Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکا اور چین کے درمیان میڈرڈ میں اہم تجارتی مذاکرات شروع

    امریکا اور چین کے درمیان میڈرڈ میں اہم تجارتی مذاکرات شروع

    امریکی اور چینی حکام کے درمیان اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں کشیدہ تجارتی تعلقات، ٹک ٹاک کی فروخت کی ڈیڈ لائن اور روسی تیل کی خریداری پر محصولات عائد کرنے کے امریکی مطالبے پر مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندہ جیمیسن گریئر، چینی نائب وزیراعظم ہی لی فینگ اور اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار لی چنگ گانگ سے ملاقات کے لیے وزارتِ خارجہ اسپین کے تاریخی محل ’پالاسیو دے سانتا کروز‘ پہنچے۔ یہ رواں برس کے چار ماہ میں دونوں فریقین کے درمیان ہونے والا چوتھا اجلاس ہے۔

    جولائی میں اسٹاک ہوم میں ہونے والی آخری ملاقات میں فریقین نے 90 دن کے لیے تجارتی جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا تھا، جس کے نتیجے میں جوابی محصولات میں کمی اور چین سے امریکا کو نایاب معدنیات کی فراہمی دوبارہ بحال ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر 55 فیصد محصولات 10 نومبر تک برقرار رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ تجارتی ماہرین کا خیال ہے کہ میڈرڈ مذاکرات سے کسی بڑے معاہدے کی توقع کم ہے، تاہم ٹک ٹاک کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔

    امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مشہور ایپ ٹک ٹاک کے چینی مالک بائٹ ڈانس کو امریکا میں اپنے آپریشنز فروخت کرنے کی ڈیڈ لائن 17 ستمبر سے آگے بڑھا دی جائے گی۔ بصورت دیگر ٹک ٹاک کو امریکا میں پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی حتمی معاہدے کا امکان نہیں، البتہ یہ ڈیڈ لائن چوتھی بار توسیع پا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اپنا ذاتی ٹک ٹاک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا۔

    سیلابی ریلہ،کوٹلا چاکر کے عوام کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت

    ایشیا کپ: بھارت کی پاکستان کو بآسانی 7 وکٹوں سے شکست

  • یمن کے حوثی باغیوں سے منسلک تقریباً 3 درجن افراد اور کمپنیاں  بلیک لسٹ

    یمن کے حوثی باغیوں سے منسلک تقریباً 3 درجن افراد اور کمپنیاں بلیک لسٹ

    امریکا نے یمن کے حوثی باغیوں سے منسلک تقریباً 3 درجن افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔

    امریکی وزارت خزانہ نے یمن کے حوثی باغیوں کے لیے وسیع پیمانے پر فنڈ ریزنگ، اسمگلنگ اور ہتھیاروں کی خریداری کے نیٹ ورک میں ملوث تقریباً 32 افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ یہ نیٹ ورک یمن، چین، متحدہ عرب امارات اور مارشل آئی لینڈز میں فعال ہے۔

    امریکہ کے مطابق ان افراد اور کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ حوثی باغیوں کے لیے جدید قسم کے عسکری ساز و سامان، بشمول بیلسٹک اور کروز میزائل اور ڈرونز کے پرزہ جات کی خریداری اور مالی معاونت کرتے ہیں حوثیوں نے ان ڈرونز کا استعمال امریکی فوجی اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کے لیے کیا ہے۔

    گوجرہ : شراب فروش گرفتار، 524 پونڈا شراب برآمد

    یہ پابندیاں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں لگائی گئی ہیں حماس بھی ایران کی حمایت یافتہ ایک تنظیم ہے جس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کیے جس سے اب تک تقریباً 65 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں،نومبر 2023 سے حوثیوں نے بحر احمر پر فوجی محاصرہ نافذ کیا ہوا ہے اور ایسے جہازوں پر حملے کررہے ہیں جو اسرائیل کی حمایت میں وہاں سے گزرتے ہیں ان حملوں میں کم از کم 4 جہاز ڈوب چکے ہیں۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری برائے دہشتگردی اور مالیاتی انٹیلیجنس، جان ہرلی نے کہا حوثی بحر احمر میں امریکی عملے اور اثاثوں کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں، خطے میں ہمارے اتحادیوں پر حملے کر رہے ہیں اور ایرانی حکومت کے تعاون سے بین الاقوامی سمندری سیکیورٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ننکانہ صاحب: گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کریک ڈاؤن

