Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • قطر:دفاعی شو میں پاسداران انقلاب کی شرکت:امریکہ نے سخت پیغآم بھیج دیا

    قطر:دفاعی شو میں پاسداران انقلاب کی شرکت:امریکہ نے سخت پیغآم بھیج دیا

    دوحہ :قطر:دفاعی شو میں پاسداران انقلاب کی شرکت:امریکہ نے سخت پیغآم بھیج دیا،اطلاعات کے مطابق ایران کی فوج پاسداران انقلاب کی قطر میں ہونے والے دفاعی شو میں شرکت پر خطے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر میں ہونے والی ڈیفنس نمائش میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے میزائل کے ماڈلز اور دیگر ہتھیاروں کی نمائش کی گئی جبکہ ایرانی کمانڈر نے اپنے بوتھ میں ملاقاتیں بھی کیں۔

    اس تناظر میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے جمعرات کو کہا کہ ہم میری ٹائم نمائش میں ایران کی موجودگی کو مسترد کرتے ہیں۔ ایران پورے خلیجی خطے میں میری ٹائم کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

    اس کے برعکس قطر کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کو دوحہ میں ہونے والی تین روزہ نمائش کے لیے دعوت نہیں دی گئی تھی۔

    ترجمان کے مطابق ایونٹ میں شرکت اور پویلین کا انتظام ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے کیا گیا تھا جبکہ پاسداران انقلاب کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔

    ایونٹ کے دوران ایرانی وفد کے ارکان امریکی بیڑے کے پاس سے گزرے اور اطالوی بکتر بند گاڑی کی تصویریں بنائیں اور ترکش مشین گنوں کا جائزہ بھی لیا۔ قطر میں ہونے والی دفاعی نمائش نے اسلحہ ساز بین الاقوامی کمپنیوں کی توجہ حاصل کی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے خلیجی ریاستوں کو فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    امریکی وزارت خارجہ نے کمپنی کو اختیار دیا ہے کہ وہ اٹھارہ ڈرون متحدہ عرب امارات کو تین ارب ڈالر میں فروخت کر سکتی ہے۔

    یاد رہے، ایران کے سپریم لیڈر کو براہ راست جوابدہ پاسداران انقلاب نے پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنا دائرہ بہت بڑھایا ہے جس میں یمن میں حوثیوں کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے تیل کے ذخائر پر حملے کیے گئے تھے۔

  • پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ پوٹن کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدرجوبائیڈن نے کہا کہ ان کے روسی ہم منصب ولادیمیرپوٹن بندگلی میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کے لئے کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    امریکی صدرکا مزید کہنا تھا کہ یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے روس کی جانب سے ساحلی شہر ماریوپل میں ہتھیار ڈالنے کے بدلے شہریوں کو نکالنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم ساحلی شہر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

    روس نے یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں اب لوگوں تک اشیائے ضرورت اور دوائیں بھی نہیں پہنچ رہی ہیں۔

    ادھر روس نے خبردارکیا ہے کہ امریکا سے تعلقات تیزی سے ختم ہونے کی طرف جارہے ہیں۔

    ماسکو میں امریکی سفیرکودفترخارجہ طلب کرکے صدرپوٹن سے متعلق امریکی ہم منصب کے بیان کوناقابل قبول قراردیا گیا۔امریکی سفیرکواحتجاجی مراسلہ بھی دیا گیاہ۔

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی سفیرکودئیے گئے احتجاجی مراسلے میں روس کا کہنا تھا کہ امریکی صدرجوبائیڈن کے روسی ہم منصب سے متعلق بیان نے دونوں ممالک کے تعلقات کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔اس طرح کے بیانات امریکی صدرکے عہدے کے شایان شان نہیں۔اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین پرحملے کے حوالےسے روسی صدرولادی میرپوٹن کوجنگی مجرم قراردیا تھا۔

  • امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی

    امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی

    واشنگٹن :امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی ،اطلاعات کے مطابق گزشتہ 2 روز کے دوران امریکہ میں ہونے والی فائرنگ کی واردات میں میں 70 افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، گزشتہ 2 روز کے دوران امریکہ کے مختلف علاقوں من جملہ ورجینیا، ہیوسٹن، آرکانزاس اور ٹیکساس میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔

    امریکہ میں فائرنگ کی واردات میں سالانہ کئی ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

    اسلحے کی خرید و فروخت اور کھلے عام لے کر پھرنے کی آزادی کو امریکہ میں فائرنگ کے ہلاکت خیز واردات میں اضافہ کی اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ امریکہ کے قانون ساز ادارے طاقتور اسلحہ لابی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تاحال، گن کنٹرول قوانین وضع کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

    امریکہ کی آبادی دنیا کے 5 فیصد کے برابر ہے تاہم اس ملک میں مسلح حملوں کے ذریعے اجتماعی قتل کا ارتکاب کرنے والوں کا تناسب دنیا میں 31 فیصد ہے۔

    ادھر ایک اور حادثے میں ناروے کی وزارت دفاع نے اتوار کو بتایا کہ ناروے میں نیٹو کی مشقوں کے دوران گر کر تباہ ہونے والے چار امریکی میرینز کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    ناروے کے سی کنگ ریسکیو ہیلی کاپٹر نے لاشیں شمالی ناروے میں بوڈو کے جنوب میں جائے حادثہ پر پائی جہاں جمعہ کی شام امریکی میرین کور سے تعلق رکھنے والا ان کا V-22B آسپری طیارہ لاپتہ ہو گیا تھا۔

    وزارت نے کہا کہ لاشوں کو امریکہ لے جانے سے پہلے بوڈو لایا جائے گا۔

    اس نے مزید کہا کہ طیارہ بوڈ کے بالکل جنوب میں ایک تربیتی مشن کے دوران نیچے گرا جس میں نیٹو اور شراکت دار ممالک کے 30,000 فوجی شامل تھے۔

    طیارے کے پہاڑ سے ٹکرانے کے پہلے اشارے کے درمیان حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    پولیس کے سرکردہ تفتیش کار کرسٹیان وکران کارلسن نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے تلاش اور بچاؤ آپریشن نازک تھا — "لیکن انہوں نے لاشیں نکالیں، جو کہ بنیادی ترجیح تھی”۔

    NRK ٹیلی ویژن نے بتایا کہ طیارے کا بلیک باکس برآمد کر لیا گیا ہے۔

    1 اپریل تک جاری رہنے والی مشقوں میں تقریباً 200 طیارے اور 50 کے قریب بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

    وزارت نے کہا کہ مرنے والے میرینز تھے جنہیں 2nd میرین ایئر کرافٹ ونگ، II میرین ایکسپیڈیشنری فورس کو تفویض کیا گیا تھا اور عملے کے علاوہ کوئی اور سوار نہیں تھا۔

    ناروے کے دفاعی سربراہ جنرل ایرک کرسٹوفرسن نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کی جبکہ وزارت نے کہا کہ خراب موسم کے باوجود مشق جاری رہے گی۔

    کولڈ رسپانس 2022 کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ نیٹو کی باہمی دفاعی شق کو متحرک ہونے کی صورت میں ناروے اپنی سرزمین پر اتحادیوں کی کمک کا انتظام کیسے کرے گا۔
    ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد روس اور نیٹو کے درمیان تناؤ بڑھ گیا تھا، لیکن مشقوں کی منصوبہ بندی 24 فروری کو شروع ہونے والے حملے سے بہت پہلے کی گئی تھی۔

  • امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

    امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

    امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد نسل کشی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے میانمار کی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف ظلم کی تحقیقات کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ ہولوکاسٹ یعنی یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کے بعد یہ آٹھویں مرتبہ ہے کہ امریکہ نے کسی جگہ نسل کشی کو تسلیم کیا ہے۔

