Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکہ نے یوکرین کے لیے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری دے دی.

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرین کے لیے امداد کے بل پر دستخط کردئیے۔امریکی امداد یوکرینی مہاجرین اور دفاعی ضروریات کے لیے استعمال ہوگی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے ہم یوکرینی عوام کے ساتھ ہیں،ہم یوکرین کی ہر طرح سے مدد جاری رکھیں گے۔

    اعداد و شمار کے حوالے سے عالمی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ شدید بمباری کی وجہ سے شہر کے تقریباً چار لاکھ افراد کے پاس نہ پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی حرارت کا مناسب بندوبست ہے۔ شہریوں کو خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شہری حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے بعد سے اب تک کل 21 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 2 امریکی صحافی بھی شامل ہیں-

    یوکرین کے دارالحکومت کیف کے میئر نے تسلسل کے ساتھ ہونے والی روسی بمباری کے باعث شہر میں 36 گھنٹے کے کرفیو کا اعلان کردیا ہے۔

    دوسری جانب روسی افواج کے محاصرے میں موجود یوکرینی شہر ماریوپول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہزار شہریوں کی گاڑیاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم روٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں جب کہ مزید دو ہزار گاڑیاں نکلنے کی منتظر ہیں روسی افواج کی جانب سے کیے جانے والے محاصرے کے بعد یہ پہلا کامیاب انسانی انخلا ہے۔

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

  • بھارت میزائل کی پاکستان میں دراندازی اورپاک فوج کا منہ توڑ جواب:امریکہ اورچین بھی میدان میں آگئے

    بھارت میزائل کی پاکستان میں دراندازی اورپاک فوج کا منہ توڑ جواب:امریکہ اورچین بھی میدان میں آگئے

    ہندوستان نے حال ہی میں غلطی سے ایک میزائل داغا جو پاکستان میں گرا۔ ہندوستان نے اس حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ اس کی معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ میزائل ہندوستان نے داغے تھے۔ اسی دوران آج راجیہ سبھا میں بیان کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ واقعہ افسوسناک ہے لیکن راحت کی بات ہے کہ اس حادثے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور باضابطہ اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوگی۔ فی الحال ایس او پی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی خرابی پائی جاتی ہے تو اسے فوری طور پر درست کیا جائے گا۔ ہمارا میزائل سسٹم انتہائی محفوظ اور قابل اعتماد ہے۔

    اس معاملے پر امریکہ اور چین کا موقف الگ ہے۔ جہاں امریکہ ہندوستان کی حمایت میں نظر آ رہا ہے تو وہیں چین پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہندوستانی میزائل کے فائر ہونے کے واقعے میں حادثے کے علاوہ کسی دوسری وجہ کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پاکستان نے اس کی مشترکہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ہندوستان نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

    ایک ایسے وقت جب ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے اندر برہموس میزائل فائر کیے جانے کے واقعے پر طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے، امریکہ نے بھارتی موقف کی تائید کر دی ہے۔ دوسری جانب چین نے پاکستان کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ فریقین کو مشترکہ طور پر مل کر یہ معاملہ حل کرنا چاہیے۔

    گزشتہ ہفتے پاکستان نے ہندوستان پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا اور اس حوالے سے بطور احتجاج ہندوستانی حکام سے وضاحت طلب کی تھی۔ اس کے دو روز بعد بھارت نے یہ بات تسلیم کی کہ اس کا ایک میزائل غلطی سے فائر ہو گیا اور وہ پاکستان کے اندر جا گرا۔

    ہندوستان نے اس پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی وجوہات کے سبب یہ غلطی سرزد ہوئی اور اسی لیے اس کی اعلی سطح پر تفتیش کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم بھارتی میڈیا میں اس حوالے سے اور بھی بہت سی باتیں کہی جا رہی ہیں اور اس پر طرح طرح کے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی سرزمین پرہندوستانی میزائل فائر کیے جانے کے اسی معاملے پر جب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ آخر امریکہ کی نظر میں اس کی کیا وجہ ہو سکتی تو ترجمان نیڈ پرائس نے کہا، ”جیسا کہ آپ نے ہمارے بھارتی شراکت داروں سے بھی سنا ہے، ہمارے پاس ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ ایک حادثے کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔”

