Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

    روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

    واشنگٹن :روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے خیال میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے ؛ اور انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں یا پھر شدید نتائج بھگتنےکے لیے تیار رہیں۔

    بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جارحیت سے کام لیتا ہے تو یہ اس کی مرضی پر منحصرہے، جب کہ ایسی لڑائی کا کوئی جواز یا مقصد موجود نہیں ہوگا”۔

    امریکی صدر نے کہا کہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ باتیں اشتعال دلانے کے لیے نہیں، بلکہ سچ کا ساتھ دینے کے لیے کہی جاتی ہیں، چونکہ بہتر عمل کی بنیاد سچ ہی پر ہوتی ہے۔ احتساب ضروری ہوتا ہے۔ اگر روس دنوں یا ہفتوں کے اندر یوکرین کو فتح کربھی لے تو انسانی جانوں کا شدید نقصان ہوگا، جب کہ حکمت عملی کی نوعیت کی اس غلطی کی روس کو شدید قیمت چکانی پڑے گی”۔

    صدر بائیڈن نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جارحیت سے کام لیتا ہے تو بین الاقوامی طور پر اس کی سخت مذمت سامنے آئے گی۔ دنیا یہ نہیں بھولے گی کہ روس نے بلا ضرورت ہلاکتوں اور تباہی سے کام لیا۔ یوکرین کو فتح کرنا خود اس کے لیے بدنما داغ ہوگا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار اس کا فیصلہ کُن جواب دیں گے”۔

    اس سے قبل، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ اوراس کے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے یورپ میں میزائلوں کی تنصیب اور عسکری مشقوں کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، اس سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کی سرحد پر تعینات اپنے کچھ فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔

    پوٹن نے یہ بات کریملن میں جرمن چانسلر اولاف شلز سے ملاقات کے بعد کہی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ مغرب سے بات کی جائے باوجودیکہ وہ روس کے اہم مطالبات مسترد کرتے رہے ہیں۔ روس نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ یوکرین اور دیگر سابق سویت ریاستوں کو نیٹو کا رکن نہ بنایا جائے اور روس کے قریب مشرقی یورپ میں تعینات مغربی ملکوں کی فوجوں کو واپس بلایا جائے۔

    روسی سربراہ نے کہا کہ ماسکو کی کوشش ہو گی کہ وہ نیٹو کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کرے، جب کہ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغرب کو چاہیے کہ ان کےمطالبات کی جانب توجہ مبذول کرے۔

    ا قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، اینتونیو گتیرس نے پیر کے دن یہ کہتے ہوئے کہ’سفارت کاری کا کوئی نعم البدل نہیں ہے”،روس، یوکرین اور مغربی ملکوں پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم اس قسم کی تباہ کن محاذ آرائی کے امکان کے کسی صورت میں متحمل نہیں ہو سکتے۔ عالمی ادارے کے سربراہ نے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ فریقوں سے رابطے میں رہیں گے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے حل تلاش کرنے کے حوالے سے اپنے دفتر کی خدمات کی پیش کش بھی کی۔

    منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ نےاپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ایک بیان میں محکمہ خارجہ کے ترجمان، ٹیڈ پرائس نے بتایا ہے کہ بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ یوکرین کے معاملے کےسفارت کاری کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیتا رہے گا، جس بحران کا باعث خود روس بنا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اس بات کا منتظر ہے کہ روس ان دستاویزات کا تحریری جواب دے جو گزشتہ ماہ امریکہ اور نیٹو کی جانب سے روس کے حوالے کی گئی تھیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ امریکہ کے اتحادی اور شراکت داروں سے رابطہ کرکے یورپی سیکیورٹی کے معاملے پر بات چیت کی جائے، جس کے لیے ٹھوس بنیادیں تجویز کی گئی تھیں۔

  • افغان اثاثے امریکیوں میں تقسیم کرنا”ڈاکے”سے کم نہیں‌

    افغان اثاثے امریکیوں میں تقسیم کرنا”ڈاکے”سے کم نہیں‌

    بیجنگ: افغان اثاثے امریکیوں میں تقسیم کرنا”ڈاکے”سے کم نہیں‌ ،اطلاعات کے مطابق چین نے افغانستان کے منجمد اثاثوں کو نائن الیون متاثرین میں تقسیم کرنے کے فیصلے کو ”ڈاکہ“ قرار دے دیا۔

