Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کچھ کرنے جارہی ہے: امریکی رپورٹ

    پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کچھ کرنے جارہی ہے: امریکی رپورٹ

    نئی دہلی : واشنگٹن ::؛پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کیجانب سےکارروائی کا امکان، امریکی رپورٹ نے پاکستان اور چین کے لیے محتاط رہنے کا پیغام دے دیا ،اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ اداروں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت کا چین اور پاکستان سے تنازع کافی حد تک تشویش ناک قرار دیا ہے۔

    امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی نے ایوان نمائندگان کو بتایا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت میں اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی جھوٹی سچی اشتعال انگیزی کا جواب فوجی طاقت سے دیا جائے۔

     

    عسکری خطرات سے متعلق امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کی سالانہ رپورٹ کو آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس نے جاری کیا ہے جس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جس نوعیت کی سرحدی کشیدگی پائی جاتی ہے وہ کسی بھی وقت دونوں میں جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان پر عسکری گروپوں کی حمایت کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں اسی لیے کشمیر میں پُرتشدد بدامنی کا کوئی واقعہ یا پھر بھارت میں کوئی حملہ ممکنہ فلیش پوائنٹ بن کر اُبھر سکتا ہے۔

    امریکی انٹیلیجنس نے خطرات سے متعلق اپنے اندازوں میں بھارت اور چین سے متعلق بھی آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ فریقین کے درمیان فوجی پوزیشن میں توسیع سے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ گيا ہے۔

    انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور بھارت میں مسلح تصادم کی صورت میں امریکی افراد اور مفادات کو بھی براہ راست خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اسی لیے حکام امریکا سے مداخلت کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق 2020ء میں دونوں ممالک کی فوجوں میں ہوئے تصادم کے تناظر میں نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کشیدہ رہیں گے۔

    2020ء میں مشرقی لداخ کی پینگانگ جھیل کے آس پاس چین اور بھارت کی افواج کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی اسی وجہ سے فریقین نے آہستہ آہستہ وہاں فوجیں اور بھاری ہتھیار تعینات کرنا شروع کر دیا جہاں اب ہزاروں فوجی آمنے سامنے ہیں۔

  • پوتن غُصےمیں آگئے توتباہی مچادیں گے:امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

    پوتن غُصےمیں آگئے توتباہی مچادیں گے:امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

    واشنگٹن :پابندیاں روسی صدر کومزید مشتعل کریں گی،وہ غُصے میں آگئے توپھرمعاملات ہاتھ سےنکل سکتے ہیں:امریکی انٹیلی جینس نے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ روس پرامریکہ کی طرف سے پابندیاں روسی صدر ولادی میر پوتن کو غضبناک کرسکتی ہیں ، جس کا مطلب روسی صدر کچھ بھی کرسکتےہیں‌،

    امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے”۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پوتین یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    درایں اثنا امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ روسی صدر یوکرین پر اپنا حملہ تیز کر سکتے ہیں حالانکہ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں روس کو فوجی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ایورل ہینس نے ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کی عالمی خطرات سے متعلق سالانہ سماعت میں مزید کہا کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی ناکامیوں سے پوتین کو روکنے کا امکان نہیں ہے۔اس کے بجائے معاملات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    انٹیلی جنس ایجنسیوں کے دیگر ڈائریکٹرز کے ساتھ بیان دیتے ہوئے ہینس نے کہا کہ پوتین کا اپنی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھنے کا اعلان غیر معمولی تھا لیکن انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے روس کی جوہری پوزیشن میں اس سے زیادہ تبدیلیاں نہیں دیکھی تھیں جو ماضی کے بین الاقوامی بحرانوں کے دوران دیکھی گئی تھیں۔

    قابل ذکر ہے کہ کریملن کی جانب سے 24 فروری کو یوکرینی سرزمین پر شروع کیا جانے والا روسی فوجی آپریشن آج بدھ کو 14 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے ماحول کے طویل وقفے کے بعد عدیم المثال سکیورٹی الرٹ ہے۔

