Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • بھارت میں مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے:امریکی ماہرین

    بھارت میں مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے:امریکی ماہرین

    نئی دلی:بھارت میں مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے:امریکی ماہرین ،اطلاعات کے مطابق امریکہ میں قائم سول سوسائٹی کی تنظیم Hindus for Human Rights کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنیتا وشواناتھ( Sunita Viswanath)نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم امریکی کانگریس اور بائیڈن انتظامیہ پر اس بات کیلئے زور دینے کی اپنی کوششوں میں تیزی لائے گی کہ وہ بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلو ک کے حوالے سے اپنی آواز بلند کریں۔

    سنیتا وشوناتھ نے معروف بھارتی صحافی کرن تھاپر کو ایک انٹرویومیں کہا کہ ہندوو¿ں کے لیے” ہندوتوا“ کا مقابلہ کرنا ضروری ہے اور اکثریتی برادری کو بیدار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ہندووں کا اس بارے میں خاموش رہنا خطرناک ہے اور اگر ہندو اس مہم کا حصہ نہیں بنتے تو ہندوتوا سے لڑنا ناممکن ہے۔

    سنیتا وشوناتھ نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے امریکہ میں سول سوسائٹی کی 16 دیگر تنظیموں کے ساتھ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف امریکی کانگریس میں لابنگ کرنے میں مرکزی کردار کیوں ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت میں کچھ غلط ہو رہا ہے، بھارت بہت خطرناک راستے پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ابتر سلوک کے بارے میں 22اور 26جنوری کوکانگریس کی دی گئی بریفنگ کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہاہم امریکی شہری ہیں، ہمارے پاس امریکی قانون سازوں اور بائیڈن انتظامیہ کو متاثر کرنے کرنے کی طاقت ہے۔سنیتا وشواناتھ نے کہا کہ ان کی تنظیم کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ بھارت میں بگڑتی ہوئی جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرے ۔ سنیتا وشواناتھ نے مزید کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے۔

  • یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    لندن :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم،اطلاعات ہیں کہ یوکرائن نے روسی سرحد پر حالات کشیدہ ہونے کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اپنے شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    یوکرائن کے اعلیٰ سیکیوریٹی آفیشلز نے ملک بھر میں 30 دن کے لئے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے ، اور اپنے شہریوں کو روس سے فوری طور پر نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرائن کے تقریباً 3 ملین شہری روس میں مقیم ہیں جبکہ متعدد شہریوں کے خاندان روس اور یوکرائن کے اندر منقسم ہیں۔یوکرائن نے روس کی جانب سے ممکنہ حملے کے پیش نظر اپنے ریزرو فوجیوں کو بھی باقاعدہ فوج میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکہ نے بھی یوکرائن کو ہر ممکن امداد کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ یوکرائن کو عظیم فوجی امداد بھی دے گا۔

    مغربی ممالک اور ان کے اتحادیوں نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، گزشتہ روز برطانیہ نے 4 اور امریکہ نے 2 روسی بینکوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

    برطانیہ کی لیبر پارٹی نے بینکوں پر پابندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔

    دوسری طرف ولادیمیر پیوٹن کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان تاریخی دو روزہ دورے پر روس کے لیے روانہ ہو گئے۔

    وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور عامر محمود کیانی بھی ہمراہ ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان روسی دارلحکومت ماسکو پہنچیں گے، جہاں وونکووائیرپورٹ پر گارڈ آف آنر دیا جائے گا۔ عمران خان روسی صدر کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم یوکرین کے حوالے سے بھی اہم اعلان کریں گے

    روسی وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات بھی شیڈول ہے۔ وزیراعظم اسلامک سینٹر ماسکو کا دورہ اور گرینڈ مفتی سے ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم روسی کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم 24 فروری کو وطن واپس روانہ ہوں گے۔

  • روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    ماسکو:روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتن نے روس کے قانون ساز اداروں سے ملک سے باہر فوج کے استعمال کی اجازت مانگنے کی درخواست کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کی پارلیمنٹ نے روسی صدر کو ملک سے باہر فوج کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔روسی پارلیمنٹ کے تمام 153 سینیٹرز نے اس فیصلے کی مکمل حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ یوکرائن کے علیحدگی پسندوں کی مدد کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔

    واضح رہے کہ آج صبح روس کے وزارت خارجہ کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یوکرائن میں فوجی دستوں کی بھیجنے کی پلاننگ نہیں کر رہے ہیں۔

    لیکن چند گھنٹوں بعد ہی فیڈریشن کونسل نے روسی صدر کی ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کی تحریری درخواست کو من و عن قبول کر لیا ہے۔یوکرائن کے مشرقی حصے میں علیحدگی پسند یوکرائن سے علیحدگی کے لئے 2014 سے مسلح مزاحمت کر رہے ہیں۔

    روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی درخواست پر فیڈریشن کونسل کے اجلاس کے دوران نائب وزیر دفاع نکولے پانکوف نے کہا یوکرائن کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور یوکرائن کی قیادت تشدد اور خونریزی کے راستے پر گامزن ہے۔

  • یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    ماسکو:یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے وزیردفاع نے یوکرینی فوجیوں کو جنگ کے لیے تیار رہنےکا حکم دے دیا۔

    روس کی طرف سے یوکرین کوٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کے خلاف یوکرینی وزیردفاع اولیکسی ریزنیکوف نے وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر جذباتی پیغام پوسٹ کیا۔ اور کہا کہ روس نے جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے

    اولیکسی ریزنیکوف نے اپنے پیغام میں فوجیوں کو کہا کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں، مشکلات ہوں گی، نقصانات ہوں گے، ہمیں درد کو برداشت کرنا ہوگا، ہمیں خوف اور مایوسی پر قابو پانا ہوگا، روس کے خلاف یقینی فتح ہوگی۔

    یوکرینی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ کریملن نے سوویت یونین کی بحالی کے لیے ایک اور قدم اٹھایا ہے،کل پیوٹن نے اپنا اصلی چہرہ دکھایا، مجرم کاچہرہ ، جوپوری آزاد دنیا کویرغمال بنانا چاہتا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔

    گذشتہ روز پیوٹن نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں اور روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔پیوٹن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ روسی عوام کی حمایت حاصل ہوگی’۔

    دوسری جانب یوکرین کےصدر ولودی میرزیلنسکی نے روسی اقدام کےجواب میں ‘نورڈ اسٹریم ٹو پراجیکٹ’ فوری طورپرروکنےکامطالبہ کیاہے.

    یوکرین کےصدر کا کہناہے روس سے نیچرل گیس بذریعہ بالٹک سمندر جرمنی بھیجنے کا پراجیکٹ نورڈاسٹریم ٹو فوری طورپر روکا جائے، روس کو مشرقی یوکرین کےدو علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پر فوری پابندیوں کی سزا کے ساتھ یہ سزا بھی ملنی چاہیے۔

  • یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ    جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں پرپابندی لگادی

    یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں پرپابندی لگادی

    واشنگتن:لندن:برلن ::برطانوی حکومت نے روس کی پانچ بینکوں پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے جس کا اطلاق جلد ہی کیا جائے گا۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے ہم ابھی بھی روس اور یوکرین کے مابین تناؤ کو سفارتی سطح پر حل کرنے کے حق میں اور اس کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

    وزیر اعظم جانسن نے کہا کہ انہوں نے یوکرین کے صدر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یوکرین کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا رہے گا۔

     

    روس پر پابندی کے لئے برطانیہ اپنے آئین کے نئے قوانین کا بھی استعمال کرے گا۔برطانوی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ابتدائی مرحلے میں روس کی پانچ بینکوں کی برطانوی شاخوں پر پابندی لگائی جائے گی۔

    پابندی کا شکار بننے والی بینکوں میں روشیا ، آئی ایس بینک ، جنرل بینک ، پروم سیویز بینک اور بلیک سی بینک شامل ہیں۔بورس جانسن نے کہا کہ ہمیں اس بحران سے پر امن طریقے سے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