    امریکیوں کے ہاتھوں افغانستان کے اثاثوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان چینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی اقدام شرمناک اور اخلاقی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔

    ادھر اسی حوالے سے چین نے کہا کہ امریکا افغانستان کے تمام اثاثے جلد از جلد بحال کرے، امریکا، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک کے عوام کا بھی ازالہ کرے جن کا امریکی فوجی کارروائیوں میں جانی نقصان ہوا۔

    خیال رہے کہ امریکا نے افغان منجمد اثاثوں میں سے 7 بلین ڈالرز ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 7 بلین ڈالرز میں سے 3.5 افغانستان میں انسانی امداد اور 3.5 بلین ڈالرز نائن الیون متاثرین کو دی جائے گی۔پاکستان نے بھی جو بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان کے تمام اثاثے فوری طور ہر بحال کیے جائیں۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعے کے روز ایک صدارتی حکمنامہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت امریکی بنکوں میں منجمد افغانستان کے سات بلین ڈالر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ افغانستان کے اندر انسانی بحران کے لیے رقم فراہم کی جا سکے اور نائن الیون کے دہشگردی کے واقعے کے متاثرین کی مالی اعانت کے لیے بھی فنڈ قائم کیا جا سکے۔ امریکہ میں تجزیہ کار اس پیش رفت کو مثبت قرار دے رہے ہیں جبکہ طالبان نے اس اقدام کو افغانستان کے پیسے کی چوری قرار دیا ہے۔

    صدر بائیڈن کی طرف سے جمعے کو جاری کردہ حکم نامے میں امریکہ کے مالیاتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے عوام کی امداد اور بنیادی ضروریات کے لیے 3.5 ارب ڈالر تک رسائی میں سہولت فراہم کریں۔ باقی کے 3.5 بلین ڈالر امریکہ کے اندر موجود رہیں گے اور اس رقم کو نائن الیون کے دہشتگرد حملے کے امریکی متاثرین کی طرف سے دائر مقدے میں ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    افغانستان کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ اور شورش زدہ ملک کے باہر کی دنیا میں زیادہ تر امریکہ کے اندر موجود اثاثے اس وقت منجمد کر دیے گئے تھے جب طالبان نے اگست میں کابل کا کنٹرول سنبھالا اور امریکی افواج کا انخلا عمل میں آیا تھا۔

    وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ یہ صدارتی حکمنامہ افغانستان کے عوام تک فنڈ کی ترسیل کے لیے ایک راستہ فراہم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور اس سے یہ رقوم ، بیان کے مطابق، طالبان کے بد نیت عناصر کے ہاتھوں سے دور رکھی جائیں گی۔

    افغانستان میں کووڈ نائنٹین کے پھیلاو کے سبب خراب ہوتی ہوئی صورتحال، صحت کی سہولیات کے فقدان اور خشک سالی اور قحط کے سبب عوام کی پریشانی اور مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    صدارتی حکم نامے کے اجرا سے پہلے انتظامیہ کے دو عہدیداروں نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نائین الیون کے دہشتگرد حملے کے متاثرین نے عدالت میں طالبان کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور انتظامیہ نے افغانستان کے اثاثوں میں شامل ساڑھے تین ارب ڈالر کا فنڈ اس لیے قائم کیا ہے کہ عدالت کی طرف سے اگر معاوضے کی ادائیگی کا حکم آتا ہے تو اس کے لیے ایک فنڈ پہلے قائم ہو۔

    طالبان نے صدر بائیڈن کے اس حکمنامے کو افغان عوام کے پیسے کی چوری قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ میں تھنک ٹینکس کے ساتھ وابستہ ماہرین فیصلے کو سراہ رہے ہیں کہ اس سے مشکلات سے دوچار افغانستان کے عوام کو فوری ریلیف دیا جا سکے گا۔