    ان افراد میں صالح دبیش بھی شامل ہیں، جنہیں 2021 میں پابندیوں کے بعد صالح مصفر الشاعر کی جگہ حوثیوں کے اثاثے ضبط کرنے کا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے صالح دبیش نے ملک بھر میں نجی اور سرکاری زمینیں حوثیوں کے لیے ضبط کی ہیں، جس کا جواز انہوں نے ان زمینوں کے مالکان پر دہشتگردی کا الزام لگا کر پیش کیااسی خاندان کے عبد اللہ مصفر الشاعر کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، اور ان کے نام سے چلنے والی کمپنیوں کو بھی پابندی کا سامنا ہے۔

    اسی طرح محمد عبدالسلام سے منسلک ایک گروپ جو پیٹرولیم کی اسمگلنگ میں ملوث ہے، ان پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں محمد عبدالسلام کو مارچ میں پہلے ہی پابندیوں کا سامنا تھا، حوثی باغیوں سے جڑی سمندری شپنگ کمپنیاں اور ہتھیاروں اور ان کے پرزہ جات کی خریداری میں مدد فراہم کرنے والے افراد اور ادارے بھی بلیک لسٹ کیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ،ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ معطل

  • امریکہ نے آزاد فلسطین سے متعلق اپنے موقف سے یوٹرن لے لیا

    امریکہ نے آزاد فلسطین سے متعلق اپنے موقف سے یوٹرن لے لیا

    امریکہ نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے اب توجہ غزہ میں جنگ بندی اور تعمیر نو پر مرکوز کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ غزہ اب رہنے کے قابل جگہ نہیں رہا اور اسے ازسر نو تعمیر کی ضرورت ہے۔

    میڈیا بریفنگ کے دوران آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ امریکی حکومت کی اولین ترجیح موجودہ جنگ کو رکوانا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی بھی یہی ہے۔کیرولین لیویٹ نے مزید بتایا کہ امریکی حکومت 6 جون سے اب تک 400 غیر قانونی غیر ملکیوں کو حراست میں لے چکی ہے تاکہ ملک میں امن و امان قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے لاس اینجلس کے میئر کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    امریکی حکومت کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام پر خاموشی اور غیر واضح بیانات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ امریکہ نے اس مسئلے پر اپنی سابقہ پوزیشن سے پسپائی اختیار کر لی ہے، جس پر عالمی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل: آسٹریلیا 212 پر آؤٹ، جنوبی افریقہ کا ٹاپ آرڈر 43 پر ڈھیر

    کے الیکٹرک کی بجلی 4.69 روپے فی یونٹ سستی کرنے کی درخواست

    بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے، علی رضا سید

    کراچی: تیز رفتار واٹر ٹینکر کی ٹکر سے دو موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق

  • امریکہ کی 10 ایرانی افراد اور 27 اداروں  پر  پابندیاں عائد

    امریکہ کی 10 ایرانی افراد اور 27 اداروں پر پابندیاں عائد

    امریکہ نے ایران سے متعلق نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں-

    امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 10 ایرانی افراد اور 27 اداروں کو ہدف بنایا گیا ہے پابندیوں کی زد میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ہانگ کانگ میں موجود کچھ کمپنیاں بھی آئی ہیں، دو اماراتی کمپنیاں — Ace Petrochem FZE اور Moderate General Trading LLC — کو اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ نیشنلز لسٹ (SDN) میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد امریکہ میں ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کی سرکاری نیشنل آئل ٹینکر کمپنی سے منسلک ہیں، جو ایران کی تیل برآمد کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہے اور پہلے سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔

    یہ پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت جاری ہے، لیکن یورینیم کی افزودگی پر اختلافات کے باعث یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

  • امریکہ، بھارتی شہریوں کو ملک بدری اور سفری پابندی کا سامنا

    امریکہ، بھارتی شہریوں کو ملک بدری اور سفری پابندی کا سامنا

    امریکہ نے غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہریوں کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کرنے والوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا اور مستقبل میں امریکہ کا سفر کرنے پر مستقل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔امریکہ میں اس وقت تقریباً 7 لاکھ 25 ہزار بھارتی شہری غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 میں 51 ہزار بھارتی شہریوں نے امریکہ میں پناہ کی درخواست دی، جو گزشتہ پانچ سال کے مقابلے میں 470 فیصد اضافہ ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور بھارت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ اس تناظر میں نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی خلاف ورزیاں روکی جا سکیں۔دوسری جانب بھارت میں معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے باعث نوجوانوں کی بڑی تعداد امریکہ سمیت دیگر ممالک کی جانب ہجرت کر رہی ہے۔

    اپریل 2025 میں بھارت میں بے روزگاری کی شرح 5.1 فیصد تک جا پہنچی، جب کہ شہری علاقوں میں یہ شرح 6.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کی جانب ہجرت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور روزگار کے مواقع کی کمی، بھارتی نوجوانوں کو بیرونِ ملک غیر قانونی راستے اپنانے پر مجبور کر رہی ہے، جو مستقبل میں ان کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

    پی ایس ایل 10، پاک فوج کو شاندار خراجِ تحسین، آرمی چیف اسٹیڈیم میں موجود

    کانگریس کا وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے استعفے کا مطالبہ، سوشل میڈیا پر تنقید

    شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    کراچی کنگز کا پشاور زلمی کو جیت کے لیے 238 رنز کا بڑا ہدف

    ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں، سبی 50 ڈگری کے ساتھ گرم ترین شہر قرار

  • امریکہ نے ایک ہزار غیرملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے

    امریکہ نے ایک ہزار غیرملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے

    امریکی حکومت نے گزشتہ چند ہفتوں میں زیرتعلیم ایک ہزار سے زائد غیرملکی طلبہ کے ویزے منسوخ یا پھر ان کی قانونی حیثیت ختم کر دی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ سے کم دورانیے میں لگ بھگ 160 کالجز اور یونیورسٹیز کے کم از کم 1024 طلبہ کے ویزے منسوخ ہوئے یا پھر ان کی قانونی حیثیت ختم کر دی گئی۔امریکی حکومت کے اس اقدام کے بعد ان طلبہ کو گرفتار کرنے اور امریکہ سے بے دخل کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔اس اقدام سے متاثر ہونے والے بعض طلبہ نے ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی میں قانونی درخواستیں بھی دائر کی ہیں۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ ایک تو یہ عمل ضابطے کے مطابق نہیں کیا گیا، دوسرا یہ کہ ان کے امریکہ قیام کے حق کو ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کا امیگریشن اور طلبہ کے ایکٹوزم کے خلاف کریک ڈاؤن ہاورڈ اور اسٹینڈ فورڈ جیسی پرائیوٹ یونیورسٹیوں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ یونیورسٹی آف میری لینڈ اور اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی جیسی سرکاری درس گاہیں بھی اس کی زد میں آئیں۔

    گڈز ٹرانسپورٹرز ہڑتال، کراچی چیمبر کا وزیراعظم سے مداخلت کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا میں بارش اور ژالہ باری سے گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے

    ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں توسیع کر دی
    علیمہ گالیاں دلوا رہی ، اب مزید چپ نہیں رہوں گا، شیرافضل مروت

