Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • وزیراعظم پاکستان بہادرآباد جارہےہیں:سب ٹھیک ہوجائے گا:فروغ نسیم

    وزیراعظم پاکستان بہادرآباد جارہےہیں:سب ٹھیک ہوجائے گا:فروغ نسیم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان بہادرآباد جارہےہیں:سب ٹھیک ہوجائے گا:اطلاعات کے مطابق وزیر قانون فروغ نسیم نے وزیر اعظم عمران خان کی ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے بہادر آباد جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم سے اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور پاکستان بار کے نو منتخب نمائندوں نے ملاقات کی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراعظم نے امین الحق کی موجودگی میں کہا تھا کہ وہ ایم کیو ایم سے ملاقات کےلیے بہادر آباد جائیں گے، توقع ہے کہ وزیر اعظم ایک آدھ ہفتے میں بہادر آباد آنے کا پروگرام فائنل کریں گے۔

    انہوں نے کہاکہ کوشش ہے کہ سول مقدمات کے فیصلے جلدی ہوں، وکلاکو جسٹس سسٹم کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    فروغ نسیم نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی کردار کشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کے معترف ہیں، کئی بہترین ججز ہیں جو سنیارٹی کے بغیر آئے، کسی بھی جج کی کردار کشی نہیں ہونی چاہیے۔

    متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد عمران خان سیاسی صورت حال کے تناظر میں تیزی سے سیاسی کارڈز کھیلنے لگے، وزیراعظم اتحادی جماعتوں کے محاذ پر متحرک ہوئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق عمران خان نے مسلم لیگ ق سے رابطوں کے بعد دیگر اتحادیوں سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی جلد ملاقات کا امکان ہے۔

    اُدھر وزیر اعظم نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی رابطے تیز کردئیے، دورہ لاہور کے دوران وزیر اعظم کی پنجاب کے چار ڈویژن کے اراکین پارلیمنٹ سے طویل ملاقات ہوئی، اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو غیر فعال کرنے کے لیے وزیراعظم نے خود رابطوں کا محاز سنبھال لیا۔

    وزیراعظم سے راولپنڈی، بہاولپور، ملتان اور ساہیوال ڈیویژنز سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان نے الگ الگ ملاقاتیں کیں ۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے ارکان پارلیمان کو ہدایت کی کہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ مضبوط کریں، عوام کومختلف سرکاری اسکیموں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے، حکومت کو مہنگائی کی وجہ سے درپیش عوام کی پریشانیوں کا احساس ہے، عوام کو مہنگائی کے منفی اثرات سے بچانے کیلئےاقدامات کررہے ہیں۔

    عمران خان نے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی یقینی بنانے کیلئے نچلی سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے کمی عوام دوست اقدام ہے، بجلی کی قیمت میں 5 روپے کمی بھی عوام دوست اقدام میں شامل ہے، اگلے 2 سالوں میں کاروباری قرضوں پر 407 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی اور احساس پروگرام کے تحت ماہانہ وظیفہ 14 ہزار روپے کیا گیا ہے۔

  • یوکرین میں کچھ میرے شاہین بچوں کو نقصان پہنچا ہے:لیکن جلد فتح پالیں گے: چیچن صدر

    یوکرین میں کچھ میرے شاہین بچوں کو نقصان پہنچا ہے:لیکن جلد فتح پالیں گے: چیچن صدر

    ماسکو:یوکرین میں کچھ میرے شاہین بچوں کو نقصان پہنچا ہے:لیکن جلد فتح پالیں گے:اطلاعات کے مطابق چیچنیا کے صدر رمضان قادروف کا کہنا ہے کہ ’ان کے کئی جنگجو روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

    سابق باغی اور روس کے حمایت یافتہ چیچن لیڈر رمضان قادروف نے منگل کو کہا کہ ’وہ یوکرین کے خلاف صدر ولادیمیر پوتن کے حملے کی حمایت کرتے ہیں، اور وہ اپنے جنگجو بھی روس کے ساتھ لڑنے کے لیے بھیج رہے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر ایک بیان میں رمضان قادروف کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے اس جنگ میں لڑنے والے چیچنز کا نقصان ہوا ہے، ہمارے دو جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    کریملن نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے ماسکو کے حملے کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے یوکرین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور سے نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے منگل کو کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن کو مذاکرات کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے اور ’ان کے نتائج کا اندازہ لگانا بہت جلد ہے۔

