Baaghi TV

Tag: امداد

  • ہمیں مل کر سیلاب زدگان کی مدد کیلئے نکلنا ہو گا، طاہر محمود اشرفی

    ہمیں مل کر سیلاب زدگان کی مدد کیلئے نکلنا ہو گا، طاہر محمود اشرفی

    وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطی اورچیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ آج ہمارے سیلاب زدگان سخت مشکل میں ہیں اور یہ ایسا وقت ہے کہ ہم نے بغیر کسی تعصب کے ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے۔پیغام پاکستان یہی درس دیتا ہے کہ مصیبت میں دوسروں کی مدد کرو، ہمیں مل کر سیلاب زدگان کی مدد کیلئے نکلنا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی آرٹس کونسل میں ”پیغام پاکستان علماء کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کانفرنس کا انعقاد حکومت پنجاب اور اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے کیا۔

    حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمارا فخر ہیں۔آج ملک میں سیلابی صورتحال ہے، پاک فوج کے جوان اور مذہبی جماعتوں کے رضاکار سیلاب زدگان کی مدد کیلئے میدان میں ہیں۔موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتیں تین ماہ کیلئے سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کیلئے مصروف ہو جائیں۔

    حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پیغام پاکستان ایک دستاویز ہے جس پر ملک کے پندرہ ہزار علماء کرام کے دستخط ہیں اور یہ ایک ضابطہ اخلاق اور زندگی گزارنے کا اصول ہے۔پیغام پاکستان میں اپنے مسلک اور عقیدے پر رہتے ہوئے دوسروں کے مسلک اور عقیدے کا احترام سکھایا گیا ہے۔پیغام پاکستان آئین پاکستان کے بعد سب سے بڑی دستاویز ہے جس میں اقلیتوں کے حقوق متعین کئے گئے ہیں۔اس میں کہا گیا ہے کہ ہماری عبادت گاہیں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام کیلئے استعمال ہونی چاہئے نہ کہ نفرت اور تعصب کیلئے، آئین پاکستان نے اقلیتوں کو مکمل حقوق دیئے ہیں، پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پیغام پاکستان کا سب سے بڑا نقطہ امن کا ہے، سال 2000 کے بعد ہمارے ملک پر دہشت گردی مسلط کی گئی۔

    پاکستانی فوج اور قوم نے مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور فتح حاصل کی، ہم نے مل کر اس ملک کو مضبوط بنانا ہے اور اس کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مشترکہ کاوشیں کرنی ہیں۔دشمن اس ملک کو کمزور کرنا چاہتا ہے، ہم نے مل کر ملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ موجودہ سیلابی صورتحال میں ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو لوگوں کی مجبوری سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ منافع خور اور ذخیرہ اندوز اللہ کے قہر سے ڈریں

    ۔شوکت ترین کی مبینہ آڈیو ویڈیو کے حوالے سے سوال پر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان سب کا ہے۔ اگر پاکستان پر مشکل وقت آئے گا تو پوری پاکستانی عوام مشکل میں آ جائے گی۔ سب کو پاکستان کی بہتری کیلئے مل کر سوچنا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ پیغام پاکستان علماء کانفرنس میں بڑی تعداد میں علماء کرام اور مشائخ نے شرکت کی

  • سیلاب متاثرین کیلیے ریلیف آپریشن،پاکستان کے دوست ممالک میدان میں آ گئے

    سیلاب متاثرین کیلیے ریلیف آپریشن،پاکستان کے دوست ممالک میدان میں آ گئے

    پاکستان کے دوست ممالک نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کیلئے یقین دہانی شروع کردی