     

     

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے گزشتہ روز یوکرین کے دو صوبوں کو خودمختیار ملک کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر پابندی لگانے کا ارادہ کیا ہے۔ برطانیہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمر پیوٹن کی جانب سے یوکرائن کے صوبوں کو آزاد ریاست تسلیم کرکے اپنی فوجیں بھیجنے کے اقدامات پر اُس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

     

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ان معاشی مفادات کو ہدف بنائیں گی جو روسی جنگی مشینری کی مدد کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے رودنکو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو روس باغیوں کے زیرانتظام دونوں ریاستوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کرے گا۔

    بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

    لندن اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھنے میں آئی ہے اور خدشہ ہے کہ امریکا میں بھی یہ رجحان جاری رہے گا۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ روز ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے مشرقی یوکرائنی صوبوں ڈونیسک اور لوہانسک کو نئی آزاد ریاستیں قرار دے کر روسی افواج کو بطور امن فوج ان دونوں علاقوں کو روانہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    امریکا نے روسی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’غیرمعقول‘‘ قرار دیا اور کہا کہ روس جارحیت کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔

    امریکا اور دیگر مغربی اتحادی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکا آج روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔

    دوسری جانب اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور روس پر پابندیوں کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔ روس سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

    عالمی ادارے فیڈلیٹی انٹرنیشنل کے مطابق تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

    آسٹریلیا نے حالات کے پیشِ نظر یوکرائن میں اپنے سفارتی عملے کو رومانیہ اور پولینڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے اُنہیں وطن واپس بھیجا جائے گا۔

    بھارت نے بھی اپنے 20 ہزار سے زائد شہریوں کو یوکرائن سے نکالنے کے لیے آج صبح خصوصی پرواز روانہ کر دی ہے۔

  • یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    امریکہ نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے امکانات کی اطلاعات ہیں

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اغوا اور تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، روس کی ہنگامی صورتحال کی وزارت کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں خود ساختہ ڈونیٹسک اور لوہانسک عوامی جمہوریہ سے 60 ہزار سے زیادہ پناہ گزین گذشتہ ہفتے حکام کی طرف سے جاری کردہ انخلاء کے احکامات کے بعد روس میں داخل ہوئے ہیں

    ترجمان کریملن کا کہنا ہے کہ امریکی روسی صدور کی ملاقات کا ٹھوس منصوبہ نہیں .ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر بائیڈن پیوٹن ملاقات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ امریکی اور روسی صدور ضرورت پڑنے پر کال یا ملاقات کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیںانہوں نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر سفارتی رابطے فعال ہیں۔ رواں ہفتے روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کاامکان ہے

    اس سے پہلے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    یوکرین تنازع بات چیت سے حل ہونے کی طرف اہم پیش رفت ہو گئی ہے ،امریکہ اور روس، یوکرین کے معاملہ پر سمٹ کے انعقاد پر متفق ہوگئے ہیں جس کی تصدیق وائٹ ہاوس کی جانب سے کی گئی ہے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    عالمی میڈیا کے مطابق یوکرین سمٹ کی تجاویز روس، امریکہ اور فرانس کے اعلی سفارت کار مرتب کریں گے، فرانسیسی صدر کا روسی صدر کے درمیان طویل ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا جس میں دونوں صدرور کے درمیان 2 گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ساتھ بھی اہم میٹنگ ہوئی جس میں روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر فوج کی تعیناتی پر غور کیا گیا قبل ازیں روس یوکرین کشیدگی پر ماسکو میں امریکی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے امریکی سفارتخانے کی طرف سے اپنے شہریوں کو روس میں حملوں سے متعلق وارننگ دی گئی ہے، یوکرین سرحد کے ساتھ روس کے شہریوں علاقوں میں حملہ کا خدشہ ہے،ا مریکی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ شاپنگ سینٹرز، ریلوے اور میٹرو اسٹیشنز پر بھی حملے ہوسکتے ہیں،ماسکو اور سینٹ پیٹر زبرگ میں حملوں کو خطرہ ہے۔