    اس حوالے سے ایک دوسرے سوال کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، ”ہم اس بارے میں مزید معلومات کے لیے آپ کو یقیناً ہندوستانی وزارت دفاع سے رجوع کرنے کو کہیں گے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کے لیے نو مارچ کو ایک بیان جاری کیا تھا۔ اس معاملے میں ہمارے پاس اس کے علاوہ کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔”

    پیر کے روز ہی جب ایک پاکستانی صحافی نے چینی وزارت خارجہ سے ہندوستانی میزائل کی ”حادثاتی فائرنگ” پر ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا تو چینی ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین نے اس حوالے سے متعلقہ معلومات کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان اور ہندوستانی دونوں جنوبی ایشیا کے اہم ممالک ہیں، جن پر علاقائی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔”

    ان کا مزید کہنا تھا، ”چین دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ اس پر جلد از جلد مکالمہ اور رابطہ کریں اور غور سے واقعے کا جائزہ لیں، معلومات کے تبادلے کو تیز کریں، اور فوری طور پر رپورٹنگ کا طریقہ کار قائم کریں تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اور غلط فہمی اور غلط اندازے سے بچا جا سکے۔”

    واضح رہے کہ پاکستان نے ہندوستان کی جانب سے غلطی تسلیم کرنے کے بعد اس واقعے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ چونکہ میزائل پاکستان میں گرا اس لیے اس کی تفتیش دونوں ملکوں کو مل کر مشترکہ طور پر کرنی چاہیے۔ بھارت نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے، تاہم چین کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے موقف کا حامی ہے۔

    ہندوستان نے نو مارچ 2022ء کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میزائلوں کی معمول کی نگرانی کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثاتی طور پر ایک میزائل فائر ہو گیا اور وہ پاکستان میں تقریباً 124 کلو میٹر اندر تک جا کر گرا۔

    ہندوستان کا کہنا تھا، ”معلوم ہوا ہے کہ یہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔ یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ تاہم یہ سن کر اطمینان بھی ہوا کہ اس حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔”

    تاہم میڈیا میں اس حوالے سے بہت سی چہ مہ گوئیاں ہو رہی ہیں۔ اس طرح کی بھی باتیں کہی جا رہی ہیں کہ کیا بھارت نے پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی قوت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے اور آخر میزائل کے اتنے طویل فاصلے تک پرواز کرنے کے باوجود اسے روکا کیوں نہیں کیا جا سکا۔

    ادھر آج بھی تھوڑی دیر پہلے کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران عسکری قیادت نے خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں بھارتی میزائل فائر کرنے کے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران اہم عالمی، علاقائی پیشرفت، ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال، مغربی سرحدوں پر پیش رفت کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس نے بھارت کی طرف سے خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں گرنے والے میزائل کے حالیہ واقعہ کو حادثاتی قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    شرکاء کے مطابق بھارتی میزائل سے بڑی تباہی ہو سکتی تھی۔ غلطی کے بھارتی اعتراف کے باوجود متعلقہ بین الاقوامی فورمز کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ عالمی فورمز کوبھارتی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، ایسے خطرناک واقعات خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف جاری کامیاب آپریشنز کو سراہا۔کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت کی کہ او آئی سی کونسل آف وزرائے خارجہ کے اجلاس، یوم پاکستان پریڈ کے پر امن انعقاد کے لیے جامع حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے فارمیشنوں کی آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور مشن پر مبنی تربیت پر زور دیا۔

  • روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

    روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ

    بیجنگ : روس نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی: امریکہ پراپیگنڈے سے باز رہے :چین کی وارننگ،اطلاعات کےمطابق چین نے منگل کو امریکہ پر ’غلط معلومات‘ پھیلا کر تنازعے کو بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے امریکہ کے دعوں کی تردید کی ہے کہ روس نے چین سے یوکرین میں فوجی مدد مانگی ہے۔

    لندن میں چینی سفارت خانے نے روئٹرز کو جاری ایک بیان میں کہا: ’امریکی یوکرین کے معاملے پر بار بار چین کے بارے میں بد نیتی پر مبنی غلط معلومات پھیلاتا آیا ہے۔‘ بیان میں کہا گیا:

    چین امن مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘ ’اب ترجیح صورت حال کو بہتر کرنا ہے اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے، جلتی پہ تیل چھڑکنے اور صورت حال کو مزید کشیدہ کرنا نہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ روس کی مدد کرنا چین کو مہنگا پڑے گا۔امریکہ امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے پیر کو ایک اعلیٰ چینی عہدیدار کو یوکرین حملے میں روس کی مدد کرنے سے خبردار کیا ہے۔

    امریکی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں روس نے چین سے فوجی مدد مانگی ہے، تاہم ماسکو نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی مشیر جیک سلیوان اور چین کی خارجہ پالیسی کے سینیئر مشیر یانگ جیچی کے درمیان پیر کو روم میں ملاقات ہوئی جس میں امریکہ نے چین کو روس کی مدد کرنے سے خبردار کیا۔

    بائیڈن انتظامیہ کی اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ چین یوکرین جنگ کو واشنگٹن کے مقابلے کی اپنی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے چینی مؤقف پر وضاحت مانگی اور چین کو خبردار کیا کہ روس کے لیے امداد بشمول امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو روکنے میں مدد کرنا ان کو مہنگا پڑے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے اس ملاقات کے حوالے سے بیان میں کہا کہ جیک سلیوان نے سات گھنٹے کی ایک ’کڑی‘ ملاقات کے دوران واضح کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کو اس وقت روس کے ساتھ چین کی صف بندی کے متعلق گہرے خدشات ہیں۔

  • روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    کیف:روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر کی روس کی جنگ کے خلاف مدد کی اپیل میں ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یوکرین پہنچنے والے افراد کے مجموعی جنگی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    ستائیس فروری کو یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کُولیبا نے اپنے ملکی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا ایم پیغام ٹویٹر پر جاری کیا تھا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے غیر ملکی افراد روسی فوج کشی کے خلاف عملی طور شریک ہوں۔

    اس پیغام کی ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ پانچ مارچ سے یوکرینی صدر کے اس پیغام کے جاری ہونے کے بعد سے جنگ میں شریک ہونے والے رضاکاروں کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی ویب سائیٹ بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے مختلف شہروں میں کئی غیر ملکی جنگجوؤں کے پہنچنے کا بتایا گیا ہے اس ویب سائیٹ میں جنگ میں شریک ہونے کی درخواست کا مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

    یوکرینی حکومت نے ایسے رضاکاروں کی ممکنہ فوج کا نام ‘انٹرنیشنل ڈیفینس لیجیئن‘ تجویز کیا ہے۔ جنگ میں شامل ہونے کے خواہشمند رضاکار اس مناسبت سے مکمل تعداد کو بیان نہیں کیا گیا لیکن ہزاروں غیر ملکی افراد نے یوکرینی دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

    لندن میں یورپی سکیورٹی کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ریسرچر ایڈ آرنلڈ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے والے رضاکاروں کی تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں لیکن محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ذرائع کے مطابق کئی جاپانی بھی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں اور پانچ سو بیلاروس کے شہریوں نے بھی رضاکار بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔

    ایڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں شریک سابقہ فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار دنوں میں اتنے فائر کیے ہیں جتنے وہ افغانستان میں قیام کے دوران نہیں کر سکے تھے۔ بعض جرمن میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک ہزار جرمن شہری یوکرین کا سفر اختیار کر چکے ہیں۔

    ان رضاکاروں یا یوکرینی صدر کی اپیل پر جرمن شہریوں کے مثبت ردِعمل بارے برلن سے وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ایسے افراد کے سفر کے بارے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ اسی طرح سے جرمن وزارتِ داخلہ کے ترجمان میکسمیلین کارل نے بھی بدھ نو مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں یوکرین کا سفر اختیار کرنے والے ایک ہزار افراد سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شینگن علاقے میں شہری آزادانہ طور پر سفر اختیار کر سکتے ہیں اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن افراد نے امکانی طور پر ایسا کیا ہے وہ یقینی طور پر یوکرینی نژاد جرمن افراد ہو سکتے ہیں۔