    ان روسی حملوں نے ماسکو کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیوں کی مہم کا آغاز کیا جس میں 500 سے زیادہ مختلف نوعیت کی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ عالمی پابندیوں کا سامنے کرنے کے اعتبار سے روس دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

  • جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    واشنگٹن: جو بائیڈن نے روسی تیل اور گیس کی تمام درآمدات پر پابندی لگا دی:روس نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ملک میں روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی کا اعلان کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روسی تیل اور گیس اب امریکی بندرگاہوں پر قابلِ قبول نہیں۔ ہم روس کے صدر ولادمیر پوٹن کو جنگ میں کوئی ’مالی معاونت‘ فراہم نہیں کرنا چاہتے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے کیا ہے تاہم وہ پابندی میں امریکہ کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تا کہ روسی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے “طویل مدتی حکمت عملی” تیار کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس پابندی سے روسی معیشت کو ایک تباہ کن دھچکا پہنچنے کی توقع ہے جو ملک کی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد تیل اور گیس کی پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔روس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے سے عالمی مارکیٹ میں قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    روسی نائب صدر الیگزینڈر نوواک کے مطابق اگر روس کے تیل کو مسترد کیا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور تیل کی قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔ اگر تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو جواب میں جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں 2008ء کے بعد سے تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔

  • خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے

    خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے

    کیف: خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے جنگ کے دوران روسی میجرجنرل کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق روسی میجرجنرل وتالی گریسموف خارکیف کے قریب یوکرینی فوجیوں سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے۔جھڑپ میں متعدد دیگرروسی فوجی بھی ہلاک اورزخمی ہوئے۔

    یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ روسی میجر جنرل چیچنیا اورشام میں بھی روسی فوجی آپریشن میں شریک تھے۔روس نے میجر جنرل کی ہلاکت کی اطلاعات پرکوئی ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری جانب یوکرین پرشدید روسی شیلنگ کے باعث شہریوں کا محفوظ مقامات کی جانب انخلا رک گیا۔یوکرین میں ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔ ماریپول شہرمیں خوراک اورپانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق روس اوریوکرین کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہوسکی۔

    دوسری طرف روسی حملے کے بعد سے یوکرینی مہاجرین مسلسل اپنی اور بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سرحدی ممالک مالدووا، پولینڈ اور رومانیہ کا رخ کیے ہوئے ہیں۔ یوکرینی شہروں تاتاربوناری، اوڈیسا کے علاوہ سرحدی شہر گالاٹی سے بڑے پیمانے پر ہجرت جاری ہے۔ روس نے اپنے خلاف پابندیوں کو ایرانی جوہری مذاکرات سے کیوں جوڑا؟ ان شہروں سے بے شمار لوگ پاپیادہ روانہ ہیں اور کئی افراد اپنی کاروں پر راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں موسم ابھی بھی سرد ہے اور درجہ حرارت دو ڈگری سیلسیئس ہے جب کہ تیز ہوا نے اس موسم کو اور سرد کر رکھا ہے۔ سردی کی وجہ سے بڑی عمر کے مہاجرین کو شدید گہری پریشانی کا سامنا ہے۔

    مغرب کی سمت جانے والے مہاجرین ہزاروں یوکرینی مہاجرین روزانہ کی بنیاد سے جنگی حالات سے پریشان ہو کر ہمسایہ ممالک پہچنے کی کوشش میں ہیں۔ ان میں بہت سارے اپنی موٹر گاڑیوں پر سوار ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی یوکرینی شہروں کے پچھتر فیصد لوگ مغرب کی سمت رومانیہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ رومانیہ کی وزارتِ داخلہ نے ڈھائی ہزار کے قریب یوکرینی مہاجرین کے پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

