Baaghi TV

Tag: امت مسلمہ

  • مولانا فضل الرحمان نے تمام مکاتب فکر کا مشترکہ کنونشن طلب کرلیا

    مولانا فضل الرحمان نے تمام مکاتب فکر کا مشترکہ کنونشن طلب کرلیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 10 اپریل کو تمام مکاتب فکر کا کنونشن معقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کنونشن میں مشترکہ حکمت عملی اور موقف اپنایا جائے گا، 13 اپریل کو کراچی میں عظیم الشان اسرائیل مردہ باد مظاہرہ ہوگا.

    باغی ٹی وی کے مطابق جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ا امت اسلامیہ کے نام اہم پیغام میں کہا کہ اسلامی دنیا کے حکمرانوں! تمھیں کیا ہوگیا ہے، اقتدار اور عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، پھر امریکہ کے سامنے کیوں سرنگوں ہو؟ کیا تم نے کلمہ توحید پڑھا ہے؟ توحید کا تقاضا صرف اللہ کے سامنے جھکنا ہے لیکن اسلامی دنیا کا حکمران امریکہ اور مغرب کے سامنے جھک رہا ہے، اللہ کے سامنے یہ ایمان کیسے قبول ہوگا؟ توحید کا یہ دعویٰ کیونکر اللہ کے حضور جھوٹا نہیں ہوگا، وقت ہے کہ سنبھل کر امت مسلمہ کی آواز بن جاؤ، امت مسلمہ آج بھی ایک صف میں ہے لیکن حکمران جذبات کی ترجمانی نہیں کررہے.

    انکا کہنا تھا کہ مسلمان حکمران امریکہ اور یورپ کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں، امت مسلمہ کی نمائندگی کا حق ادا نہیں کر رہے، اسرائیل اپنے مذموم عزائم کی طرف بڑھ رہا ہے، گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھتے قدموں سے کوئی عرب ملک نہیں بچ سکے گا، یہ مسئلہ ہمارے حرمین شریفین تک آئے گا, حرمین شریفین کا تحفظ کیا مسلمان حکمرانوں کا فریضہ نہیں ہوگا؟ یقین ہے کہ تمام تر سفاکیت اور عالمی قوتوں کی مضبوط پشت پناہی کے باوجود فلسطینیوں کی آزادی کا عزم نہیں ٹوٹے گا نہ مزاحمت کمزور ہوگی، امت مسلمہ ان کی پشت پناہی ہے اور یقین ہے کہ اللہ کی مدد اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ہے، ان شاء اللہ کفر شکست کھائے گا ذلیل و رسوا ہوگا اور اس کے عزائم ناکام ہونگے، آج فلسطین میں غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیلی صیہونی قوتوں کے ہاتھوں جو بیت رہی ہے یا بیت چکی ہے وہ تاریخ کے صفحات پر سیاہ دھبوں کے سوا کچھ نہیں، اسرائیل نے امن معاہدہ توڑ کر غزہ پر شب خون مارا ہے، یہ بزدلی کی تاریخ کا حصہ ہے اسے بہادری کا عنوان کبھی نہیں دیا جاسکتا، اس قوم کی بزدلی پر قرآن کریم گواہ ہے، انہوں نے انبیاء تک کو قتل کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی معاہدات توڑے ہیں، یہ آج بھی اسی روش پر قائم اور ناقابل اعتماد قوم ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فلسطین میں غزہ کے مسلمانوں کا خون پیا اور گوشت نوچا جا رہا ہے، ان کی ہڈیاں چبائی جارہی ہیں شیر خوار بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں تڑپ رہے ہیں جو کچھ ہوا اسے انسانی عمل سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا یہ سفاکیت اور درندگی ہے نیتن یاہو جنگی مجرم ہے اسے عالمی عدالت انصاف نے گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے عالمی عدالت نے صیہونی قوتوں کی بمباریوں کو خلاف قانون اور جرم قرار دیا ہے، نہ عدالتوں کی سنی جارہی ہے اور نہ قانون کا احترام ہورہا ہے نہ اخلاقیات کا دائرہ موجود ہے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ اور یورپ انسانیت کے قتل پر صہیونیت کا ساتھ دے رہے ہیں انکو حالیہ مہینوں میں ذلت آمیزشکست ہوئی. امن معاہدہ فلسطین اور غزہ کی عزت کا ذریعہ بنا، اسرائیل نے خفت مٹانے کے لئے شرمناک کردار کا آغاز کیا، گردن کٹ جانا شکست نہیں گردن جھک جانا شکست ہے، فلسطینیوں کے سر تو کٹ گئے لیکن جھکے نہیں، نہ سرنگوں ہوئے اور نہ ہجرت کی، آج وہاں انسانی سانحہ رونما ہے ،ساٹھ ہزار مسلمان شہید ہوچکے ہیں جن میں اٹھارہ ہزار بچے اور بارہ ہزار خواتین شامل ہیں، ڈیڑھ لاکھ زخمی ہیں تین لاکھ سے زائد عمارتیں تباہ، کوئی ایک کمرہ نہیں جہاں سر چھپایا جاسکے، عید الفطر بھی کھنڈرات بنے گھروں میں منائی.