    فغانستان کے عوام کا وہ پیسہ چوری کرنا جو امریکہ کے اندر منجمد تھا ایک انتہائی ہیچ قدم ہوگا، جو کسی بھی ملک کی اخلاقی اور انسانی معیار سے گری ہوئی حرکت کے مترادف ہے۔ فتح اور شکست انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن کسی بھی ملک کے لیے بڑی اورہتک آمیزبات وہ ہوتی ہے جب وہ عسکری لحاظ سے ہی نہیں بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی مات کھا جائے ‘‘

  • امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

    امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

    ماسکو: روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین کی سرحد کے قریب فوجی مشقیں مکمل کرنے کے بعد بعض روسی فوجی واپس آ رہے ہیں جب کہ امریکی محکمہ خارجہ نے جنگ کے خدشے کے پیش نظر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا سفارت خانہ کیف سے منتقل کر رہے ہیں۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ روس کی جانب ایسے اقدام سے موجودہ کشیدگی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مغربی اور جنوبی ملٹری اضلاع کے بعض فوجی دستوں نے مشقیں مکمل کرنے کے بعد فوجی اڈوں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لز ٹروس نے منگل کی صبح کہا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے ’قوی امکان‘ ہیں اور یہ بہت جلد ہو سکتا ہے۔ ساتھ میں انہو ں نے خبردار کیا کہ یورپ ممکنہ طور پر ’جنگ کے دہانے‘ پر ہے۔

    انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے ’پیچھے ہٹنے‘ کا کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ روس، یوکرین اور یورپ کی سکیورٹی کے لیے جنگ کے ’شدید نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب مشرقی یوکرین کے رہائشی یوری فیڈینسکئی روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر اپنے دو بچوں اور حاملہ بیوی کے ہمراہ بذریعہ ہوائی جہاز ملک سے باہر جا رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ وہ روسی صدر ولادی میر پوتن کو ’اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ‘ کرنے کا اختیار نہیں دیں گے۔

    ہوائی اڈے پر موجود یوری نے کہا: ’کسی بھی لمحے حملہ ہو سکتا ہے۔ کیا حملہ ہوگا؟ یہ تو پوتن ہی کو معلوم ہے، لیکن ہم پوتن کو اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرنے دیں گے۔ ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے۔‘یوری نے مزید بتایا: ’میں اپنے خاندان کو جہاز تک لے کر جا رہا ہوں۔ میرے پانچ اور چار سالہ بچے سمیت ایک بچہ جس کے آنے کی امید ہے اور میری بیوی ہوائی جہاز کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم مشرقی یوکرین میں رہتے ہیں۔‘

    یوکرین سے نکلنے کا بنیادی مقصد بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’ہم جا رہے ہیں تاکہ بچوں کو امریکی سکولوں میں انگریزی سکھا سکیں، تاکہ پوتن جو یوکرین میں کرنا چاہتے ہیں، اس کے مخالف دیکھ سکیں۔‘ دوسری جانب یوکرین نے روس اور درجنوں مزید یورپی ممالک کے ساتھ ہنگامی میٹنگ بلائی ہے، جس میں یوکرینی بارڈر پر روسی افواج کے جمع ہونے کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

    یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا کے مطابق روس نے یوکرین کی باضابطہ درخواست کو نظر انداز کر دیا ہے، جس میں اس سے یوکرینی سرحد پر ایک لاکھ فوجی اور جدید ہتھیار جمع کرنے کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔ 1990 کے ایک معاہدے کی رو سے تنظیم برائے سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای) کے 57 رکن ممالک ایک دوسرے کو اپنی بڑی فوجی نقل و حرکت سے متعلق آگاہی دینے کے پابند ہیں۔ ممکنہ روسی حملے کے تناظر میں یوکرین کے شہری اور غیر ملکی افراد دباؤ کا شکار ہیں۔