    رومانیہ کی سرحد پر کئی مہنگی کاریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ کاریں یوکرین کے متمول افراد کی ہیں۔ یہ امیر افراد زیادہ تر بحیرہ اسود کے کنارے پر واقع خوبصورت بندرگاہی شہر اوڈیسا میں رہتے ہیں۔

    رومانیہ کی سرحد پر کئی رضاکار یوکرینی مہاجرین کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ایک رضاکار لڑکی ماریانا کا کہنا ہے کہ یہاں شدید سردی میں بے شمار مہاجرین کو بڑی مشکل کا سامنا ہے اور ان کے پاس آگے کہیں جانے کی ٹرانسپورٹ بھی نہیں۔ ماریانا اس صورت حال پر خاصی برہم اور پریشان ہیں کہ کئی بڑی بڑی کاروں میں صرف دو افراد بیٹھ کر پولینڈ اور مالدووا پہنچ رہے ہیں اور اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ کچھ اور افراد کو اپنے ساتھ بٹھا کر آگے مہاجرین کے مرکز تک لے جائیں۔

    بظاہر رومانیہ کی سرحد پر انتظامات بہتر دکھائی دیتے ہیں اور لوگوں کو سرحد عبور کرنے میں تاخیر نہیں ہو رہی۔ اس سرحدی مقام پر مالدووا کی سرحد بھی ملتی ہے اور اس جانب بھی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد داخل ہونے کی خواہشمند ہے۔

    ابھی تک مالدووا اور رومانیہ میں مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کا جذبہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ان سرحدوں پر بے شمار رضا کار مہاجرین کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ وہ ان مہاجرین کو ہر طرح کی معلومات اور مدد فراہم کرتے ہیں

  • ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا

    ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا

    نیویارک :ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین-روس جنگ پر اقوام متحدہ سلامتی کونس کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس ترومورتی نے کہا، "ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ دونوں طرف سے ہماری درخواستوں کے باوجود، سومی میں پھنسے ہوئے ہمارے طلباء کے لیے ایک محفوظ راہداری نہیں مل سکی ہے۔

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس ترومورتی نے کہا کہ روس اور یوکرین دونوں کو راضی کرنے کی بہترین کوششوں کے باوجود سومی میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کے لیے محفوظ راہداری نہیں بنائی جاسکی۔

    یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے انسانی بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، ترومورتی نے کہا کہ ہندوستان نے یوکرین سے تمام بے گناہ شہریوں اور اپنے شہریوں کے لیے محفوظ اور بلاتعطل راستے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ دونوں طرف سے ہماری درخواستوں کے باوجود، سومی میں پھنسے ہوئے ہمارے طلباء کے لیے محفوظ راہداری نہیں دی گئی ہے۔ سفیر نے کہاکہ "ہم نے یوکرین سے 20,000 سے زیادہ ہندوستانیوں کی بحفاظت واپسی کی سہولت فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے دوسرے ممالک کے شہریوں کو جنگ زدہ ملک سے انخلاء میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے یوکرین اور اس کے پڑوسی ممالک کو انسانی امداد بھیجی ہے اور ان میں ادویات، خیمے، پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک، دیگر امدادی سامان شامل ہیں۔

  • بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ تبدیل

    بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ تبدیل

    نئی دہلی :واشنگٹن :بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا یہ بحث پچھلے کئی دن سے چل رہی تھی کہ روس کے یوکرین پر حملے کے جواب میں امریکی پابندیوں کے بعد کسی بھی ملک کے لیے روس سے فوجی سازوسامان کی خریداری جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا،اس حوالےسے معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ڈونلڈ لو نے بدھ کو سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ” پچھلے چند” ہفتوں میں، "جو کچھ ہم نے ہندوستان سے دیکھا ہے اس میں یہ چیز ثابت ہوگئی ہےکہ بھارت نے روس سے تمام اسلحہ خریدنے کے معاہدے ختم کردیئے ہیں‌