    ترکی کے 4 ملٹری ایئرکرافٹ امدادی سامان لے کر کراچی پہنچ گئے، یو اے ای کے 2 جہاز امدادی سامان لے کر نور خان ایئربیس راولپنڈی پہنچ گئے،یو اے ای سے ایک اور جہاز امدادی سامان لے کر شام تک راولپنڈی پہنچے گا،چین سے 2جہاز امدادی سامان لے کر آئندہ 48 گھنٹوں میں پاکستان پہنچیں گے،بحرین سے ایک جہاز امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچے گا،امدادی سامان میں خیمے، ادویات اور کھانے پینے کی اشیا شامل ہیں،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات حکام سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے رابطہ کیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر یو اے ای کے حکام نے 20 طیاروں پر مشتمل امدادی سامان پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    قبل ازیں پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کی جانب سے 16 ٹن راشن سیلاب متاثرہ علاقوں کو بھجوایا گیا ہے،آرمی ریلیف سینٹر کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں ریلیف آئٹمز بھجوا ئے گئے ہیں ، لاہور کور کی جانب سے 8 ٹن خوراک لاہور سے صعبت پور ، بلوچستان بھجوائی گئی راولپنڈی کور کی جانب سے کے پی کے کے علاقے ڈی آئی خان میں 4 ٹن راشن بھجوایا گیا ہے جبکہ گوجرانوالہ کور کی جانب سے سیالکوٹ سے پنوں عاقل 4 ٹن راشن بھجوایا گیا ہے

  • عرب امارات کےصدرمحمد بن زید النہیان نے پاکستان کےسیلاب متاثرین کی امداد کا اعلان کردیا

    عرب امارات کےصدرمحمد بن زید النہیان نے پاکستان کےسیلاب متاثرین کی امداد کا اعلان کردیا

    لاہور:عرب امارات کےصدرمحمد بن زید النہیان نے پاکستان کےسیلاب متاثرین کی امداد کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق حسب روایت اور حسب عادت مصیبت زدہ قوموں کی مدد کا عزم مصمم رکھنےوالی مسلم دنیا کے رہنما اور متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی فوری امداد کےلیے 300 ٹن خوراک،خیمے اورعلاج معالجے کی سہولیات کے ساتھ ادویات پہنچانے کا اعلان کیا ہے

    ۔

    پاکستان کے سیلاب متاثرین کی فوری مدد اور اس تعاون سے ان کے مصائب کو کم کرنے اور ان کے حالات زندگی کو بہتر بنانے کی امید ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے صدر کی جانب سے اس طرح کی امداد فراہم کرنے کا اقدام ایسے سنگین حالات میں متحدہ عرب امارات اور اس کے عوام کی پاکستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔

    عرب امارات کے حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امداد کا مقصد ملک بھر کے وسیع علاقوں میں سیلاب آنے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر قابو پانے میں پاکستان کی کوششوں کو تقویت دینا اورلوگوں کے مصائب اور مسائل کو کم کرنا ہے

     

     

    یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے گہرے دوطرفہ تعلقات کا مضبوط ثبوت ہے، اور متحدہ عرب امارات کی پالیسی اور اس کے انسانی ہمدردی کے مشن کے ساتھ ہم آہنگ ہے تاکہ دنیا بھر میں پسماندہ کمیونٹیز کو امدادی اور انسانی ہمدردی کے پروگراموں اور منصوبوں کے ذریعے مدد فراہم کی جائے، جو ان کے مصائب کو کم کرتے ہیں اور ان کی ترقی کی کوششوں کو چلائیں.

    ادھر دوسری طرف شیخ محمد بن زاید آل نھیان کی ہدایت اور الظفرہ ریجن میں حکمران کے نمائندے اور امارات ہلال احمر(ای آر سی) کے چیئرمین عزت مآب شیخ حمدان بن زاید آل نھیان کی زیرنگرانی متحدہ عرب امارات نے سوڈان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے بڑی مقدار میں امداد اور پناہ گاہوں کا سامان فراہم کرنے کے لیے خرطوم کے لیے امدادی پروازوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

    پہلا امدادی طیارہ پناہ گاہوں کا 30 ٹن مختلف سامان لے کر روانہ ہوگیا ہے جس کے بعد امدادی سامان سے لدے 3 اضافی طیارے روانہ کیے جائیں گے،یہ طیارے امارات ہلال احمر کا وفد وصول کرے گا، جس نے متاثرین کی مدد کے لیے اورکئی دنوں سے جاری امدادی پروگرام کی نگرانی کے لیے پہلے ہی سوڈان میں اپنا بیس قائم کر رکھا ہے۔