    انہوں نے پیغام دیا ہے کہ ان حالات میں دنیائے اسلام کے شانہ بشانہ عید منا رہے ہیں، ان حالات میں معصوم بچوں کے بیانات سن کر شاباش دیتے ہیں کہ وہ ہمالیہ سے بلند ہمتوں والے ہیں، وہاں نہ ادویات ہیں نہ کھانے پینے کی کوئی چیز لیکن مسلمان حکمران خاموش ہیں، قرآن کریم میں جرم کرنے والے اور جرم پر خاموش رہنے والے برابر کے مجرم تصور کئے گئے ہیں، امت مسلمہ اپنے ملکوں میں اپنے حکمرانوں پر سیاسی دباؤ بڑھائے، یہ حکمرانوں کا ضمیر جھنجھوڑنے کا وقت ہے، ان کے اندر ذمہ داری کا احساس بڑھائیں، کیا پیسے کمانا, امریکہ و یورپ کی مدد حاصل کرنا، تجارت بڑھانا یہودیوں کے ساتھ تجارتی معاہدات کرنا تمہارے اہداف ہیں؟ یہی اہداف مسلمان حکمرانوں کی غلامی کا سبب ہیں، مسلمان آزاد پیدا ہوا ہے کوئی طاقت اسے غلام نہیں بنا سکتی.

    اسحاق ڈار کا امریکی ہم منصب سے رابطہ، اہم امور پر تبادلہ خیال

    وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کرلیا

    ہیری بروک انگلینڈ کی وائٹ بال ٹیم کے نئے کپتان بن گئے

    بلاول بھٹو زرداری نجی دورے پر دبئی روانہ

    آفاق احمد کا پانی کا مسئلہ حل اور ڈمپر مافیا کو قابو کرنے کا مطالبہ
    کراچی میں مسلسل 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ ،ایم کیو ایم کا شدید ردعمل آ گیا

  • امت مسلمہ کو گستاخی کرنے والوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ھو گا،تحریک انصاف

    امت مسلمہ کو گستاخی کرنے والوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ھو گا،تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف وسطی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد . جنرل سیکرٹری وسطی پنجاب حماد اظہر اور سیکرٹری اطلاعات عندلیب عباس نے اپنے مشترکہ بیان میں بی جے پی کے رہنماء کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں۔

    رہنماؤں نے کہاکہ او آئی سی بی جے پی کے رہنماء کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر بھارت کے خلاف سخت ایکشن لے۔ مودی نے کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ھے۔ تمام مسلمانوں کو ملکر مودی کے ظلم کو روکنا ھو گا۔

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں واحد لیڈر عمران خان ھے جنہوں نے اسلاموفوبیا پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں آواز بلند کی اور دنیا کو بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی سے سارے مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں۔

    وقت کی ضرورت ہے کہ تمام مسلمانوں کو یک جان ھو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ھو گا اور ان کے خلاف سخت ایکشن لینا ھو گا تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

  • "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    گرین شیٹ اور لائٹس سے مزین یہ روم اسٹوڈیو کہلاتا ہے. بالی ووڈ سے لے کر نیوز چینلز اور حتیٰ کہ یوٹیوب چینلز تک سبھی اس کو حسب اسطاعت استعمال کرتے ہیں. یہاں تک کہ بالی ووڈ کی کئی اقساط پر مشتمل سیریز اور موویز اس ایک کمرے میں بنتی ہیں. ان گرین ، بلیو یا دیگر شیٹس کو بنیادی طور پر کروما شیٹس کہا جاتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایڈیٹنگ میں اس کروما کو کٹ کرکے رنگ بھرنگے ساکن اور متحرک بیک گراؤنڈز وغیرہ سیٹ کیے جاتے ہیں. جن کرداروں کو حقیقت سے ہٹ کر دکھانا ہو تو ان کو بھی ان کروما شیٹس میں کچھ اسطرح سے کیمرے کے سامنے لایا جاتا جس میں بعد از ایڈیٹنگ ان کی ہیئت ہمیں عجیب و غریب دکھتی ہے.