    نئی دہلی میں رابطہ کرنے پر وزارت دفاع کے ترجمان نے ان دعووں کی تردید کرنے سے انکار کردیا ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی معاملات کچھ اس طرف جارہے ہیں ۔ لو، جنہوں نے ہندوستان کو ایک "واقعی اہم سیکورٹی پارٹنر” کہا، وہ "روسی جارحیت” پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے چند گھنٹوں بعد سینیٹ میں بات کر رہے تھے، جہاں سے ہندوستان، چین، پاکستان، بنگلہ دیش سمیت 34 دیگر ممالک کے ساتھ۔ سری لنکا غیر حاضر رہے

    خاص طور پر یہ پوچھے جانے پر کہ کیا، بھارت کی عدم شرکت کے پیش نظر، بائیڈن انتظامیہ روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے لیے دہلی پر CAATSA پابندیاں لگانے پر غور کر رہی ہے ،

    ان کا کہنا تھا کہ CAATSA یا Countering America’s Adversaries through Sanctions Act 2017 کا امریکی قانون ہے جو ایران، شمالی کوریا اور روس کو نشانہ بناتا ہے اور ان کے ساتھ کاروباری لین دین کرنے والے کسی بھی ملک یا ادارے کے خلاف درخواست کی جا سکتی ہے۔

    2020 میں امریکہ نے ترکی کو S-400 خریدنے پر پابندی لگا دی۔ دہلی نے 2018 میں ماسکو کے ساتھ S-400 کے لیے 5.3 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے، اور روس نے نومبر 2021 میں بھارت کو سسٹم کی فراہمی شروع کی۔

    دہلی کو یقین تھا کہ بائیڈن انتظامیہ S-400 سودے کے لیے ہندوستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو دیکھتے ہوئے مستثنیٰ قرار دے گی، کواڈ ممالک کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہوگا مگریہ توقعات درست ثابت نہ ہوئیں‌

    تاہم، یوکرین پر روس کے حملےکے بعد ماسکو کو سزا دینے کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی نئی پابندیاں، اور تنازعہ میں ہندوستان کی غیر جانبدارانہ پوزیشن نے S-400 معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے

    امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بائیڈن انتظامیہ CAATSA قانون کی پیروی کرے گی اور اس قانون کو مکمل طور پر نافذ کرے گی اور جب ہم ان میں سے کسی کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو کانگریس سے مشورہ کریں گے۔ کیا، بدقسمتی سے، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ صدر یا (سیکرٹری آف اسٹیٹ) روس پر یا پابندیوں کے معاملے پر، یا اس فیصلے پر روس کا یوکرین پر حملہ برداشت کرے گا

    لو نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرنا ہے۔لیکن امریکہ کو یقین ہے کہ بھارت روس سے دوستی کی بجائے امریکہ سے وفا کو ترجیح دے گا

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "بھارت اس وقت ہمارا واقعی ایک اہم سیکورٹی پارٹنر ہے۔ اور یہ کہ ہم اس شراکت داری کو آگے بڑھانے کی قدر کرتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ روس کو جس شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ ہندوستان کو اب روس سے دور ہونا پڑے گا اور ہندوستان آگے بڑھنا چاہتا ہے

    ایک سوال کے جواب میں لو کا کہنا تھا کہ بھارت کے حوالے سے ایک ابہام بھی تھا اور خطے کی اسٹریٹیجک صورتحال بھی کچھ ایسی تھی کہ بھارت کی ضروریات کے پیش نظر کچھ آزادیاں‌ تھیں لیکن اب ماضی کو بھول کرنئے معاہدوں کی ضرورت ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "سیکرٹری اسٹیٹ ٹونی بلنکن اس جنگ کے فرنٹ لائنز پر رہے ہیں۔ صدر، محکمہ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام گزشتہ مہینوں کے دوران یوکرین پر اپنے ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ انتہائی سنجیدہ اعلیٰ سطحی بات چیت کر رہے ہیں،‘‘ لو نے کہا، ہندوستان کی طرف سے تمام ریاستوں سے اقوام متحدہ کی پابندی کی اپیل کو نوٹ کرتے ہوئے چارٹر، خودمختاری اور دیگر ریاستوں کی علاقائی سالمیت کا احترام، اور "چھوٹے اقدامات” کے اشارے کے طور پر یوکرین کو انسانی بنیادوں پر سامان بھیجنا امریکہ کی پالیسیوں کو تائید ملنے کے برابر تھی

