے جبکہ اس خوشگوار ماحول میں کاروائی میں مداخلت کرتے ہوئے اچانک بنچ کے ممبر جناب جسٹس مظاہر اکبر نقوی صاحب نے توھین آمیز انداز میں غصے سے انگلی کے اشارے سے مدعی کے وکیل امان اللہ کنرانی کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ آپ کے کیس میں کیا ہے.

    اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا اس کیس میں، میں نے پوری تیاری کی ہے جبکہ آپ کا اپنا فیصلہ بھی لایا ہوں مگر وہ اپنی آواز اونچی رکھے ہوئے تھے اس پر وکیل نے کہا اگر آپ جج و عدالت ہیں تو مجھے آپ کا احترام ہے اور میرٹ پر میرے کیس کی شنوائی کریں اگر دھمکی آمیز رویہ اپنائیں گے تو ہم بھی غلام نہیں ہیں اور آپ بھی PLD 1998 SC 161 کے تحت اسد علی ایڈوکیٹ کے کیس کی روشنی میں سینارٹی کے برعکس جج بننے کے اہل نہیں اور یہ معاملہ کوئٹہ میں بنچ کے سامنے اٹھایا گیا بعد میں فل کورٹ نے وکیل کے اعتراض کو قابل سماعت قرار دیکر جونئیر چیف جسٹس کو فارغ کردیا تھا.

    لہذا اُس کی روشنی میں آج اِس کیس میں بھی جناب جسٹس مظاہر نقوی صاحب کو مخاطب کرتے ھوئے استدعا کی کہ ایسے ہی از خود کاروائی کریں جیسے غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی کے تبادلے کے کیس میں آپ نے پنجاب کے الیکشن کا نوٹس لیکر چیف جسٹس کو بنچ بنانے کا لکھا تھا اس کیس میں بھی سینٹارٹی اصول کو طے کرنے کیلئے بڑا بنچ تشکیل دینے کیلئے کاروائی کیلئے چیف جسٹس کو نوٹ بھیج دیا جائے جس پر بنچ کے سربراہ جناب جسٹس یحی آفریدی نے فرمایا آپ کو اپنی شکایت و تحفظات لکھ کر دینی چاہئیے تھے.

    تاہم اس پر کنرانی عرض کیا کہ میرا مدعا اس موقع پر یہ کہنے کا نہ تھا میں نے میرٹ پر دلائل کیلئے تیاری کررکھی ہے جس پر دائیں و بائیں بیٹھے بنچ کے جونئیر جج صاحبان برھم ہوئے تووکیل نے یاد دلایا سندھ ہائی کورٹ میں جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف پٹیشن بھی زیرالتوء ہے جس پر بنچ کے دوسرے جج حسن رضا رضوی نے توھین عدالت نوٹس کی بات کی تو بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کنرانی سے غیر مشروط معافی مانگنے کی ہدایت کی جو یہ کہہ کر مان لی کہ ججوں کے سامنے گذشتہ 35 سالوں سے ادب احترام کے ساتھ پیش ہوتا رہا ہوں اب بھی مجھے معافی تو کیا ھاتھ جوڑنے پر بھی عار نہیں مگر عدالت اپنی کاروائ میرٹ پر چلائے فریق نہ بنے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ فریق بنے گی تو ہم بھی کھڑے ہیں اور پھر کوئی معافی نہیں مانگیں گے معزز جناب جسٹس یحی آفریدی نے دوسرے معزز جج جناب جسٹس حسن رضا رضوی کی رضامندی سے میرے معافی مانگنے کو قبول کرتے ہوئے مناسب تحریری حکم بعد میں جاری کرنے کا بتاکر عدالت کی کاروائ 24.8.23 تک ملتوی کردی تاہم جے آئی ٹی کو کاروائی کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سابقہ حکم کے تسلسل میں ملزم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کے عبوری حکم کی توسیع کردی.