    آپ بھی کہتے ہوں گے کہ عبداللہ نے یہ کیا بتانا شروع کردیا اور کوئی ان چیزوں کا ماہر مجھ سے ہزار درجہ بہتر یہ ساری چیزیں بیان کرے گا لیکن آج آفس میں اسٹوڈیو کی تصویر بنائی تو میرے ذہن میں بھی کوئی بات نہیں تھی بس فوٹو گرافی کی عادت کے تحت تصویر بنا لی لیکن ابھی سوشل میڈیا پر اور اس سے قبل بھی اکثر اوقات اپنے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو مختلف حادثات و واقعات میں کنفیوز اور پھر اسی کنفیوزن میں مختلف تبصرے اور تجزیئے کرتے دیکھتے ہیں تو ہنسی بھی آتی اور دکھ بھی ہوتا کہ ہم لوگ کب سطحیت سے نکل کر بین السطور دیکھنا شروع کریں گے. ہم کب اس بات پر غور کریں گے دنیا کے اس اسٹوڈیو میں ہدایت کار کیسے مختلف واقعات کو کروما شیٹس پر سیٹ کرتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے چیزیں آتی ہیں تو بالکل بدلی ہوئی اور ہم اسی کو حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں( جیسے ارطغرل ڈرامے اور اردگان کی تقاریر کو ہمارا جذباتی نوجوان عمران خان کی تقاریر کی طرح سریئس لے کر جذباتی ہوجاتا ہے).
    حالیہ ایران و امریکہ تنازعے میں اور اس سے قبل کی شام و عراق کی بربادیوں کیفیت بھی ایسی ہی ہے. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح اردگان بہت اچھا لیڈر ہے مگر صرف ترکی کے لیے ترکی سے باہر دیگر مسلم ممالک اور اقوام کے لیے وہ دوسروں سے کم نہیں ہے جو فقط اپنے مفادات دیکھتے ہیں ایسے ہی اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ ایران کے آنجہانی جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات بے پناہ ہیں اس کی قابلیت اور لیاقت ایسی کہ ملڑی اکیڈمیز میں پڑھائی جائے لیکن اس کا سارا کچھ ایران کے لیے تھا امت مسلمہ کے لیے نہیں البتہ شام و عراق کے کھنڈرات میں بہت بڑا کردار اس جنرل قاسم سلیمانی اور اس کی تیار کردہ فورسز کا بھی ہے.
    میں نے دن میں بھی یہ بات کی تھی کہ مڈل ایسٹ میں پکی ہوئی کچھڑی کے معاملات کو آپ فقط فیسبک کی دو چار پوسٹس سے نہیں سمجھ سکتے اور جب سمجھ ہی نہیں سکتے تو ان پر تبصرہ کیسے کر سکتے ہیں کہ وہاں کے ٹوٹل کردار تو کروما شیٹس کے پیچھے چھپے ہوئے اور آپ کے سامنے اصل حیثیت میں موجود ہی نہیں ہے. فقط شام کو لیں تو شام میں ایران، روس، ترکی، امریکہ، داعش، فری سیرین آرمی و دیگر گروپس براہ راست موجود تھے اسکے علاوہ دیگر ممالک کے سپانسرڈ گروپس کی تعداد بیسیوں سے متجاوز تھی اور یہ سب کردار باہم دست و گریباں تھے اور ہیں. آپ جب تک ان سب کے مفادات، آپس کے تعلقات، آپس کی دشمنیوں کو نہیں سمجھتے تب تک آپ کیا سمجھیں گے.
    لہذا اپنے دوستوں کو کہوں گا کہ ہر موضوع اور ہر موقعہ پر تبصرے اور تجزیئے دینا ضروری نہیں ہے بلکہ حالات اور کرداروں کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے اور ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو بھی تلاشنا چاہیے یہ نہ ہوکہ موویز اور ڈراموں کی طرح عالمی ہدایت کاروں کے اسٹیج کردہ یہ فکشن اور خون سے بھری یہ رئیل اسٹوریز میں مختلف لوگوں کا کردار آپ کو دھوکہ دے دے اور کوئی ولن آپ کی نظر میں ہیرو ٹھہر جائے.
    انتہائی ضروری نوٹ: یہ چند الفاظ میں نے انتہائی حد تک غیر جانبدار ہوکر لکھے ہیں میرے لیے بہت آسان تھا کہ جذباتی ہوکر الفاظ کا نوحہ لکھوں، شام و عراق میں شہید ہونے والے امت مسلمہ کے جواہرات کا ماتم لکھوں اور لوگوں کو بتاؤں آپ جن کو ہیروز سمجھتے ہیں ان کے کردار کی وجہ سے کتنے لاکھوں مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے شہید ہوئے اور کروڑوں آج جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah

  • جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ بدو و احد میں نہ نکلتے، نہ صحابہ شہید ہوتے نہ نبی مکرم کے دندان مبارک شہید ہوتے، نہ مرحب شیر خدا کے ہاتھوں زیر ہوتا نہ مکہ و حنین فتح ہوتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو روم و فارس ابو عبیدہ اور خالد ابن ولید کے پاؤں تلے نہ روندے جاتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو ابن قاسم سندھ میں، ابن نصیر اندلس میں اور ابن باہلی چائنہ میں اپنے گھوڑوں کا نہ دوڑا رہے ہوتے. اسلام کی تو تاریخ ہی جنگوں سے عبارت ہے ہاں یہ جنگ ظلم و فساد نہیں پھیلاتی بلکہ اسلام نے اس کو جہاد کا نام دیا ہے جو انسانوں کو ظلم و ستم سے بچاتا ہے، جو فتنہ و فساد سے بچاتا ہے، جو بندوں کو بندوں ہی کی بندگی سے نکال کر ایک رب کے سامنے جھکاتا ہے، جو دنیا سے فتنے اور ظلم کا خاتمہ کرتا ہے. اسلامی تعلیمات تو بھری پڑی جہاد کے احکامات سے اگر جہاد پر مشتمل قرانی آیات کو جمع کیا جائے تو سوا آٹھ پارے بنتے جن میں اللہ اپنے بندوں کو جہاد اور حکمت کا اک اک گر سکھاتا، کہیں اللہ جہاد کی تیاری کا حکم دیتا تو کہیں انٹیلیجنس کے درس دیتا، کہیں بین الاقوامی تعلقات سکھاتا تو کہیں حملے اور دفاع کے طریقے تو آج کا مسلمان کیسے کہہ سکتا ہے کہ جنگ کسی مئلے کا حل نہیں ہے؟؟ آپ پاکستان کی کسی بھی چھاؤنی میں چلے جائیں آپ کو جہادی آیات کے کتبے دور سے نظر آئیں گے جن کو پڑھ اور سمجھ کر نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت مچل اٹھتا ہے. آپ پڑھو ذرا قران کو کہ اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر واضح طور پر فرماتا ہے ” وما لکم لا تقاتلون….. الخ” تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ کے رستے میں ان کمزور عورتوں، مردوں، بچوں اور بوڑھوں کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے جو رو رو کر اللہ سے فریادیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس ظلم کی بستی سے نکال لے کہ یہاں کے رہنے والے ہم پر ظلم کرتے ہیں” آج اہل کشمیر اس حالت میں اللہ کے سامنے فریادی ہیں اور مدد کے لیے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں تو تم کہتے ہو کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے. پوچھو کیوں جی تو کہیں گے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی حالت متحمل نہیں ہے جنگ تو تبوک میں مدینہ والوں کی معاشی حالت پڑھو ذرا خشک سالی کے پکی فصلیں کھیتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، ابوبکر رض کے دور خلافت کے اوائل میں پڑھو ذرا لشکر اسامہ بن زید کی روانگی کے قصے کہ سازشیں، فتنے عروج پر تھے مگر جو لشکر نبی نے روانہ کرنا چاہا تھا اس کو اولین ترجیح پر رکھا. آج تمہارے معاشی و سیاسی مسئلے بڑے ہوگئے ہیں امت مسلمہ کے قتل عام سے؟ ؟
    ہاں جنگ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے مگر جب جنگ مسلط کردی جائے تو پھر جنگ سے بھاگنا فقط جنگ سے بھاگنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رحمتوں سے اللہ کے عذاب اور نافرمانی کی طرف بھاگنا ہوتا ہے.

    Muhammad Abdullah
  • اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    منظر فلسطین کے شہر غزہ کا ہے رات کا سناٹا چھایا ہے اسرائیلی فوج نے کرفیوں لگا رکھا ہے جو کہ چار دن سے جاری ہے کسی کو باہر آنے جانے کی اجازت نہیں ام عبداللہ اپنے دو بیٹوں عبداللہ جس کی عمر 12 سال اور عبدالہادی جس کی عمر 6 سال ہے کو لئے گھر میں بغیر مرد کے بیٹھی ہے کیونکہ چھ ماہ پہلے اسرائیلی فورسز نے ام عبداللہ کے شوہر محمد خالد کو شہید کر دیا تھا رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی ہے اتنے میں عبدالہادی چلانے لگتا ہے ماما رات بھی آپ نے کھانا نہیں دیا مجھے بھوک لگی ہے کھانا دو ماما مجھے کھانا دو ماں کی ممتا ٹرپ جاتی ہے اپنے لخت جگر کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور کہتی ہے میرے لال تمہارا ماموں کھانا لے کر آ رہا ہے تو فکر نا کر سو جا صبح ہونے والی ہے صبح ہوتے ہی تیرے ماموں جان ضرور آئینگے عبدالہادی چیخ پڑا ماما جی آپ روز یہی کہتی ہیں مگر ماموں جان نہیں آتے پاس بیٹھا عبداللہ بولا ماما جی اجازت دیجئے میں خود ہی نانی اماں کے گھر سے کھانا لے آتا ہوں ام عبداللہ نے جب اپنے لخت جگر کی بات سنی تو ٹرپ کر بولی میرے جگر باہر صیہونی فوج کرفیو لگائے بیٹھے ہیں وہ تو ہم سب کی جان کے پیاسے ہیں میرے لال میں تمہیں ہرگز نا جانے دونگی عبداللہ بولا ماما جی چار دن سے کچھ نہیں کھایا اگر اب کھانا نا ملا تو ہم تینوں مر جائینگے لہذہ میری ماں مجھے جانے دیجئے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی تو نانی جان کا گھر ہے میں ابھی گیا اور ابھی آیا مجھ سے عبدالہادی کا رونا نہیں دیکھا جاتا ماں خاموش ہو گئی اور اپنے جگر گوشے کا ماتھا چوما اور دل میں ہزاروں وسوسے چھپائے بولی جا بیٹا احتیاط سے جانا اور نانی جان کو میرا سلام کہنا ام عبداللہ اپنے جگر کو دروازے تک چھوڑنے گئی اور ڈورتے ہوئے عبداللہ کو حسرت سے دیکھتی رہی
    دوسری طرف ستر سالہ ام جعفر اپنے نواسے کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور سینے سے لگا کر بولی میرے پیارے تو اتنے خطرے میں کیوں گھر سے نکلا تو عبداللہ نے سارا ماجرا بیان کیا ام جعفر عبداللہ کی باتیں سن کر پریشان ہوگئی کیونکہ یہی ماجرہ ان کے اپنے ساتھ بھی تھا خیر ام جعفر نے پوتے کو تسلی دی اور خود کچن میں جا کر دیکھنے لگی آخر سوکھی ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے ملے اور اپنے نواسے کو دیتے ہوئے بولی لے میرے جگر ان سے گزارہ کرنا ابھی دن کا اجالا نمودار نہیں ہوا جا اجالا ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جا اور یہ ڈبل روٹی کھا کر اللہ کو یاد کرنا اللہ مدد فرمائینگے
    12 سالہ عبداللہ ہاتھ میں سوکھی روٹی کے ٹکڑے اٹھائے گھر کی جانب بھاگ رہا تھا جب گھر کی چوکھٹ کے قریب پہنچا تو اپنے سامنے صیہونی فوج کو دیکھا ابھی عبداللہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اسرائیلی فوجی کی گولی عبداللہ کے عین دل کے اوپر لگی اور بیچارہ عبداللہ اپنے اور اپنے بھائی کے پیٹ کا سامان جہنم ہاتھ میں پکڑے رب کی جنت کا مہمان بن گیا ادھر کمرے میں بند ام عبداللہ نے تشویش سے گھر سے باہر جھانکا تو اپنے لخت جگر عبداللہ کو خون میں لت پت دیکھا تو فوری اپنے لال کے اوپر اپنی مامتا کی آغوش کا سایہ کرکے رونے لگی کہ اتنے میں ظالم فوجی کی دوسری گولی آئی اور ام عبداللہ بھی اپنے لخت جگر کے اوپر گر کر رب کی جنت کی مہمان بن گئی ادھر یہ دونوں ماں بیٹا صیہونی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تو اندر ننھا عبدالہادی بھوک کیساتھ ٹرپ ٹرپ کر رب کی جنتوں کا مہمان ٹھہرا
    آہ بھوک کیسی ظالم چیز ہے پاکستانیوں ان بے کسوں سے پوچھو