    قبل ازیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سفارتکاری کے ذریعے یوکرین بحران میں کمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں، ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بورس جانسن اتحادیوں سے مل کر کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں گے، یوکرین پر حملہ خود روس کے لیے بھی تباہ کن ہوگا

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

  • روس مشکل میں پھنس کر رہ گیا :جوبائیڈن نے یوکرائن کشیدگی پر مغربی رہنماؤں کے ساتھ رابطے تیز کردیے

    روس مشکل میں پھنس کر رہ گیا :جوبائیڈن نے یوکرائن کشیدگی پر مغربی رہنماؤں کے ساتھ رابطے تیز کردیے

    واشنگٹن :روس اس وقت سخت مشکل میں ہے اگر حملہ کرتا ہے تو پھر نقصان اور اگر پسپائی اختیار کرتا ہے تو پھر نقصان ، اس دوران امریکہ نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے روس کو نقصان پہنچانے کے لیے لابنگ شروع کردی ہے ، اس سلسلے میں‌ امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرائن کشیدگی پر مغربی رہنماؤں کے ساتھ رابطے تیز کردیئے ہیں جبکہ جوزف بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی حمایت یافتہ یوکرینی باغی اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں’روسی سازشوں کے باوجود امریکی اتحادی متحد ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن کا کینیڈا، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، رومانیہ اور یورپی کمیشن کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، مغربی رہنماؤں نے یوکرائنی سرحد پر روسی فوج کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کیا۔مغربی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ یوکرائن کی سرحد پر روسی افواج کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی، مغربی رہنماؤں نے یوکرائن کے تحفظ اور سفارت کاری کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ روس چند روز میں یوکرین پر حملہ کرسکتاہے۔ جوبائیڈن نے کہا کہ روسی حمایت یافتہ یوکرینی باغی اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں، روسی حملے کی وجوہات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ روسی سازشوں کے باوجود امریکی اتحادی متحد ہیں۔اس کے علاوہ امریکی صدر نے روسی فوجیوں کے یوکرینی سرحد کے قریب ترپہنچنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    امریکاکا دعویٰ ہے کہ یوکرینی سرحدکے قریب روسی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار تک جاپہنچی ہے تاہم برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ڈان یسک اور لوہانسک میں روس نواز سربراہوں نے بوڑھوں، بچوں اور خواتین سمیت 70 ہزار افرادکو علاقے خالی کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ ڈینسک میں ڈینبیس سکیورٹی سربراہ کی گاڑی میں دھماکا کیا گیا اور گیس پائپ لائن کوبھی تباہ کردیاگیا۔روس کے حمایت یافتہ گروپ نے یوکرینی فوج کوواقعہ کا ذمہ دارقرار دے دیا۔

  • روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکا

    روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکا

    واشنگٹن:روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ روس ایسا ماحول بنا رہا ہے کہ کسی بھی وجہ کوبنیاد بنا کریوکرین میں حارجیت کرسکے۔یہ وہی حکمت عملی ہے جوروس نے 2014 میں کریمیا میں اختیار کی تھی۔

    امریکی حکام کے مطابق روس مشرقی یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کے لئے پہلے ہی اپنے گروپ تعینات کرچکا ہے۔ان گروپس کو شہری علاقوں میں کارروائیوں کی خصوصی تربیت دی گئی ہے اور یہ دھماکہ خیز مواد سے روس کی اپنی پروکسی فورسز کونشانہ بنائیں گے تاکہ بدامنی اورافراتفری پھیل سکے۔

    ادھر آج امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس میں یہ شواہد بھی شامل ہیں کہ ماسکو اسے جواز فراہم کرنے کے لیے جھوٹے فلیگ آپریشن کر رہا ہے، جب کہ یوکرین کی افواج اور ماسکو کے حامی باغیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    یہ بھی قیاس کیا جارہاہے کہ روس کی طرف سے سینیئر امریکی سفارتکار کو ماسکوسے نکل جانے کا مطلب یہ واضح اشارے ہیں کہ روس اس وقت کچھ کرنے کی طرف جارہا ہے

    یوکرین اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان صبح سویرے فائرنگ کے تبادلے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، مغربی حکام جنہوں نے طویل عرصے سے متنبہ کیا ہے کہ ماسکو حملے کا بہانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اب ایسا منظر نامہ سامنے آ رہا ہے۔

    بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہمارے پاس یہ ماننے کی وجہ ہے کہ وہ اندر جانے کا بہانہ بنانے کے لیے جھوٹے فلیگ آپریشن میں مصروف ہیں۔ ہمارے پاس ہر اشارہ یہ ہے کہ وہ یوکرین میں جا کر یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔”

    بائیڈن نے سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کو حکم دیا کہ وہ یوکرین پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بات کرنے کے لیے آخری لمحات میں اپنا سفری منصوبہ تبدیل کریں۔

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "زمینی ثبوت یہ ہے کہ روس ایک آسنن حملے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک اہم لمحہ ہے۔”

    روس نے اپنے پڑوسی پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس ہفتے وہ سرحد کے قریب موجود 100,000 سے زیادہ فوجیوں میں سے کچھ کو واپس بلا رہا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ روس انخلاء نہیں کر رہا بلکہ درحقیقت مزید افواج بھیج رہا ہے۔

    برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ "ہم انہیں زیادہ جنگی اور معاون طیاروں میں پرواز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہم انہیں بحیرہ اسود میں اپنی تیاری کو تیز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔” یہاں تک کہ ہم انہیں اپنے خون کا ذخیرہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

    ایک ریٹائرڈ آرمی جنرل، آسٹن نے کہا، "میں خود ایک سپاہی تھا اتنا عرصہ پہلے نہیں۔ میں خود جانتا ہوں کہ آپ اس قسم کی باتیں بلا وجہ نہیں کرتے۔ "اور اگر آپ پیک کرنے اور گھر جانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں تو آپ یقینی طور پر ایسا نہیں کریں گے۔”

    یوکرین اور روس نواز باغیوں نے ڈان باس کے علیحدگی پسند علاقے میں محاذ پر گولہ باری کے متضاد بیانات دیے۔ تفصیلات آزادانہ طور پر قائم نہیں کی جا سکتی ہیں، لیکن دونوں اطراف کی رپورٹوں نے علاقے میں باقاعدگی سے اطلاع دی جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے کہیں زیادہ سنگین واقعہ تجویز کیا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو کو کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات پر "سنگین تشویش” ہے۔ روس طویل عرصے سے کیف پر باغیوں کے علاقے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کے بہانے کشیدگی کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتا رہا ہے، جس کی یوکرین تردید کرتا ہے۔

    برطانیہ کی خارجہ سکریٹری لز ٹرس نے فرنٹ لائن پر بدامنی کو "روسی حکومت کی طرف سے حملے کے بہانے گھڑنے کی ایک کھلی کوشش” قرار دیا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس نواز فورسز نے ایک کنڈرگارٹن پر گولہ باری کی، جسے انہوں نے "بڑی اشتعال انگیزی” قرار دیا۔ یوکرین کی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں ایک کمرے میں اینٹوں کی دیوار سے سوراخ کرتے ہوئے ملبے اور بچوں کے کھلونوں سے بکھرے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    علیحدگی پسندوں نے اپنی طرف سے الزام لگایا کہ حکومتی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں چار بار ان کی سرزمین پر فائرنگ کی۔

    روس نے امریکی سفیر کو ایک خط بھیجا جس میں واشنگٹن پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اس کے سیکورٹی مطالبات کو نظر انداز کیا ہے، جس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ وہ کبھی بھی یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ روس نے ماسکو میں امریکی سفارت خانے سے ڈپٹی چیف آف مشن بارٹ گورمین کو نکالنے کے اپنے فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی۔

    روس کی وزارت دفاع نے ویڈیو جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ مزید روسی یونٹس سرحد کے قریب علاقے سے نکل رہے ہیں۔