    خیال رہے کہ یوکرین اور روس کے حکام نے پیر کو بیلا روس اور یوکرین کی سرحد پر جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار بات چیت کے لیے ملاقات کی تھی۔ دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ ماسکو مذاکرات کے نتائج کا ’تجزیہ‘ کرے گا۔

    انہوں نے یہ بات یوکرین کے حکام کے کئی گھنٹے بعد کہی، جن کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے شہر خارکیو کے مرکزی چوک پر گولہ باری کی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو روس کے حملے کے بعد سے اب تک 350 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

    روس نے بھی اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے لیکن ان کی تعداد ظاہر نہیں کی ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خارکیو پر روسی شیلنگ کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ دارالحکومت کی روسی فوج سے حفاظت کرنا اولین ترجیح ہے۔ ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’خارکیو پر حملہ جنگی جرم ہے۔ یہ روس کی ریاستی دہشت گردی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’خارکیو اور کیئف (پر قبضہ کرنا) روس کے اہم ترین مقاصد ہیں۔ اس دہشت گردی کا مقصد ہمیں اور ہماری مزاحمت کو توڑنا ہے۔

  • پیوٹن اس وقت دنیا میں تنہا ہے،امریکہ نیٹو رکن ممالک کی انچ انچ زمین کا دفاع کرے گا،جوبائیڈن

    پیوٹن اس وقت دنیا میں تنہا ہے،امریکہ نیٹو رکن ممالک کی انچ انچ زمین کا دفاع کرے گا،جوبائیڈن

    امریکی صدرجوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ نیٹو رکن ممالک کی انچ انچ زمین کا دفاع کرے گا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ 6 روز قبل پیوٹن نے آزاد دنیا کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی امریکہ یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے پیوٹن اس وقت دنیا میں تنہا ہے، پیوٹن کو اس سے قبل دنیا میں اتنی تنہائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    بائیڈن نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد نیٹو اتحاد دنیا میں امن و استحکام کے لیے قائم کیا گیا آج آزاد دنیا روسی صدر کو جوابدہ ٹھہرا رہی ہے نیٹو ممالک کے تحفظ کے لیے امریکی افواج بھیج رہے ہیں یورپ روس کے لگژری اپارٹمنٹس اور جیٹس کو منجمد کرے۔

    امریکی صدر نے امریکی فضائی حدود کو روس کیلئے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ روس کے جھوٹ کا مقابلہ سچ کے ساتھ کیا۔یوکرین کو اسپورٹ کرتے رہیں گےجب تک وہ اپنے دفاع کے لیے کھڑا ہے پیوٹن نے یورپ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی دوسری جنگ عظیم کے بعد نیٹو اتحاد دنیا میں امن و استحکام کے لیے قائم کیا گیا۔

    جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ پیوٹن کو نہیں پتہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے کانگریس یوکرین کے لیے مزید اسلحہ اور امداد کی منظوری دے امریکہ اوراتحادی اپنی سرحدوں کا دفاع پوری قوت کے ساتھ کریں گے جمہوریت اور آمریت کی جنگ میں جمہوریت کی جیت ہوتی ہے یقینی بنائیں گے کہ امریکی پابندیوں سے صرف روس کو نقصان پہنچے روسی کرنسل روبل اپنی قدر40 فیصد تک کھو چکی ہے۔

    نیٹواورجرمنی کاماسکوسےجنگ روکنےکامطالبہ:برطانوی وزیراعظم کی روس پرتنقید:حالات بگڑنےلگے

    امریکی صدرنے کہا کہ روس کا یوکرین پر حملہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا پیوٹن نے بلا اشتعال حملہ کیا اور سفارتی کوششیں ناکام کیں، پیوٹن کا خیال تھا کہ مغرب اور نیٹوجواب نہیں دیں گے ہم نے روس کا مقابلہ کرنے کے لیے آزادی پسند اقوام کا اتحاد بنایا ہم روس کو تکلیف پہنچا رہے ہیں یوکرین کے عوام بڑے حوصلے کےساتھ لڑ رہے ہیں پیوٹن کو میدان جنگ میں وقتی فائدہ ہو سکتا ہے پیوٹن کو طویل عرصے میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