    امارات ہلال احمر فضائی راستے سے امدادی آپریشن کی نگرانی کر رہا ہے، جس کے ذریعے بلیو نیل، خرطوم اور الجزيرةسمیت متعدد ریاستوں میں 1لاکھ 40ہزار سے زیادہ متاثرین اور بے گھر افراد کو امداد فراہم کی جائے گی۔ امدادی سامان میں تقریباً 10ہزار خیمے، خوراک اور طبی امداد کے28ہزار پارسل، پناہ گاہوں کے 120 ٹن سامان کے ساتھ ساتھ ہنگامی امداد کا سامان شامل ہے، جس سے متاثرہ آبادی کے حالات زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی

  • برطانیہ کا پاکستان کے  سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان

    برطانیہ کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان

    اسلام آباد:برطانیہ نے پاکستان کو مادی سرگرمیوں کے لیے 1.5 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے جنوب میں سیلاب سے کم از کم 900 افراد کی ہلاکت کے بعد برطانیہ پاکستان کو فوری امداد فراہم کر رہا ہے۔

     

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،آرمی چیف

    برطانوی ہائی کمیشن نے کہا کہ مون سون کی شدید بارشوں نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے، پاکستان میں 700,000 گھر تباہ ہو گئے ہیں، اس قدرتی آفت کے مقابلے کے لیے برطانیہ امدادی سرگرمیوں کی مد میں 1.5 ملین پاؤنڈز امداد فراہم کرے گا۔

     

    ہائی کمیشن نے کہا کہ اقوام متحدہ رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان میں آفت کے باعث ضروریات کا جائزہ لے رہا ہے، توقع ہے کہ منگل کو اقوام متحدہ کی (پاکستان کی امداد کے لیے) اپیل شروع کی جائے گی۔

     

     

    نمائندہ خصوصی برائے برطانوی وزیراعظم لارڈ طارق احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب نے مقامی کمیونٹیز کو تباہ کر دیا ہے، برطانیہ فوری بعد میں مدد کے لیے 1.5 ملین پاؤنڈ تک فراہم کر رہا ہے۔

    لارڈ طارق احمد نے کہا کہ ہم اس تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے، یہ کس طرح سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو متاثر کرتی ہے، میرے خیالات اور دعائیں تمام متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

  • سیلاب زدگان کی امداد کیلئے پی ٹی وی،ریڈیو پاکستان پرخصوصی ٹرانسمشن چلانے کی ہدایت

    سیلاب زدگان کی امداد کیلئے پی ٹی وی،ریڈیو پاکستان پرخصوصی ٹرانسمشن چلانے کی ہدایت

    سیلاب زدگان کی امداد کیلئے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان پر خصوصی ٹرانسمشن چلانے کی ہدایت
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی اجلاس کے آغاز میں سیلاب زدگان متاثرین کیلئے دعا کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے سیلاب زدگان کیلئے اور ان کی امداد کیلئے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان پر خصوصی ٹرانسمشن چلانے کی ہدایت دیں کہ اس خصوصی ٹرانسمیشن میں سیلاب متاثرین کو براہ راست شامل کریں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے کمیٹی اپنا بھر پورکردار ادا کرے گی اور ساتھ ہی ساتھ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کا بھی اس حوالے سے اہم کردار ہے۔ سیلاب زدگان کیلئے جو فنڈقائم کیا گیا ہے اس کی تشہیر ضروری ہے، خدمت خلق کے اداروں کواس حوالے سے فعال بنانا چاہئے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اے آر وائی کی بندش کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی سینیٹرفیصل جاوید نے پیمرا کو چینل ان ائر کرنے کی ہدایات جاری کیں اور کہا کہ اے آر وائے کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ معاملات طے ہونے تک چینل کو ان ائر کردیا جائے۔چینل کی بندش سے 400 ملازمین کا روزگار خطرے میں ہیں جس کا مطلب ہے کہ 400 خاندان متاثر ہوں گے۔سندھ ہائی کورٹ نے بھی اے آر وائی کی نشریات کھولنے کا کہا ہے۔پیمرا اور چینلز کو اس حوالے سے پل کا کردار ادا کرنا چاہئے، اس معاملے پر پیمرا کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔آزادی صحافت، میڈیا پر کوئی قد غن نہیں ہونی چاہئے۔چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کو بتایا کہ کیبل آپریٹر کے ساتھ ان کا مسئلہ ہے۔اے آر وائی کیبل آپریٹر کے ساتھ انٹر کنیکٹ معاہدہ نہیں کر رہا جس کی وجہ سے یہ مسئلہ چل رہا ہے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کسی بھی چینل کی بندش نہیں ہونی چاہئے خواہ کوئی بھی دورحکومت ہو۔انہوں نے کہا کہ اپنی حکومت میں بھی آپکو نوٹس لینا چاہئے تھا چلو ابھی لیا اچھی بات ہے۔چیئرمین کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر وزیر صاحبہ کمیٹی کو ٹائم نہیں دے سکتی تو ایک اور وزیر ساتھ میں لگا دیا جائے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کو معاملات دیکھ سکیں۔اے آر وائی کی بندش کا معاملہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کی عدم شرکت کے باعث چیئرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ تک موخر کردیا۔