  • امریکی بحریہ کے سینیئرافسر نے ایٹمی راز فروخت کرنے کا اعتراف کر لیا

    امریکی بحریہ کے سینیئرافسر نے ایٹمی راز فروخت کرنے کا اعتراف کر لیا

    واشنگٹن : امریکی بحریہ کے سینیئرافسر نے ایٹمی راز فروخت کرنے کا اعتراف کر لیا،اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک انجنئیر نے عدالت میں اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا کہ انہوں نے جوہری آبدوز کے راز فروخت کرنے کی کوشش کی تھی۔

    انجنئیر جوناتھن ٹوب امریکہ بحریہ میں 2012 میں ورجینیا کلاس کی آبدوزوں کے ری ایکٹر کے ڈیزائن پر کام کر رہے تھے۔ یہ ڈیزائن امریکی بحریہ کی آبدوزوں کی نئی ٹیکنالوجی ہے جو کسی اور ملک کے پاس نہیں ہے۔

    درحقیقت امریکی خفیہ ایجنسی حساس قسم کے پروجیکٹ پر کام کرنے والوں کی وفاداری کی جانچ پڑتال کرتی ہے ، جوناتھن ٹوب بھی اسی جانچ پڑتال کے نتیجے میں شکنجے میں آ گئے۔انجنئیر ٹوب سے ایف بی آئی کے خفتیہ ایجنٹ نے جوہری آبدوز کے راز شئیر کرنے کے عیوض معقول رقم دینے کا جھانسا دیا، جس میں ٹوب پھنس گئے۔

    اپریل 2020 میں جوناتھن ٹوب نے ’نامعلوم‘ شخص سے پیٹسبرگ میں ملنے کے لئے ابتدائی نمونے کے طور پر چند دستاویزات بیرون ملک پارسل کی۔جوناتھن ٹوب نے اس کے بعد مختلف خفیہ معلومات مونگ پھلی کے پینٹ بٹر سینڈوچ میں میموری کارڈ کے ذریعے ارسال کیں اور ہزاروں ڈالرز کی رقم وصول بھی کی۔

    گرفتاری کے بعد جوناتھن ٹوب پر یہ راز کھلا کہ جس شخص کو وہ غیر ملکی سمجھ کر راز فروخت کرتا رہا وہ دراصل ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ تھا۔اعتراف جرم کے بعد انجنئیر جوناتھن ٹوب کو 12 سے 17 سال تک کی سزا ہونے کی امید ہے۔

  • بھارت کا اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ

    بھارت کا اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ

    بھارت کا اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ
    منگل کے روز سفارت خانہ نے اس سے متعلق ایڈوائزری جاری کردی ہے ایڈوائزری میں بھارتی شہریوں اور خاص طور پر طلبا کو غیر مستقل طور پر یوکرین چھوڑنے کے لئے کہا گیا ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ یوکرین میں موجودہ صورتحال کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، یوکرین میں مقیم ہندوستانی شہری خاص طور پر ایسے طلباء جن کا رکنا ضروری نہیں ہے، وہ عارضی طور پر وہاں سے نکلنے پر غور کرسکتے ہیں۔ بھارتی شہریوں کو یوکرین اور یوکرین کے اندر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے شہریوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ یوکرین میں اپنی موجودگی کے بارے میں سفارت خانہ کو آگاہ کریں ، تاکہ ضرورت پڑنے پر ان تک پہنچا جاسکے

    قبل ازیں ترجمان روسی وزارت دفاع نے کہا کہ روس نے کچھ فوجیوں کو یوکرین کے قریبی علاقوں میں اڈوں پر واپس بھیج دیا،

    ترجمان روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ کچھ روسی فوجی مشقیں مکمل کرنے کے بعد اڈوں پر واپس جا رہے ہیں ،رپورٹ کے مطابق اقدام ماسکو اور مغرب کے درمیان کشیدگی کو کم کر سکتا ہے، روس نے یوکرینی سرحد کے قریب ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو اکٹھا کررکھا ہے،

    روس کی جانب سے یوکرین پر 16 فروری کو حملے کے خدشے کے پیشِ نظر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بدھ کو یومِ اتحاد منانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ماسکو نے کہا ہے کہ وہ بحران کی اس صورتِ حال میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق یوکرین کے صدر نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ بدھ کو قومی پرچم تھامے قومی ترانہ پڑھ کر اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ ولادیمیر زیلنسکی نے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا ہے جب مغربی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ روس 16 فروری کو یوکرین پر چڑھائی کر دے گا۔