    2017 میں روہنگائی مسلمانوں کیخلاف ملک گیر منظم مہم کا آغاز کیا گیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین کی عصمت دری، بچوں اور بڑوں کا قتل اور گھروں کا جلاؤ گھیراؤ شامل تھا جس کے بعد سے 700,000 سے زائد روہنگیائی مسلمان اپنی جان بچانے کیلئے بدھ مت اکثریتی ملک سے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

    اس سے قبل میانمار کی حکومت و فوج اور بدھ مت کے متعصب راہبوں کو متعدد عالمی رپورٹس میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کے ساتھ کیے گئے شرمناک سلوک کا مجرم قرار دیا جاچکا ہے۔

  • مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    خارکیف : مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کی مغربی سرحدوں پر بیلا روس کی جانب سے حملہ کیا جاسکتا ہے۔

    یوکرینی صدروولودیمیرزیلینسکی کے دفترسے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے مغربی علاقے وولین میں بیلا روس کی جانب سے حملے کے خطرات کو محسوس کر رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ روس یوکرین کے شمالی، جنوبی اور مشرقی حصوں پرحملے کر رہا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق یہ بات فوری طورپرواضح نہیں ہوسکی ہے کہ یوکرین کو مغربی سرحد پر روسی فوجوں سے حملے کا خطرہ ہے یا بیلا روس کی فوج سے۔

    بیلا روس روسی فوج، میزائلوں اور جہازوں کے لیے 24 فروری کے بعد اوراس سے قبل بھی بطوراسٹیجنگ پوسٹ خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ تاہم اس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں اپنی افواج کو صف آرا نہیں کیا ہے۔

    یاد رہے کہ بیلا روس کی جانب سے روسی افواج کی مدد کا تاحال کوئی عوامی معاہدہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    روسی صدر الیگزیندرلیکا شینکو نے جمعرات کو اپنے بیان میں یوکرین کی جانب سے داغے گئے میزائل کو روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بیلا روس نے روس کی مدد سے یوکرینی سرحد کے نزدیک پری پیت کے مقام پر اس یوکرینی میزائل کا راستہ روک کراسے تباہ کردیا تھا۔

    ادھر روسی صدر ولادی میر پیوٹن یوکرین میں جاری تنازع کے حل کے پیشِ نظر یوکرینی صدر وولوڈِمیر زیلنسکی سے ملنے کے لیے بالآخر تیار ہوگئے۔

    دونوں رہنماؤں کی جانب سے ان کی سفارتی ٹیمیوں نے 24 فروری کو تنازع شروع ہونے کے تھوڑا عرصہ بعد ہی امن مذاکرات شروع کر دیے تھے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی نمائندہ لیزا ڈوسیٹ کا کہنا تھا کہ روسی صدر کا اب ماننا ہے کہ ان کے اعلیٰ سفارت کار کمزور پڑے ہیں اور ان کو کسی موقع پر بذاتِ خود مذاکرات میں شرکت کرنی ہوگی۔

    ڈوسیٹ کا مزید کہنا تھا کہ سفارت کار بات کر رہے ہیں، مذاکرات کرنے والے بات کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین پیشرفت کر رہے ہیں۔ صدر پیوٹن بالآخر اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملیں۔ زیلنسکی جنوری سے ایک ملاقات کی درخواست کر رہے تھے۔

  • شامی صدر کی میزبانی :امریکہ نے عرب امارات پرناراضگی کا اظہارکردیا

    شامی صدر کی میزبانی :امریکہ نے عرب امارات پرناراضگی کا اظہارکردیا

    دبئی: شامی صدر کی میزبانی :امریکہ نے عرب امارات پرناراضگی کا اظہارکردیا ،اطلاعات کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے اور ملک کے حکمرانوں سے ملاقات کی تاہم امریکا نے اپنے اتحادی ملک امارات پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 10 سالہ خانہ جنگی کے بعد شام کے صدر بشارالاسد پہلی بار متحدہ عرب امارات کے دورے پر پہنچ گئے تاہم امریکا کو اس دورے سے زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔

    شام کے صدر نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور دبئی کے حکمراں محمد بن راشد المکتوم اور ولی عہد ابوظہبی شیخ محمد بن زائد النہیان سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی۔