    صحافیوں کے حقوق کیلئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے پیش کیا گیا بل بھی ان کی غیر موجودگی کے باعث اگلی میٹنگ تک موخر کردیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کی حلف برداری کی تقریب پی ٹی وی پر براہ راست نشر نہ کرنے اور اس حوالے سے ڈائریکٹرپی ٹی وی کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں ایوان صدر سیکرٹریٹ کے حکام کو بھی طلب کرلیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹرفیصل جاوید نے کہا کہ اس معاملے پر ایوان صدر سیکرٹریٹ کا موقف بھی سننا چاہئے۔چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی وی حکام کو حلف برداری کی ان ائر فوٹیج بھی اگلی میٹنگ میں پیش کرنے کی ہدایات دیں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس حلف برداری کے حوالے سے پہلے سے اطلاعات دی گئی تھی۔چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرویز الہٰی لاہور سے پہنچ گئے لیکن پی ٹی وی کی ڈی ایس این جی نہیں پہنچ سکی۔جس پر ڈائریکٹر نیوز پی ٹی وی نے کمیٹی کو بتایا کہ رات میں او بی کا اسٹاف نہیں ہوتا انسٹال ہونے میں 4 گھنٹے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے بھی نہیں بتایا گیا کہ حلف برداری یہاں ایوان صدر ہو رہی ہے۔لاہور میں پی ٹی وی کی دو ڈی ایس این جیز کھڑی رہی۔ ہمیں فون کر کے کہا گیا کہ حلف برداری لاہور گورنر ہاوس میں ہوگی۔ اسلام آباد ایوان صدر میں حلف برداری تقریب کے حوالے سے کسی نے فون بھی نہیں کیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس معاملے پر ایوان صدر سیکرٹریٹ کو بھی سنیں گے۔ آپ کی وضاحت سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔آن ائیر فوٹیج/ریکارڈنگ اگلی میٹنگ میں پیش کریں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں پی ٹی وی کو دوبارہ سنیں گے آپ لوگوں کی وضاحت قبول نہیں کی جا سکتی۔

    سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے انکوائری رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں انکوائری رپورٹ پر بحث کریں گے۔

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

  • عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چین، امریکا اور یورپی یونین کے حکام، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت کے اداروں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے عالمی شراکت داروں کو ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    پاکستان دیئے گئے اہداف کو کامیابی کے ساتھ مکمل کررہا ہے:ایف اے ٹی ایف

     

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مکانات، املاک کے علاوہ فصلوں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے اور زمینی راستے کٹ جانے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں، پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

     

    پاکستان کو بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں. وزیر مملکت خزانہ

     

     