    جوبائیڈن نے 30ملین بیرل آئل اسٹرٹیجک ریزرو سے جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میری سب سے زیادہ توجہ مہنگائی پر قابو پانے پر رہی کورونا کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچا ہماری معیشت اب ٹریک پر ہے لوگوں کی تنخواہوں میں کٹوتی نہیں کر سکتا چیزوں کی قیمتوں میں کمی کریں تنخواہوں میں نہیں۔

    روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    دوسری جانب یوکرین نے روس کیخلاف لڑنےکیلئے آنیوالے غیرملکیوں پر سے ویزا پابندی اٹھالی،یوکرین نے روس کے خلاف لڑنےکے لیے یوکرین آنے والے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کردی۔یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شمولیت اختیار کرلیں۔

    غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے حکم نامے کے تحت عارضی طور پر ویزا پابندی اٹھالی ہے ، اس طرح روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کی جدوجہد میں عملی شرکت کے خواہشمند افراد باآسانی یوکرین داخل ہوسکیں گے۔

    یوکرین کی جانب سے یہ سہولت روسی شہریوں کے لیے نہیں ہے اور انہیں حکم نامے میں جارح ملک کے شہری قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کو یوکرین میں داخلے کے لیے اپنا عسکری پس منظر بتانا ہوگا، اس کے علاوہ انہیں اپنا دفاعی فوجی سازوسامان لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

  • روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    ماسکو: روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان،اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے ایک تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ روس کے پاس درمیانے یا کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر یوکرین کے شہر خارکیف میں ایک تاریخی عمارت کو میزائل سے نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بیان میں کہا کہ یوکرین اشتعال انگیزیاں کر رہا ہے، تاہم روس یوکرین میں جوہری کارروائی سے ہر ممکن گریز کرے گا انھوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ واشنگٹن اور مغرب روس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔

     

     

    واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کا آج پانچواں روز ہے، اس دوران سیکڑوں شہری اور فوجی میزائل حملوں اور گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو چکے ہیں، کیف، اڈیسہ اور خارکیف پر روسی افواج کی شیلنگ جاری ہے, پیر کو اوختیرکا میں ایک فوجی اڈے پر روسی توپ خانے کے حملے میں کم از کم 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہونے کے اطلاعات ہیں۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف کی جانب ایک بہت بڑے روسی فوجی قافلےکی پیش قدمی دیکھی گئی ہے، روسی فوجی قافلہ سڑک پر 40 میل تک پھیلا ہوا تھا، روسی فوجی کانوائے میں ٹینک اور دیگر جنگی گاڑیاں موجود تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی تصاویر سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی ہیں۔

  • امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    واشنگٹن: امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملوں میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ دوسری جانب روس کے یوکرین پرحملے کے جواب میں امریکہ ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نے روس کے ایٹمی حملوں کے جواب میں ایٹمی حملے سے زیادہ سخت جوابی حملہ کرکے عالمی سطح پر اس کی سیاسی و اقتصادی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ اور اتحادی ممالک نے روس کو معاشی طور پر سزا دینے کے لیے صدر پوتن سمیت اہم شخصیات اور کاروباری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے یوکرین پر حملہ کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    امریکہ نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر اپنی فوج یوکرین بھجوانے سے انکار کیا ہے تاہم امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے یوکرین کو عسکری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو روسی توانائی کے شعبے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

    روس کی سب سے زیادہ کمائی تیل کی برآمد سے ہوتی ہے۔ لنڈسے گراہم نے کہا کہ ’ہم توانائی کے شعبے کو ہتھیار کے طور پر نہیں استعمال کر رہے۔ ہم پوتن کو نشانہ نہیں بنا رہے جہاں سے انہیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچ سکتی ہے۔‘

    منگل کو متعدد کمپنیوں کے روس میں اپنے دفاتر بند کرنے کا ارادہ ہے جس سے ملک کی معیت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ بڑے بینکوں، ایئر لائنز اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے شپمنٹ معطل کرنے کے علاوہ روس کے ساتھ شراکت داری ختم کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