    اے ایف پی کے مطابق شامی صدر کے امارات کے دورے پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم بشار الاسد کو قانونی حیثیت دینے کی اس واضح کوشش سے سخت مایوس اور پریشان ہیں۔

    ترجمان نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ صدر بشار الاسد ہزاروں شامی شہریوں کے قتل عام، لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے اور ہزاروں کے معذور ہونے کے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔

  • جوبائیڈن مجرم اور فاؤچی ملک کیلئے تباہی ہے،ٹرمپ کی لفظی گولہ باری

    جوبائیڈن مجرم اور فاؤچی ملک کیلئے تباہی ہے،ٹرمپ کی لفظی گولہ باری

    واشنگٹن:جوبائیڈن مجرم اور فاؤچی ملک کیلئے تباہی ہے،ٹرمپ کی لفظی گولہ باری،اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ امریکی صدرجوبائیڈن پرسخت تنقید کی ہے اور کہا ہےکہ جوبائیڈن امریکی قوم کا مجرم ہے اور یہ شخص ملک کے لیے تباہی کا سبب بن رہا ہے

    ٹرمپ نے جوبائیڈن پرلفظی گولہ باری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایریزونا کے شہر فونیکس میں انتخابی ریلی سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ جوبائیڈن ایک مجرم ہے۔ وہ پکڑا جاچکا ہے۔

     

     

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگرکسی کواس کے مجرم ہونے پر شک ہے تو اس کا لیب ٹاپ چیک کرلیں آپ کو بہت سا گند اس میں سے مل جائے گا اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ جوبائیڈن کی حرکات کیسی ہیں‌

    امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدرجوبائیڈن پرسخت تنقید کی ہے۔امریکی چینل فاکس نیوزکوانٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بائیڈن نے تاریخ میں کسی بھی دوسرے صدر سے زیادہ امریکہ کی تذلیل کی ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ ان تمام سالوں میں امریکا کو اتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔نہیں جانتا اسے فوجی شکست کہوں یا نفسیاتی شکست۔یہ ہمارے ملک کے لیے ایک خوفناک وقت ہے۔

    سابق صدر ٹرمپ نے اپنا ایک بیان جاری کرتے ہوئے جو بائیڈن پر ”امریکا کو مزید تقسیم کرنے” کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

    انہوں نے ایک بیان میں اپنے ان سازشی نظریات کا بھی اعادہ کیا کہ نومبر 2020 کے انتخابات ”چوری” کر لیے گئے تھے اور انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے دعووں کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ اسی بنیاد پر جو بائیڈن عہدہ صدارت پر فائز ہوئے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے

  • ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌:منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں‌

    ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌:منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں‌

    کریملن کے تمام مقاصد پورے ہوں گے، پیوٹن کا دعویٰ

    صدر ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو کے اسٹیڈم میں روسی پرچم لہراتے لاکھوں لوگوں سے خطاب میں کہا کہ کریملن کے مقاصد پورے ہوں گے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں خطاب کیا اور یوکرین پر حملے کو درست قرار دیا۔

    انہوں نے روسی پرچم لہراتے لاکھوں افراد سے کہا کہ کریملن کے تمام مقاصد پورے ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان کے معروف جملوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ گھبرانا نہیں‌ ہم ایک خاص منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں‌

    لوزنکی اسٹیڈیم میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، اوراس کی کیا قیمت ہو گی۔اور ہم اپنے تمام مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیں گے۔

    انھوں نے یوکرین کی لڑائی کو خصوصی فوجی آپریشن قرار دیا اور کہا کہ سپاہی جذبے سے لڑ رہے ہیں جو بات روس کے اتحاد کی مظہر ہے۔

    بقول پیوٹن کے کاندھا کاندھے سے ملا کر، وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرتے ہیں۔

    پیوٹن نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے اس قسم کے اتحاد کا مظاہرہ نہیں دیکھا۔

