Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    واشنگٹن :امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان،اطلاعات کے مطابق جوں جوں روسی افواج یوکرین کے اندراپنی فتوحات جاری رکھے ہوئےہیں ایسے ایسے امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادیوں کی نیندیں بھی حرام ہوگئی ہیں ، جہاں ایک طرف یوکرین کو جنگ میں جھونکنے والا امریکہ کئی دنوں سے زبانی مدد کا وعدہ کررہا تھا ، وہاں اب امریکہ نے عملی طور پرجنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ،

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ابھی تھوڑی دیر پہلے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے پریس اسٹاف کے ذریعے ایک میمو جاری کیا جس میں انہوں نے کانگریس سے 350 ملین ڈالر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ فوجی امداد بہت ضروری اور فی الفور ملنی چاہیے ۔امریکی صدر کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پورے مشرقی یورپی ملک میں رات بھر جاری افراتفری کے درمیان وہ یوکرین کو فوری فوجی مدد فراہم کرنے کے خیال پر قائم ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعہ کی رات کچھ اس سے پہلے کچھ ایسے بھی فیصلے کیئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیڈن نے تنازعہ میں مداخلت کا فیصلہ کیا لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ وہ یوکرین کے ملک کو کس قسم کی فوجی امداد فراہم کرے گا۔ یہ وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع ہونے والا پورا میمو ہے: "آئین اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قوانین کے تحت صدر کے طور پر مجھے حاصل کردہ اختیار کی طرف سے،

    یاد رہے کہ پہلے تو جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ریاستہائے متحدہ کے فوجی دستے یوکرین کے ملک میں داخل نہیں ہوں گے۔ تاہم رات بھر کی صورتحال اس کے ہاتھ کو مختلف قسم کی فوجی امداد کی پیشکش پر مجبور کر رہی ہےاور یہ امکان ہے کہ امریکی فوج یوکرین کے صدر اور وزیراعظم کی زندگیوں کو بچانے کےلیے کوئی نہ کوئی آپریشن کریں‌، لیکن دوسری طرف امریکہ کو روس کی طرف سے سخت ردعمل کا بھی ڈر ہے،

    یاد رہے کہ کانگریس یوکرین کو فوجی سازوسامان، مواصلاتی آلات اور دوسری قسم کی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری رقم فراہم کر سکتی ہے جس کی یوکرین کو بطور ملک روس کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ضرورت ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ولادیمیر پوٹن اس حملے کے خلاف یہ واضح کارروائی کیسے کریں گے جو وہ مسلسل دو دن سے کر رہے ہیں۔

  • روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین نے سلامتی کونسل میں یوکرین پر حملے سے متعلق مذمتی قرار داد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔چین کے علاوہ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں کو بیرکس میں واپس جانے کی ضرورت ہے۔انتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے۔ادھر یورپی یونین کے بعد کینیڈا اور برطانیہ نے بھی روس کے صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

    دوسری طرف یوکرین پر روس کی فوجی کارروائیوں کے خلاف 24 فروری کو میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے 54 قصبوں اور شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ اس روز سب سے بڑا مظاہرہ ماسکو کے مرکزی چوک پشکن اسکوائر پر ہوا جس میں کئی ہزار افراد شریک ہوئے۔اس موقع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا۔

    ماسکو سٹی کورٹ نے 25 فروری کو کہا کہ تقریباً 200 مظاہرین پر غیر منظور شدہ عوامی تقریبات میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    آرایف ای آر ایل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی معروف روسی راہنما مارینا لیٹوینووچ پر 25 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف ماسکو میں حکام سے اجازت حاصل کیے بغیر ریلی منظم کرنے کی کوشش پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    لیٹوینووچ کے وکیل فیوڈور سروش نے بتایا کہ ماسکو کی ایک ضلعی عدالت نے ان کی مؤکل پر 30 ہزار روبل یعنی 350 ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

    لیٹوینووچ کو ایک روز قبل اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انہوں نے روسیوں سے یوکرین پر حملے کے خلاف اپنے شہروں اور قصبوں میں مظاہرے کرنے کی اپیل کی تھی ۔

    ایک اور خبر کے مطابق 250 روسی اسکالرز نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں یوکرین میں جنگ روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینکڑوں روسی صحافیوں، گلوکاروں، مصنفین اور دیگر شعبوں کی مشہور شخصیات نے جنگ کی مذمت میں بیانات جاری کیے ہیں۔

    روس سے روسی اور یوکرینی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبار "نووایاگازیٹا” میں 25 فروری کو یہ وضاحت شائع کی گئی ہے کہ "اخبار کا عملہ یوکرینی کو دشمن کی زبان نہیں سمجھتا”۔

    اخبار کے چیف ایڈیٹر، دمتری موراتوف نے، جو نوبیل انعام یافتہ ہیں، اپنے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ "صرف روسی شہریوں کی جنگ مخالف تحریک ہی اس کرہ ارض پر انسانی ہلاکتوں کو بچا سکتی ہے۔”روس کی ایک معروف گلوکارہ ویلری میلادزے نے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ میں جنگ بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ” آج جو کچھ ہوا،وہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے تھا”۔

    برطانیہ کے اخبار گارڈین نے اپنی 25 فروری کی اشاعت میں روس کے اندر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پولیس نے ملک بھر میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں 1700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔

    اخبار کا کہنا ہےکہ پولیس نے جمعرات کی شام تک روس کے 53 شہروں میں غیرقانونی مظاہروں کو منتشر کرتے ہوئے کم ازکم 1702 گرفتاریاں کیں تھیں۔زیادہ تر گرفتاریاں ماسکو اور روس کے ایک اور بڑے شہر سینٹ پیٹربرگ میں کی گئیں۔جمعرات کو ایک آزاد ادارے لیواڈا سینٹر کے تحت کرائے جانے والے سروے کے مطابق یوکرین پر کریملن کے حملے کو صرف 45 فی صد روسیوں کی حمایت حاصل ہے۔

    ماسکو کے کارنیگی سینٹر کے سیاسی تجزیہ کار الیگزینڈر بونوف کہتے ہیں کہ ” پوٹن سڑکوں پر عوامی منظوری سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسے سیاست دان نہیں جنہیں عوامی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ وہ قومی تاریخ کی کتابوں کی ایک ایسی شخصیت جیسے ہیں جو صرف مستقبل کے مورخین اور قارئین کی منظوری کا خیال کرتے ہیں”

  • اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی

    اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی

    تل ابیب:اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے بیان جاری کیاگیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین پسند کریں تو اسرائیل ان دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کرانے کےلیے تیار ہے

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا ہےکہ وہ تیار ہیں کہ یہ دونوں ملک اسرائیل پراپنا قاضی مان کراپنے مسائل کے حل کے لیے ہمارے پاس آئے ، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یوکرین تو تیار ہے لیکن روس نے اسرائیلی دعوت کو ڈھونگ رجانے ایک کھیل قرار دیا ہے

     

    https://twitter.com/DavidADaoud/status/1497278072638394375?t=C2uhCJjbw1OuYAYgXlQiLw&s=19

    یاد رہے کہ چند دن قبل گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں پر روس کی جانب سے تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس علاقے پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم نہیں کرتے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں روسی مشن نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم مقبوضہ علاقےگولان کی پہاڑیوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے تل ابیب کے اعلان کردہ منصوبوں پر فکر مند ہیں۔

    اقوام متحدہ میں روس کے مستقل رکن کے مشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 1949 کے جنیوا کنونشن کی شقوں سے متصادم ہے۔ٹویٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کا علاقہ جو شام کا حصہ ہے اس پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

  • دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے      میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    کیف : دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت تھے،دوستوں نے مروا دیا:یوکرینی وزیراعظم کا اظہار افسوس بار بار تڑپانے لگا ، یوکرین 30 سال قبل اپنی ایٹمی قوت سے دستبرداری کو اب یاد کر رہا ہے، یوکرین نے مغرب اور روس کی بات مان کر اگر یہ عمل نہ کیا ہوتا تو آج روس اسے اس طرح دھمکا نہیں سکتا تھا۔