  • امان اللہ کنرانی دھرنے میں شرکت کیلئے سپریم کورٹ بلڈنگ کے احاطے میں پہنچ گئے

    امان اللہ کنرانی دھرنے میں شرکت کیلئے سپریم کورٹ بلڈنگ کے احاطے میں پہنچ گئے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی آج اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی اپیل و پُکار پر عوام سے ان کے جائز مطالبات کے حق میں دھرنے میں شرکت و یکجہتی کیلئے سپریم کورٹ بلڈنگ کے احاطے میں پہنچ گئے اس موقع پر اپنے بیان میں توقع ظاہر کی ہےکہ عوام کا جم غفیر ملک میں 1-آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی و عدلیہ کے وقار و آزادی کے سربلندی کو اپنی قوت سے یقینی بنائینگے2-عدلیہ کوفرد واحد کی تسلط سے آزاد کرکے دم لیں گے3-عدلیہ کو بطور ایک آزاد ریاستی ادارہ ان کے وقار کو بلند و بحال کرائیں گے4-کسی خاص جماعت و دھشت گرد و خُود سر آئین شکن سنگین غداری کے مرتکب رہنما کی پزیرائی و حمایت کے اقدام و تاثر کو تحلیل کرکے قانون کی عملداری میں تمام شہریوں سے یکساں سلوک کو یقینی بنائیں گے5- عدلیہ کے آئینی کردار کوموثر و متحرک و معتبر بنانے اس کے وجود کے تحفظ کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ عدلیہ ملک و قوم کی آخری اُمید ہے مگر اس ادارے کو ایک فرد واحد کا یرغمال بنانا قانون کو معطل کرنا ناقابل قبول ہے7-سپریم کورٹ میں ادارجاتی عمل کا فوری آغاز کیا جائے8- سپریم جوڈیشل کونسل و جوڈیشل کمیشن کا اجلاس نہ بلانے سے اداروں کی بے توقیری ھورہی ہے ھماری خواہش و مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب اپنی ھٹ دھرمی ترک کردے 9-پارلیمنٹ کی بالادستی و قانون سازی کے حق کو تسلیم کرے از خود کاروائ پر سپریم کورٹ کے بنچ جناب قاضی فائز عیسی کے فیصلےکی روشنی و نئ قانون سازی کو روبہ عمل لایا جائے10-رجسٹرار سپریم کورٹ کو اپنی ذمہ داریوں سے فی الفور فارغ کیا جائے

    امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ SJC&JCP کے اجلاس فوری طور پر بلائے جائیں تاکہ ان اداروں میں زیر التواء امور کو سرعت کے ساتھ نمٹا یا جاسکے جس میں مختلف جج صاحبان کے خلاف ریفرنسز و سپریم کورٹ میں خالی آسامیوں کو پُر کیا جاسکے12- یا پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب عمر عطا بندیال صاحب فوری استعفی دیں ورنہ عوام اس عمل کے خلاف موثر منظم و پُرامن آواز اُٹھا کر احتجاج کو منتقی انجام تک پہنچانے میں عوام و دھرنے کے شرکاء کے ساتھ شانہ بشانہ موجود رہیں گے

  • بلوائی حملے نظرانداز،ملوث مرکزی ملزم کی پزیرائی حلف سے غداری ہے،امان اللہ کنرانی

    بلوائی حملے نظرانداز،ملوث مرکزی ملزم کی پزیرائی حلف سے غداری ہے،امان اللہ کنرانی

    سُپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ڈاکٹر علوی صاحب جناب چیف جسٹس سُپریم کورٹ پاکستان جناب مُحترم عطا بندیال صاحب نے 9 مئی 2023 کو کورکمانڈر لاھور کے گھر و جی ایچ کیو راولپنڈی کے سنگین دھشت گردی توڑ پھوڑ و بلوائی حملوں کو نظرانداز کرکے اس میں ملوث مرکزی ملزم کی پزیرائی و پیشوائی کی ہے دونوں نے اپنے حلف سے غداری و سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمے میں اعانت جُرم یعنی تعزیرات پاکستان کے دفعات 109,120-Bاور124-A کا ارتکاب کیا ہے جس سے ملزموں کی حوصلہ افزائی و قانون نافذ کرنے والے جوانوں و افسروں کی حوصلہ شکنی ھوئی ہے جو درجنوں کی تعداد میں ملک بھر کے ھسپتالوں میں زیر علاج ہیں قومی و انسانی جانوں کا ضیاع ایک درجن سے زائد بے گناہ شہری اس روز جام شہادت نوش کرگئے کئ شدید زخمی ھوئے اگر اسی تحریک کے سربراہ جس کی آو بھگت و تعریف و توصیف میں دونوں آئینی اداروں کے سربراہان ھلکان و غلطان ہیں پھر قوم کو آزاد کردیا جائے اس ملک کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کریں یا اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں جس کے آئینی سربراہ آئین و ریاست کے تحفظ و وفاداری کی بجائے ایک مخصوص پارٹی و سربراہ کی حفاظت و محبت میں گرفتار ھوچکےہیں وہ 24 کروڑ عوام کی مملکت کے سربراہ نہیں بلکہ وہ ایک مخصوص ذھنیت کی حامل سیاست کے نام پر دھشت گرد تنظیم کے زر خرید غلام ہیں جس میں ناقابل تردید آڈیو لیکس ثبوت کے لئےکافی ہیں

    امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ کم سے کم مجھے ایسی ریاست کے سربراہ و عدالت سے کے نام پر دھبے سے نفرت ہے مگر اپنی ماں ریاست پاکستان کی مانگ کو ایسا اُجڑا و بکھرا ھوا بھی نہیں دیکھ سکتا جہاں بلوچستان میں ایک عظیم لیڈر نواب محمد اکبر خان بگٹی شہید کو جو گورنر و وزیراعلی وفاقی وزیر داخلہ رہا جو پاکستان کے لئے گوادر کی سرزمین واگزار کرا چکا ھو جو قائداعظم کو بلوچستان میں خوش آمدید کہتا ھو جو قائداعظم کے دور میں بلوچستان کے دو رکنی کابینہ میں سے ایک ھو اس کو تو محض صرف صوبے کے وسائل کی بات کرنے پر تہہ و تیغ کردیا جائے مگر جو ریاست پر حملہ آور ھوں ریاستی اداروں کو تہس نہس کرتے ھوں اور اس کے مجرموں کیلئے نرم گوشہ رکھنے کے باوجود ریاست کے دو اھم اداروں کی سربراہی پر فائز رہتے ھوں اس ریاست کا خدا ہی حافظ ایسی سرزمین کے باسی منتظر ہیں کب میر جعفر و میر صادق و فساد فی الارض سے نجات کیلئے کوئی جرات مند کشتیاں جلانے والا طارق بن زیادہ پیدا ھو اور قوم کو ایسے بونوں سے نجات کا اقدام کرے جو ریاست کی بجائے اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہیں ریاست کی اساس کی بجائے اپنی”ساس”کو ترجیح دیتے ہیں

  • آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، امان اللہ کنرانی

    آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسی یشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  قومی اسمبلی کو آئین سے ماورا توڑنے کو جسٹس یحی آفریدی صاحب نے آرٹیکل 6 کی کاروائی کا بھی حکم دیا تھا GOP Sedition کا مقدمہ درج کرکے فوجداری مقدمات کا تجربہ رکھنے والے SCP Retd جسٹس دوست محمد پرمشتمل خصوصی ٹریبونل تشکیل دے کر آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے عمران خان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے

    امان اللہ کنرانی نے نے ڈاکٹر دانش کی ٹویٹ پر تبصرہ کیا، جس میں ڈاکٹر دانش نے کہا تھا کہ آج عمران خان، اسد قیصر،عارف علوی جس آئین کا بار بار حوالہ دے رہے ہیں اسی آئین پاکستان کی آئین شکنی کے یہ لوگ مرتکب ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر آئین شکن کہا،

    عام انتخابات 2018؛ ثاقب نثار کے دباؤ پر عُجلت میں کرائے گئے تھے. امان اللہ کنرانی

    سینارٹی کے اصولوں سے ماورا 6 ججز کیخلاف موثر تحریک چلائی جائے. امان اللہ کنرانی

    اسٹیٹ بینک کو فنڈز کی فراہمی کا حکم پارلیمنٹ کی خود مُختاری کو روندنا ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

  • عدالتی اصلاحات کا قانون، دیرینہ مطالبے کی تکمیل پرعید سے قبل عید مبارک، امان اللہ کنرانی

    عدالتی اصلاحات کا قانون، دیرینہ مطالبے کی تکمیل پرعید سے قبل عید مبارک، امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسی یشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعتہ الوداع المبارک کے روز پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کُن قانون سازی کے بعد آج اس کا روبہ عمل و نافذ العمل ہونا پاکستان کی تکریم و انصاف کے حصول کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ہے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ ‏اس قانون سازی کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، عوام و وکلاء کو انکے دیرینہ مطالبے کی تکمیل پر عید سے قبل عید کی مبارک، فسطائی دور کا خاتمہ، مشاورت پر اللہ تعالی کا باتھ کے تصور کی پزیرائی قوم و ملک کے لئے نیک شگون ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفیکیشن کا حکم دے دیا ،صدر نے اس بل کو دوسری بار دستخط کے بغیر واپس بھجوا دیا تھا ،سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا ،بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے ۔

    عام انتخابات 2018؛ ثاقب نثار کے دباؤ پر عُجلت میں کرائے گئے تھے. امان اللہ کنرانی

    سینارٹی کے اصولوں سے ماورا 6 ججز کیخلاف موثر تحریک چلائی جائے. امان اللہ کنرانی

    اسٹیٹ بینک کو فنڈز کی فراہمی کا حکم پارلیمنٹ کی خود مُختاری کو روندنا ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

  • حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ کے روز چیف جسٹس پاکستان کا کُھلی عدالت میں آبدیدہ ہونا و رونے کا مشق کرنا آئین کے تحت اپنے حلف میں کوڈ آف کنڈکٹ کی آرٹیکل 2&9کی صریحاً خلاف ورزی ہے-

    باغی ٹی وی : امان اللہ کنرانی نے کہا کہ پھر جس پس منظر میں چیف جسٹس نے اشک شوئی کی ہےوہ سینئر ترین جج جناب قاضی فائز عیسی و اہل خانہ کاکرب و درد تھاجس پر وہ روئے مگر بدقسمتی سے اس عمل کے موجد و معاون وہ خود تھے غالب کے بقول”کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ—-ھائے اس زود پشیمان کا پشیمان ھونا غالب ،اس سے ثابت وتا ہے چیف جسٹس جذبات کے رو میں بہہ جانے والے ہیں ان کو جذبات پر قابو نہیں ہے-

    چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    انہوں نے کہا کہ مخالفت و مخاصمت و حمایت کا برملا اظہار اپنے ایک جج صاحب کو دوسروں کو ان کے ساتھ یکجہتی پیغام دینے کے بعد اس نے اپنے آپ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں اس کی صدارت کرنے سے نااہل ثابت کردیا ہے اور برملا اس متنازعہ جج سے اپنے تعلق ثابت کردیا جس کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرالتوء ہے ایسی صورت میں اس بات سے واضح ہے کہ وہ اس معاملے پر کبھی بھی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس نہیں بلائیں گے یوں آئین کا آرٹیکل 209 ان کی موجودگی میں غیر موثر رہے گا اور فریق و مدعی کو آئین کے تحت آرٹیکل 10-A کی روشنی میں انصاف نہیں مل سکے گا یوں آئین کے دونوں آرٹیکل معطل رہیں گے جو یقیناً آئین کا منشاء نہیں ہے اور بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ اور آرٹیکل 4 وآرٹیکل 25 کی صریحاً خلاف ورزی ہے-

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    امان اللہ کنرانی نے کہا کہ یہاں تک جج کے لئے لازم ہے کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ انصاف ھوتا ھوا دکھائ بھی دے جبکہ یہاں پر اس کے برعکس رویہ ہے اس لئے ایسی اضطراری و معروضی حالات کے تناظر میں حکومت صدارتی حُکم نامہ نمبر 27 مجریہ 1970 کے آرٹیکل 2 کے تحت چیف جسٹس پاکستان جناب عمر عطا بندیال صاحب کو جبری رخصت پر بھیج کر ریفرینس کا تصفیہ ہونے تک سپریم کورٹ پاکستان کے سینئیر جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب کو قائمقام چیف جسٹس مقرر کیا جائے تاکہ وہ جلد از جلد اس ریفرینس کا فیصلہ کرکے رپورٹ صدر پاکستان کو بھجوا سکے اور اس کے بعد چیف جسٹس صاحب واپس اپنے عہدے پر براجمان ہوں-

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

  • ازخود نوٹس،رجسٹرار کا سرکلر،سابق صدر سپریم کورٹ بار کی مذمت

    ازخود نوٹس،رجسٹرار کا سرکلر،سابق صدر سپریم کورٹ بار کی مذمت

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج پاکستان و دنیا کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ ‏سپریم کورٹ پاکستان کے ایک بنچ کے عدالتی فیصلے کو ایک انتظامی سرکلر کے ذریعے رد کرنا COAS کامارشل لاء ریگولیشن کے زریعے آئین کو معطل کرنے کے عمل کے مترادف ہے

    امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی یہ دیدہ دلیری و دیگر ججوں کی بے بسی سپریم کورٹ کو تالا لگانے کے برابر، جج صاحبان کے منہ پرطمانچہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چہرے پر کالک ہے ہم اس بیہودہ و بدنیتی آئین و قانون سے ماوراء جرات کو آئین و عدالتی نظام عدل پر جارحانہ حملہ سمجھتے ہوئے اس کو رد کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے اور فیصلہ کریں کونسا فیصلہ قابل پیروی ہے یا نہیں ہے عدالتی میلہ و ٹھیلہ لگانے کی ہر گز ضرورت نہیں 15 جج صاحبان کو گھر بھیج دیا جائے کیونکہ ماضی میں ہر موضوع و معاملہ میں عدالتی فیصلے موجود ہیں اس کی روشنی میں رجسٹرار کو بچہ سکہ یا رنجیت سنگھ کا درجہ دیا جائے ھم ایسے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں .

    واضح رہے کہ از خود نوٹس کیس کے حوالہ سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد آج رجسٹرا سپریم کورٹ نے سرکلر جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا، اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی