Baaghi TV

Tag: امدادی سرگرمیاں

  • دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری

    دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری

    دریائے ستلج میں دو مقامات پر اونچے سے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر صوبہ پنجاب کے کچھ حصوں سے لوگوں کے ریسکیوں اور انخلا کی کوششیں جاری ہیں۔

    باغی ٹی وی: ہفتہ کے روز دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا بیراج کے مقام پر سیلاب انتہائی اونچے درجے تک پہنچ گیا تھا جس کے پیش نظر قصور اور چونیاں کے 72 دیہاتوں سے سینکڑوں خاندانوں کو نکال لیا گیا ہے جب کہ قصور میں اونچے مقام کی تلاش کی کوشش کے دوران تین افراد سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔

    قصور میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، پنجاب میں موسم گرما کے بعد آج سے تعلیمی سرگر میوں کا آغاز ہورہا ہے تاہم پاکپتن کے متاثرہ علاقوں میں اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہےسیلاب متاثرہ علاقوں میں گنڈا سنگھ والا، دھپ سری، اٹاری اور گھٹی کلنگر، اولاکے، جمعے والا، کمال پورہ، اورنجابت متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے گرفتار

    جہاں سے ہزاروں افراد کو سیلاب سے نکالنے اورمحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کاعمل جاری رہا ہے۔ پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہیں،ہزاروں متاثرہ خاندانوں میں لگ بھگ 16 ٹن مفت راشن بھی تقسیم کیا گیا ہے راشن پیکس میں آٹا، دال، چاول، گھی اور دودھ سمیت ضروری اشیائے شامل ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی سیلاب زدگان کیلئے ضروری طبی امداد کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا گیا،امدادی کارروائیاں معمولات زندگی بحال ہونے تک جاری رہیں گی دوسری جانب پاکپتن میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ایجوکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں 17 اسکول بند رہیں گے۔

    ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام پر پابندی لگانے کا فیصلہ

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی پیشن گوئی کے مطابق سلیمانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی توقع ہے،دریں اثنا، پنجاب میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر کی سطح کم ہو رہی ہے جبکہ سلیمانکی ہیڈ ورکس میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اسلام ہیڈ ورکس پر دریا میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاول نگر، ملتان اور لودھراں کے نشیبی علاقے سیلاب کی زد میں ہیں اور ان علاقوں میں مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے بیان میں کہا گیا کہ ان علاقوں میں سیلاب سے متعلق امدادی مراکز کے قیام کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جب کہ انخلا کا عمل جاری ہے آج سے پہلے پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا تھا کہ ضلع اوکاڑہ میں 56 مقامات سیلاب سے متاثر ہونے کی توقع ہے۔

    قرض واپس نہ کرنے پربھارتی بینک کاسنی دیول کا گھر نیلام کرنے کا فیصلہ

  • بلوچستان، بارشوں کے دوران 42 بچوں سمیت 120 اموات

    بلوچستان، بارشوں کے دوران 42 بچوں سمیت 120 اموات

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریاں ، متاثرہ علاقوں میں فضائی امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    حکومت بلوچستان کے ایم آئی سیونٹین ہیلی کاپٹر کی جھل مگسی میں امدادی کارروائی جاری ہے ہیلی کاپٹر کے ذریعے راشن ، ادویات اور پینے کا صاف پہنچایا گیا ہیلی کاپٹر کے ذریعے شدید بیمار مریض کو کوئٹہ منتقل کیا گیا ،

    بلوچستان میں مون سون بارشیں ،نقصانات سے متعلق پی ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے بلوچستان میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 120 افراد جاں بحق ہوئے بلوچستان میں بارشوں کے دوران جاں بحق افراد میں 46 مرد،32 خواتین اور 42 بچے شامل ہیں اموات بولان ، کوئٹہ، ژوب، دکی، خصدار، کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ میں ہوئیں بلوچستان میں بارشوں کے دوران 70 افراد مختلف حادثات میں زخمی ہوئے بلوچستان میں بارشوں کے دوران 12 ہزار 320 مکانات منہدم ہوئے ،

    دوسری جانب ڈیرہ غازی خان، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ڈیرہ غازی خان کا سیلاب سے ایک لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبہ زیرآب آیا،برساتی ندی نالوں کے سیلاب سے 87 ہزار لوگ متاثر اور8جاں بحق ہوئے،متاثرہ علاقوں میں 21 رابطہ سڑکیں مکمل اور جزوی متاثر ، 499 جانور بہہ گئے متاثرہ علاقوں سے 972 افراد کو ریسکیو کیا، 14ریلیف کیمپ قائم کئے گئے سیلابی پانی اترنا شروع ہو گیا ہے متاثرین کی گھروں کو واپسی جاری شروع ہو گئی ہے 123 افراد ریلیف کیمپوں میں موجود ہیں متاثرین میں خشک راشن اور 690 خیمے ،500 ٹینٹ ،500 چٹائیاں ،200 مچھردانیاں تقسیم کی گئی ہیں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں،

    تخت بھائی میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے نشیبی علاقے زیرآب آ چکے ہیں بارش کا پانی ماکیٹوں، گھروں اور مساجد میں داخل ہو چکا ہے مین ملاکنڈ روڈ پر پانی جمع ہے راہگیروں کو مشکلات کا سامنا ہے

    ڈیرہ اسماعیل خان، تحصیل پہاڑپور کے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی آبادی میں داخل ہو گیا ہے ٹانک اور گومل سے آنے والے سیلابی پانی سے رہائشی متاثر ہوئے ہیں بندکورائی ،بگوانی شمالی، وانڈہ خالق شاہ ،سول راکھ کیچ کے لوگ نقل مکانی پر مجبورہو چکے ہیں پہاڑپور واٹر چینلز کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پانی نے آبادی کا رخ کر لیا پانی اسکولوں، گھروں ، کھیتوں اور بجلی کے گریڈ میں داخل ہو چکا ہے

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سیہون پہنچ گئے، بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سیہون میں منچھر جھیل ، دراوٹ ڈیم کا معائنہ کریں گے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے بارش سے متاثرہ لوگ ملاقات بھی کریں گے،

    قبل ازیں سکھر بیراج کے مختلف گیٹوں سے 7 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، انتظامیہ کو اطلاع دے دی گئی دو روز قبل بھی 5 لاشیں نکالی گئی تھیں،

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں