Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکا نے16ممالک کوخطرناک قراردیا

    امریکا نے16ممالک کوخطرناک قراردیا

    واشنگٹن :امریکا نے16ممالک کوخطرناک قراردیا،اطلاعات کے مطابق امریکی مرکز برائے تحفظ وانسداد امراض نے یونان، آئرلینڈ، لیبیا، ایران سمیت سولہ ممالک کے لیے کورونا کے باعث سیاحت پر پابندی لگادی ہے اور انہیں خطرناک ممالک قرار دیا ہے۔

    کورونا کی پانچویں لہر اور اومیکرون کے تیز پھیلاؤ نے دنیا بھر میں ایک بار پھر خوف کے سائے گہرے کردیے ہیں اور ممالک دوبارہ مختلف نوعیت کی پابندیوں کی طرف جارہے ہیں۔

    امریکا نے بھی کورونا کی پانچویں لہر کے پھیلاؤ کے باعث 16 ممالک کو خطرناک ملک کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔

    جن ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں یونان، ایران، اندورا، قازقستان، آئرلینڈ، لیبیا، مالٹا، لیسوتھو، جبل طارق، غواڈالوپ، کوراکاؤ، آئل آٖف مین، مارٹینیق، سینٹ بارتھلیمی، امریکی جزائر ورجن اور سینٹ مارٹن سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    ان ممالک کے حوالے سے امریکی مرکز برائے تحفظ انسداد امراض نے انتباہ جاری کیا ہے جس میں انہیں خطرناک ممالک قرار دیتے ہوئے ان ممالک کے لیے سیاحت کی پابندی لگائی گئی ہے۔

  • یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس     :    :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس : :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    ماسکو:یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس::خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ ،اطلاعات کے مطابق ایک بارپھر چند گھنٹوں کی خاموشی کےبعد روس اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے، اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ایک حقیقت ہے کہ یوکرین نیٹو اور امریکہ کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ گیا ہے کیونکہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ فضائی دفاعی افواج کے دستے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ساتھ جمہوریہ بیلاروس کی سرزمین پر مشقوں کے لیے پہنچ رہے ہیں۔محکمہ نے کہا کہ لاجسٹک یونٹس نے پہلے ہی امور ریجن میں ٹرین پلیٹ فارمز پر ہتھیار پہنچا دیے تھے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے مسئلہ پر روس کی نیٹو اتحاد ،امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    ادھر امریکی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرینی ہم منصب سے گفتگومیں خبردارکیا کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین کے صدرسے ٹیلی فون پرگفتگومیں کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ روس فروری میں یوکرین کیخلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرے۔ امریکا گزشتہ کئی ماہ سے روس کی یوکرین کیخلاف ممکنہ جارحیت کے بارے میں خبردارکررہا ہے۔
    روس کے حکام نے یوکرین کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران سے متعلق مذاکرات اب بھی ممکن ہیں۔

    امریکا اوراس کے نیٹواتحادی حالیہ ہفتوں میں ماسکوکی جانب سے یوکرین کے قریب ایک لاکھ روسی فوجیوں کی تعیناتی پربھی تشویش کا اظہارکرچکے ہیں۔

  • امریکہ نے اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات کا سفرکرنے سے روک دیا

    امریکہ نے اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات کا سفرکرنے سے روک دیا

    امریکہ نے اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات سفرنہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ایڈوائزیری میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات پرڈرون اور میزائل حملہ ہو سکتا ہے، امریکی شہری امارات سفر سے گریز کریں ابوظبی پرحملے کے بعد محکمہ خارجہ نے ٹریول ایڈوائزیری جاری کی تھی، جس میں امریکی شہریوں کو امارات نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    یاد رہے چند روز قبل ابوظہبی پر حوثیوں نے ڈرون حملہ کیا تھا، ابوظہبی پولیس کے مطابق ڈرون حملے کے باعث صنعتی علاقےمیں ایندھن لے جانے والے 3 ٹینکرپھٹ گئے، جبکہ ابوظہبی انٹرنیشنل اایئرپورٹ پرتعمیراتی مقام پرآگ بھڑک اٹھی۔

    سعودی اتحادی فوج کا کہنا تھا کہ صنعا ہوائی اڈے سے بارود سے بھرے ڈرونز کی ایک بڑی تعداد کو لانچ کیا گیا-

    پاکستان کی ابوظبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشتگرد حملے کی شدید مذمت

    حملے کے کچھ دیر بعد، یو اے ای کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے کہا تھا کہ وہ حوثیوں کی ایک دہشت گرد تنظیم کی حیثیت کو بحال کریں۔ امریکی صدر جو بائیڈن، جنہوں نے گزشتہ سال اس تحریک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکال دیا، دلیل دی کہ اس تقرری سے یمن کو انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے۔

    وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید…

    سعودی عرب نے ابوظہبی ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی سیکیورٹی استحکام کو یقینی بنانے کیلیے مکمل تعاون کریں گے، اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کے مطابق ابوظہبی پولیس نے حملے کے بعد بتایا تھا کہ ہلاکتوں کے علاوہ دھماکے کے بعد لگنے والی آگ سے چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور یکجہتی کا اظہار کیا تھا اور ڈرون حملوں میں اموات پر دکھ کا اظہار کیا تھا وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ کھڑا ہے شیخ محمد بن زید ال نہیان نے حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    وزارت خزانہ نے ملکی معیشت پر ماہانہ اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی

  • روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

     

    لاہور:روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن ,یوکرائن کی سرحدوں پر اس وقت سخت دباو ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادی یوکرائن کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں تاکہ روس کی فوجی قوت کو کمزور کیا جاسکے ، ایسی صورت میں اگرنیٹو اور دیگر قوتیں میدان میں اتریں تو یہ جنگ عالمی جنگ کی شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے

     

    ان حالات میں جبکہ دونوں طرف سے سخت چپقلش پائی جارہی ہے ، دفاعی ماہرین نے روسی اور یوکرائنی افواج کے درمیان قوت کے تخمینے اور اندازے لگانے شروع کردئیے ہیں ، اس حوالے سے جو تازہ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق روس کی باقاعدہ افواج کی تعداد نو لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یوکرائن کی مسلح افواج کی تعداد دو لاکھ نو ہزار تک ہے

     

     

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ روس کو ریزور افواج کی صورت میں بیس لاکھ فوجیوں کی کمک حاصل ہوگی جبکہ یوکرائن کو صرف نو لاکھ فوجیوں کی مدد حاصل ہوگی

     

    دفاعی ماہرین کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق روس کے پاس آرٹلری کی تعداد 7571 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 2040 ہے

     

    روس کے پاس فوجی گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 12303 ہے ، ایسے ہی روس کےپاس 12420 ٹینکس ہیں جبکہ یوکرائن کےپاس یہ تعداد صرف 2596 ہے

     

    روس کے پاس جنگی ہیلی کاپٹرز کی تعداد 544 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد صرف 34 ہے ،روس کے پاس فائٹراٹیک ایئر کرافٹ کی تعداد 1511 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہی تعداد صرف 98 ہے ،

     

    روس کا سالانہ دفاعی بجٹ 61 ارب ڈالرز سے زائد ہے جبکہ یوکرائن کا دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالرز سے زائد ہے یوں اگردیکھا جائےتو روس کے مقابلے میں یوکرائن کی فوجی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے

     

    لیکن یہی طاقت اس صورت میں روس کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی نظرآتی ہے جب روس کی مخالف قوتیں امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادی یوکرائن کو بھاری اسلحہ دے رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یوکرائن اور روس کا ٹکراو ہو ہی جائے تاکہ روس کی فوجی قوت کو زنگ لگ جائے یا پھرروس کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے ، اس صورت میں پھرامریکہ کے سامنے چین ہی بڑی قوت رہ جائے گا اور چین سے نمٹا امریکہ اور اتحادیون کے لیے آسان ہوگا

  • روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    ماسکو: روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان،اطلاعات کے مطابق روس نے جنوبی کریمیا میں نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق روسی فوج کے ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ تقریباً 6000 فوجیوں اور کم از کم 60 لڑاکا طیاروں پر مشتمل لائیو فائر ڈرلز کے عنوان کے تحت فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا، یونٹ وسیع پیمانے پر کاموں کو سرانجام دینے کی مشق کریں گے۔

    مشقیں ہر قسم کی ہوا بازی، میزائل ڈویژن، بحری بیڑے اور کیسپین فلوٹیلا کے جہاز گروپوں پر مشتمل ہوں گی۔ مشقوں کو جنگی تیاریوں کو جانچنے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ جس کی وجہ کریمیا پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔

    روسی خبر رساں ایجنسیوں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    واضح رہے یہ مشقیں روس سے الحاق شدہ کریمیا اور جنوبی روستوف اور کراسنودار کے علاقوں میں ہوں گی۔ اس بابت بھی آگاہ نہیں کیا گیا ہے کہ اوپر بیان کی گئی مشقیں کب تک جاری رہیں گی۔

    یاد رہے مغرب روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے یوکرائن کی سرحد پر لگ بھگ100,000 فوجیوں کو جمع کر رکھا ہے۔ فوجیوں کی تشکیل نے سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔

  • ’پاکستانی باصلاحیت نوجوان امریکی تعلیمی اداروں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں: ڈاکٹر اسد مجید خان

    ’پاکستانی باصلاحیت نوجوان امریکی تعلیمی اداروں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں: ڈاکٹر اسد مجید خان

    واشنگٹن :’پاکستانی باصلاحیت نوجوان امریکی تعلیمی اداروں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ پاکستانی باصلاحیت نوجوان امریکی تعلیمی اداروں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

    ڈاکٹر اسد مجید خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سیکیورٹی کے معاملات کے علاوہ وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے امریکہ ایک اہم پارٹنر ہے، امریکہ اب بھی ہماری سب سے بڑی برآمدی منڈی اور غیر ملکی ترسیلات کا بڑا ذریعہ ہے۔

    اسد مجید نے کہا کہ پاکستانی امریکی کمیونٹی سیاسی طور پر متحرک ہےجو ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے۔انکا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ وسیع البنیاد تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے اور ہمارے تعلقات تجارت، سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کے روابط میں جڑے ہوئے ہیں۔

    پاکستان کے سفیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی توجہ جیو اکنامکس کی جانب ہے اور ہم علاقائی تجارت اور اقتصادی انضمام کو بڑھانے کے لیے کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان، امریکہ کو اہم اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے، پاکستان جغرافیائی طور پر انتہائی اہم خطہ ہے اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر موجود 220 ملین لوگوں کی تجارتی منڈی ہے۔

    اسد مجید نے کہا کہ پاکستانی نوجوان انتہائی قابل ہیں، پاکستانی حکومت کی توانائی کے شعبے کی پالیسیی ، قابل تجدید توانائی میں مہارت رکھنے والی امریکی کمپنیوں کے لیے زبردست مواقع فراہم کرتی ہے۔

    پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ اقتصادی طور پر مضبوط پاکستان خطے میں استحکام کی ضمانت ہے، پاکستان ڈیولپمنٹ فنانشل کارپوریشن کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان افغانستان سرحد پر اقتصادی سرگرمیاں بڑھا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر اسد مجید نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں لیکن بھارتی وزیراعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت انتہا پسند اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق حل ہونا چاہیے۔

  • روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    ماسکو:روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کے خلاف مہلک ہتھیاروں کی 90 ٹن وزنی کھیپ یوکرائن کے دارالحکومت میں پہنچادی ہے جبکہ روس نے بھی جنگ کے لیے صف بندی شروع کردی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق روس امریکی مذاکرات کی ناکام کے بعد یوکرائن تنازع شدت اختیار کرگیا ہے اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں جبکہ یوکرائن بارڈر پر نیٹو کی فوجی تنصیبات کا عمل بھی جاری ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روس نے بھی سرحد کے قریب اپنی فوج کی صف بندی کرنا شروع کردی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے یوکرائن کو دی جانے والی مہلک ہتھیاروں کی پہلی کھیپ وہاں پہنچ گئی ہے۔

    یوکرائن میں قائم امریکی سفارتخانے نے کھیپ وصول کرنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔

    واضح رہے کہ روس بارہا یہ باور کراچکا ہے اس کا یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم وہ اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے دسمبر میں یوکرائن کے لئے 200 ملین ڈالرز سیکیورٹی پیکج کی منظوری دی تھی۔

    دوسری جانب برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

    برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

    روس کی جانب سے برطانوی دعوے کی تردید بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ فضول باتیں پھیلانے سے گریز کرے۔

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

    دوسری طرف روس کی وزارت خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ہم دفترخارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فضول باتیں پھیلانا بند کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران مزید بڑھا رہی ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی سیکرٹری خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ جو معلومات جاری کی گئی ہیں وہ روسی منصوبے کو آشکار کرتی ہیں جبکہ یہ منصوبہ یوکرائن کو تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جس سے روس کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یوکرائن میں روسی فوجی مداخلت ایک بڑی اسٹریجک غلطی ہوگی جس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑے گی، روس کشیدگی کو کم کرے اور اپنی جارحیت کو ترک کرکے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

    برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

  • مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا

    مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا

    کابل :امریکا حکام سے مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا،اطلاعات کے مطابق امریکا حکام سے مذاکرات کیلئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان وفد ناروے روانہ ہوگیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا وفد اوسلو میں امریکی حکام سے ملاقاتیں کرےگا، افغان طالبان ناروے کےحکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے، افغان طالبان کاوفد چار روزہ دورے پرناروے گیا ہے،افغان طالبان وفد کےناروے میں قیام میں توسیع کا بھی امکان ہے۔

    امریکی کانگریس کے 13 ارکان نے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے صدر جو بائیڈن کو خط لکھاہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ افغان عوام کی مدد نہ کی تو افغانستان ایک بار پھر ہمارے دشمنوں کا محفوظ ٹھکانہ نہ بن جائےگا۔