    یوکرین کے وزیراعظم نے کہا کہ تین دہائیوں قبل یوکرین نے مغرب اور روس کے درمیان تخفیف اسلحہ کے مذاکرات کے نتیجے میں اور روس کی جانب سے سلامتی کی گارنٹی کے بدلے میں اپنے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کو تلف کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج ان ضمانتوں کی حیثیت ان کاغذ کے ٹکڑوں جتنی بھی نہیں جن پر انہیں تحریر کیا گیا تھا۔

    اسی سابقہ تجربے کے پیش نظر انہوں نے اپنے لوگوں اور دنیا کو خبردار کیا کہ یوکرین کو دوبارہ ایسا بڑا معاہدہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، جس کا روس دوبارہ احترام نہیں کرے گا۔اس کی بجائے انہوں نے تجویز کیا کہ یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا اس کی حقیقی سلامتی کی ضمانت ہوگی۔

    نتیجتاً آج روس یوکرین پر حملہ آور ہے اور یوکرینی صدر ساری یورپی دنیا میں پاگلوں کی طرح مدد کی بھیک مانگتا پھر رہا ہے. مگر کوئی یوکرین کی مدد کو نہیں آیا.

    خیال رہےکہ یوکرین 1991 تک سوویت یونین کا حصہ تھا اور سوویت یونین سے علیحدگی کے وقت یوکرین کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود تھے جو کہ تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس وقت تیسرے نمبر پر تھے، یہ ہتھیار سوویت یونین کی جانب سے وہاں چھوڑے گئے تھے تاہم آزادی کے بعد یوکرین نے خود کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنےکا بڑا فیصلہ کیا۔

    دستاویزات کے مطابق 1991 میں سوویت یونین سے یوکرین کی آزادی کے وقت، یوکرین کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 1,900 اسٹریٹجک وار ہیڈز، 176 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) اور 44 اسٹریٹجک بمبار شامل تھے۔ 1996 تک، یوکرین نے اقتصادی امداد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے اپنے تمام جوہری وار ہیڈز روس کو واپس کر دیے تھے، اور دسمبر 1994 میں، یوکرین 1968 کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا ایک غیر جوہری ہتھیار رکھنے والا ریاستی فریق بن گیا۔ یوکرین میں آخری اسٹریٹجک نیوکلیئر ڈیلیوری گاڑی کو 1991 کے اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (START) کے تحت 2001 میں ختم کردیا گیا تھا۔ یوکرین سے ہتھیاروں اور جوہری بنیادی ڈھانچے کو ہٹانے کے لیے 1992 میں لزبن پروٹوکول کے ساتھ شروع ہونے والے سیاسی تدبیروں اور سفارتی کاموں کے برسوں لگے۔

    جزوی طور پر بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوشش میں، یوکرین کی آزادی سے پہلے کی تحریک نے NPT میں غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کے طور پر شامل ہونے کی کوششوں کی حمایت کی۔ 16 جولائی 1990 کو اپنی خودمختاری کے اعلان کے ساتھ، یوکرین نے "جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا

    سوویت یونین کی تحلیل کے ساتھ، آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ نے 30 دسمبر 1991 کو منسک معاہدے پر دستخط کیے، اس بات پر اتفاق کیا کہ روسی حکومت کو تمام جوہری ہتھیاروں کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ تاہم، جب تک یہ ہتھیار بیلاروس، یوکرین اور قازقستان میں موجود ہیں، ان ممالک کی حکومتوں کو ان کے استعمال کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اسلحے کو ختم کرنے کا ہدف 1994 کے آخر تک مقرر کیا گیا تھا۔

    یوکرین نے 23 مئی 1992 کو لزبن پروٹوکول پر دستخط کیے تھے۔ پروٹوکول میں بیلاروس، قازقستان اور یوکرین کے جوہری ہتھیار روس کو واپس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تمام ریاستوں کو START اور NPT میں شامل ہونا تھا۔ تاہم، یوکرین کے اندر، START کی توثیق، NPT میں شمولیت، یا مجموعی طور پر جوہری تخفیف کی طرف بہت کم پیش رفت ہوئی۔ پروٹوکول کا تقاضا تھا کہ یوکرین جلد سے جلد NPT پر عمل کرے، لیکن اس نے ملک کو اس پر عمل کرنے کے لیے سات سال تک کا وقت دیا۔