    امریکہ نے روس کے مرکزی بینک اور آمدنی کے دیگر ذرائع پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس سے روسی روبل کی قدر میں مزید کمی آئی ہے جبکہ چند روسی بینکوں کو عالمی ترسیلات زر کا نیٹ ورک ’سویفٹ‘ کے اسستعمال سے روکا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں برطانوی تیل کی کمپنیوں بی پی اور شیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں۔

    روس ثقافتی اور سپورٹس کی سطح پر بھی عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہالی وڈ کے دو بڑے سٹوڈیوز ڈزنی اور وارنر بروس نے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز روس میں معطل کر رہا ہے۔

    ڈزنی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملے اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کے باعث روس کے تھیٹر میں ’ٹرننگ ریڈ‘ سمیت دیگر آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز معطل کر رہے ہیں۔

    روسی حکومت سے منسلک میڈیا اداروں کی جانب سے معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ مائیکروسافٹ نے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کی رات گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    کیف:روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیئے، دارالحکومت کیف میں بھی گھمسان کی لڑائی جاری ہے، اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس بلانے کےلیے سلامتی کونسل میں امریکی قراردار پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    یوکرین کےخلاف روس پوری قوت میدان میں لے آیا، یوکرینی اہداف پر حملوں میں تیزی کے بعد دارالحکومت کیف زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا۔ روس نے دارلحکومت کیف کی ایک ائیر فیلڈ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، روسی وزیرخارجہ کےمطابق کیف کے مغربی حصے کو بھی یوکرینی فوج سے کاٹ دیا گیا ہے۔

    یوکرین اور روس کی جانب سے ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، یوکرین حکام نے روسی پیش قدمی روکنے اور ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت اورزخمی ہونےکا دعویٰ کیا ہے، یوکرین میں تباہی کی فوٹجز بھی سامنے آئی ہیں، ایک خاتون جلتے گھر کے سامنے بیٹی کے ساتھ کھڑی طنز کررہی ہے کہ پوٹن کا شکریہ جس نے ہمارا گھر تباہ کردیا۔

    ادھر امریکا اورالبانیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے، میٹنگ میں جنرل اسمبلی کاخصوصی اجلاس بلانے پر ووٹنگ ہو گی، اجلاس بلانے کے خلاف مستقل 5 ارکان میں سے کسی کو ویٹو کا اختیار نہیں ہو گا۔

    ادھر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات روس کے خلاف جانے لگے ہیں اور یوکرین کے باسیوں نے روسی پیش قدمی روک دی ہے ، یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے:امریکی صدر

    ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے:امریکی صدر

    واشنگٹن:ہم دنیا کو تیسری عالمی سے بچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا ہے،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس پر اقتصادی پابندیوں کو تیسری عالمی جنگ سے گریز کی کوشش قرار دیدیا،امریکی صدر بائیڈن نے روس پر اقتصادی پابندیوں کو تیسری عالمی جنگ سے گریز کی کوشش قرار دیدیا۔

    صدر جو بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے پاس دو آپشنز ہیں، ایک یہ کہ روس کے خلاف عملی جنگ میں شریک ہوں اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ روس کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی قیمت چکانا پڑے۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین پر فوجی حملے کی روس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔،اطلاعات کے مطابق جرمن ائیر لائن نے ایک ہفتے تک روس کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں اور ائیر لائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روس کی فضائی حدودو بھی استعمال نہیں کی جائے گی۔

    یورپی یونین، امریکا اور اتحادیوں نے کئی روسی بینکوں کو مرکزی بین الاقوامی ادائیگی نظام سے منقطع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔صدر یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ مخصوص روسی بینکوں کو سوئفٹ بینکنگ سسٹم سے نکال دیا جائے گا جس سے روس کی درآمدات اور برآمدات بند ہو جائیں گی۔