    میکسمیلن کارل نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی کے ادارے انتہائی دائیں بازو کے جرمن حلقوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسے افراد کی روانگی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    گزشتہ چند ایام کے دوران کچھ یورپی ممالک اور بالٹک ریاستوں جیسا کہ لیتھوانیا اور لٹویا، نے ایسی ہنگامی قانون سازی کی ہے، جس کے تحت یوکرین کی جنگ میں شرکت کے خواہشمندوں کے لیے قانونی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔

  • مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار:امریکہ کا انکار

    مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار:امریکہ کا انکار

    ماسکو : مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار،روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی رضاکار جو یوکرین میں روسی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کے خواہش مند ہیں انہیں اس کی اجازت دی جائے گی اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

    روس کی سکیورٹی کونسل کی میٹنگ ہوئی جس میں یوکرین سے جنگ اور دیگر معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں روسی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے 16 ہزار رضاکار روس فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کو تیار ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کے محافظ دستے میں شامل اہلکار روس کیخلاف لڑنے کیلئے یوکرین چلا گیااجلاس میں روسی صدر نے کہا ہے کہ غیرملکی رضا کاروں کو روس کیلئے لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

    اس حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کے خلاف لڑنے کیلئے تیار رضاکاروں میں شام سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں جنہیں شہری علاقوں میں لڑائی کا تجربہ ہے۔

    دوسری جانب روسی صدارتی محل کا کہنا ہے کہ شام اور مشرق وسطیٰ کے جنگجوؤں کویوکرین میں روس کیلئے لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

    صدارتی محل کا کہنا ہے کہ یوکرین میں لڑنے کی خواہش کرنے والوں میں زیادہ ترمشرق وسطیٰ اور شامی شہری ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج جمہ 11 مارچ کو روس کے ان الزامات پر غور و خوض کر رہی ہے جن میں کہا گیا کہ ماسکو کو یوکرین میں ’’امریکی حیاتیاتی ہتھیاروں سے جڑی سرگرمیوں‘‘ کے نشانات ملے ہیں۔

    روس کی طرف سے عائد کردہ ان الزامات کی سختی سے تردید یوکرائنی صدر وولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے بھی کی گئی ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے بھی۔

    امریکا نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہروس ممکنہ طور پر یوکرین کے خلاف حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے میدان تیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی ترجمان اولیویا ڈالٹن کے مطابق،

    ”یہ اسی طرح کی من گھڑت کوشش ہے جس کے بارے میں ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا۔ روس اسے کسی حیاتیاتی یا کیمیائی حملے کے جواز کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا روس کو سلامتی کونسل کے ذریعے جھوٹ کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دے گا۔

    یوکرینی صدر وولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بذات خود ایک بری علامت ہے۔ روس کی طرف سے سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کی درخواست کا اعلان ایک ٹوئیٹ کے ذریعے کیا گیا جو اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر اول دیمتری پولیانسکی کی طرف سے جاری کی گئی۔ جس میں کہا گیا کہ یوکرین امریکی مدد کے ساتھ ملک میں کیمیائی اور حیاتیاتی لیبارٹریاں چلا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں روس کے ایک اور نائب سفیر نے بدھ کے روز ان الزامات کو دہرایا تھا اور مغربی میڈیا پر زور دیا تھا کہ یوکرین میں موجود خفیہ حیاتیاتی لیباٹریوں کے بارے میں رپورٹ کرے۔

    بعد ازاں روسی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ٹوئیٹ میں ”یوکرینی سرزمین پر امریکا کی ملٹری بائیولوجیکل سرگرمیوں سے متعلق تجزیاتی دستاویزات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے کا جائزہ لے۔

    یوکرینی صدر وولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بذات خود ایک بری علامت ہے: ”اس سے مجھے بہت زیادہ پریشانی ہوئی ہے کیونکہ ہم اکثر اس بات کے قائل رہے ہیں کہ اگر آپ روس کے منصوبوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو وہ وہی ہوں گے جس کا الزام روس دوسروں پر لگائے۔‘‘