    انہوں نے کہا کہ کھرکیو کی بمباری میں ہندوستانی طالب علم کی ہلاکت نے ہندوستان میں رائے عامہ کو روس کے خلاف بھی موڑنا شروع کردیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں روس کی بمباری کے نتیجے میں‌ ہلاک ہونے والے ہندوستانی طالبعلم کے معاملے پر بھارت اور روس کے درمیان کافی سردمہری دکھائی جارہی ہے جس کا واضح مطلب یہی کہ اب بھارت روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنے کی بجائے امریکہ کی طرف ہاتھ بڑھائے گا جس کا واضح مطلب خطے میں‌ اب بھارت اور روس کے درمیان اب تعلقات وہ نہیں‌جو ماضی میں ہوا کرتے تھے

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ ان سارے حالات کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے دورہ روس کے درمیان روس پر واضح کیا تھا کہ اب اسے اپنے ماضی کے وہ وطیرے بدلنے ہوں‌ گے اور اگر روس پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے چاہتا ہے تو پھرپاکستان کے مخالفین کی حمایت سے بھی دور رہے ، اس ملاقات کے بعد حالات اچاک بدل گئے ، جس کے نتیجے میں‌آج بھارت اپنی کئی دہائیوں پر روس سے دوستی کو خیرآباد کہہ دیا تھا

  • روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

    روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

    واشنگٹن :روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:اطلاعات کے مطابق امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ہمیں اس بات کی انتہائی معتبر رپورٹس ملی ہیں کہ روس یوکرین پر کیے جانے والے حملوں میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے اور جنگی جرائم کی تحقیقات میں تنظیموں کی مدد کے لیے ان رپورٹس کو مرتب کررہا ہے۔

    سی این این کے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ شو میں گفتگو کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہم نے عام شہریوں پر جان بوجھ کر کیے جانے والے حملوں کی بہت معتبر رپورٹیں دیکھی ہیں جو جنگی جرم کے مترادف ہے، ہم نے بعض ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں بہت معتبر رپورٹیں دیکھی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت ان تمام ثبوتوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں، ان سب کو ایک ساتھ مرتب کررہے ہیں، اس کو دیکھنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ لوگ اور مناسب تنظیمیں اور ادارے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا جنگی جرائم ہوئے ہیں یا کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔

    یوکرین میں امریکی سفارت خانے نے جمعے کے روز ایک ٹوئٹ میں کہا کہ روس کی جارح افواج کے جنوب مشرقی یوکرین میں شدید لڑائی کے نتیجے میں یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کرنے کے بعد جوہری پلانٹ پر حملہ کرنا ایک جنگی جرم ہے جس سے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

    سی این این کے مطابق محکمہ خارجہ نے یورپ میں تمام امریکی سفارت خانوں کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ کیف کے سفارت خانے کے اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ نہ کریں جس میں حملے کو جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔

    روس نے 24 فروری کو شروع کی گئی مہم کو "خصوصی فوجی آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا یوکرین پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے البتہ اس حملے کے دوران وہ مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی تمام ریاستوں کی طرح روس اور یوکرین 1949 کے جنیوا کنونشنز کے تابع ہیں جس کے لیے جنگ میں انسانی سلوک کے قانونی معیارات متعین کیے گئے ہیں اور شہریوں پر جان بوجھ کر حملوں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

    حملے کو 11 دن گزرنے کے بعد اب تک 15لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں مہاجرین کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا بحران ہے۔

  • یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی

    یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی

    ماسکو :یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی،اطلاعات کے مطابق یوکرین کی فوج نے روس کا فوجی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد سے اب یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت متعدد شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں۔روسی فوج نے دو یوکرینی شہروں سے شہری آبادی کے انخلا کیلئے عارضی جنگ بندی کی تھی تاہم دونوں ملکوں کے درمیان جنگ اب بھی جاری ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یوکرینی فوج نے روسی فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ یوکرینی فوج نے روسی فوجی ہیلی کاپٹر کو میزائل سے نشانہ بناکرگرایا۔یوکرینی آرمڈ فورسز کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہیلی کاپٹر گرانے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ روسی ہیلی کاپٹر کب اور کہاں مار گرایا گیا۔

    خیال رہے کہ حالیہ جنگ میں یوکرین کی جانب سے روسی افواج کے بھاری جانی اور مالی نقصان کے دعوے کیے گئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

    دوسری طرف روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین غیر ملکیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ یوکرینی عسکریت پسندوں کے پاس پانچ ہزار غیر ملکی ہیں، غیر ملکیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    وزارت دفاع نے کہا کہ غیر ملکیوں میں 16 طلبہ پاکستانی، 1500 بھارتی طلبہ ہیں، اردن کے 200، مصر کے 40، ویتنام کے 15 شہریوں کو خارکیو میں رکھا گیا ہے، بھارت کے 576، تنزانیہ کے 159، چین کے 121، گھانا کے 100 طلبہ، مصر کے 60، اردن کے 45، تیونس کے 15 اور سومی شہر میں زیمبیا کے 14 شہری ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ یوکرین نے خارکیو اور سومی میں انسانی راہداری کھولنے سے انکار کیا ہے، یوکرینی قوم پرستوں نے 20 افراد پر مشتمل پاکستانی گروپ پر تشدد بھی کیا، 20 افراد پر مشتمل پاکستانی گروپ کو سجا چیک پوائنٹ پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزارت دفاع نے کہا کہ یوکرین قوم پرستوں کے تشدد کے باعث پاکستانی گروپ واپس چلا گیا، یوکرین میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے واقعات بھی بڑھ گئے، یوکرینی قوم پرست غیر ملکیوں کو نکالنے سے روک رہے ہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ یوکرینی قوم پرست پاکستان، بھارت، انڈونیشیا اور مصر کے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ادھر روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے روسی ایئر لائن ایرو فلوٹ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین میں نازیوں کی حمایت کرنے والے گروہ ہیں، روس کو خطرے کا سامنا ہے مغربی پابندیاں جنگ کا اعلان ہے، ہم ڈنباس کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔

  • ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    واشنگٹن :ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین سے مقابلے کے لیے امریکہ بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ چین ہر موڑ پر بھارت کو بھی اسی طرح اکسا رہا ہے، جس طرح وہ امریکہ کے ساتھ کرتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین ہر موڑ پر بھارت کو اسی انداز سے اکسا رہا ہے جس طرح اس کا سلوک امریکہ کے ساتھ ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط تر کرنے کے مقصد سے اپنی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

    جنوبی ایشیا اور وسطی بھارت سے متعلق معاون سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کے ارکان کو خطے کی صورت حال کے بارے میں کہنا تھا کہ ہم اپنی دفاعی شراکت داری میں پیش رفت کو تیز تر کرنے اور چینی اشتعال انگیزیوں کو روکنے کے لیے بھارت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس سلسلے میں مضبوط بحری تعاون، بہتر معلومات اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے ساتھ ہی خلائی اور سائبر اسپیس جیسے ابھرتے ہوئے میدانوں میں بھی ہم نے بھارت کے ساتھ تعاون کو بڑھا دیا ہے۔”