    صدر یورپی کمیشن کے مطابق بین الاقوامی ادائیگی نظام سے منقطع کرنے کے بعد روسی مرکزی بینک مفلوج ہو جائےگا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکا اور اتحادیوں کی جانب سے روسی بینکوں کو سوئفٹ بیکنگ نظام سے نکالنے کے فیصلے کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی بینکوں کوسوئفٹ بینکنگ نظام سے نکالنا ہماری فتح ہے، روس کویورپی یونین کے اقدام سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔

    یاد رہے کہ 2012 میں ایران کو بھی بین الاقوامی ادائیگی کے سوئفٹ نظام سے باہر نکالا گیا تھا۔

  • روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    ماسکو: روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی ،اطلاعات کے مطابق روس نے اب یوکرین کی راجدھانی کیف پر چاروں جانب سے حملہ کرنے کا اعلان کیاہے یعنی کہ حتمی جنگ کا اعلان کردیا ہے اور ہفتہ کی رات گئے تک شدید لڑائی کی اطلاعات آرہی ہیں‌۔

    کہا جارہا ہے کہ در اصل روسی وزارت دفاع کے مطابق ماسکو اور کیئف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نے ملک کی وزارت دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین میں موجود روسی فوجی یونٹوں کو جمعے کے وقفے کے بعد تمام اطراف سے حملہ دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    وزارت دفاع نے بھی کریملن کے جانب سے کیے گیے تبصرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو وار کیف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ روس کے’وحشیانہ اور بلا اشتعال حملے‘کے مقابلے کے لیے یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد دی جائے گی۔ بلنکن کے بیان کے مطابق‘امدادی پیکیج میں تباہ کن مزید دفاعی امداد شامل ہو گی جس کی مدد سے یوکرین بکتربند گاڑیوں، فضائی فورس اور دوسرے خطرات کا مقابلہ کرے گا جن کا اسے اس وقت سامنا ہے۔‘ دوسری جانب کریملن نے ہفتے کو یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات سے انکار کر کے فوجی تنازعے کو طول دے رہا ہے۔

    ادھر مغرب نواز یوکرین کے خلاف روسی فوج کی پیشدمی جاری ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کانفرنس کال پر صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ’متوقع مذاکرات کے سلسلے میں روسی صدر نے کل سہ پہر روسی فیڈریشن کی مرکزی فورسز کی پیشدمی معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ چونکہ یوکرین نے بات چیت سے انکار کر دیا اس لیے آج سہ پہر سے پیشقدمی دوبارہ شروع کر دی گئی۔ کیئف کے میئر نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جو ہفتے کی شام سے شروع ہو کر پیر کی صبح تک جاری رہے گا۔ میئر آفس کے اعلامیے میں پہلے کیے اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کرفیو میں کوئی وقفہ نہیں ہو گا۔

    یاد رہے کہ روسی فوجی دستے ہفتے کو یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو گئے جہاں سڑکوں اور گلیوں میں دو بدو لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ روسی فوجیوں کی درالحکومت میں پیش قدمی کے بعد شہر کے حکام نے کیف کے رہائشیوں سے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے زور دیا ہے۔

  • روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    ٹوکیو:روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روسی افواج کے حملے کے بعد جاپان کے شہروں میں مظاہرہ اور ریلیاں نکالی گئیں۔یوکرین پر روس کی چڑھائی کے خلاف جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی شہروں میں احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئی ہیں۔ یہ دونوں شہر دوسری عالمی جنگ کے دوران ایٹمی بمباری کا نشانہ بنے تھے۔

    انہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے، جن پر انگریزی میں لکھا تھا، ’جنگ بند کرو‘، اور ’جوہری اسلحہ اور جنگ نا منظور‘۔ یہ دراصل روسی جارحیت اور ایٹمی جنگ کے خطرے کے خلاف احتجاج تھا۔

    قبل ازاں رواں ہفتے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خبردار کیا تھا کہ انکا ملک آج بھی زبردست جوہری طاقت ہے۔روس کے حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کی جانب سےلفظی بیان بازی سے یوکرین کے صدر بھی سخت نالاں نظر آ رہے ہیں۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنہا کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرین کی جانب سے مذاکرات کی اپیل پر کہا کہ یوکرین کی افواج ہتھیار ڈالے اس کے بعد مذاکرات کئے جائیں گے۔