    وزیراعظم نے کہا کہ 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے، خوراک، ادویات، خیموں، عارضی پناہ گاہوں کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبوں، مرکزی و صوبائی محکموں کے اشتراک عمل سے کام کر رہی ہے، فوری طور پر 5 ارب روپے جاری کئے گئے، ہر جاں بحق کے خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ادائیگی جاری ہے، 25 ہزار روپے کی سیلاب متاثرین کو فوری نقد ادائیگی کی جارہی ہے جس پر 80 ارب خرچ ہوں گے،

    انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کر سکتیں، عالمی اداروں، تنظیموں، ممالک اور مالیاتی اداروں کا ہنگامی تعاون درکار ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے بڑے حصے کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے، پہلے دن سے ذاتی طور پر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 قائم کیا ہے تاکہ متاثرین کی امداد اور بحالی کی کوششوں میں مزید تیزی آئے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں، تنظیموں کی مدد سے متاثرین کی مدد میں بڑی مدد ملے گی، فوج، سرکاری ادارے، شہری خدمات کے محکمے، ڈاکٹرز، نرسز اور رضا کار مشکل حالات میں بڑے جذبے سے کام کر رہے ہیں، متاثرین کی مدد کرنے والے تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سیلاب کے نتیجہ میں عوام کو پیش آنے والے مشکل حالات پر دل نہایت غمگین ہے، جلد سے جلد ہر متاثرہ پاکستانی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

    وزیراعظم نے انٹرنیشل پارٹنرز سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی دستیابی سے ہماری مدد کریں۔ طبی عملے سمیت درپیش حالات سے نمٹنے کے لئے ضروری اشیاء کی فراہمی درکار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو متاثرہ علاقوں کے دورے کی دعوت بھی دی،حکومت پاکستان تباہ حال علاقوں میں انٹرنیشنل پارٹنرز کے دورے کے انتظامات کرے گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل  طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے وزیراعظم ہاوس میں ہو گا،ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں اہم سیاسی اور معاشی فیصلے لیے جائیں گے ،اجلاس میں ضمنی انتخابات اور دوست ممالک کے دوروں پر مشاورت ہو گی،پنجاب حکومت اور پی ٹی آئی فارن فنڈنگ تحقیقات پر بھی بات چیت ہو گی.

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کیلئے 7 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی اور نقصانات پر بریفنگ دی جائے گی ،کابینہ کے اجلاس میں نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان کی منظوری دی جائے گی .

    کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ہدایت
    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایگری کلچر ٹاسک فورس کا ایک اہم اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں ایگری کلچر ٹاسک فورس کی جانب سے ملک میں زراعت خصوصاً گندم، خورنی تیل کے بیج اور کپاس کی کاشت کی استعداد ، مسائل اور ان مسائل کے حل کی تجاویز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ معیاری بیج کی عدم دستیابی ، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب عدم توجہی اور کسانوں کو آسان قرضوں کے حصول میں مشکلات زراعت کے شعبے کی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹیں ہیں.

    اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ہمارے ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اسی لیے حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں زراعت جسے اہم شعبے کی نظر انداز کیا گیا یہی وجہ ہے کہ جن فصلوں میں ہم خود کفیل تھے انہیں آج درامد کرنا پڑ رہا ہے . وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت زراعت کے شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دیگی;اس سلسلے میں وزیرِاعظم نے ہدایت جاری کی کہ ایگریکلچر ریسرچ کے اداروں میں میریٹ پر ہیومن ریسورس کی بھرتی کے لیے اقدامات کیے جایئں. وزیرِ اعظم نے کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ہدایت کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں ہم نے پنجاب کے کسانوں کو آسان قرضے دیے جن کا ریکووری ریٹ بہترین تھا .

    وزیرِ اعظم نے زراعت کے شعبے کے مسائل کے حل اور اسکی استعداد بڑھانے کے حوالے سے ٨ ورکنگ گروپس بنانے کی ہدایت بھی جاری کی. جن میں خورنی تیل ، گندم ، کپاس ، ایگریکلچر فنانسنگ ,harvesters and mechanization ، زرعی ریسرچ انسٹیٹوٹس کی بحالی اور زرعی شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ، کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے ورکنگ گروپس شامل ہیں.اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،وفاقی وزیرنیشنل فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے بھی شرکت کی .