    کواڈ امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل ایک چار رکنی گروپ ہے جو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر قابو پانے اور آزاد نیز کھلے ہند بحرالکاہل کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    میلبورن میں کواڈ کے وزراء خارجہ کی ہونے والی حالیہ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، لو نے کہا کہ جس انداز سے کواڈ کے تمام شراکت داروں نے آزاد ہند بحرالکاہل کی حمایت کرنے کا عزم کیا ہے وہ کافی حوصلہ بخش بات ہے۔

  • افغان طالبان کی توجہ روس امریکہ جنگ سے ہٹانےکےلیے افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر امداد

    افغان طالبان کی توجہ روس امریکہ جنگ سے ہٹانےکےلیے افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر امداد

    نیویارک : افغان طالبان کی توجہ روس امریکہ جنگ سے ہٹانےکےلیے افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر امداد ،اطلاعات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے ورلڈ بینک نے انسانی ہمدردی کے تناظر میں افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم طالبان حکومت کے کنٹرول میں جانے کے بجائے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مختص کی گئی امداد افغانستان ریکنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ میں سے ہیں اور یہ گذشتہ دسمبر میں ادا کیے گئے 28 کروڑ ڈالر اے آر ٹی ایف فنڈز کے علاوہ ہے، جس کا مقصد سردیوں کے مہینوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کی مدد کرنا تھا۔

    واشنگٹن میں قائم ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فنڈز گرانٹس کی شکل میں فراہم کیے جائیں گے جس کا مقصد ضروری بنیادی خدمات کی فراہمی میں مدد، کمزور افغان عوام کے تحفظ، انسانی سرمائے اور اہم اقتصادی اور سماجی خدمات کے تحفظ میں مدد اور مستقبل میں انسانی امداد کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔‘ ورلڈ بینک نے گذشتہ اگست کے آخر میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کابل کو دی جانے والی اپنی امداد معطل کر دی تھی۔ اے آر ٹی ایف ایک ملٹی ڈونر فنڈ ہے جو لاکھوں افغانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی امداد کو مربوط بناتا ہے اور ڈونر پارٹنرز کی جانب سے عالمی بینک اس کا انتظام کرتا ہے۔

    اے آر ٹی ایف طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے تک افغانستان کے لیے ترقیاتی فنڈنگ کا سب سے بڑا ذریعہ تھا جو حکومت کے بجٹ کو 30 فیصد تک مالی اعانت فراہم کرتا تھا۔ عالمی بینک طالبان حکومت کو براہ راست رقم فراہم کرنے سے قاصر ہے جسے بین الاقوامی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے، اس لیے بینک نے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فنڈز اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف جیسی تنظیموں کو بھیجے ہیں۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی بڑی آبادی کو خوراک کی قلت اور بڑھتی ہوئی غربت کا سامنا ہے۔ عالمی بینک نے کہا ہے کہ ’اس نئی امداد کا مقصد ’کمزور افغان عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور انسانی سرمائے اور اہم اقتصادی اور سماجی خدمات کے تحفظ میں مدد کرنا ہے۔‘

    امداد کے بغیر پہلا بجٹ اس تمام صورتحال کے باوجود طالبان حکومت نے دو دہائیوں میں پہلی بار غیر ملکی امداد پر انحصار کیے بغیر 17 دسمبر 2021 کو اپنا پہلا بجٹ پیش کیا تھا۔ ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بجٹ کو منظر عام پر لانے سے قبل منظوری کے لیے کابینہ کے پاس بھیجا جائے گا۔ گذشتہ برس طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد عالمی ڈونرز نے افغانستان کی مالی امداد روک دی تھی اور امریکہ سمیت مغربی طاقتوں نے بھی کابل کے بیرون ملک موجود اربوں ڈالرز کے اثاثے منجمد کر دیے تھے۔ سال 2021 میں اشرف غنی کی حکومت کے آخری بجٹ کو آئی ایم ایف کی رہنمائی کے تحت بنایا گیا تھا جس کو 219 ارب افغانی (اس وقت 2.7 ارب ڈالر) کی امداد اور 217 ارب افغانی ملکی آمدنی کے باوجود خسارے کا سامنا تھا۔