    دوسری جانب افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقھار بلخی نے امریکی صدر بائیڈن کے اس بیان کو مسترد کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان متحد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

    افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اختلاف رائے غیر ملکی حملہ آوروں نے اپنی بقاء کیلئے پیدا کیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ افغانستان سے افواج اس لئے واپس بلالیں کیونکہ افغانستان کو ایک حکومت کے تحت متحد کرنا ممکن نہیں

  • روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    ماسکو:روس کی ایران اور چین فوجی مشقیں جاری: بیلا روس کے ساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کی بیلا روس کے ساتھ ہنگامی فوجی مشقیں شروع کےاعلان نے امریکہ اور اتحادیوں‌پر بجلی گرادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے روس کودھمکی آمیز پیغام بھیجنے کا پھرفیصلہ کیا ہے

    اطلاعات کے مطابق روس نے فوجی مشقوں کے لیے 2 فضائی دفاعی سسٹم بیلاروس بھیج دئیے،اور تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ روس اور بیلاروس کے درمیان فوجی مشقیں 10 فروری کو شروع ہوں گی،اس سلسلے میں‌ فضائی دفاعی میزائل سسٹم اور 12 ایس یُو 35 جنگی طیارے بھی بیلاروس بھیجے جائیں گے،

    روسی دفاعی حکام کے مطابق روسی ایس 400 بیلاروس میں متوقع مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کریں گے،

    ادھر پہلے ہی ایران، روس اور چین کے بحری بیڑوں نے بحیرہ ہند کے شمال میں وسیع پیمانے کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

    ادھر ایران کی سرکار ی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق "2022 بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان اور "مِل کر امن و سلامتی کے لئے” کے سلوگن کے ساتھ بحیرہ ہند کے شمال میں 17 ہزار مربع کلو میٹر علاقے میں مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔

    خبر کے مطابق مشقوں میں ایران کابحری بیڑہ ، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے جنگی بحری جہاز اور فضائی یونٹیں اور روس اور چین کے جنگی و لاجسٹک بحری جہاز شامل ہیں ۔

    مشقوں کے ترجمان ایڈمرل مصطفیٰ تاج الدین نے کہا ہے کہ باب المندب، مالاکہ اور آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گزرگاہوں کے ساتھ رابطے کی وجہ سے بحیرہ ہند کا شمالی حصہ اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ "یہ مشقیں، طلائی تکون کے نام سے معروف اور عالمی تجارت کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل علاقے میں، تینوں ممالک کے مفادات کے تحفظ اور پائیدار بحری سلامتی کو یقینی بنانے کی ایک مشترکہ کوشش ہیں”۔

    تاج الدین نے کہا ہے کہ مشقوں میں جلتے ہوئے بحری جہاز کو بچانے، اغوا شدہ بحری جہاز کی رہائی، متعینہ اہداف اور رات کے وقت فضائی اہداف کو نشانہ بنانے جیسے مختلف آپریشن کئے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی کو تقویت دینا، بحری ٹوئرازم اور بحری قزاقوں کے خلاف جدوجہد، تلاش و بچاو کے علاقوں میں معلومات کا تبادلہ اور جنگی چالوں کے آپریشنوں میں تجربات کا تبادلہ مشقوں کے سرفہرست اہداف ہیں۔

    واضح رہے کہ "بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان موجودہ مشقیں ایران، روس اور چین کے درمیان تیسری مشقیں ہیں۔مذکورہ مشقوں کی پہلی مشقیں دسمبر 2019 میں کی گئی تھیں۔

  • ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ماسکو:ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے دورہ روس کو دونوں مملک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دے دیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار روس کے دو روزہ سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے جہاں انہوں نے روسی ہم منصب ولادی میرپیوٹن سے ملاقات کی۔

    ماسکو روانگی سے قبل میڈیا سے مختصر گفتگو میں ابراہیم رئیسی نے کہا کہ روس اور ایران خطے کے دو اہم خودمختار، مضبوط اور بااثر ممالک ہیں جو قریبی تعلقات اور بات چیت سے تجارت و سلامتی کو بڑھا سکتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایرانی صدر نے اپنے دورہ ماسکو کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ بھی قرار دیا۔
    روسی صدر سے ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال پرتشویش ہے روس کےساتھ مستحکم اورجامع تعلقات کےخواہاں ہیں ہم روس کےساتھ تجارتی تعلقات کاحجم بڑھانےکےخواہاں ہیں۔

    ایرانی صدر نے واضح کیا کہ عالمی پابندیوں اور امریکا و اسرائیل کی دھمکیوں سے ایران کی ترقی کا سفر نہیں رکے گا۔