    پیوٹن کے خطاب کے دوران سرکاری ٹیلی ویژن نے تھوڑی دیر تک ان کا خطاب منقطع کرکے قومی ترانوں پر مشتمل ریکارڈ شدہ فوٹیج دکھائی۔ لیکن، بعدازاں کریملن کے سربراہ پھر اسکرین پر دکھائی دیے۔

    روسی خبر رساں ادارے نے کریملن کے ترجمان، دمتری پیسکوف کے حوالے سے کہا ہے کہ سرورمیں تکنیکی خرابی کے باعث ٹیلی ویژن سے پیوٹن کی تقریر کی نشریات منقطع ہوئیں۔

    ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین کا آپریشن ضروری تھا چونکہ یوکرین کو استعمال کرتے ہوئے، بقول ان کے، امریکہ روس کو دھمکیاں دے رہا تھا، جب کہ روس روسی زبان بولنے والے افراد کو یوکرین کے قتل عام سے بچانا چاہتا تھا۔

     

    یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور یہ کہ پیوٹن کا قتل عام کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ کرنا کہ وہ روس کا شیرازہ بکھیرنا چاہتے ہیں، درست نہیں۔

    جس اسٹیج پر پیوٹن خطاب کررہے تھے وہاں بینروں پر نعرے تحریر تھے، جیسا کہ دنیا کو نازی ازم کی ضرورت نہیں اورہمارے صدر کے لیے کا نعرہ ، جس کے لیے یوکرین میں جاری فوجی کارروائی کے دوران انگریزی حرف زیڈ کی شکل کا نشان استعمال ہو رہا ہے۔

    میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق لوزنکی اسٹیڈیم میں منعقدہ اس تقریب میں دو لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے۔

    پیوٹن نے ملکی افواج کو سراہا، جوشیلنگ اور میزائل حملوں کے ذریعے یوکرین کے خلاف لڑ رہے ہیں۔اس موقع پر معروف روسی گلوکار اولیگ گزمانوف نے میڈ ان رشیا کے عنوان پر ایک گانابھی گایا۔

  • نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    کابل:نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان ،اطلاعات کے مطابق طالبان کے نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روسی ماہرین نے روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت پر رضامندی ظاہر کی جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے مولوی عبدالکبیر کو اس بابت تجاویز دی تھیں۔

    روسی ماہرین کے ایک وفد نے کابل میں طالبان رہنماؤں سے عسکری ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے بارے میں بات کی ہے۔ 15 مارچ2022 کو طالبان کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ورٹیکل ٹی ایئر کمپنی کے سی ای او ولادی میر سکوریخن اور سمال ہیلی کاپٹر کی مرمت کرنے والی کمپنی کے چیئرمین الیگزینڈر کلاچوف نے ایک بیان جاری کیا کہ انہوں نے طالبان کے نائب وزیر اعظم برائے سیاسی امور مولوی عبدالکبیر سے ملاقات کی۔

    طالبان کے نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روسی ماہرین نے روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت پر رضامندی ظاہر کی جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے مولوی عبدالکبیر کو اس بابت تجاویز دی تھیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مولوی عبدالکبیر نے روسی ماہرین کو یقین دلایا کہ افغانستان میں عالمی سلامتی کو یقینی بنایا گیا ہے اور غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ ورٹیکل ٹی ایک روسی فضائی کمپنی ہے جو ہیلی کاپٹر بناتی ہے۔

    یہ کمپنی کئی سالوں سے افغانستان میں سرگرم ہے، جو سابق افغان حکومت کی ملکیت والے روسی ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے متعدد ہیلی کاپٹر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں سمیت بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے چارٹر کیے ہیں اور افغانستان میں کام کرتے ہیں۔

    اگرچہ روسی ماہرین اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان نے سابق افغان حکومت کے چھوڑے گئے ہیلی کاپٹروں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے روسی حکومت اور اس کی ایئر لائنز کی مدد لی ہے۔

    قبل ازیں طالبان کے وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی نے ازبک حکومت سے مزار شریف میں مولانا جلال الدین ہوائی اڈے کی مرمت کرنے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے جنوری کے شروع میں کہا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی حکومتوں کی امداد اچھی طرح سے لیس فضائیہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سابق افغان حکومت کے متعدد ماہرین کو بلایا جائے گا۔