    زیلنسکی نے مغربی میڈیا کی خبروں پر کہا کہ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ 16 فروری حملے کا دن ہو گا لیکن ہم اس دن کو اتحاد کا دن بنا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ ملٹری ایکشن کے لیے تاریخ دے کر ہمیں خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس دن ہم اپنے قومی پرچم گھروں پر آویزاں کریں گے، نیلے اور پیلے رنگ کے کپڑے زیب تن کر کے دنیا کے سامنے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔وسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یہ پیش گوئی نہیں کرتے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کسی خاص دن یوکرین پر حملے کا اعلان کریں گے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے مسلسل یہ اشارے مل رہے ہیں کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ آور ہو سکتا ہے

    روسی حملے کے خدشے کے پیش نظر یوکرین میں امریکی سفارت خانہ بند عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے- عالمی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے اندیشے کے پیش نظر یوکرین کے دارالحکومت کیف میں امریکی سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر کے اس کا سفارتی عمل ملک کے مغرب میں واقع شہر لفیف منتقل کر دیا گیا ہے۔

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

    امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ "میں اور میری ٹیم سیکورٹی کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ روسی افواج کے تیزی سے اکٹھا ہونے کے سبب ہم نے کیف میں سفارت خانے کی سرگرمیاں عارضی طور پر لفیف شہر منتقل کر دی ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ احتیاطی اقدامات سے یوکرین کے لیے ہماری سپورٹ کسی صورت متاثر نہیں ہو گی یوکرین کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے ہماری پابندی اٹل ہے اسی طرح ہم ایک سفارتی حل تک پہنچنے کے واسطے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے اور روس کے ساتھ بھی رابطے میں رہیں گ۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون یوکرین پر روس کے حملے کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ "اب یہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے”۔ اتوار کے روز امریکی چینل CNN کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کی جانب سے کسی بھی وقت بڑا فوجی آپریشن شروع ہو سکتا ہے۔

    جنگ کا خدشہ،یوکرین کا آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ

    امریکا کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کے لیے دروزاہ ابھی تک کھلا ہوا ہے۔

    دوسری جانب ماسکو نے عسکری کارروائی کے منصوبے کی تردید کرتے ہوئے امریکی بیانات کو "ہذیانی” قرار دیا ہے۔ البتہ اس کی جانب سے کوئی ایسا اقدام ظاہر نہیں ہوا جس سے بحرانی کیفیت میں کمی آئے۔

    روسی وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ "یوکرین پر حملے کا وقت قریب آنے کے حوالے سے مغربی ممالک کے بیانات محض گمراہ کن معلومات ہیں جس کا مقصد ان ممالک کی معاند کارروائیوں کی طرف سے توجہ ہٹانا ہے”۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن ایک سے زیادہ بار یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ماسکو کا یوکرین پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے رواں ماہ 7 فروری کو فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں سے ملاقات کے دوران میں پوتین نے باور کرایا تھا کہ "ان کا ملک جارحیت کے درپے نہیں ہے”۔

    یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    واضح رہے کہ یوکرین نے آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ کردیا ہے یوکرین دیگر اہم یورپی ممالک کے سکیورٹی گروپس سے بھی ملاقات کا خواہاں ہے، روس نے سرحد پر فوجیوں کی اضافی تعیناتی سے متعلق وضاحت دینے کو بھی نظر انداز کیا ہے۔

    یاد رہے روس نے یوکرین کے سرحد پر تقریباً ایک لاکھ فوجی تعینات کررکھے ہیں۔ تاہم روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک جھوٹی معلومات فراہم کر رہے ہیں امریکہ کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر فضائی حملے سے جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔

    امریکہ ،برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، نیدرلینڈز، لیٹویا، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک نے یوکرین سے اپنے شہریوں کا انخلا کا حکم دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ روسی حملے کا آغاز فضائی بمباری سے ہو گا جس کے باعث یوکرین چھوڑنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں ہو گی۔

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

  • روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے۔سی این این کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی سرحد کے قریب روس ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو اکٹھا کرچکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے، روس یوکرین سرحد کے علاوہ یوکرین سے الگ ہونے والے علاقے کریمیا میں بھی روس کی افواج موجود ہیں جبکہ روس کا اتحادی ملک بیلاروس بھی روس کا لانچنگ پیڈ ہوسکتا ہے۔

    اُدھر پیسیفک جزائر کے قریب امریکی آبدوز کی جانب سے روسی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر روس نے امریکی فوجی اتاشی کو طلب کرلیا ہے۔بگڑتے حالات کے باعث سوئیڈن اور اردن نے بھی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کردی جبکہ ہالینڈ کی ائیر لائن نے یوکرین کیلئے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، روس کا مؤقف کمزورپڑجائےگا۔

  • یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    واشنگٹن: یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:اطلاعات کے مطابق امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو ایسی پابندیاں عائد کریں گے جس سے وہ مکمل طور پر اپاہج ہوجائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن کے معاملے پر سخت حریفوں امریکا اور روس کے صدور نے ٹیلی فونک گفتگو کی تاہم دونوں رہنماؤں کے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پانے کے باعث خطے میں تناؤ اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

    جوبائیڈن اور پوٹن ٹیلی فونک گفتگو کی ناکامی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے فجی کے قائم مقام وزیر اعظم ایاز سید خیوم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں روس کو خبردار کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکا اس پر ’اپاہج‘ کردینے والی پابندیاں عائد کر دے گا۔

    چند روز قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی روس اور یوکرائن کا دورہ کیا تھا لیکن یہ دورہ بھی کسی مثبت پیشرفت کے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ جرمنی کے چانسلر نے بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔

    قبل ازیں ممکنہ روسی حملے کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن سے اپنے سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلالیا تھا اور اب صرف ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نہایت مختصر اور ضروری عملہ ہی موجود ہے۔

    ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وائٹ ہاؤس کا اصرار بڑھتا جا رہا ہے کہ روس کی یوکرائن پر جارحیت کی صورت میں سخت پابندیاں عائد کردی جائیں گی جن میں ممکنہ طور پر ایل این جی کی فروخت بھی شامل ہے۔

    روس یورپی ممالک کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پابندی کی صورت میں مغربی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہوجائے گا جس کے لیے امریکا نے قطر سے مدد مانگ لی ہے۔

    ادھر روس نے بھی ممکنہ پابندی کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے بچنے کے لیے چین کا دورہ کیا اور چینی صدر کے ساتھ اربوں ڈالر کے ایل این کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا۔

  • امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی

    امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی

    واشنگٹن :امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی ،اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹیلی فون کرکے روس کی دھمکی دی ہے کہ اگر روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا،

    امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، اور اس ساری صورت حال کا ذمہ دار بھی روس ہی ہوگا اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکا سفارت کاری اور دیگر منظرناموں کیلئے تیار ہے۔لیکن یہ تب ممکن ہے کہ روس اپنی افواج کو یوکرین کی سرحد سے واپس بلائے

    امریکی و روسی صدور کی گفتگوکے حوالے سے ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ بائیڈن اور پیوٹن کی فون کال پیشہ ورانہ کال تھی، بائیڈن اور پیوٹن کی کال سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی، روس سفارت کاری کے راستے پرجائےگایا نہیں، ابھی واضح نہیں، روس فوجی ایکشن کی طرف بھی جا سکتا ہے۔امریکی عہدیدار نے کہا کہ روس دنیاسےالگ تھلگ اور چین پر زیادہ انحصار کرتا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں امریکا، برطانیہ و دیگر ممالک نے الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرین میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اور جلد اس حوالے سے وہ یوکرین پر چڑھائی کا بھی ارادہ رکھتا ہے، اس مقصد کیلئے اس نے سرحد پر فوج بڑھادی ہے۔

    برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ روس سابق یوکرینی رکن پارلیمنٹ یف ہین مرائیف کو حکومتی سربراہ بنانا چاہتا ہے تاہم اپنے حالیہ انٹرویو میں مرائیف نے اس بات کی تردید کردی ہے۔برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے اپنی مرضی کی حکومت کیلئے یوکرین پر چڑھائی کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    البتہ روس نے عسکری کارروائی کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ روس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

    دوسری طرف ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی درست ہے کہ اگر روس کا ارادہ محض یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روکنا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ یوکرین خود نیٹو میں شامل نہ ہو اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب وہاں روس کی حمایت یافتہ حکومت ہو۔

  • امریکا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اورافغانستان کے مکمل اثاثے واپس کرے: پاکستان

    امریکا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اورافغانستان کے مکمل اثاثے واپس کرے: پاکستان

    اسلام آباد: امریکا کی جانب سے افغانستان کے فنڈز آدھے واپس دیئے جانے کے اعلان کے بعد پاکستان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا افغانستان کے مکمل اثاثے واپس کرے۔

    عاصم افتخار احمد نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے افغانستان کے منجمد اثاثہ جات کھولنے کا فیصلہ دیکھا ہے، فیصلے کے تحت امریکی بینک افغانستان انسانی امداد کے لیے 3.5 ارب ڈالرز جاری کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی بینک 11/9 متاثرین کو معاوضے کی ادائیگیوں کے لیے علیحدہ 3.5 ارب امریکی ڈالرز جاری کریں گے، گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان عالمی برادری پر مسلسل انسانی المیہ سے بچنے اور افغان معیشت کی بحالی کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انسانی المیہ اور افغان معیشت کی بحالی باہم منسلک ہیں، افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی فوری بحالی کے لیے راستوں کی تلاش سے افغان عوام کی انسانی و اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کا افغان فارن بینک ذخائر پر اصولی موقف رہا ہے، افغان حکام ہی افغان فارن بینک ریزرو کے مالک ہیں اور ان کا اجراء ہونا چاہیئے، افغان فنڈز کا استعمال افغانستان کا ایک غیر جانبدارانہ فیصلہ ہونا چاہیے۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد کا مزید کہنا تھا کہ افغان عوام کو شدید اقتصادی اور انسانی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کی مشکلات کو کم کرنے میں عالمی برادری کو اپنا اہم اور مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    ماسکو:روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے معاملے پرروس کوتنقید کا نشانہ بنانے پرروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی ہم منصب کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ منظراس قدر اہمیت اختیار کرگیا کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں‌

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مسئلے پربرطانوی تنقید سے ناراض روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ کچھ منٹوں کے بعد برطانوی وزیرخارجہ بھی کانفرنس ہال سے چلی گئی۔برطانوی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی وزیرخارجہ، دولت مشترکہ اورترقیاتی امورکی وزیرلزٹریس یوکرین کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے ماسکو پہنچی تھیں۔

    برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روس کوآگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پراسے پڑوسی کی سرحد عبور کرنے سے باز رہنا اورسرد جنگ جیسے رویے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے ماسکو کو خبردارکیا کہ وہ یوکرین کے مسئلے پردنیا کوبیوقوف بنانے کی کوششیں نہ کرے۔روسی وزیرخارجہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیرکے ساتھ ملاقات ایسی رہی جیسے کسی گونگے اوربہرے سے ملاقات کی جائے۔

    سرگئی لاروف کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی عہدیدارنے ماسکو کا دورہ ایسے کیا جیسے برطانوی سامراج میں حکام اپنے مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں روس کویوکرین سے متعلق ڈرانے اوردھمکیاں دینے سے باز رہیں۔

    دوسری طرف امریکہ اور نیٹو اتحادی اس وقت یوکرائن کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور بھر پور فوجی امداد دے رہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ ان اقدامات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ار اتحادی اس صورت حال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جنگ سے بچنے کے لیے روس کو ہی حکمت عملی کے تحت واپس جانا پڑے گا یا پھرٹکراو کے لیے تیار رہنا ہوگا