    لیکن میکسار ٹیکنالوجیز، ایک نجی امریکی کمپنی جو تعمیرات کا سراغ لگا رہی ہے، نے کہا کہ سیٹلائٹ کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ، جب کہ روس نے یوکرین کے قریب سے کچھ فوجی سازوسامان واپس لے لیا ہے، دوسرے ہارڈ ویئر پہنچ گئے ہیں۔

  • روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب کیوں آئے؟:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:پینٹاگون

    روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب کیوں آئے؟:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:پینٹاگون

    واشنگٹن:بحیرہ روم میں روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب آئے:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم میں روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کے قریب آئے۔

    پینٹاگون کے ترجمان مائیک کافکا کے مطابق 3 روسی طیارے بحیرہ روم میں امریکی بحریہ کے2 طیاروں کے قریب آئے۔امریکی طیارے بحیرہ روم میں عالمی فضائی حدود میں موجود تھے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ واقعہ میں کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم موجودہ صورتحال میں روسی طیاروں کے امریکی جنگی طیاروں کے قریب آنے کا نتیجہ خطرناک ہوسکتا تھا۔

    یوکرین کے معاملے پرامریکا اورروس کے تعلقات کشیدہ ہیں اورصورتحال تناؤ کا شکار ہے۔ روس نے یوکرین پرفوجی تعینات کررکھے ہیں جبکہ امریکی اورنیٹوفورسزبھی خطے میں موجود ہیں۔

    امریکا نے کہا ہے کہ روس کا یوکرین کی سرحد پرفوجیوں کی تعداد میں کمی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کی سرحد پر7000اضافی فوجی تعینات کئے ہیں۔ روس کا فوجی واپس بلانے کا دعویٰ جھوٹ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پرغیرملکی خبرایجنسی کوبتایا کہ روس کوئی بھی جھوٹا بہانہ بنا کرکسی بھی وقت یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ روس نے فوجی واپس بلانے کا اعلان کرکے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ روس کا یہ دعویٰ جھوٹ پرمبنی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کا بھی بیان میں کہنا ہے کہ انہوں نے روسی فوجیوں کی واپسی کی صرف خبریں سنی ہیں لیکن روسی فوجیوں کو واپس جاتے نہیں دیکھا ہے۔روس نے یوکرین سے کچھ فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

  • روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    ماسکو: روس بچ کے نہ جائے” نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے منسلک سرحد پر تعینات روسی فوجی دستے چھاونیوں میں واپس لوٹنے لگے تھے کہ نیٹو کےطرز عمل نے پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیٹو کے اس اعلان نے روس کو بہت پریشان کردیا ہے ، یہ بھی سُننے کو آرہا ہے کہ روس امریکہ اور نیٹو اتحاد سے محاذ آرائی کی سکت نہیں رکھتا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو اتحاد نے یوکرین سرحد کے قریب سلواکیہ میں فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے، فوجی مشقیں سلواکیہ کی یوکرین کے ساتھ مشرقی سرحد کے قریب ہوں گی، یہ مشقیں مارچ کے پہلے ہفتے میں کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق اتحاد میں شامل امریکا، جرمنی، پولینڈ سمیت سات ممالک سلواکیہ میں فوجی مشقیں کریں گے، ان مشقوں میں شرکت کے لئے امریکا کےدو ہزار فوجیوں کا دستہ اور سینکڑوں گاڑیاں جرمنی سے جمہوریہ چیک میں داخل ہوگئی ہیں۔

    ادھر سلواکیہ کے وزارتِ دفاع سلواکیہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا کہ فوجی مشقوں کا روس یوکرین تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز یوکرین تنازعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فوجی مشقیں اختتام پذیر ہونے کے بعد یوکرینی سرحد کے نزدیک تعینات روسی فوجیوں کو واپس چھاونیوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا کہ جب تک انہیں فوجیوں کی واپسی کا ثبوت نہیں مل جاتا وہ اس پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔گذشتہ روز اپنے بیان میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ صاف ظاہر ہے کہ روس یورپ میں جنگ نہیں چاہتا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ روس کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