    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 3 دن کے اندر 50 ہزار روپے فی خاندان امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دیں.وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں پر قائم ریلیف کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں تمام متاثرہ گھرانوں کو 30 ہزار کی بجائے 50 ہزار روپے فوری طور پر فراہم کئے جائیں.

    غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے. وزیراعظم

    وزیراعظم کی ہدایت کی کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 50 ہزار کیش کی رقم NDMA کی سرپرستی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام فراہم کرے. ویرِاعظم کا کہنا تھا کہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کے طریقہ کار کو شفاف رکھا جائے،کیش امداد کی فراہمی الیکٹرانک ٹرانسفر کے ذریعے کی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ حق دار کو اسکا حق ملے،وزیرِ اعظم کی ہدایت کی کہ50 ہزار کیش امداد کی تقسیم کا لائحہ عمل فلڈ ریلیف کوارڈینیش کمیٹی آج شام تک طے کرکے رپورٹ پیش کرے.

    عمران خان اپنی جماعت میں کسی کوضمنی انتخابات لڑنے کا اہل نہیں سمجھتے؟ شیری رحمان

     

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سیلاب کے نقصانات کے تخمینے کیلئے صوبوں کے ساتھ مشترکہ سروے کو 5 کی بجائے 3 ہفتوں میں مکمل کیا جائے، صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرین کی بروقت امداد کیلئے NDMA سے جلد از جلد مشترکہ سروے سے متعلق تعاون اور تاریخوں کے حوالے سے رابطہ یقینی بنائیں، یہ صوبائی حکومتوں کی صوابدید ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی سیلاب متاثرین کیلئے امدادی کوششوں کا حصہ بنیں، تاہم وفاقی حکومت اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کو یقینی بنائے گی.

    وزیرِ اعظم کی ہدایت وفاقی وزیرِ اطلاعات کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے آگاہی مہم کیلئے جامع پلان مرتب کریں.

     

    عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

     

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدہ علاقوں پر قائم ریلیف کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء مفتاح اسماعیل، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، مرتضی جاوید عباسی، مولانا اسد محمود، مشیرِ وزیرِ اعظم قمر الزمان کائرہ، چیئرمین NDMA لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. وفاقی وزیرِ ہاؤسنگ مولانا عبدالواسع، وزیرِ اعلی بلوچستان عبدلالقدوس بازنجو، رکنِ بلوچستان اسمبلی ثناء اللہ بلوچ کی وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ بارشوں کے حالیہ سلسلے کی وجہ سے سیلاب سے ہوئے نقصانات کے تخمینے کیلئے صوبوں کے اشتراک سے سروے اس سلسلے کے بعد شروع کیا جائے گا. اجلاس کو بتایا گیا کہ سروے کی تکمیل تک حکومت BISP کے تحت متاثرہ خاندانوں کو 30 ہزار روپے کا فوری ایمرجنسی کیش ریلیف فراہم کرے گی. جس پر وزیرِ اعظم نے ریلیف کی رقم کو 30 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار کرنے اور NDMA کو اس آپریشن کی نگرانی کرنے کی ہدایات جاری کیں.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت بین الاقوامی ڈونرز اور دیگر فلاحی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے. اس سلسلے میں ایشین ڈویلپمنٹ بنک ADP اور ورلڈ بنک نے حکومت کو ایمرجنسی ڈزاسٹر ریلیف فنڈ کے تحت سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور بحالی کیلئے ضروری فنڈز مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے. اسکے علاوہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کی ٹیمیں بھیجی جا چکی ہیں اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سیلاب سے متاثرہ تعلیمی اداروں میں نقصان کا تخمینہ لگا رہا ہے.

    اجلاس کو وزیرِ اعلی بلوچستان اور صوبائی چیف سیکٹری کی طرف سے بلوچستان میں جاری بارشوں کے حالیہ سلسلے کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان اور صوبائی حکومت کے متاثرین کیلئے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا.

  • کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سے امریکی سفیر کی ملاقات:ایک ملین ڈالرز امداد کا اعلان

    کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سے امریکی سفیر کی ملاقات:ایک ملین ڈالرز امداد کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کراچی میں ملاقات کی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس اہم ملاقات میں سندھ میں حالیہ موسلادھار بارش سے ہونیوالے جانی ومالی نقصانات، تعلیم، صحت کے شعبوں اور باہمی دلچسپی کے دیگرامور میں یو ایس ایڈ منصوبے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں 3ڈویژنز کے 8اضلاع حالیہ بارشوں سے بری طرح متاثرہوئے جبکہ 130 افراد جاں بحق اور422 زخمی ہوئے ہیں۔

    پاکستان میں امریکی سفیرڈونلڈبلوم کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک ملین ڈالر کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ انسانی امداد سندھ میں کمیونٹیزکی جلد بحالی کو پورا کریگی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ایس بی ای پی کو سندھ کے متعدد اضلاع میں 106 اسکولوں کی تعمیر کا حکم دیا گیا ہے، ایس بی ای پی کی تعمیراتی پیشرفت 92 فیصد رہی۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 84 اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر مکمل کر کے ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے حوالے کر دی گئی۔وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان نے توانائی، معیشت، تعلیم اور صحت سمیت دیگر اہم مسائل پر 75 سال سے مل کر کام کیا ہے۔

  • سعودی عرب کےبعد چین پاکستان کی مدد کو آن پہنچا:اربوں ڈالرزکا قرضہ ری شیڈول کردیا

    سعودی عرب کےبعد چین پاکستان کی مدد کو آن پہنچا:اربوں ڈالرزکا قرضہ ری شیڈول کردیا

    بیجنگ :پاکستان کے لیے اس وقت ہوا کے تازے جھونکے ہیں ،ایک طرف سعودی عرب نے پاکستان کو بہت بڑا ریلیف دیا ہے تو دوسری طرف چین نے بھی کم نہیں ، چین نے پاکستان کو ایک سال کے لیے 2 ارب ڈالر کا قرضہ آگے بڑھا دیا اور اب تک مجموعی طور پر چین پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر کا قرض دے چکا ہے جس میں 2.3 ارب ڈالر تجارتی قرضے بھی شامل ہیں۔

    ملکی معیشت میں تقریباً تین ماہ کے بعد نمایاں بہتری کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں، آئی ایم ایف نے قرض کیلئے دوست ممالک چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے مالی معاونت کی یقین دہانی حاصل کرنے کی شرط رکھی تھی جسے پاکستان نے پورا کرنا شروع کر دیا ہے جس کے بعد اہم پیش رفت کے طور پر چین نے سب سے پہلے مالی تعاون کی یقین دہانی کرا دی اور پاکستان کے سکڑتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے سیف ڈپازٹ کی مد میں 2 ارب ڈالرز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نینسی پلوسی کی تائیوان آمد پر20سےزائد چینی لڑاکےطیارے تائیوان کی حدود میں داخل

    درپیش اقتصادی بحران کے باعث پاکستان کو زرمبادلہ ذخائر میں کمی کاسامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق چین نے پاکستان کے لیے تین سیف ڈپازٹس ترتیب دیے ہیں اس مد میں 50؍ کروڑ ڈالرز مالیت کا پہلا سیف ڈپازٹ 27؍ جون، دوسرا اتنے ہی حجم کا سیف ڈپازٹ 29؍ جون 2022 اور تیسرا ایک ارب ڈالرز مالیت کا سیف ڈپازٹ 23؍ جولائی کو ملنے تھے۔

    محکمہ خزانہ نےاس امر کی تصدیق کرتےہوئے کہا کہ مذکورہ سیف ڈپازٹس ایک سالہ مدت کیلئے ہوں گے۔ چین نے 2 ارب 30؍ کروڑ ڈالرز کی کمرشل قرضوں سمیت پاکستان کی مجموعی طور پر 4؍ ارب 30؍ کروڑ ڈالرز کی قرضوں کی شکل میں مالی معاونت کی ہے تاکہ موجودہ مالی سال میں بیرونی فنانسنگ میں موجود 35؍ ارب 90؍ کروڑ ڈالرز کے فرق کو محدود کیا جاسکے۔