    1992 کے اواخر تک، یوکرین کی پارلیمنٹ زیادہ جوہری حامی خیالات کا اظہار کر رہی تھی۔ کچھ کا خیال تھا کہ یوکرین کم از کم عارضی جوہری ہتھیاروں کا حقدار ہے۔ شاید امید کے ساتھ، امریکی حکومت نے یوکرین کو تباہی کے لیے 175 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا۔ اس کے بجائے، یوکرین کی حکومت نے جوہری قوتوں کے انتظامی انتظام پر عمل درآمد شروع کر دیا اور وار ہیڈز کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔

    اپریل 1993 کے آخر میں، 162 یوکرائنی سیاست دانوں نے START کی توثیق کے لیے 13 پیشگی شرائط شامل کرنے کے لیے ایک بیان پر دستخط کیے، جس سے توثیق کے عمل میں مایوسی ہوئی۔ پیشگی شرائط کے لیے روس اور امریکہ کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانی، سیکورٹی کے لیے غیر ملکی امداد اور جوہری مواد کے لیے معاوضہ درکار تھا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یوکرین اپنی ڈیلیوری گاڑیوں کا صرف 36 فیصد اور اپنے وار ہیڈز کا 42 فیصد ختم کر دے گا، باقی یوکرین کے کنٹرول میں چھوڑ دے گا۔ روس اور امریکہ نے ان مطالبات کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن یوکرین اس سے باز نہیں آیا۔ مئی 1993 میں، امریکہ نے کہا کہ اگر یوکرین START کی توثیق کرتا ہے، تو واشنگٹن مزید مالی امداد فراہم کرے گا۔ اس کے بعد یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرائنی جوہری تخفیف کے مستقبل پر بات چیت شروع ہوئی۔

    1993 میسنڈرا ایکارڈز

    یوکرائنی اور روسی حکام نے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے پروٹوکول، طریقہ کار اور معاوضے کی شرائط سمیت معاہدوں کے ایک سیٹ پر پہنچے۔ تاہم، دونوں فریق حتمی دستاویز پر متفق نہیں ہو سکے، اور سربراہی اجلاس بالآخر ناکام ہو گیا۔

    1994 سہ فریقی بیان

    میسنڈرا ایکارڈز نے بالآخر کامیاب سہ فریقی مذاکرات کا مرحلہ طے کیا۔ جیسا کہ امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی، تینوں ممالک نے 14 جنوری 1994 کو سہ فریقی بیان پر دستخط کیے۔ یوکرین نے امریکہ اور روس کی طرف سے اقتصادی مدد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے میں مکمل تخفیف اسلحہ، بشمول تزویراتی ہتھیاروں کا عہد کیا۔ یوکرین نے اپنے جوہری وار ہیڈز روس کو منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور میزائلوں، بمباروں اور جوہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے میں امریکی مدد قبول کی۔ یوکرین کے وار ہیڈز کو روس میں ختم کر دیا جائے گا، اور یوکرین کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تجارتی قیمت کا معاوضہ ملے گا۔ یوکرین نے 3 فروری 1994 کو اپنی ابتدائی شرائط کو منسوخ کرتے ہوئے START کی توثیق کی، لیکن وہ مزید حفاظتی یقین دہانیوں کے بغیر NPT میں شامل نہیں ہوگا۔