    ادھر جنگ کی وجہ سے حالات مزید بگڑگئے ہیں اور ہر طرف لوگ پریشان نظر آتے ہیں‌،لوگ بچے بوڑھے سب پریشان ہیں ، لوگ گھروبےگھر ہوگئے ہیں اور ایک تازہ واقعہ میں
    ایک خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔

    یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔ سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔

    خیال رہے کہ 24 فروری کو حملے کے آغاز کے بعد سے روسی فوج نے یوکرین میں 821 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں 14 فضائی اڈے اور 19 فوجی کمانڈ سینٹرز شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ 24 فضائی دفاعی میزائل سسٹم، 48 ریڈار، 7 جنگی طیارے، 7 ہیلی کاپٹر، 9 ڈرون، 87 ٹینک اور 8 فوجی جہاز تباہ ہوئے ہیں۔

    تازہ کارروائی میں روسی فوج نے یوکرین کے فوجی اڈوں پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف نے ہفتے کو بتایا کہ فوج نے لمبی دوری تک مار کرنے والے کیلیبر کروز میزائلوں سے یوکرین کے متعدد فوجی اداروں پر حملہ کیا۔

    ایک ایسی خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، اس نوجوان لڑکے کے بازوؤں کو جسے وہ اپنے ارد گرد صرف چند گھنٹوں سے جانتی تھی۔ گردن

    والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔یہی نہیں بلکہ رہائشی عمارتوں کو بھی اس حملے میں بھاری نقصان پہنچا ہے اور کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

  • نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    کیف:نہ مُلک چھوڑوں گا نہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکا فوجیوں کے ساتھ گھومتے ہوئے بیان،ااطلاعات کے مطابق یوکرائن کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر اپنی ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں وہ دارالحکومت کِیف کی سڑک پر گھومتے نظر آ رہے ہیں۔بڑے حوصلے کے ساتھ اپنی قوم اور اپنی فوج کے درمیان پھررہےہیں اور ان کے حوصلے بڑھا رہے ہیں‌

    کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بظاہر یوکرائنی صدر نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج سے روسی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

    صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کیف کے گوروڈیٹسکی ہاؤس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا اُن کے حوالے سے بہت سی جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ اُنہوں نے اپنی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ خود بھی یوکرائن سے فرار ہو رہے ہیں لیکن یہ سب جھوٹ اور فریب ہے۔

     

     

    یوکرائنی صدر زیلنسکی کا اپنے وڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ یہیں دارالحکومت کیف میں ہیں، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی ریاست کا دفاع کریں گے۔اِس سے قبل امریکی میڈیا کے مطابق یوکرائنی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یوکرائن سے انخلا میں مدد کے لیے امریکی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔

    ایسیوسی ایٹڈ پریس نے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ صدر زیلینسکی نے پیشکش کے جواب میں کہا کہ یہاں لڑائی ہو رہی ہے، مجھے اسلحے کی ضرورت ہے، نکلنے کے لیے فلائٹ کی نہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور یوکرائنی حکام کا بھی حوالہ دیا تھا جن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت صدر زیلنسکی کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    سوشل میڈیا پر روسی حملے کے جواب میں یوکرائنی صدر زیلینسکی کے ردعمل کی کافی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ صدر زیلینسکی جو ایک سابق کامیڈین اور اداکار ہیں، نے ایک تقریر میں لڑائی جاری رکھنے کے عزم کیا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پر حملے کرتے ہوئے آپ کو ہمارے چہرے نظر آئیں گے، ہماری پیٹھ نہیں۔

     

     

    یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں یوکرائنی اور روسی افواج کے درمیان دو بدو جھڑپ جاری ہے۔ یوکرائنی فوج نے روسی فوج کو بڑے نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔

    یوکرائنی مسلح افواج کے فیس بک پیج پر جاری کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنائے جا چکے ہیں۔

     

    یوکرائنی فوج کے بیان کے مطابق اب تک روس کے 14 لڑاکا طیارے، 8 جنگی ہیلی کاپٹر اور 102 ٹینک بھی تباہ کر دیے گئے ہیں تاہم اِن میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی ابھی تک کسی جانی نقصان کا اعتراف نہیں کیا ہے۔