    انہوں نے ازبکستان اور تاجکستان کو بھی خبردار کیا کہ وہ جلد از جلد افغان فوجی طیارے اور ہیلی کاپٹر طالبان کے حوالے کر دیں۔ گذشتہ سال 15 اگست کی دوپہر کو افغان فضائیہ کے متعدد پائلٹ اور عملہ 46 ہیلی کاپٹروں اور فوجی طیاروں میں تاجکستان اور ازبکستان کے لیے افغانستان سے روانہ ہوئے تھے۔

    ہیلی کاپٹر اور طیارے تاحال تاجکستان اور ازبکستان میں ہیں اور انہیں طالبان کے حوالے کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ طالبان نے پہلی بار مارچ کے شروع میں پنجشیر میں قومی مزاحمتی محاذ کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا تھا۔ طالبان رہنماؤں نے بارہا سابق افغان حکومت کے پائلٹوں اور فضائیہ کے ماہرین کو تعاون کے لیے مدعو کیا ہے۔

    سابق حکومت کے فوجیوں کی ہلاکتوں اور حالیہ برسوں میں اسلامی تحریک کے خلاف لڑنے والوں کے انتقام نے سابق ​​حکومتی افواج کو طالبان کی زیر قیادت ڈھانچے میں کام جاری رکھنے کی بجائے بیرونی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

    افغان فضائیہ کے کئی افسران اور پائلٹوں کو پچھلی انتظامیہ میں انخلا کے عمل کے دوران امریکہ اور یورپی ممالک میں منتقل کیا گیا تھا، لیکن کئی افغانستان چھوڑنے میں ناکام بھی رہے اور وہ ملک کے اندر خفیہ طور پر رہنے پر مجبور ہیں۔

  • یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس

    یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس

    ماسکو :یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس ،اطلاعات کے مطابق روس نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے امریکا کے ساتھ مل کر نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی ہے۔

    قبل ازیں روس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین امریکی حمایت یافتہ ریسرچ لیبز میں حیاتیاتی ہتھیار بھی تیار کررہا ہے۔

    روس کی جانب سے ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی ثبوت یا وضاحت پیش نہیں کی گئی کہ کس طرح ایک محصور ملک اچانک جوہری ہتھیار تیار کرنا شروع کر سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق روسی فیڈریشن کی سلامتی کونسل کے سکریٹری نکولائی پیٹروشیف کا کہنا ہے کہ “یوکرین کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کی تخلیق سے پوری دنیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا اور یہ جوہری جنگ کا آغاز ہوگا، روس یوکرین کے بے قابو قوم پرستوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا”۔

    پیٹروشیف نے منگل کے روز گروزنی میں شمالی قفقاز میں روسی فیڈریشن کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ “یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ امریکی مشیر ہی ہیں جو کیف حکومت کی حوصلہ افزائی اور مدد کرتے ہیں۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ “یوکرین کے پاس نیوکلئیر ہتھیار بنانے کے لیے قابلیت، ٹیکنالوجی، خام مال، ترسیل کے ذرائع سمیت سب کچھ ہے۔”

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے منگل کو کہا کہ نیٹو کو خدشہ ہے روس یوکرین پر اپنے حملے کے ایک حصے کے طور پر “فالس فلیگ” حملے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

    اسٹولٹن برگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں خدشہ ہے ماسکو ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔

    امریکا نے 9 مارچ کو ان روسی الزامات کی تردید کی تھی کہ وہ یوکرین میں بائیو وار فیئر لیبز چلا رہا ہے، ان دعوؤں کو “مضحکہ خیز” قرار دیا گیا اور تجویز کیا گای کہ ماسکو خود کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرنے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

    روس پہلے ہی یوکرین پر دونیتسک میں ایک کیمیکل پلانٹ کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کا الزام لگا چکا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قریبی شہری بستیوں میں زہریلی گیس چھوڑی ہے۔