    1994 سیکورٹی کی یقین دہانیوں پر بوڈاپیسٹ میمورنڈم

    یوکرین کے ساتھ سلامتی کے وعدوں کو مستحکم کرنے کے لیے، امریکہ، روس، اور برطانیہ نے 5 دسمبر 1994 کو بڈاپسٹ میمورنڈم آن سیکیورٹی ایشورنس پر دستخط کیے تھے۔ ہیلسنکی معاہدے کے اصولوں کے مطابق ایک سیاسی معاہدہ، یادداشت میں سلامتی کی یقین دہانیاں شامل تھیں۔ یوکرین کی سرزمین یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کا استعمال۔ ممالک نے یوکرین کی خودمختاری اور موجودہ سرحدوں کا احترام کرنے کا وعدہ کیا۔ بیلاروس اور قازقستان کے لیے بھی متوازی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے جواب میں، یوکرین نے 5 دسمبر 1994 کو ایک غیر جوہری ہتھیاروں والی ریاست کے طور پر NPT سے باضابطہ طور پر الحاق کیا تھا۔ اس اقدام نے START کی توثیق کی حتمی شرط کو پورا کیا، اور اسی دن، پانچ START ریاستوں کے فریقین نے توثیق کے آلات کا تبادلہ کیا، معاہدے کو نافذ کرنا۔

    روس اور امریکہ کا 2009 کا مشترکہ اعلامیہ

    روس اور امریکہ نے 2009 میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 1994 کے بوڈاپیسٹ میمورنڈم میں کی گئی سیکورٹی کی یقین دہانیاں 2009 میں START کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی درست رہیں گی۔

    یاد رہے کہ 1986 میں یوکرین کے شہر چرنوبل کے جوہری پاور پلانٹ میں دھماکےکے بعد سے وہاں کے رہائشی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرگئے تھے اور 4000 مربع کلومیٹر کا علاقہ اب بھی خالی پڑا ہے، یوکرین کی حکومت کا کہنا ہےکہ چرنوبل کے اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے۔

    دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور وہاں مسلسل 10 دن تک آگ لگی رہی، تابکار دھوئیں کی گرد کے بادل ہوا کے ذریعے پورے مشرقی یورپ میں پھیل گئے تھے، اس دوران امدادی سرگرمیاں سرانجام دینے والے 134 کارکنوں میں تابکاری سے متعلق بیماری تشخیص ہوئی تھی جن میں سے 28 کارکنوں کی موت اس واقعے کے چند ماہ کے اندر ہی واقع ہو گئی جب کہ مزید 19افراد بھی بعد ازاں چل بسے

  • روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    واشنگٹن:روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کو یوکرین پر بلا جواز حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ روسی بینک کے 250 ملین ڈالرز کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں سے چار روسی بینک متاثر ہوں گے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ روس کی برآمدات سمیت دیگر شعبوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس پر پابندیوں کے اثرات طویل مدتی ہوں گے جس سے روس کی درآمدات بھی متاثر ہوں گی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق جوبائیڈن نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ روسی گیس کمپنی کو قیمتیں بڑھانے نہیں دی جائیں گی، ڈالر اور جاپانی ین میں روسی لین دین محدود کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کو ہدف بنایا جائے گا۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ نیٹو اتحادی آرٹیکل 5 کے تحت جوائنٹ سیکیورٹی کی ذمہ داری پوری کریں گے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر بائیڈن نے کہا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری پہلے ہی کرچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی سیون ممالک سے روسی حملے پر بات کی ہے جو بلا جواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کی خاطر پابندیوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج یوکرین میں براہ راست تنازع میں شامل نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج یوکرین نہیں جارہی ہیں بلکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کا دفاع کریں گی۔

  • روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے

    روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے

    ماسکو: روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے اورزمینی پیشقدمی کے ساتھ اب حالات بد سے بد تر ہوتے نظر آرہے ہیں ۔یاد رہے کہ طویل کشیدگی کے بعد روس نے جمعرات کی صبح 8.30 بجے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔اب تازہ خبروں کے مطابق روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو چکے ہیں۔اس کے ساتھ ایک خبر کیف سے آرہی ہے کہ یوکرین کا فوجی طیارہ جس میں 14 افراد سوار تھے کیف کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے

    فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی فوجی یوکرین کے ساتھ پولینڈ کی سرحد کے قریب جانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد فرار ہونے والے لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ جیسے ہی روس نے یوکرین پر اپنا حملہ شروع کیا، دارالحکومت، کیف سے ہزاروں کاریں باہر نکل گئیں، بہت سے لوگ مغرب کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پولینڈ اور نیٹو کے فوجیوں کے قریب ملک کے کچھ حصوں میں محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے کی امید میں ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اب تک 40 یوکرینی فوجی اور 10 عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یوکرین نے 50 روسی فوجیوں کو ہلاک کرنے اور 6 لڑاکا طیاروں کے ٹینکوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روس یوکرین پر تین اطراف سے حملہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین میں ہندوستانی سفیر نے کہا ہے کہ کیف میں ہندوستانی سفارت خانہ بند نہیں کیا جائے گا۔ یہ پہلے کی طرح کام کرتا رہے گا۔

    یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی روسی فوجی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ یوکرین کے صدر کے ایک مشیر نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 40 سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

    یوکرین میں روسی ٹینکوں کے داخل ہونے سے عوام میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر ہونے والی ویڈیوز میں خوف کا ماحول صاف نظر آرہا ہے۔ لوگ سرحد سے ملحقہ علاقوں سے یوکرین کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج ایک اہم میٹنگ بلائی ہے تاکہ آئندہ کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ روس کے رویے کی وجہ سے لوگوں میں یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ یوکرین کو اب نیٹو میں شامل ہونا چاہیے۔

    اامور خارجہ کے وزیر مملکت وی مرلیدھرن نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ تقریباً 18,000 ہندوستانیوں کو، جن میں طلباء بھی شامل ہیں، کو یوکرین سے واپس لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ یوکرین میں فضائی حدود بند ہیں، اس لیے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ یہاں یوکرین کے سفیر نئی دہلی میں میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کی درخواست کی۔ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی فوجی اور اقتصادی حملے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

  • یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نےکیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌

    یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نےکیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌

    لاہور:یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نے کیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے دو علاقوں کی آزادانہ حیثیت تسلیم کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی روس کےخلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں میں فوج داخل کرنے کے احکامات کے بعد امریکہ اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ مغربی ممالک نے کسی جارحیت کی صورت میں ماسکو کو مزید سخت اقدامات کرنے کا انتباہ بھی کیا ہے۔

    امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان نے اپنی پابندیوں میں بینکوں اور روس کے امیر ترین افراد کو ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ جرمنی نے روس کے ساتھ ایک بڑی گیس پائپ لائن منصوبے پر کام روک دیا ہے۔

    یوکرین اور روس کے درمیان جاری حالیہ تنازع کو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں سلامتی کا سنگین ترین بحران قرار دیا جارہا ہے۔ روس یوکرین کو تاریخی اعتبار سے اپنی سرزمین کا حصہ تصور کرتا ہے۔

    یوکرین کے مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے رد عمل میں صدر ولادیمیر پوٹن نے، گزشتہ برس امریکہ کے تخمینے کے مطابق، یوکرین کی سرحد پر ڈیڑھ لاکھ اہل کار تعینات کردیے تھے۔

    روس نے منگل کو ان اہل کاروں کو یوکرین کے علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک میں داخل ہونے کے احکامات جاری کیے اور اس کی وجہ ‘قیامِ امن’ بتایا ہے۔امریکہ نے اس جواز کو ‘احمقانہ’ قرار دیتے ہوئے اسے یوکرین پر حملے کا آغاز قرار دیا ہے۔ امریکہ کی روس پر پابندیاں ماسکو کے حالیہ اقدامات پر امریکہ نے روس کے امیر ترین افراد اور دو سرکاری بینکوں کو ہدف بنایا ہے۔

    امریکہ کی پابندیاں روس کے ‘ویب بینک’ اور روسی فوج کے ‘پرومزوائز بینک’ پر عائد ہوں گی جو روس کے دفاعی سودے کرتا ہے۔

    امریکہ نے ان روسی بینکوں کو اپنے بینکنگ سسٹم سے خارج کردیا ہے، ان پر امریکیوں سے تجارت کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور ان کے اثاثے بھی منجمد کردیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کی جارحیت کی صورت میں وہ روس کے سب سے بڑے دو کمرشل بینکوں ‘سبر بینک’ اور ‘وی ٹی بی’ پر پابندی عائد کردیں گے۔

  • یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا

    یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا

    واشنگٹن :یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا ،اطلاعات کے مطابق جس کا خدشہ یا یقین تھا وہی ہوا ۔روس رکا نہیں اور یوکرین پر دھاوا بول دیا۔جنگ چھڑ چکی ہے۔دنیا فکر مند ہے کہ کہیں یہ جنگ طول نہ پکڑ لے۔ اب انتظار اس بات کا ہے کہ روس کے تیوروں کے سامنے مغرب کا موقف کیا ہوتا ہے۔

    بات پابندیوں تک محدود رہے گی یا پھر جنگ کے میدان میں امریکہ اور نیٹو بھی کود پڑیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینا جنگ کے طول پکڑنے کا خدشہ ہوگا۔

    جب یوکرین میں گذشتہ سال کے اواخر میں بحران کا آغاز ہوا تو روسی صدر ولادی میر پوتن کی حکومت نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست جاری کی۔روس کا سب سے بڑا مطالبہ تھا کہ نیٹو روس کی سرحد سے متصل سابق سوویت بلاک ریاستوں سے اپنے تمام فوجی، سازوسامان اور ہتھیار واپس بلا لیں۔

    پوتن کی جانب سے منگل کو مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسندوں والے علاقوں پر حملے کے حکم کے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے بعد امریکی فوج روس کی دہلیز پر مزید فائر پاور بھیج رہی ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے منگل کو ہی امریکی فوجیوں، طیاروں اور لڑاکا طیاروں کو مشرقی یورپ میں تعینات کرنے کا حکم دیا تاکہ شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے اور ماسکو کی مزید جارحیت کو روکا جا سکے۔

    صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں کہا: ’میں نے اپنے بالٹک اتحادیوں ایستونیا، لٹویا اور لتھوانیا کو مضبوط بنانے کے لیے یورپ میں پہلے سے تعینات امریکی افواج اور سازوسامان کی اضافی نقل و حرکت کا اختیار دے دیا ہے۔

    روس کی جانب سے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد فوجیوں کی تعداد بڑھنے کے بعد سے وائٹ ہاؤس اور یورپی اتحادیوں نے عسکری طریقے سے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

    کئی ماہ سے بائیڈن نے اصرار کیا ہے کہ امریکی فوجی یوکرین میں جو نیٹو کا اتحادی نہیں ہے، میں نہیں لڑیں گے لیکن انہوں نے یورپ کے دیگر حصوں سے امریکی افواج کو عارضی طور پر دوبارہ تعینات کرکے آس پاس کے ممالک میں دفاع کو دوگنا کیا ہے۔

    تقریبا چھ ہزار امریکی فوجی پہلے ہی جرمنی، پولینڈ اور رومانیہ بھیجے جا چکے ہیں۔ پولینڈ میں 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ساتھ امریکی پیراٹروپرز یوکرین پر حملے کے بعد اس کی مشرقی سرحد سے فرار ہونے والے ہزاروں پناہ گزینوں کے لیے فوجی سہولیات قائم کر رہے ہیں۔

    رومانیہ میں، جو جنوب میں یوکرین کی سرحد سے متصل ہے، ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل آرمی سٹرائیکر سکواڈرن جرمنی سے کسی بھی سرحدی مسئلے سے نمٹنے کی تیاری کے لیے منتقل ہو چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ مشرقی یورپ میں فضائی دفاع کو تقویت دینے کے لئے 20 حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور دو درجن لڑاکا طیاروں کی ایک بٹالین کی تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے۔

    اب امریکہ کے پاس یورپ میں 90 ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر مشرقی یورپ سے باہر تعینات ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بائیڈن نے پولینڈ میں امریکی زمینی فوجیوں کی تعداد دگنی سے زیادہ کر کے نو ہزار اور رومانیہ میں تقریبا دو ہزار کر دی ہے۔

    بائیڈن نے منگل کو جن فورسز کا اعلان کیا ہے ان میں تقریبا 800 سروس ممبران کی انفنٹری بٹالین ٹاسک فورس شامل ہے جو اٹلی سے بالٹک خطے میں منتقل ہوئی، جرمنی سے آٹھ ایف 35 لڑاکا طیاروں سے ’نیٹو کے مشرقی حصے کے ساتھ‘ بے نام اڈوں تک، جرمنی سے بالٹک تک 20 اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹر، اور یونان سے پولینڈ تک 12 دیگر اپاچی ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں۔

