Baaghi TV

Tag: امراض قلب

  • قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ  افسوسناک ہے؛ وزیراعلیٰ سندھ

    قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ افسوسناک ہے؛ وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں قلب کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ افسوسناک ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی یوم قلب کے موقع پر پیغام میں کہا کہانسان کی سب سے قیمتی چیز اس کی اچھی صحت ہے،ہر سال ایک بڑی تعداد قلب کے مرض کا شکار ہوجاتی ہے.ہمیں اپنے کھانے کی عادتوں، اور کھانوں کا صحیح انتخاب کر کے ورزش کو زندگی میں شامل کرنا ہو گا.میرا عالمی یوم قلب پر یہی پیغام ہے کہ اپنے دل کی صحت کا خیال رکھیں اور اس کو امراض سے بچائیں.زندگی میں ہم سب کو سیکھنا ہے کہ علاج سے بہتر احتیاط ہے.ہم نے پاکستان خصوصاً سندھ کے عوام کو دل کی بیماریوں کے علاج کی ہر ممکن سہولت دے رہے ہیں، ہم نے بڑے پیمانے پر موبائل چیسٹ پین یونٹ دیہی اور شہری علاقوں میں قائم کیے ہیں.
    انہوں نے مزید کہا کہ عارضہ قلب ایک ایسی بیماری ہے جسے ہر مریض افورڈ نہیں کرپاتا، حکومت سندھ عارضہ قلب میں مبتلا مریضوں کو بالکل مفت اور قابل رسائی سروس دے رہی ہے.بچوں کے کارڈیک علاج پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اس کے لیے ایک نئی عمارت بھی زیر تعمیر ہے، علاج میں بہترین نتائج کے لیے ٹریکنگ سسٹم متعارف کرارہے ہیں.

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس،گرفتار ملزمان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے

    واضح رہے کہ دنیا بھرمیں امراض قلب کا عالمی دن 29 ستمبر کو منایا جا تاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں دل کی بیماریوں کے متعلق مکمل آگاہی اور ان سے بچاو کے لیے شعور پیداکرناہے۔ دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد دل کے امراض کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت(World Health Organisazion) نے خبردار کیا ہے کہ سن دو ہزار تیس تک دنیا بھر میں دل کے امراضِ کے سبب اموات کی شرح سترہ اعشاریہ تین ملین سے بڑھ کر تئیس اعشاریہ چھ ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ دل کے امراض کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان ہے۔ دل کے امراض سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی ترک کی جائے، روزانہ پھل اورسبزیوں کا استعمال کیا جائے اور دن بھر میں ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نمک کے خوراک میں استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں گزارا جائے یا ورزش کی جائے۔ دل کی صحت سے متعلق عوامی آگاہی کی بیداری کا عالمی دن اس دن کی مناسبت سے 29 ستمبرکوملک بھر میں سیمینارزاور آگاہی واک بھی منعقد کی جائیں گی۔

  • گنگارام،جنرل ہسپتال اور سروسز ہسپتال لاہورمیں دل کے مریضوں کے علاج کا نظام برائے نام ، لوگ پوچھتے ہیں کیا یہ ہے تبدیلی

    گنگارام،جنرل ہسپتال اور سروسز ہسپتال لاہورمیں دل کے مریضوں کے علاج کا نظام برائے نام ، لوگ پوچھتے ہیں کیا یہ ہے تبدیلی

    لاہور:گنگارام،جنرل ہسپتال اور سروسز ہسپتال لاہورمیں دل کے مریضوں کے علاج کا نظام برائے نام ، لوگ پوچھتے ہیں کیا یہ ہے تبدیلی، اطلاعات کے مطابق شہر کے تین بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں شعبہ کارڈیالوجی ہی موجود نہیں، حکومت سے بار بار استدعا کے باوجود سروسز اور جنرل ہسپتال میں امراض قلب کا علاج نہ مل سکا۔

    “مسیحاوں کی نااہلی کا شکارہوگئی حاملہ خاتون ، نواز شریف ہسپتال کے ڈاکٹرز کی غفلت حاملہ خاتون کی جان لے گئی” لاک ہے

    مسیحاوں کی نااہلی کا شکارہوگئی حاملہ خاتون ، نواز شریف ہسپتال کے ڈاکٹرز کی غفلت حاملہ خاتون کی جان لے گئی

    بتانےوالوں نے تو سب کچھ بتا دیا ، اطلاعات کے مطابق گنگارام ہسپتال میں برائے نام وارڈ تو موجود لیکن اینجیوگرافی کی سہولت ناپید ہے، لیکن اس کے باوجود ڈھٹائی اس قدر بڑھ گئی ہےکہ امراض قلب پر توجہ نہیں اور منارہے ہیں ہم آج 29 ستمبر کو امراض قلب کا عالمی دن منایا جارہا ہے

     

    “اشفاق گھروالوں کی طرف سے اینٹ لگنے سے جانبحق ہوا ، پولیس ، جھوٹ ! پولیس نے تشدد کرکے مارا، ورثا” لاک ہے

    اشفاق گھروالوں کی طرف سے اینٹ لگنے سے جانبحق ہوا ، پولیس ، جھوٹ ! پولیس نے تشدد کرکے مارا، ورثا

    جہاں تک تعلق ہے دو دوسرے ہسپتالوں کو تو وہ بھی امراض قلب کی سہولیات کی کمی میں گنگا رام سے کم نہیں ہیں ، جنرل ہسپتال اور سروسز ہسپتال میں متعدد بار استدعا کے باوجود حکومت نے کارڈیالوجی کے شعبے قائم نہیں کئے، جس سے دل کی بیماریوں کی تشخیص ہی ممکن نہیں ہے نہ ہی علاج فراہم کیا جاسکتا ہے،

    دیسی طریقہ علاج کامیاب ، ایلوپیتھی نے بھی مان لیا ، نمک کے غسل اور گرم کیچڑ سے جوڑوں کے درد میں کمی کی تصدیق کردی

    جبکہ صورت حال اس قدر خراب ہوچکی ہےکہ لاہور کے ان تینوں بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں دل کی بیماریوں کا علاج میسر نہ ہونے کی وجہ سے ان ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میڈیکل کالجز سے منسلک ان بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں شعبہ کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری کا نہ ہونا حیران کن ہے.

     

    دوسری طرف پاکستان کے ممتاز طبی ماہرین کے مطابق امراض قلب سے شرح اموات دیگر تمام بیماریوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود لاہور میں اب بھی تین بڑے ٹیچنگ ہسپتال امراض قلب کے علاج کی سہولت سے ہی محروم ہیں۔لیکن عوام پوچھتے ہیں کہ وہ وعدے ہی کیا جو وفا نہ ہوسکیں ،