  • میکسیکو  کے سیوریج سسٹم  نے امریکہ کو پریشان کر دیا

    میکسیکو کے سیوریج سسٹم نے امریکہ کو پریشان کر دیا

    میکسیکو اور امریکہ میں یہ دہائیوں پرانا مسئلہ ہے جس نے ماحولیاتی اور معاشرتی مسائل کو جنم دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق میکسیکو نے امریکہ کی جانب بہنے والے دریائے تیجوانا میں یومیہ 400 ملین گیلن سیوریج بہانہ شروع کردیا۔ امریکی نیوز ادارے فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق سان ڈیاگو کے سپروائزر جم ڈیسمنڈ سیوریج سسٹم کو بحال رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سان ڈیاگو کا علاقہ میکسیکو کے کچرے کو ٹھکانے لگانے کیلئے ایک ڈمپنگ گراؤنڈ بنا ہوا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ میکسیکو سیوریج کو ٹریٹمنٹ پلانٹ کی جانب دھکیلنے کی بجائے دریا میں بہا دیتا ہے جو کہ گلیوں سے ہوتا ہوا امریکہ میں داخل ہوتا ہے اور آخر کار سمندر میں جاکر ختم ہوجاتا ہے۔

    سیوریج کو ٹھکانے لگانے کی بجائے میکسیکو نے اسے امریکی مسئلہ بنانے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دریا سے زہریلے مادے اور سیوریج کے مسائل کئی دہائیوں سے برقرار ہیں۔ سیوریج کا زیادہ تر حصہ امریکا میں بہہ جانے کی وجہ سے اکثر اوقات گندگی سے ساحل سمندر بند ہوجاتا ہے۔ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے سربراہ لی زیلڈن کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی سان ڈیاگو کے سرحدی علاقے کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاکہ میکسیکو کے گندے سیوریج سے متعلق مسائل کو حل کیا جاسکے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ میکسیکو کے حکام اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہاں کی حکومت کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ یہ واقعی ایک وفاقی کارروائی کا وقت ہے۔ کیونکہ سیوریج کا نظام نہ ہونا میکسیکو کا نہیں بلکہ ہمارا مسئلہ ہے۔ میکسیکو پر ویزوں کے ساتھ ساتھ سرحد پار سے آنے والے افراد کی تعداد محدود کردینی چاہیے۔ اس کے علاوہ ساحل بھی اگر بند کرنے پڑیں تو ہر قسم کی پابندی لگانی چاہیے۔

    رضوان کی کپتانی اور ٹیم سلیکشن پر سوالات اٹھ گئے

    کراچی چیمبر کا بجلی نرخوں میں کمی کےاعلان کا خیرمقدم

    بجلی بلوں سے ٹی وی فیس سمیت غیر ضروری سرچارجز ختم کا پلان آ گیا

    پنجاب، قیدیوں کی سزا ؤں کا ریکارڈ آن لائن کر دیا گیا

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، نئی بلند ترین سطح کو چھو گیا

  • ٹرمپ کا جوہری معاہدے پرمذاکرات کا خط نہیں ملا،ایران

    ٹرمپ کا جوہری معاہدے پرمذاکرات کا خط نہیں ملا،ایران

    ایران کا کہنا ہے کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے کوئی خط موصول نہیں ہوا

    ایران نے واضح کیا ہے کہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے حوالے سے کوئی خط موصول نہیں ہوا ہے اور موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات ممکن نہیں۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایرانی قیادت کو ایک خط لکھا ہے۔رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے خط میں ایرانی قیادت سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہوگا کیونکہ یہ ان کے ملک کے مفاد میں ہوگا۔

    ایران نے امریکی صدر کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی خط کے موصول ہونے کی تردید کی ہے۔الجزیرہ کے مطابق، ایران کے سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر نے بھی کسی خط کی تصدیق نہیں کی۔ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراغچی نے اس حوالے سے کہا کہ جب تک امریکا ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں برقرار رکھے گا، تب تک ایران جوہری معاہدے پر کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اور دھمکیاں جاری رکھے گا، ایران کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکا نے ایران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں ایرانی تیل کے نیٹ ورک پر عائد سخت پابندیاں بھی شامل ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، ایک عسکری کارروائی اور دوسرا مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتے اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ایران کے عوام اچھے لوگ ہیں۔وائٹ ہاؤس نے بھی ٹرمپ کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کی قیادت کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے خط بھیجا ہے۔ تاہم، ایران کی جانب سے مسلسل اس خط کی وصولی کی تردید کی جا رہی ہے۔

  • ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ کاحماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ نے ان غیر ملکی طلبہ کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت انتظامیہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کرے گی اور اگر ان کی سرگرمیاں حماس کی حمایت میں پائی گئیں تو ان کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے مرکز سمجھی جانے والی کولمبیا یونیورسٹی کی 400 ملین ڈالر کی وفاقی گرانٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی اپنی حدود میں موجود یہودی طلبہ کو ہراساں کیے جانے سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور گرانٹ کی معطلی اسی تناظر میں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ گرانٹ منسوخی کے پہلے مرحلے کے طور پر کیا گیا ہے، اور مستقبل میں مزید اقدامات بھی متوقع ہیں۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی مختلف جامعات میں اسرائیل-فلسطین تنازعے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ پچھلے برس کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے احتجاج نے امریکا بھر کی یونیورسٹیوں میں ایک تحریک کو جنم دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ اور حکومتی ادارے اس پر سخت اقدامات کے لیے دباؤ میں تھے۔طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنان نے ان اقدامات کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہودی طلبہ کی حفاظت اور قومی سلامتی کے پیش نظر یہ پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

    متاثرہ طلبہ اور تعلیمی ادارے اس اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے طلبہ کی نگرانی کا یہ عمل شروع ہو گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے اور یہ پالیسی دیگر جامعات اور ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔

  • امریکہ کا کینیڈا ، چین  ،میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا عندیہ

    امریکہ کا کینیڈا ، چین ،میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ہفتے سے کینیڈا، چین، اور میکسیکو پر 25 فی صد ٹیرف لگانا کا عندیہ دے دیا جبکہ دو طرفہ ٹیرف اپریل سے لگانے کا منصوبہ ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف اگلے منگل 4 مارچ سے لاگو ہوں گے۔ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ٹروتھ پر کہا کہ امریکا میں منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے ٹیرف کی ضرورت ہے۔ ہم اس لعنت کو امریکا کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹیرف عائد کیے جائیں گے "جب تک کہ یہ رک نہیں جاتا، یا اس میں کمی نہیں ہوجاتی ۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بڑے تجارتی شراکت داروں پر باہمی ٹیرف، جن کی انہوں نے اس ماہ کے شروع میں دھمکی دی تھی، 2 اپریل سے نافذ ہونے والے ہیں ۔

    یاد رہے کہ اس ماہ کے شروع میں کینیڈا اور میکسیکو پر ڈیوٹیز کی پہلی تجویز کے چند دن بعد صدر نے اعلان کیا کہ وہ ان دونوں ممالک سے مراعات حاصل کرنے کے سگنل کے بعد انہیں 30 دنوں کے لیے معطل کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ فوائد، جن میں میکسیکو کی طرف سے فوجیوں کی تعیناتی اور کینیڈا کے لیے نئی انسداد منشیات کی پالیسی شامل ہے، اس سے کہیں کم اہم تھی۔اس ماہ کے شروع میں اعلان کردہ اسٹیل اور ایلومینیم ٹیرف کی تجویز بھی 4 مارچ سے نافذ العمل ہونے والی تھی – لیکن ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ان ڈیوٹیز کا ذکر نہیں کیا۔ابھی حال ہی میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹوز، کمپیوٹر چپس اور فارماسیوٹیکل پر ٹیرف کا مطالبہ کیا۔

    ڈیڈلاک ختم، اسرائیل نے 456 فلسطینی قیدی رہا کردیے، 97 مصر جلاوطن

    صدر مملکت سے ابوظہبی کے ولی عہد کی ملاقات، نشان پاکستان کا اعزاز

    یوکرین جنگ میں پاکستان کی مداخلت کے کوئی ثبوت نہیں ملے، روس