    نیٹو کے مشرقی حصے میں اضافی زمینی اور فضائی افواج کی تعیناتی سے خطرات لاحق ہیں۔ 2014 میں پوتن کے جزیرہ نما کرائمیا کے ساتھ الحاق کے بعد سے

  • روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    بیجنگ : روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا ،اطلاعات کے مطابق چین نے یوکرین میں افراتفری کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرادیا اور کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا۔

    تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین روس تنازع کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا ، تنازع پر صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں۔

    چینی وزارت خارجہ نے امریکا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا،جنگ کوبڑھاوادینے والےتمام اقدامات پرشدیداعتراض ہے، امریکا یوکرین کو ہتھیار دے کر معاملے کو بڑھا رہاہے۔

    چین نے امریکا کی جانب سے روس پر پابندیوں اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو خطے میں جنگ کے مترادف قرار دیا اور کہا جوبائیڈن انتظامیہ یوکرین کے معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔

    ترجمان ہوا چوئیننگ نے امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جلتی پر تیل ڈالے اور اس کا الزام بھی دوسروں پر دھرے تو یہ غیر زمہ دارانہ اور غیر اخلاقی عمل کہلائے گا۔

    ترجمان وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین تنازع پر تمام فریقین کو ایک دوسرے کو اہمیت دیں اور ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو دور کریں تاکہ مشاورت اور مذاکرات سے اس مسئلے کا پُرامن حل نکل سکے۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان ،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج چین اور روس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فوجیوں کی تعداد اور اڈوں میں اضافہ کرے گی جبکہ ایران اور جہادی گروپوں کو روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنی افواج کو برقرار رکھے گی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے افسران کا پیر کو کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع گوام اور آسٹریلیا میں فوجی تنصیبات کو اپ گریڈ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ دفاع چین کو امریکہ کا سب سے بڑا دفاعی حریف سمجھتے ہوئے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا۔یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک نیا دفاعی اتحاد قیام میں آیا ہے جسے آکوس کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں اور ان کا مقصد چین کی ترقی کا مقابلہ کرنا ہے۔

    چین اپنی بحریہ تشکیل دے رہا ہے اور ایشیا میں دہائیوں سے امریکی فوجی تسلط کو امتحان میں ڈال رہا ہے۔یہ اتحاد اس وقت بنا جب بیجنگ نے متنازع جنوبی چائنہ سمندر میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا اور تائیوان کے خلاف اپنے فوجی خطرات میں اضافہ کیا۔

    رواں سال کے آغاز میں صدر جو بائیڈن کی جانب سے کمیشن کیے گئے جائزے ’گلوبل پوسچر رویو‘ کے بارے میں پینٹاگون کے افسران کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات کو ابھی خفیہ رکھا جائے گا تاکہ امریکہ کے منصوبے حریف ممالک کو پتا نہ چلیں۔یاد رہے کہ ’گلوبل پوسچر رویو‘ وہ جائزہ ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کے لائحہ عمل سے متعلق ہے۔

    پنٹاگون کی اعلٰی افسر مارا کارلن کا کہنا ہےکہ اس جائزے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کا ترجیحی علاقہ انڈو پیسیفک ہے۔مارا کارلن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جائزہ ’خطے میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اضافی تعاون کی ہدایت کرتا ہے تاکہ ایسے اقدامات کو آگے بڑھایا جائے جو علاقائی استحکام میں معاون ہوں اور چین کی جانب سے ممکنہ فوجی جارحیت اور شمالی کوریا کی طرف سے خطرات کو روکیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جائزہ یورپ میں روس کی جارحیت کے خلاف مدد دیتا ہے اور نیٹو فورسز کو زیادہ موثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
    تاہم عراق اور افغانستان میں طویل جنگوں کے بعد مشرق وسطیٰ اب بھی پینٹاگون کے لیے مشکل علاقہ ہے۔