    جب کہ آئی ایم ایف سے قرضے کی آئندہ قسط کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس رواں ماہ کے آخر میں ہونے والا ہے جس کی مناسب یقین دہانی کرادی گئی ہے۔

    چین نے تائیوان کی متعدد غذائی مصنوعات کی درآمدات معطل کر دیں

    تاہم پاکستانی حکام کواس حوالے سے باقاعدہ اعلان کا بے چینی سے انتظار ہے۔ اس کے علاوہ دوست برادر ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے مالی معاونت کا تندہی سے انتظار ہے، اس سے مالیاتی خلاء کی مد میں 4؍ ارب ڈالرز کی تلافی ہوجائے گی اور شرح مبادلہ میں بھی استحکام آجائے گا۔

    اس سے قبل یہ خبریں بھی آرہی ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، کیوں کہ سعودی عرب نے پاکستان کو موخر ادائیگی پر تیل کی اضافی سہولت دینے کی حامی بھرلی ہے۔

    چین نےتائیوان کامحاصرہ کرلیا:مشقوں میں بیلسٹک اورجدید اسلحےکا بھرپوراستعمال

    وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ برادر ملک نے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے، تاہم اس حوالے سے اعلان وہ خود کریں گے۔حکام وزارت خزانہ نے بتایا کہ تیل کی سہولت 1.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.4 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔

    وزارت خزانہ حکام کے مطابق چین بھی اب تک 4.3 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کر چکا ہے، جس میں 2.3 ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ اور 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس شامل ہیں۔

  • سیلاب،مکمل تباہ  گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

    سیلاب،مکمل تباہ گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب میں سیلاب سے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لئے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس مالی امداد دی جائے گی جبکہ جزوی طورپرتباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 4لاکھ روپے فی کس مالی امداد دیں گے۔سیلاب متاثرہ افراد کے لائیوسٹاک کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔

    مون سون سیزن ڈینگی کے پھیلاؤ کا خدشہ،وزیراعلیٰ نے بڑا حکم دے دیا

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے سروے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز اپنی نگرانی میں سروے کومکمل کرائیں۔سروے کا عمل آسان اورسادہ رکھا جائے اورسروے کے لئے مقامی نمائندوں کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔متاثرہ افراد کو سروے کے عمل کے دوران کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور مالی امداد متاثرہ افراد تک جلد از جلد پہنچ جانی چاہیے۔

     

    سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

     

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اورمتاثرہ افراد کو خشک خوراک تسلسل کے ساتھ پہنچائی جائے۔دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جائے اوردریاؤں کے پشتے مزید مضبوط بنانے کیلئے فی الفور اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی بحالی کیلئے ضروری وسائل اورمشینری بروئے کار لائی جائے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ میں کل راجن پور اورڈیرہ غازی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہا ہوں اورتمام صورتحال کا خود جائزہ لوں گا۔سیلاب متاثرہ افراد کی بحالی پہلی ترجیح ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں جنوبی پنجاب کے شہروں راجن پور،ڈیرہ غازی خان خصوصاً تونسہ،مظفر گڑھ میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

    عوامی نمائندوں واراکین اسمبلی امینہ جعفر لغاری،محسن لغاری،محمد سیف الدین خان کھوسہ، محمد اویس دریشک،فاروق امان اللہ دریشک، سردار احمد علی خان دریشک،محمد محی الدین خان کھوسہ،عبدالحی دستی،جاوید اختر،خواجہ محمد داؤد سلیمانی،محمد اشرف خان رند، نیاز حسین خان،میاں علمدارعباس قریشی، محمدعون حمید،محمد رضا حسین بخاری،محمد معظم علی خان،نوابزادہ منصوراحمد خان،چیف سیکرٹری کامران افضل،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر،متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اوراعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،تمام ڈویژنل کمشنرز،ڈی جی پی ڈی ایم اے اورمظفر گڑھ،راجن پور اورڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنرزویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