    جمعرات کو اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی کا مزید کہنا تھا، ”میں ایک ذی شعور شخص ہوں، ایک ذی شعور ملک اور لوگوں کا صدر ہوں۔ میں دو بچوں کا باپ ہوں۔۔۔ اور میری سر زمین پر کیمیائی یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا کوئی بھی ہتھیار تیار نہیں کیا گیا ہے۔ پوری دنیا یہ جانتی ہے۔‘‘

    اقوام متحدہ کی طرف سے جمعرات 10 مارچ کی شام اعلان کیا گیا کہ روسی درخواست پر یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق دن دس بجے منعقد کی جائے گی تاہم بعد میں ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا۔

    اقوم متحدہ کے تخفیف اسلحہ سے متعلق معاملات کے سربراہ ایزومی ناکامیتسو اور سیاسی معاملات کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو سلامتی کونسل کو اس حوالے سے بریفنگ دیں گی۔

  • خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا

    خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا

    واشنگٹن:خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا ،اطلاعات کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ آج تک خلا میں کسی انسان نےمباشرت نہیں کی، نہ ہی قلیل کشش ثقل والے ماحول میں مباشرت کے حوالے سے کوئی مطالعاتی تحقیق موجود ہے۔

    کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس تواتر سے عام شہری خلا کا سفر کر ہے ہیں، اب ضروری ہوگیا ہے کہ اس معاملے پر بھی تحقیق کی جائے۔

    انہوں نے عالمی خلائی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ خلا میں جنسی مباشرت اور انسانی تولید کے قواعد طے کئے جائیں، کیونکہ مستقبل میں دوسرے سیاروں پر انسانی بستیاں بسانے کے لیے ضروری ہے کہ قدرت کے اس انتہائی ضروری عمل کو وہاں کے ماحول کی مطابقت کے ساتھ سمجھا جائے۔یہ تحقیق مستقبل میں طویل خلائی مشنز میں عام لوگوں کی شرکت کے لیے ضروری قرار دی گئی ہے، جن میں ممکنہ طور پر کچھ شادی شدہ جوڑے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ ناسا نے خلا میں خلانودوں کے بیچ مباشرت کے خلاف سخت ضابطہ اخلاق نافذ کیا ہوا ہے۔ جو اس تحقیق کی راہ میں دیوار بنا ہوا تھا۔

    ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خلا نوردوں کی صحت اور حفاظت ہماری ترجیح ہے، ہمارا ہیومن ریسرچ پروگرام انسان کو خلا میں بھیجنے والی فلائٹس اور اس کے کریو کو لاحق خطرات کو کم کرنے اور انہیں جذباتی طور پر تیار کرنے کے لیے مناسب اقدامات پر مشتمل ہے۔

    اسپیس سیکس اسٹڈی کی شریک مصنف ماریا سینٹاگیڈا کہتی ہیں کہ تاحال یہ غیر واضح ہے کہ خلا میں انسان مباشرت کر بھی پائیں گے یا نہیں، یہ تحقیق خلا میں جنسی عملیات کے حوالے سے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

    ناسا کے ترجمان نے بتایا کہ ابھی تک انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر بیل اور انسانی نطفے کا استعمال کرتے ہوئے کئی جانداروں کے تولیدی عمل کا مطالعہ کیا گیا ہے، جن میں مکھیاں، جیلی فش، مچھلی، مینڈک، مرغی کے انڈے، چوہے شامل ہیں۔

    لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ جانوروں میں تولیدی عمل کا ڈیٹا انسانی تولیدی تحقیق کے لیے ناکافی ہے۔اسی لیے کینیڈین محققیقین نے خلا میں ایک مزید منظم اور وسیع پیمانے پر انسانی جنسیات کے حوالے سے مطالعاتی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا زیرو گریویٹی یا خلا مردانہ عضو خاص کی ایستادگی پر اثر انداز ہوسکتی ہے؟

  • روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    واشنگٹن : روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے یہ کہہ کرخطرے کی گھنٹیاں بجادیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کی اعانت کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین، یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ’روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔‘ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے اس دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب جب کہ روس نے یہ جھوٹے دعوے کیے ہیں، ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کرے، یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرے گا۔‘ چھ مارچ کو ماسکو کی وزارت خارجہ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج کو شواہد ملے ہیں کہ یوکرین کی حکومت فوج کی جانب سے چلائے گئے حیاتیاتی پروگرام کے نشانات کو مٹا رہے ہیں جس کی مالی اعانت مبینہ طور پر امریکہ نے فراہم کی تھی۔ نیڈ پرائس نے کہا کہ ’یہ روسی غلط معلومات سراسر احمقانہ ہیں۔‘

    ادھر غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہےدوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی کہا ہے کہ ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے-

    دریں اثناء امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب دنیا کی توجہ جمعرات کو ترکی کے جنوبی قصبے انطالیہ میں ہونے والی ایک میٹنگ پر مرکوز ہے جس میں ترکی، یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ مشرقی یورپ میں جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کریں گے اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ روس اور یوکرین کے ساتھ سمندری سرحد کا اشتراک کرتے ہوئے ترکی نے طویل عرصے سے نیٹو کے لیے اپنی اہمیت کو بڑھا کر اور ساتھ ہی روس کی مخالفت نہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار اور متوازن ثالث کے طور پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ استنبول ثالثی کانفرنس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے یوکرینی ہم منصب دمتری کولیبا کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات 24 فروری کو یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی

  • پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    واشنگٹن :پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:اطلاعات کے مطابق امریکہ نے یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے فراہم کی پولینڈ کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کا کہنا ہے کہ سوویت دور کے طیاروں کو جرمنی میں امریکی اڈے کے ذریعے کیف منتقل کرنے کی پولینڈ کی تجویز ناقابلِ عمل ہے۔اس تجویز نے پورے نیٹو اتحاد کے لیے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے۔

    اس تناظر میں پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ ہم اس مسئلے اور اس سے پیش آنے والے مشکل لاجسٹک چیلنجز کے بارے میں پولینڈ اور اپنے دیگر نیٹو اتحادیوں سے مشاورت جاری رکھیں گے، لیکن ہمیں یقین نہیں ہے کہ پولینڈ کی تجویز قابل عمل ہے۔ یہ صرف ہمارے لیے واضح نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی ٹھوس دلیل موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین کی فضائیہ کی حمایت کو ماسکو میں تنازعہ میں حصہ لینے اور سپلائی کرنے والوں کو ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    اس حوالے سے برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے کہا تھا کہ اس طرح ہم پولینڈ کی حفاظت کریں گے، ہم ان کی ہر اس چیز میں مدد کریں گے جس کی انہیں ضرورت ہے۔پولینڈ کے وزیر اعظم میٹیوز موراویکی نے کہا کہ جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ نیٹو کے ارکان کو متفقہ طور پر کرنا چاہیے۔

    یاد رہے، یوکرین کی فضائیہ کا بیڑا پرانے سوویت دور کے مگ 25 اور سکوئی 27 جیٹ طیاروں، اور اس سے زیادہ بھاری سکوئی 25 جیٹ طیاروں پر مشتمل ہے اور یہ وہ واحد طیارے ہیں جو یوکرین کے پائلٹ بغیر کسی اضافی تربیت کے فوری طور پر اڑ سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں، امریکی فوج نے اعلان کیا کہ وہ امریکی اور اتحادی افواج اور نیٹو کی سرزمین کے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دو پیٹریاٹ میزائل کی بیٹریاں پولینڈ میں نصب کرے گی۔

  • امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    واشنگٹن :امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملےکے تناظر میں نیٹو رکن ملک پولینڈ میں پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کردیا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکا نے میزائل اور جنگی طیاروں کے حملوں کے خلاف دفاع کرنے والے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی2 بیٹریوں کو پولینڈ میں نصب کیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے سینیئر اہلکار کے مطابق امریکا کا یہ اقدام نیٹو کے رکن ملک کے دفاع کے حوالے سےکیےگئے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے۔

    پینٹاگون کے سینیئر اہلکار کے مطابق پیٹریاٹ میزائل کی یہ دو بیٹریاں جرمنی میں نصب تھیں تاہم یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ کی درخواست پر انہیں وہاں تعینات کیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکومت نے یہ اقدام نیٹو رکن پولینڈ کے دفاع کے لیے اٹھایا ہے جو کہ اس بات کے خطرے کو ظاہرکرتا ہےکہ کہیں روس کا میزائل جان بوجھ کر یا غلطی سے یوکرین کی سرحد پار کرکے پولینڈ کو نشانہ نہ بناڈالے۔

    دوسری طرف یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی نے ایک بار پھر مغربی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگی طیاروں کی فراہمی سے متعلق جلد فیصلہ کرلیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق ولودومیر زیلینسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ ’کب فیصلہ کریں گے؟ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہم پھر آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذرا جلدی فیصلہ کرلیں، ہمیں جنگی طیارے بھیجیں۔‘

    خیال رہے کہ یوکرین کے پڑوسی اور نیٹو کے رکن ملک پولینڈ نے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا چاہے تو وہ جرمنی میں امریکی فضائی اڈے کے ذریعے اپنے روسی ساختہ مگ 29 لڑاکا طیارے یوکرین بھیج سکتا ہے۔

    تاہم گزشتہ روز امریکا نے پولینڈ کی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ اس معاملے پر زیلینسکی نے کہا کہ ’ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہواکہ امریکی و پولش حکام کے درمیان اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہےلیکن ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولینڈ کی پیشکش کی حمایت نہیں کی گئی۔‘زیلینسکی نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس وقت نہیں ہے، یہ پنگ پانگ کا کھیل نہیں ہو رہا ، انسانی جانیں داؤ پر لگی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ امریکی و نیٹو ائیربیس سے جنگی طیاروں کا اڑنا اور ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونا جو روس سے نبردآزما ہے یہ پورے نیٹو کیلئے سنگین خدشات پیدا کرسکتا ہے، ہمارے خیال میں پولینڈ کی تجویز قابل عمل نہیں۔

  • امریکہ نے روس کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان کیا ہے،ترجمان پیوٹن

    امریکہ نے روس کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان کیا ہے،ترجمان پیوٹن

    ماسکو: روسی ایوان صدر کریملن نے کہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے جواب میں امریکہ نے اپنے اقدامات سے روس کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کریملن کے ترجمان ڈمتری پیسکوف کا یہ بیان امریکی صدر جوبائیڈن کے کی جانب سے روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    پیسکوف نے کہا کہ صورتحال ایک گہرے تجزیے کی متقاضی ہے اگر آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ روس امریکا کے اس اقدام کے ردِعمل میں کیا کرنے جا رہا ہے تو جواب یہ ہے کہ روس ہر وہ ضروری اقدام کرے گا جو اس کے مفادات کے لیے ضروری ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے یقینی طور پر روس کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان کیا ہے اور وہ اس جنگ کو اور بھڑکا رہا ہے۔

    پوتن غُصےمیں آگئے توتباہی مچادیں گے:امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

    قبل ازیں امریکی انٹیلی جینس نے رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ روس پرامریکہ کی طرف سے پابندیاں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو غضبناک کرسکتی ہیں ، جس کا مطلب روسی صدر کچھ بھی کرسکتےہیں‌ امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پوتین یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    یوکرین جنگ:روسی بمباری میں یوکرینی اداکار ہلاک

    درایں اثنا امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے منگل کے روز انکشاف کیا تھا کہ روسی صدر یوکرین پر اپنا حملہ تیز کر سکتے ہیں حالانکہ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں روس کو فوجی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ایورل ہینس نے ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کی عالمی خطرات سے متعلق سالانہ سماعت میں مزید کہا تھا کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی ناکامیوں سے پوتین کو روکنے کا امکان نہیں ہے۔اس کے بجائے معاملات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    انٹیلی جنس ایجنسیوں کے دیگر ڈائریکٹرز کے ساتھ بیان دیتے ہوئے ہینس نے کہا تھا کہ پوتین کا اپنی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھنے کا اعلان غیر معمولی تھا لیکن انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے روس کی جوہری پوزیشن میں اس سے زیادہ تبدیلیاں نہیں دیکھی تھیں جو ماضی کے بین الاقوامی بحرانوں کے دوران دیکھی گئی تھیں۔

    یوکرین جنگ: میک ڈونلڈز، کوکا کولا اور سٹاربکس نے روس میں کاروبای سرگرمیاں معطل کر…